''ہراس کے خلاف ہر قیمت پر ہر در کھٹکھٹاؤں گی''
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

''ہراس کے خلاف ہر قیمت پر ہر در کھٹکھٹاؤں گی''

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

''ہراس کے خلاف ہر قیمت پر ہر در کھٹکھٹاؤں گی''

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

ارم شہزادی کی پیشہ وارانہ مشکلات جس انداز میں ختم ہوئیں اس کی انہیں توقع ہی نہ تھی۔ انہیں 17 مارچ 2021 کو پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پی ایل آر اے) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ محکمانہ تحقیقات میں انہیں بد عنوانی میں ملوث پایا گیا تھا۔ 

شہزادی نے 2013 میں پنجاب بورڈ آف ریونیو میں ملازمت اختیار کی اور 2017 میں ان کا پی ایل آر اے میں تبادلہ کر دیا گیا۔ اس وقت کی پنجاب حکومت نے یہ محکمہ صوبے بھر میں زمینوں کے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیے بنایا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ پی ایل آر اے کی ملازم بنتے ہی ان کی مشکلات کا آغاز ہو گیا۔  

ان کا کہنا ہے کہ ستمبر 2017 میں وہ اپنی ایک اور ساتھی ملازم کے ساتھ کیپٹن (ریٹائرڈ) ظفر اقبال کے دفتر گئیں جو اس وقت پی ایل آر اے کے سربراہ تھے۔ ظفر اقبال اپنے پاؤں میز پر رکھے بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھ میں سگریٹ تھا۔ شہزادی کے مطابق ''جب ہم ان کے سامنے بیٹھ گئیں تو انہوں نے اپنے پاؤں میز سے اتار لیے اور ہمیں دیکھتے ہوئے اپنے جنسی اعضا کو کھجانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر ہم پریشان ہو گئیں اور جلدی سے ان کے دفتر سے نکل آئیں''۔ 

شہزادی کا الزام ہے کہ ایک اور موقع پر ظفر اقبال نے انہیں کھانے پر لے جانے کی دعوت دی۔ وہ یہ الزام بھی لگاتی ہیں کہ ''ظفر اقبال نے انہیں یہ پیشکش بھی کی کہ اگر وہ ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کریں تو وہ انہیں ایک اپارٹمنٹ لے کر دیں گے''۔

وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اس تمام ناروا سلوک کو نظر انداز کیا یہاں تک کہ 2018 میں ان کا تبادلہ شیخوپورہ کی تحصیل صفدرآباد میں کر دیا گیا جو لاہور سے 120 کلومیٹر دور ہے جبکہ اس وقت وہ حاملہ بھی تھیں۔ شہزادی کے مطابق ظفر اقبال نے طبی بنیاد پر چھٹی کے لیے ان کی درخواست مسترد کر دی حالانکہ انہوں نے دفتر کو آگاہ کیا تھا کہ انہیں حمل کی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ وہ کہتی ہیں ''مجھے روزانہ لاہور  سے صفدرآباد جانا اور آنا پڑتا تھا''۔ اس دوران ٹوٹے پھوٹے دیہی راستوں پر مسلسل سفر کے نتیجے میں ان کا حمل ضائع ہو گیا۔

مایوسی کے عالم میں انہوں نے ظفر اقبال کے خلاف سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں ایک درخواست دی کہ وہ اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کر کے انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کھلی عدالت میں ان کا مقدمہ سنا اور ظفر اقبال کو معطل کر کے پی ایل آر اے کو شہزادی کا تبادلہ واپس لاہور کرنے کا فیصلہ دیا۔ 

ان کا الزام ہے کہ اس وقت سے لے کر اب تک محکمے میں ظفر اقبال کے ''قریبی ساتھیوں'' کی جانب سے انہیں انتقامی ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔ انہی لوگوں میں سے ایک کرنل (ریٹائرڈ) رحمان ثاقب پی ایل آر اے میں ڈائریکٹر ویجیلینس کے عہدے پر کام کرتے ہیں۔ شہزادی کہتی ہیں کہ رحمان ثاقب نے انہیں سپریم کورٹ میں شکایت کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ 

تاہم ظفر اقبال کے وکیل چوہدری سلطان محمود کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کا شہزادی کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ کہتے ہیں ''یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، اب میرے موکل ایک پرانے کیس پر اپنے وسائل کیوں ضائع کریں گے؟'' 

پی ایل آر اے چھوڑنے کے بعد ظفر اقبال نے محکمہ صنعت میں صوبائی سیکرٹری اور کمشنر سرگودھا ڈویژن کے عہدوں پر کام کیا۔ اب وہ بہاولپور ڈویژن کے کمشنر ہیں۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ''ایسے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر  ان کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک قابل اعتبار شخص ہیں''۔ 

دوسری جانب شہزادی کا کہنا ہے کہ مئی 2020 سے انہوں نے ظفر اقبال کے خلاف وفاقی محتسب (کیونکہ وہ وفاقی حکومت کے ملازم ہیں) کے دفتر میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ''اس شکایت پر کارروائی تا حال شروع نہیں ہوئی اس لیے ابھی وہ اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے''۔ 

قانونی جنگ 

لاہور کی ضلع کچہری کے احاطے میں بہت سے عارضی سٹال لگے ہیں جن میں نائلون سے بُنی پیلی کرسیاں اور لکڑی کے میز دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سٹال وکلا کے دفاتر کا کام دیتے ہیں۔

میزوں پر پڑے کاغذوں کے انبار اور دفاتر میں کاغذات کے لین دین کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس جگہ دستاویزی شہادت پر کتنا زور دیا جاتا ہے۔ تاہم جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والے متاثرین کے پاس اپنے الزامات کے حق میں شاید ہی کوئی دستاویزی ثبوت ہوتا ہے۔ 

اسی لیے پی ایل آر اے کی ایک ملازم خاتون کہتی ہیں: ''عدالتی نظام میں عورت کے لیے کوئی جگہ نہیں''۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کئی مرتبہ ہراساں کیا گیا مگر انہیں کبھی شکایت کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ 

تاہم شہزادی ان سے مختلف ہیں۔ 

سفید رنگ کی شلوار قمیض اور دوپٹے میں ملبوس ارم شہزادی کو عدالتوں میں آتا جاتا دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ وہ ان جگہوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ ایک وکیل کو سلام کر کے اپنے ارد گرد مردوں کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے ایک بینچ کھینچ کر اس پر بیٹھ جاتی ہیں۔ ان کے سامنے سے گزرنے والے تمام مرد بہت عجلت میں دکھائی دیتے ہیں تاہم اس کے باوجود ان میں سے ہر ایک شہزادی کی طرف ضرور دیکھتا ہے۔ 

اس سوال کے جواب میں کہ کیا  اتنی بڑی تعداد میں مردوں کے درمیان انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی تو ان کا جواب آتا ہے کہ ''میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں، مجھے پہلے ہی کافی ہراساں اور بدنام کیا جا چکا ہے''۔ پھر وہ پرعزم انداز میں کہتی ہیں کہ ''میں انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹاؤں گی چاہے مجھے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے''۔  

شہزادی گزشتہ دو سال میں پندرہ مرتبہ ضلع کچہری آ چکی ہیں۔ انہوں نے چھ مختلف محکمہ جاتی تحقیقات کا سامنا بھی کیا ہے اور متعدد دیگر کیس بھی بھگتے ہیں۔ 

ان میں سے ایک کیس کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خلاف صوبائی محتسب کے پاس دائر کی گئی ان کی شکایت سے متعلق تھا۔ دوسرا ہتک عزت کا دعویٰ تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں دو درخواستیں بھی دائر کی تھیں۔ ان میں سے ایک صوبائی محتسب کے ان احکامات کے نفاذ سے متعلق ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ایسی محکمہ جاتی کارروائی نہیں کی جا سکتی جو ہراسانی کے خلاف ان کی شکایت پر انتقامی اقدام کی ذیل میں آتی ہو۔ دوسری درخواست میں انہوں ںے عدالت سے یہ فیصلہ کرنے کی استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کا اختیار  کس کے پاس ہے؟ پی ایل آ رے کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس (جن پر ان کا الزام ہے کہ وہ ان کے خلاف انتقامی جذبات رکھتے ہیں) یا بورڈ آف ریونیو کے سربراہ کے پاس جہاں وہ سرکاری ملازم کے طور پر بھرتی ہوئی تھیں۔ 

ان کی ہراساں کیے جانے کی درخواست رحمان ثاقب کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ درخواست اگست 2019 میں دائرکی تھی لیکن اسے دو دسمبر 2020 کو مسترد کر دیا گیا۔ محتسب نے اس درخواست پر اپنے فیصلے میں لکھا کہ ''ارم شہزادی کے بیشتر الزامات محکمے میں انتظامی معاملات سے متعلق ہیں جبکہ شکایت کنندہ کی جانب سے ملزم کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا کوئی خاص الزام سامنے نہیں آیا''۔  

شہزادی اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کا موقف صحیح طرح نہیں سنا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اس سماعت میں موجود نہیں تھیں جس کے دوران محتسب نے اپنا فیصلہ سنایا۔ ان کے پاس محتسب کے دفتر کے قانونی مشیر کے ساتھ اپنی فون کال کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے کیس میں محتسب نے آخری وقت پر اپنا ذہن تبدیل کر لیا تھا۔ 

ایک گھنٹے کی اس ریکارڈنگ میں قانونی مشیر کہتے ہیں کہ سپرا نے یہ کہہ کر محتسب کا فیصلہ تبدیل کروایا کہ اگر اس کیس میں سزا دی گئی تو پی ایل آر اے کے بہت سے ملازمین کے خلاف کی جانے والی ان 250 محکمانہ تحقیقات کو نقصان پہنچے گا جو رحمان ثاقب کر رہے ہیں۔ قانونی مشیر یہ کہتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ سپرا نے محتسب کو یہ کہا کہ ''اس سے ہمارے لیے بہت سے انتظامی مسائل کھڑے ہو جائیں گے''۔ 

ذاتی حملے

کیپٹن (ریٹائرڈ) ظفر اقبال کے وکیل چوہدری سلطان محمود کا کہنا ہے کہ شہزادی اتنی مال دار اور بارسوخ ہیں کہ وہ شہر کے بہترین وکلا کی خدمات حاصل کر سکتی ہیں اور عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے لے سکتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ''انہیں ہر مرتبہ عدالت سے حکم امتناع کیسے مل جاتا ہے؟'' حالانکہ ان کے بقول سپریم کورٹ کا وکیل ہونے کے باوجود انہیں اتنے تواتر سے عدالت کی جانب سے موافق فیصلے نہیں ملتے۔

اس ریکارڈنگ میں قانونی مشیر یہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ محتسب نے رحمان ثاقب کو ہلکی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اپنا فیصلہ لکھوا بھی دیا تھا مگر پی ایل آر اے کے ڈائریکٹر جنرل معظم اقبال سپرا نے ان کو یہ فیصلہ تبدیل کرنے پر قائل کر لیا۔ 

شہزادی کے مخالفین یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ انہیں مقدمے بازی کی عادت ہے۔ اپنے الزامات کے حق میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت سے مردوں پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کی ابتدائی شکایات میں سے ایک لاہور میں پی ایل آر اے کے سروس سنٹر کے انچارج کے خلاف تھی۔ انہوں نے اس پر الزام لگایا تھا کہ جب وہ دفتر میں اپنے بچے کو اپنا دودھ پلاتی تھیں تو وہ چپکے سے انہیں دیکھتا رہتا تھا۔ انہوں نے ایک وکیل کے خلاف بھی ہراساں کیے جانے کا مقدمہ درج کرایا جو باقاعدگی سے ان کے دفتر میں آتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی خواتین ساتھیوں نے ان سے اس وکیل کی شکایت کی تھی۔ 

سلطان محمود کا الزام ہے کہ شہزادی کو ''ہراس کے مقدمات'' دائر کرنے کی عادت ہے کیونکہ ان سے وہ اپنے خلاف تادیبی کارروائی سے بچنے کا کام لیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''وہ معصوم نہیں بلکہ ایک غلط کردار کی عورت ہیں''۔ 

رحمان ثاقب نے بھی محتسب کے سامنے ایسی ہی دلیل پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ''شکایت کنندہ ان لوگوں کے خلاف ہراساں کیے جانے کا ہتھیار عادتاً استعمال کرتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح ان سے متعلق کسی معاملے میں تحقیقات کی کوشش کرتے ہیں''۔ 

تاہم پی ایل آر اے میں صرف شہزادی کو ہی ہراساں کیے جانے کی شکایت نہیں ہے۔ اس محکمے کی کم از کم ایک اور خاتون ملازم نے، جو کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرتی ہیں، سجاگ کو بتایا کہ زبردستی سے کیے گئے ان کے تبادلے کے نتیجے میں ان کا حمل بھی ضائع ہو گیا تھا کیونکہ دوران حمل انہیں نوکری کے لیے روزانہ اپنے آبائی علاقے سے لاہور آنا جانا پڑتا تھا۔ 

ان کا کہنا ہے کہ بہت سی دیگر خواتین کو بھی محکمے کے اعلیٰ حکام ہراساں کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ بتاتی ہیں کہ پی ایل آر اے میں تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنے والی خواتین ملازمین کو محکمے کے ہیڈ کوارٹر میں ایک کمرے تک محدود رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنے موبائل فون بھی پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ 

تاہم شہزادی پر ہراس کا غلط استعمال کرنے کے علاوہ حکم عدولی اور بدعنوانی کا الزام بھی ہے۔ اسی لیے جب محتسب کے پاس انہیں ہراساں کیے جانے کی شکایت پر سماعت ہو رہی تھی تو پی ایل آر اے نے ان کے خلاف چار مختلف محکمانہ تحقیقات شروع کر دیں۔ اس پر محتسب کو محکمے کے اعلیٰ حکام سے کہنا پڑا کہ شکایت پر کارروائی مکمل ہونے تک وہ ان کے خلاف کوئی انتقامی قدم نہ اٹھائیں۔ 
 

یہ بھی پڑھیں

postImg

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی: گلگت کی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی ہراس کا سامنا۔

تاہم محکمے والوں نے اس ہدایت کو نظر انداز کیا۔ درحقیقت شہزادی کی نوکری کے خاتمے پر منتج ہونے والی تحقیقات بھی کسی حد تک اس وقت ہوئیں جب ان کی شکایت محتسب کی عدالت میں زیر سماعت تھی۔  

7 ستمبر 2020 کو صوبائی محکمہ انسداد بد عنوانی نے بھی مبینہ بد عنوانی میں ملوث ہونے پر ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شروع ہونے سے دو ہی دن بعد 30 سے زیادہ پولیس اہلکار رات ساڑھے آٹھ بجے انہیں گرفتار کرنے کی غرض سے ان کے سسرال آ پہنچے۔ وہ کہتی ہیں ''پولیس نے شاید ہی کسی اور معاملے میں اتنی تیزی سے اور اتنی بڑی تعداد میں اہلکاروں کے ذریعے کارروائی کی ہو''۔ 

انہیں گرفتاری اور قید سے بچنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے احکامات لینا پڑے۔ 

اس سے پہلے اکتوبر 2019 میں ان کے بارے میں انتہائی بیہودہ اور رقیق الزامات پر مبنی ایک خط سوشل میڈیا پر چلنے لگا۔ اس میں کہا گیا کہ ان کے والد اور بھائی جرائم پیشہ اور والدہ بد کردار ہیں۔ اس خط میں کوئی ثبوت پیش کیے بغیر ان کے خاندان کے بارے میں انتہائی اہانت آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔  

شہزادی کہتی ہیں کہ یہ خط رحمان ثاقب کے بھائی نے لکھوایا تھا۔ انہوں نے اس معاملے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ میں شکایت بھی درج کرائی جو مسترد کر دی گئی۔ 

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اسے رحمان ثاقب کے بھائی کے خلاف یہ خط لکھوانے اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ لیکن حیران کن طو ر پر ایف آئی اے نے اس شخص کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جس نے سوشل میڈیا پر یہ خط پوسٹ کیا تھا حالانکہ خط پر اس کا نام واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔ 

شہزادی اپنی ذات پر ہونے والے ان حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: ''کبھی کبھی  میرا دل چاہتا ہے کہ میں خُود کُشی کر لوں۔ اگر میرے شوہر نے میرا ساتھ نہ دیا ہوتا تو میں ہمت ہار چکی ہوتی''۔ 

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 25  مارچ 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 26 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔