فیصل آباد: 37 لاکھ آبادی کے شہر میں چنگ چی رکشہ واحد 'پبلک ٹرانسپورٹ' رہ گئی

postImg

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

فیصل آباد: 37 لاکھ آبادی کے شہر میں چنگ چی رکشہ واحد 'پبلک ٹرانسپورٹ' رہ گئی

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

بیس سالہ حفصہ اسلم چند ماہ پہلے تک لیکچرار بننے کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ مگر گریجویشن کے بعد انہیں تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ اب وہ نجی سکول میں چھ ہزار روپےماہانہ پر ملازمت کرتی اور اپنےگھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔

حفصہ فیصل آباد کے  علاقے الہٰی آباد کی رہائشی ہیں۔ان کے والد ایک ٹیکسٹائل مل میں 30 ہزار روپے ماہانہ پر نوکری کرکے اپنے کنبے کی کفالت کرتے ہیں۔

حفصہ بتاتی ہیں کہ پہلے وہ رکشے پر گورنمنٹ کالج سمن آباد جاتی تھیں۔ آنے جانے کا یہ روزانہ سفر بیس کلومیٹر بنتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوا تو  رکشے والے نے کرایہ دگنا کر دیا۔ ان کے والد کے لیے رکشے پر آٹھ دس ہزار روپے ماہانہ خرچ  کرنا ممکن نہیں تھا۔

چنانچہ انہوں  نے پبلک ٹرانسپورٹ پر آنا جانا شروع کر دیا۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر زیادہ تر چنگ چی (موٹرسائیکل رکشے) چلتے ہیں۔ کالج آنے جانے کے لیے انہیں چار رکشے بدلنا پڑتے تھے اور کئی کلومیٹر پیدل بھی چلنا پڑتا تھا۔ یہ بات ان کے والد کو پسند نہیں تھی۔

حفصہ کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکل رکشوں میں لڑکیوں کے لیے سفر کرنا آسان نہیں ہے۔ انہیں ڈرائیور، سواریوں اور کئی مرتبہ راہگیروں کی جانب سے ہراساں بھی کیا جاتا ہے، لوگ آوازیں کستے اور گھورتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات تو گھر سے نکلنے کا سوچ کر ہی کوفت ہونے لگتی ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ اگر شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مناسب انتظام  ہوتا تو وہ باآسانی  اپنی تعلیم مکمل کر سکتی تھیں۔

غیر سرکاری ادارے عورت فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق 85 فیصد خواتین  پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتی ہیں۔ان میں سے 15 فیصد ہراسانی کے خوف اور دیگر مسائل کے باعث گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

فیصل آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی سے صرف خواتین ہی کو پریشانی نہیں ہے۔طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

آئی کام کے طالب علم محمد عرفان نواحی گاؤں خانوآنہ کے رہائشی ہیں۔ وہ ان  طلبہ میں سے ہیں جو روزانہ بس کی چھت پر بیٹھ کر کالج آتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ بس کے اندر عام طور پر بیٹھنے کا کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر سیٹ مل جائے تو انہیں پورا کرایہ دینا پڑتا ہے۔ بس نہ ملے تو موٹرسائیکل رکشے پر سو روپے لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے وہ اور ان جیسے دوسرے طالب علم چھت پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں۔

 ساٹھ سالہ محمد اکبر کچہری بازار کے ایک دفتر میں بطور نائب قاصد ملازمت کرتے ہیں۔ انہیں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث گھر آنے جانے کے لیے روزانہ موٹرسائیکل پر 60 کلومیٹر سفر  کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمر میں ان کے لیے اتنا طویل سفر کرنا آسان نہیں لیکن کوئی اور ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں یہی کرنا پڑتا ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق فیصل آباد (لائلپور) شہر کو 1890ء میں گھنٹہ گھر کے ارد گرد ایک سو دس ایکڑ رقبے پر ڈیزائن کیا گیا تھا جہاں 20 ہزار لوگوں کی رہائشی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا۔اس وقت کی عام پبلک ٹرانسپورٹ تانگے تھے۔

ضلعی انتظامیہ سے حاصل کی گئی دستاویزات کے مطابق فیصل آباد میں پہلی پبلک ٹرانسپورٹ سروس 1968ء میں شروع کی گئی۔یہ چھ مرسیڈیز بسوں پر مشتمل تھی۔دس سال بعد بسوں کی تعداد  113 ہو گئی ان میں 38 ڈبل ڈیکر بسیں بھی شامل تھیں۔

ریکارڈ بتاتا ہے کہ1977ء کے بعد یہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں فیٹ کمپنی کی 50 بسوں کا اضافہ کیا گیا۔یہ سروس 'پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ کوآپریشن' کے تحت چلائی جاتی تھی۔ تاہم فنڈز کی کمی کے باعث 14 ستمبر  1991ء کو بسیں نیلام کرنے کی منظوری دی گئی اور پبلک ٹرانسپورٹ (یا جی ٹی ایس) کا یہ نظام ختم ہو گیا۔

جی ٹی ایس ختم ہونے کے بعد چھوٹے ٹرانسپورٹروں نے  ِپک اپ گاڑیوں کو ویگنوں کی شکل دے کر شہر میں چلانا شروع کر دیا۔ تاہم  قوانین اور پرمٹ سسٹم نہ ہونے  کے سبب ان گاڑیوں کی سواریوں سے جانوروں کاسا برتاؤ کیا جاتا تھا۔یہ خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کے لیے مشکل وقت تھا۔

مارچ 1994ء میں اس وقت کے ڈویژنل کمشنر تسنیم نورانی نے شہریوں کی سہولت کےلیے  فیصل آباد اربن ٹرانسپورٹ سوسائٹی کا آغاز کیا۔پہلے اس میں وزیر اعظم کی ییلو کیب سکیم کے تحت دی جانے والی ہائی ایس ویگنوں کو شامل کیا گیا۔

نئی آرام دہ گاڑیوں ،مناسب کرائے اور  بہتر سروس کی وجہ سے اس ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہت پذیرائی ملی۔پانچ سال میں سوسائٹی کے تحت چلنے والی ویگنوں کی تعداد ایک ہزار 800 ہو گئی اور ان میں  روزانہ مسافروں کی تعداد سات لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ٹیم 1998ء میں قرض واپسی  کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان آئی تو انہیں یہ دلچسپ حقیقت معلوم ہوئی کہ فیصل آباد میں قرض واپسی کی شرح 97 فیصد سے زیادہ تھی جبکہ  باقی ملک سے قرض واپسی کی شرح سات فیصد تھی۔

اس انکشاف پر بینک کی ٹیم  فیصل آباد آئی۔ انہوں نے یہاں اربن ٹرانسپورٹ سوسائٹی کےلیے ایک سٹڈی رپورٹ تیار کی اور اسے مزید بہتر بنانے کے لئے 40 کروڑ ڈالر قرض کی پیشکش کی۔ساتھ ہی ویگنوں کی جگہ بڑی بسیں چلانےکی تجویز دی۔

پھر یوں ہوا کہ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے  کر دیئے اور ملک پر عالمی معاشی پابندیاں لگ گئیں۔ زرمبادلہ کے لئے ذرائع کے تلاش شروع ہوئی تو حکومت کو ایشین بینک کی 40 کروڑ ڈالر قرض کی پیشکش کا پتا چلا۔

اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس قرض کے لیے فوری طور پر نجی فرنچائز بس سروس شروع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اور ویگنوں کے روٹ پرمٹ منسوخ کر دیئے گئے اس اقدام سے فیصل آباد میں اربن ٹرانسپورٹ سروس شدید متاثر ہوئی۔

فرنچائز بس سروس کے تحت بشیر سنز، منٹھار اور کوہستان ٹرانسپورٹ کمپنی نے کمرشل بینکوں سے کم شرح سود پر قرض لے کر بڑی بسیں چلانے کا آغاز کیا ۔ انہیں حکومت نے شہر کے مرکزی علاقوں میں بس اڈے بنانے کے لیے انتہائی کم نرخوں پر جگہ بھی لیز پر دی تھی۔

معاہدے کے مطابق فیصل آباد میں ہر روٹ پر تقریبا 40 اور مجموعی طور پر 400 بسیں چلائی جانا تھیں تاہم چند ہی سال میں گاڑیوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی۔ پہلے ہر روٹ پر ایک بس سے دوسری بس کا وقفہ دس منٹ مقرر کیا گیا تھا مگر بسوں کی  کمی کے باعث یہ دورانیہ آدھے گھنٹے تک پہنچ گیا۔

2005ء میں اندرون شہر روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر شہر میں صرف 220 ویگنیں اور 26 سی این جی بسیں چل رہی تھیں۔

یہ صورتحال دیکھتے ہوئے لوگوں نے دیہات میں چلنے والے موٹرسائیکل رکشے شہر  میں چلانے شروع کر دیئے ، آج دوعشرے بعد ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ  چکی ہے۔تاہم  موٹرسائیکل رکشوں کی رجسٹریشن  تک کا کوئی نظام تشکیل نہیں دیا جا سکا۔

2015ء میں سپریم کورٹ نے موٹرسائیکل رکشوں کی فٹنس ،لائسنس اور فی رکشہ زیادہ سے زیادہ چار مسافر بٹھانے سے متعلق فیصلہ دیا تھا تاہم اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے طلبہ نے 2022ء میں  ایک سروے کیا جس میں 60 فیصد سے زیادہ شہریوں نے موٹرسائیکل رکشوں کو شہر میں سفر کا واحد ذریعہ اور  پبلک ٹرانسپورٹ سروس  کو شہر کی اہم ضرورت قرار دیا تھا۔

پنجاب حکومت نے 2013 میں فیصل آباد میں میٹرو بس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن  دس سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے بھی کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔

کمشنر فیصل آباد سلوت سعید پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید کمی کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ شہر میں کم از کم ڈھائی سو بسیں  اور ایک ہزار ہائی ایس ویگنیں چلانے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں ٹرانسپورٹروں  سے پیشکشیں مانگ لی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

بے 'بس' لاہوری اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کا لاہور شہر تک محدود پنجاب

انہوں نے بتایا کہ روٹس کے تعین ودیگر امور طے کر نے کے لیے کمیٹی بنادی  گئی ہے۔ خواتین  کے لیے پنک بسیں یا ویگنیں چلانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 1997ء میں  فیصل آبادشہر 21 لاکھ  آبادی کی سفری ضروریات پوری کرنے کے لئے 744 بسوں کی ضرورت تھی۔ 2023ء میں  37 لاکھ سے زیادہ آبادی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے طورپر ایک ہزار 300 بسیں چاہئیں ہوں گی۔

فیصل آباد اربن ٹرانسپورٹ سوسائٹی کے ایڈمنسٹریٹر  راحت علی کے مطابق اس وقت شہر کے 11 مختلف روٹس پر 573 ویگنیں چل رہی ہیں۔ان میں روزانہ 25ہزار سے زائد شہریوں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جا ر ہی ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے نجی شعبےکو پانچ سالہ معاہدے کی پیشکش کی گئی ہے۔اس سلسلے میں 35 نئے روٹس تشکیل دیے گئے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹروں کو ان روٹس پر چلنے والے موٹرسائیکل رکشوں کی آمد ورفت پر پابندی لگانے کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی عبدالجبار نے بتایا  کہ آٹھ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر  40 نشستوں والی 380 بسیں چلانے کے لئے پیشکشیں جمع کروائی ہیں۔ تاہم ابھی تک دس نئے روٹس پر سو کوسٹریں چلانے کا پروگرام ہی تیار کیا جا سکا ہے۔ اس کے لیے بھی کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ۔

تاریخ اشاعت 26 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.