جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملی ہیں: 'جنسی زیادتی کا شکار خواتین اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر پاتیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملی ہیں: 'جنسی زیادتی کا شکار خواتین اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر پاتیں'۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملی ہیں: 'جنسی زیادتی کا شکار خواتین اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر پاتیں'۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

شازیہ کو معلوم ہے کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا شخص کون ہے۔ اس کے باوجود وہ اُس کے خلاف قانونی کارروائی سے گریز کر رہی ہیں۔

وہ ضلع ملتان کی تحصیل شجاع آباد کے گاؤں ٹوڈر پور میں رہتی ہیں اور اپنے مرحوم شوہر کے چھوٹے بھائی پر الزام عائد کرتی ہیں کہ اس نے 2020 میں 13 جون سے 13 اگست تک کئی مرتبہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ دو کمروں پر مشتمل اپنے خستہ حال گھر میں ایک ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر بیٹھے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ وہ ملزم کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی اس لیے نہیں کر سکیں کہ ان کے پاس ایسا کرنے کے لیے درکار وسائل ہی نہیں۔ 

سانولی رنگت کی دبلی پتلی شازیہ کی عمر 35 برس ہے۔ ان کے شوہر  وفات پا چکے ہیں جن سے ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جس کی پیدائش انہی دنوں ہوئی تھی جب اس کے والد کا انتقال ہوا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کا دیور عامر ان کا ہمسائے میں رہتا ہے۔ ان کے شوہر کی وفات کے بعد وہ انہیں ایک کمرے میں بند کر کے اسلحے کے زور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا تھا جبکہ اس کی ایک ساتھی خاتون شبانہ موبائل فون کے ذریعے ان کی تصویریں اتارتی تھی۔ اس زیادتی کے نتیجے میں وہ حاملہ بھی ہو گئیں۔ 24 اگست 2020 کو تھانہ شجاع آباد میں ان کی طرف سے درج کرائی گی ایک شکایت کے مطابق، عامر اور شبانہ نے یہ حمل ضائع کرنے کے لیے انہیں زبردستی انجکشن لگائے اور دوائیں دیں۔ 

انہوں نے اپنی شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ عامر نے انہیں دھمکی دے رکھی تھی کہ اگر انہوں نے کسی کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بتایا تو وہ ان کی تصویریں انٹرنیٹ پر ڈال دے گا۔ اس نے انہیں یہ بھی کہا کہ اگر انہوں نے کبھی زبان کھولی تو وہ ان کے بچوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 

شازیہ کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کی وجہ سے انہیں پولیس کو زیادتی کے بارے میں آگاہ کرنے میں دو مہینے لگ گئے۔ ان کے مطابق انہیں گھر سے نکل کر تھانے پہنچنے کا موقع اس وقت ملا جب کچھ لوگ عامر کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ان کے گھر پہنچ گئے اور اسے ان سے بچنے کے لیے کہیں اور جانا پڑا۔

ٹوڈر پور گاؤں میں شازیہ بی بی کا گھرٹوڈر پور گاؤں میں شازیہ بی بی کا گھر

انہوں نے تھانے میں درج کرائی گئی اپنی درخواست میں کہا کہ اس طرح انہیں اپنے گاؤں کے ان لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بتانے کا موقع مل گیا جو ان کی آہ و بکا سن کر ان کے گھر کے سامنے جمع ہو گئے تھے۔ دوسری طرف عامر اور شبانہ نے جب لوگوں کو بڑی تعداد میں وہاں اکٹھے ہوتے دیکھا تو وہ گاؤں سے فرار ہو گئے۔ 

اس واقعے کے تقریباً 16ماہ بعد شازیہ کے والد ٹوڈر پور میں اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ ان کے جھریوں بھرے سفید داڑھی والے چہرے پر مایوسی عیاں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی برادری کے سرکردہ لوگوں نے انہیں عامر اور شبانہ کے خلاف مقدمہ واپس لینے کا کہا ہے۔ ان کے ہاتھ میں ایک خالی سٹیمپ پیپر ہے جو جنوری 2022 میں دونوں ملزموں نے انہیں یہ کہہ کر دیا ہےکہ اگر ان کے ہاتھوں شازیہ کو دوبارہ کوئی نقصان پہنچے تو وہ اس پر ان کے خلاف کچھ بھی لکھ کر پولیس کو دے سکتے ہیں۔

لیکن اس کاغذ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔ عامر اور شبانہ باآسانی اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ انہوں نے کبھی شازیہ کے والد کو ایسا کوئی سٹیمپ پیپر دیا تھا یا انہیں کہا تھا کہ وہ اس پر اپنی مرضی سے کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ اس کاغذ کی عدم موجودگی میں بھی ان کے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا تو وہ انصاف حاصل کرنے کے لیے عامر اور شبانہ کا پیچھا کریں یا اپنے بچوں کو پالیں۔

ان  کے پاس تھوڑی سی زرعی زمین ہے جس پر وہ سبزیاں اگاتی ہیں اور انہیں فروخت کر کے اپنی روزی کماتی ہیں۔ اگرچہ وہ کچھ اضافی آمدنی کے حصول کے لیے اپنے ہمسایوں کی گائے بھینسوں کا دودھ بھی دوہتی ہیں اس کے باوجود وہ اپنے مقدمے پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔

راضی برضا یا راضی بالجبر؟

شازیہ کی طرح ارشاد بی بی نامی خاتون بھی شجاع آباد میں رہتی ہیں۔ وہ بھی اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کو جانتی ہیں لیکن عدالت میں انہوں نے اسے پہچاننے سے انکار کر دیا ہے۔ 

ان کی 42 سالہ والدہ حسینہ بی بی نے 9 جولائی 2020 کو پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے فوری مدد طلب کی۔ انہوں نے پولیس کو فون پر بتایا کہ ایک شخص ان کے گھر گھس آیا ہے اور ان کی 19 سالہ بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

پولیس کے پہنچنے سے پہلے چند مقامی لوگ حسینہ بی بی کی پکار سن کر ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئے تھے اور انہوں نے محمد رضوان نامی شخص کو اندر سے برآمد بھی کر لیا تھا۔ بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا جو اسے شجاع آباد تھانے میں لے گئی۔

حسینہ بی بی کے مطابق پولیس نے اس کے جوتے (جو اس نے ان کے گھر میں گھسنے سے پہلے اتار دیے تھے) اور وہ سیڑھی بھی قبضے میں لے لی جو اس نے مبینہ طور پر اندر آنے کے لیے استعمال کی تھی۔

پولیس نے حسینہ بی بی کو بھی تھانے میں بلایا لیکن جب وہ وہاں پہنچیں تو انہیں انتظار کرنے کو کہا گیا کیونکہ پولیس افسر مصروف تھے۔ اس کے بعد انہیں کہا گیا کہ وہ گھر واپس چلی جائیں اور دوبارہ آئیں۔ 

وہ کہتی ہیں کہ اسی دوران 28 جولائی 2020 کو محمد رضوان کلہاڑیوں سے مسلح ہو کر تین دیگر افراد کے ساتھ دوبارہ ان کے گھر میں گھس آیا۔ ان حملہ آوروں نے ان کے بیٹے اور بھتیجے کو مارا پیٹا اور حسینہ بی بی کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے محمد رضوان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھی تو وہ ان کے اور ان کی بیٹی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیں گے۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس اس کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کرتی رہی۔ لہٰذا 17 اگست 2020 کو انہوں نے محمد رضوان کے خلاف ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرانے کے لیے شجاع آباد کی ایک مقامی عدالت سے رجوع کیا جس نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کیا۔ جب بالآخر پولیس نے 27 اگست کو اس عدالتی حکم پر عمل کیا تو ارشاد بی بی کے ساتھ ہونے والے واقعے کو رونما ہوئے 49 دن گزر چکے تھے۔ 

تاہم اس کے نو ماہ بعد شجاع آباد میں کام کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج امجد خان مختار کی عدالت نے محمد رضوان کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ انہوں نے 19 مئی 2021 کو جاری کیے گئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ صرف حسینہ بی بی اور ارشاد بی بی ہی ملزم کی شناخت کر سکتی تھیں لیکن ان دونوں نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ ارشاد بی بی نے اپنے عدالتی بیان میں یہ بھی کہا کہ ان پر جنسی حملہ کرنے والا شخص دراصل اپنے چہرے کو مفلر میں چھپائے ہوئے تھا۔ 

تاہم یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں ہے۔

ملتان میں ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کا دفترملتان میں ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کا دفتر

اسی عدالت سے حاصل کردہ معلومات سے پتا چلتا ہے کہ 21-2020 میں امجد خان مختار نے جنسی زیادتی کے 12 مقدمات سنے جن میں سے پانچ میں متاثرین نے اپنے الزامات واپس لے لیے تھے۔ مثال کے طور پر عبدالغفار بنام سرکار نامی ایسے ہی ایک مقدمے میں ملزم نے اپنی "بے گناہی کا سرٹیفکیٹ" عدالت میں پیش کیا جو متاثرہ خاتون نے لکھا تھا۔ اسی طرح ناصر حسن بنام سرکار نامی ایک مقدمے میں متاثرہ خاتون نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ اس نے مرکزی ملزم کو معاف کر دیا ہے۔ 

ایسے ہی مقدمات کی بنیاد پر شجاع آباد میں تعینات ایک سرکاری وکیل قیصر عباس کہتے ہیں کہ جنسی زیادتی کے پکے مجرموں کو بھی سزا نہیں ملتی کیونکہ ان کے متاثرین ان کے ساتھ صلح کر لیتے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ "اس علاقے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بیشتر خواتین بہت غریب ہوتی ہیں اسی لیے وہ صلح کے لیے ڈالے جانے والے سماجی اور مالی دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتیں۔ ان کی اس کمزوری سے پتہ چلتا ہے کہ ایسی بیشتر خواتین اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے لوگوں کے خلاف مقدمات کی پیروی کیوں نہیں کر سکتیں"۔ 

ملتان میں واقع ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل کو بھیجی گئی ایک رپورٹ سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ صرف نومبر 2021 میں ملتان میں چلنے والے جنسی تشدد کے 11 مقدمات میں سے چار کے متاثرین نے ملزموں سے صلح کر لی۔  

شجاع آباد میں متعین ایک اور سرکاری وکیل رانا ایوب کے نزدیک ملزموں کو معاف کیے جانے کے رحجان کی اصل وجہ یہ ہے کہ جنسی زیادتی کے بیشتر الزمات ہوتے ہی بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ سکتی کہ جس خاتون کے خلاف ایسا ہولناک جرم ہوا ہو وہ کسی خاص تردد کے بغیر اپنا مقدمہ واپس لے لے"۔

ملتان کے ضلعی پراسیکیوٹر کے دفتر میں کام کرنے والے کچھ سرکاری اہل کار بھی یہی سمجھتے ہیں۔ اپنے علاقے میں جنسی زیادتی کے مقدمات میں سزا کی شرح کے صرف 4.7 فیصد ہونے کو بنیاد بناتے ہوئے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنسی زیادتی کے بیشتر مقدمات جھوٹے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ وہ ایسی نشانیوں سے واقف ہیں جن کی بنیاد پر وہ بتا سکتے ہیں کہ کون سا مقدمہ سچا ہے اور کون سا جھوٹا۔ ان کے مطابق ایسا مقدمہ جھوٹا ہوتا ہے جس میں:

- متاثرہ خاتون کنواری ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس کے پردہ بکارت کے معائنے سے یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔

- متاثرہ خاتون فوری طور پر واقعے کی رپورٹ درج نہیں کراتی۔

-  متاثرہ خاتون کے جسم پر زیادتی کے خلاف مزاحمت کے کوئی نشانات نہیں ہوتے۔

ان کی رائے میں یہ علامات ثابت کرتی ہیں کہ مبینہ جنسی زیادتی دراصل رضامندی سے ہونے والا جنسی فعل ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ "ایسے مقدمات میں ہم مبینہ متاثرین کو انصاف دلانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے کیونکہ ہمیں علم ہوتا ہے کہ فریقین جلد یا بدیر آپس میں صلح کر لیں گے"۔

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟

عمر فاروق خان ملتان میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ تاہم اپنے مذکورہ بالا ساتھیوں کے برعکس ان کا خیال ہے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں بہت کم ملزموں کو سزا ملنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پولیس ایسے مقدمات میں درست تفتیش نہیں کرتی۔ ان کے مطابق بیشتر واقعات میں پولیس مقدمے کا چالان جلدازجلد مکمل نہیں کرتی جبکہ دوسرے واقعات میں بروقت اور درست طور سے ڈی این اے کے نمونے جمع نہیں کیے جاتے۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ "پولیس ملزمان کے خلاف شہادتیں جمع کرنے کے لیے جائے وقوعہ کی ویڈیو بنانے جیسے جدید طریقے بھی استعمال نہیں کرتی"۔ 

اپنی بات کے ثبوت میں وہ اپنے دفتر کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل کے لاہور کے دفتر کو بھیجی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں جس میں 2021 میں ملتان کی حدود میں درج ہونے والے جنسی تشدد کے مقدمات پر سرکاری وکلا کے ایک ہزار ایسے اعتراضات شامل ہیں جو انہوں نے پولیس کی تفتیش پر اٹھائے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

قصور کی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کا قتل: انصاف کے راستے میں حائل قانونی پیچیدگیاں۔

اس کے برعکس پولیس اہل کار اس بات کا مورد الزام عدالتوں اور جنسی تشدد کے متاثرین کو ٹھہراتے ہیں کہ ایسے مقدموں میں سزائیں کم ہوتی ہیں۔ ملتان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر خرم شہزاد احمد کہتے ہیں کہ بہت سے مقدمات عدالتوں میں اتنا طول پکڑتے ہیں کہ متاثرین کے پاس ان کی پیروی جاری رکھنے کے لیے درکار توانائی، وقت اور مالی وسائل ختم ہوتے جاتے ہیں۔ وہ متاثرین پر "دباؤ کے سامنے گٹھنے ٹیکنے" اور "فریق مخالف کو پیسے لے کر معاف کرنے" کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر متاثرین پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کرتے جس سے تفتیش "بری طرح" متاثر ہوتی ہے۔

تاہم خواتین کے حقوق کی کارکن اور کئی سال پہلے جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ زیادتی کی متاثرہ عورتوں پر لگائے گئے اس الزام کو مسترد کرتی ہیں کہ وہ ملزموں سے رقم یا کوئی اور فائدہ لے کر ان کے ساتھ صلح کر لیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "جنسی زیادتی کا شکار ہونا معاشرے میں بہت بڑی بدنامی سمجھا جاتا ہے"۔ خاص طور پر ملتان سمیت پنجاب کے جنوبی اضلاع میں "جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین سمجھتی ہیں کہ انہوں نے معاشرے میں اپنی تمام تر عزت اور احترام کھو دیا ہے"۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسے حالات میں "وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ کس طرح نرم رویہ اختیار کر سکتی ہیں جس نے انہیں ان کی عزت و آبرو سے محروم کیا ہو"۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہیں ایسا اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ ان کے پاس کوئی اور چارہ کار نہیں ہوتا"۔ ان کے مطابق متاثرہ عورتوں کو زیادتی کے ملزموں کے ساتھ صلح اس لیے کرنا پڑتی ہے کہ "سماج ان کا ساتھ نہیں دیتا اور وہ اپنے مخالفین کی طاقت کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوتیں"۔

تاریخ اشاعت 8 مارچ 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔