کسانوں سے سستا گنا لینے والے 'خفیہ خریدار'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کسانوں سے سستا گنا لینے والے 'خفیہ خریدار'

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

کسانوں سے سستا گنا لینے والے 'خفیہ خریدار'

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

پِچھلے دو ہفتوں میں چینی کی قیمت میں سات روپے سے دس روپے فی کلو گرام اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت نے پانچ لاکھ ٹن صاف چینی دوسرے ملکوں سے منگوانے کی منظوری دی ہے۔ اس چینی پر کوئی درآمدی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔

حکومت نے چینی بنانے والی مِلوں کو بھی اجازت دی ہے کہ وہ تین لاکھ 50 ہزار ٹن خام چینی ٹیکسوں کے بغیر درآمد کر سکتی ہیں تا کہ وہ اسے پاکستان کے اندر صاف کر کے بیچ سکیں۔ 

ان حکومتی اقدامات کا ایک اہم محرک پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے جنوری کے پہلے ہفتے میں وزیر اعظم عمران خان کو لکھا گیا ایک خط ہے۔ مِل مالکان نے اس میں لکھا ہے کہ 31 دسمبر 2020 تک پاکستان میں سرکاری ہدف سے تین لاکھ ٹن کم چینی پیدا ہوئی ہے۔

ان کے مطابق اس کمی کی اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے انہیں مجبور کیا کہ وہ پندرہ نومبر 2020 یا اس سے پہلے گنے سے رس نکالنے کا عمل (crushing) شروع کریں حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ اس تاریخ تک پنجاب کے کئی علاقوں میں گنے کی فصل پوری طرح تیار نہیں ہوئی تھی۔ لہٰذا ان کا دعویٰ ہے کہ مِلوں نے اس دوران جو گنا خریدا اس سے حاصل ہونے والی مٹھاس کی شرح (ریکوری ریٹ) معمول سے کم تھی جس کے نتیجے میں چینی کی پیداوار کم رہی۔

مِل مالکان یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ پنجاب حکومت ایسے ایجنٹوں یا مڈل مینوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے جو کسانوں سے حکومت کی طرف سے طے کردہ کم سے کم قیمت (200 روپے فی 40 کلو گرام) پر گنا خریدتے ہیں لیکن یہی گنا وہ مِلوں کو 270 روپے سے تین سو روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ 

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ٹیلی وژن اور اخبارات میں ایسے اشتہارات بھی دیے ہیں جن میں اس صورتِ حال کی ذمہ داری خاص طور پر پنجاب کے کین کمشنر پر ڈالی جا رہی ہے۔ 

دوسری طرف پنجاب کے کین کمشنر محمد زمان وٹو نے حال ہی میں ایسے لیبارٹری ٹیسٹ کرائے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ صوبے میں گنے کا ریکوری ریٹ بالعموم اس سطح سے بلند ہوتا ہے جو مِل مالکان حکومت کو بتاتے ہیں۔ لہٰذا وہ اس الزام کو رد کرتے ہیں کہ پندرہ نومبر کو کرشنگ سیزن شروع کرنے سے چینی کی پیداوار پر کوئی فرق پڑا ہے۔  

ان کا یہ بھی کہنا ہے ان کے پاس اتنا سٹاف نہیں کہ وہ پورے پنجاب میں ہر جگہ ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کرسکیں۔ 'پھر بھی ہم ضلعی انتظامیہ کی مدد سے ایسی تمام کارروائیاں کر رہے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں'۔ 

ان کے مطابق 'جب سے گنے کی کٹائی کا موجودہ موسم شروع ہوا ہے تب سے ہم نے اس کی خریداری کے 367 غیر قانونی مرکز بند کیے ہیں اور 202 افراد کے خلاف پرچے درج کرائے ہیں۔ اس کے علاوہ 71 مڈل مین گرفتار بھی کیے جا چکے ہیں'-

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد عرفان ہنجرا اِن کارروائیوں میں شامل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے زیرِ انتظام علاقے میں گنے کی غیر قانونی خریداری میں ملوث افراد کے خلاف دس پرچے درج ہو چکے ہیں جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مجموعی طور پر 40 سے زائد غیر قانونی خریداری مراکز اور ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔

ایجنٹ کس کے لئے کام کرتے ہیں؟

گنا خریدنے والے ایجنٹ یا مڈل مین دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جنہیں مِل کی جانب سے گنا خریدنے کا کام دیا گیا ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو اپنے تئیں کسانوں سے گنا خریدتے ہیں اور پھر مِلوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ 

ضلع قصور میں واقع پتوکی شوگر مل کے اہل کار خالد رشید کہتے ہیں کہ مڈل مین قانونی طور پر گنے کی خریداری کے مراکز قائم کر سکتے ہیں بشرطیکہ انہوں نے حکومتِ پنجاب اور مقامی شوگر ملوں سے اس کی اجازت لے رکھی ہو اور وہ تمام خرید و فروخت حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق کر رہے ہوں۔ لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ 'آج کل کچھ لوگ چھپ چھپا کر گنے کی خریداری کر رہے ہیں'۔

خالد رشید کا کہنا ہے کہ مِلیں اور کسان دونوں ہی ایسے خفیہ خریداروں کے ہاتھوں پریشان ہیں لیکن محمد زمان وٹو کہتے ہیں کہ 'یہ ایجنٹ مِل مالکان کی معاونت کے بغیر کاشت کاروں سے گنا خرید ہی نہیں سکتے'۔

ان کے اس دعوے کا ایک ثبوت حال ہی میں ضلع جھنگ میں سامنے آیا جہاں اسسٹنٹ کمشنر قاسم گل نے دو ایسے ایجنٹوں کو گرفتار کیا جو غیر قانونی طریقے سے گنا خرید کر رہے تھے۔ قاسم گل کہتے ہیں: 'یہ ایجنٹ مِلوں کے ساتھ مِلی بھگت کر کے کسانوں کو مِل ریٹ سے کم قیمت دے کر اور گنے کی خریداری کی رسید (سی پی آر) جاری کیے بغیر گنا خرید رہے تھے'۔

پاکستان کسان بورڈ نامی کسان تنظیم کے صدر شوکت علی چدھڑ کہتے ہیں کہ درحقیقت ایسے ایجنٹ مِلوں کے اپنے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ 'اکثر یہ ایجنٹ مل کے اپنے ملازمین یا ان کے رشتہ دار ہوتے ہیں'۔ 

اسی تنظیم کے سیکرٹری اطلاعات میاں خالد پرویز بھی اپنے ضلع اوکاڑہ میں قائم ایک شوگر مِل پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے اپنے ایک ملازم محمد افضل کے نام ایک خریداری مرکز رجسٹرڈ کرا رکھا ہے لیکن یہاں آنے والا گنا در حقیقت ایجنٹوں کی مدد سے خریدا جاتا ہے۔ 

محمد ارشاد نامی ایجنٹ اسی مرکز کے لیے گنا خریدتے ہیں۔

فون پر سجاگ سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنے خلاف کسی قانونی کارروائی کا خوف نہیں کیونکہ وہ خریداری مرکز کے انچارج محمد افضل سے مل کر کام کر رہے ہیں۔

اوکاڑہ سے ہی تعلق رکھنے والے ریاض احمد نامی ایجنٹ کا کہنا ہے کہ مِلیں اس وقت تک گنے کی غیر قانونی خریداری پر اعتراض نہیں کرتیں جب تک وہ خود اس سے فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہیں۔ اپنی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے ضلعے میں واقع ایک مِل کے لئے گنا خریدتے تھے لیکن یہ مِل نہ تو انہیں صحیح قیمت دیتی تھی اورنہ ہی ان کے گنے کے وزن کو درست تسلیم کرتی تھی۔ اس لئے انہوں نے قصور اور فیصل آباد میں واقع مِلوں کے لئے گنا خریدنا شروع کر دیا جس پر، ان کے مطابق، اوکاڑہ والی مِل نے ان کے خلاف 'تین پرچے درج کروا دیئے ہیں'۔

ایجنٹ کیسے کام کرتے ہیں؟

ایجنٹ محمد ارشاد کا کہنا ہے کہ وہ گنا براہِ راست کھیت سے بھی خرید لیتے ہیں اگرچہ اس صورت میں وہ اس کی قیمت دو سو 40 روپے فی 40 کلو گرام سے کم دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ 40 کلو گرام گنے کو 39 کلو گرام تصور کرتے ہوئے ہر 40 ہزار کلو گرام گنے میں سے ایک ہزار کلو گرام (یا 25 من) کی قیمت ادا نہیں کرتے۔ 

دوسرے لفظوں میں اگر گنے کی قیمت 240 روپے فی 40 کلو گرام ہو تو وہ دو لاکھ 40 ہزار روپے مالیت کے گنے کے لئے دو لاکھ 34 ہزار روپے ادا کرتے ہیں۔  
محمد ارشاد اس کٹوتی کی توجیہہ یہ پیش کرتے ہیں کہ مِل تک پہنچنے سے پہلے بہت سا گنا  لوگ راستے میں ہی کھینچ لیتے ہیں۔ تاہم یہ ایک نا ممکن سے بات ہے کہ 20 ہزار کلو گرام گنا لے کر جانے والی ٹرالی سے پانچ سو کلو گرام (یا ساڑھے 12 من) گنا کھینچ لیا جائے۔ ان کے مطابق کٹوتی کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ نقل و حمل کے دوران گنا سوکھ جاتا ہے جس سے اس کے وزن میں کمی آ جاتی ہے جبکہ تیسری وجہ یہ ہے کہ مِل والے بھی ہر 40 کلو گرام گنے پر 250 گرام کی کٹوتی کرتے ہیں۔  

تاہم پنجاب کے کین کمشنر محمد زمان وٹو کے مطابق یہ تمام کٹوتیاں غیر قانونی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت 'کوئی شوگر مل گنے کی کسی بھی ورائٹی سے کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہیں کر سکتی کیونکہ ایسا کرنا ایک جرم ہے'۔ 

دوسری طرف محمد ارشاد یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی کسان کو اس سے خریدے گئے گنے کی سی پی آر فراہم نہیں کی اور نہ ہی مِل والے انہیں کوئی سی پی آر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق گنے کی قیمت براہِ راست ان کے اکاؤنٹ میں آجاتی ہے۔ 'ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا چلتا کہ گنے کے وزن میں کیا اور کتنی کٹوتی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا'۔ 

کین کمشنر محمد زمان وٹو بھی اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ مِل مالکان نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے گنا خریداری مراکز قائم کر رکھے ہیں جہاں کسانوں کو سی پی آر نہیں جاری کی جاتی۔ 

اوکاڑہ میں ہی سرگرم ایک اور ایجنٹ، ذوالفقار، کا کہنا ہے کہ کسانوں کو سی پی آر جاری نہ  کرنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اس طرح مِل والے گنے کی زیادہ قیمت لگا کر اس کا وزن کم دکھا سکتے ہیں۔

شوکت علی چدھڑ کا بھی یہی کہنا ہے۔ 

ان کے مطابق 'پچھلے دنوں میرے پاس ضلع قصور کی ایک مِل کے بارے میں اطلاعات آئی ہیں کہ اس نے ضلع وہاڑی میں ایک ایسا مرکز قائم کر رکھا ہے جہاں کسانوں سے دو سو 15 روپے یا دو سو 20 روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے گنا خریدا جا رہا ہے اور پھر اسے ٹرکوں پر لاد کر قصور میں شوگر مل میں پہنچایا جا رہا ہے جبکہ اس گنے کی سی پی آر تین سو 20 روپے سے لے کر تین سو 40 روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے بنائی جا رہی ہے'۔ 

وہ کہتے ہیں کہ مِل مالکان بعد میں ان سی پی آرز کو بنیاد بنا کر دعویٰ کریں گے کہ انہیں گنا بہت مہنگے داموں ملا ہے اس لئے ان کے پاس چینی کی قیمت بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ 

شوکت علی چدھڑ یہ بھی کہتے ہیں کہ 2017 میں جب پنجاب میں بہت زیادہ گنا کاشت کیا گیا تو مِل مالکان نے گنا خریدتے وقت بہت زیادہ کٹوتیاں کیں۔ اگرچہ 'اس بار کین کمشنر پنجاب گنے کی خرید و فروخت کی موثر نگرانی کر کے مل مالکان کو زیادہ کٹوتیاں نہیں کرنے دے رہے لیکن کسانوں سے ایجنٹوں کے ذریعے کم قیمت پر گنا خرید کر اس کی مہنگی سی پی آرز بنانے کا کام اب بھی عروج پر ہے'۔ 

پچھلے سال حکومت کی طرف سے چینی کے بحران کا جائزہ لینے کے لئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں بھی مِل والوں کی جانب سے اس طریقہِ کار کے استعمال کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ مِل والے خریدے گئے گنے کا وزن کم دکھاتے ہیں اور اضافی گنے کو ریکارڈ پر لائے بغیر اس سے چینی بنا کر خفیہ طور پر فروخت کردیتے ہیں۔ اس طرح نا صرف ٹیکس بچایا جاتا ہے بلکہ غیر قانونی طور پر بنائی جانے والی چینی پر خرچ ہونے والی بجلی اور مزدوری بھی قانونی طور پر بنائی جانے والی چینی کی لاگت میں شامل کر کے چینی کی قیمت بڑھانے کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ 

اس رپورٹ کے مطابق پچھلے سال غلط لاگت بتا کر صرف چھ  شوگر ملوں نے 53 ارب روپے منافع کمایا جس پر واجب الادا ٹیکس ہی کی مالیت کم از کم 18 ارب روپے بنتی ہے۔ 

محمد زمان وٹو اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ اس سال بھی غیر قانونی طور پر خریدے گئے گنے سے بنائی جانے والی چینی خفیہ طریقے سے مارکیٹ میں بیچی جا رہی ہے۔ صوبائی محکمہِ صنعت کو لکھے گئے ایک خط میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ بھاری مقدار میں چینی حکومت کے علم میں لائے بغیر چوری چھپے بیچی جا رہی ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 27جنوری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 4 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔