مسیحی شادیوں کی سرکاری رجسٹریشن کی غیرموجودگی: 'کوئی بھی شادی شدہ شخص خود کو کنوارا ظاہر کر کے دوسری شادی کر سکتا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

مسیحی شادیوں کی سرکاری رجسٹریشن کی غیرموجودگی: 'کوئی بھی شادی شدہ شخص خود کو کنوارا ظاہر کر کے دوسری شادی کر سکتا ہے'۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مسیحی شادیوں کی سرکاری رجسٹریشن کی غیرموجودگی: 'کوئی بھی شادی شدہ شخص خود کو کنوارا ظاہر کر کے دوسری شادی کر سکتا ہے'۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

ثاقب ولیم 2016 میں اپنا گھر چھوڑ کے کہیں چلا گیا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔

غائب ہونے سے پہلے وہ کراچی میں محنت کشوں کی ایک بستی اقبال آباد میں اپنی اہلیہ روتھ نیتھانیئل اور تین بیٹیوں ہانیا، تانیا اور ثانیہ کے ساتھ دو کمروں کے گھر میں رہ رہا تھا۔ اس کے جانے کے بعد روتھ کے لیے اس گھر کا کرایہ ادا کرنا ممکن نہ رہا اس لیے وہ اپنی بیٹیوں کو لے کر پنجاب میں خانیوال کے قریب واقع شانتی نگر نامی گاؤں میں چلی آئیں۔

روتھ کے دو بھائی اس گاؤں میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں۔ روتھ کی ثاقب کے ساتھ شادی بھی یہیں واقع سالویشن آرمی چرچ میں 2012 میں ہوئی تھی جس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ کراچی چلی گئی تھیں۔ 

چار سال بعد جب وہ شانتی نگر واپس آئیں تو ان کے بھائیوں نے ثاقب کی تلاش شروع کر دی۔ وہ تو انہیں نہ ملا البتہ اس کے بارے میں چند ایسی معلومات ان کے ہاتھ ضرور لگیں جو ان کے لیے بالکل غیر متوقع تھیں۔ جیسے کہ انہیں پتا چلا کہ ثاقب ان کی بہن کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے بھی دو شادیاں کر چکا تھا جن میں ایک شادی اس نے ایک مسلمان عورت سے کی تھی۔
ثاقب کی پہلی بیوی شائستہ نامی مسیحی خاتوں تھی۔ ان دونوں کی شادی 2002 میں کراچی میں ہوئی جس سے دو لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد ثاقب نے 14 فروری 2009 کو اسلام قبول کر لیا۔ تبدیلی مذہب کے سرٹیفکیٹ میں اس نے لکھا کہ اس نے شائستہ کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی مگر اس نے یہ دعوت مسترد کر دی۔ لہٰذا اب شائستہ کے ساتھ اس کی شادی برقرار نہیں رہی۔

اسی سال اس نے شبانہ نامی ایک مسلمان عورت سے شادی کر لی۔ نکاح نامے میں اس نے اپنا نام محمد ثاقب لکھا۔ تین سال بعد اس نے شبانہ کو بھی طلاق دے دی اور روتھ سے شادی کر لی۔ 
لیکن 3 دسمبر 2019 کو ثاقب نے روتھ کو بھی سٹیمپ پیپر پر درج ایک حلف نامہ بھیجا جس میں لکھا تھا کہ اس نے دوبارہ اسلام قبول کر لیا ہے اس لیے اب ان دونوں کے درمیان کوئی رشتہ نہیں رہا۔ یہ حلف نامہ بھیجنے کے فورأ بعد اس نے ایک اور مسیحی خاتون سے شادی کر لی۔

چونکہ مسیحی مذہب کے مطابق ایک شخص کی ایک وقت میں ایک ہی بیوی ہو سکتی ہے  اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ثاقب نے چار شادیاں کیسے کر لیں؟ حال میں منظور  ہونے والا ایک قانون بھی یہ کہتا ہے کہ مذہب سے قطع نظر ہر پاکستانی مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے اپنی پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے۔

اس سوال کا ایک ممکنہ جواب یہ ہے کہ 1872 میں بنائے جانے والے کرسچئن میرج ایکٹ میں مسیحی شادیوں کی سرکاری سطح پر رجسٹریشن کے لئے کوئی بندوبست نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجتاً یہ شادیاں مقامی چرچوں میں ہی رجسٹرڈ ہوتی ہیں اور ان کا کسی مرکزی سطح پر کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ اس طرح عام طور پر مسیحی مردوں اور خواتین کے لیے دوبارہ شادی کرتے وقت اپنی پہلی شادیاں خفیہ رکھنا آسان ہوتا ہے۔

خانیوال سے تعلق رکھنے والے مسیحی سماجی کارکن شہزاد فرانسس کہتے ہیں کہ شادی کی رجسٹریشن کے باقاعدہ نظام کی عدم موجودگی میں شادیوں کے تعداد کے حوالے سے مذہبی پابندیوں کو نافذ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "کوئی بھی شادی شدہ مسیحی شخص کسی دوسرے شہر میں جا کر خود کو کنوارہ ظاہر کر کے دوسری شادی کر سکتا ہے۔ ایسے میں دلہن کا خاندان کبھی نہیں جان سکتا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے جبکہ شادی کرانے والا پادری بھی اس شخص کا پس منظر جاننے کی زحمت نہیں کرے گا"۔

مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن کے سرکاری نظام کی غیر موجودگی میں یہ مسئلہ بھی جنم لیتا ہے کہ روتھ جیسی خواتین اپنے شوہروں سے نان نفقہ لینے کے لیے مقدمہ نہیں کر سکتیں

شہزاد فرانسس اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسی عورتوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی سرکاری دستاویز ہی نہیں ہوتی جسے دکھا کر وہ خود کو اپنے شوہروں کی قانونی بیویاں ثابت کر سکیں۔

اسی لیے شہزاد فرانسس اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے دیگر  کارکن یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کرسچئن میرج ایکٹ میں ترمیم کر کے شادیوں کی رجسٹریشن کو لازمی بنایا جائے اور اس کے لئے ایک مرکزی طور پر مربوط نظام قائم کیا جائے۔

ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانوں میں صرف یہی تبدیلی کافی نہیں ہو گی بلکہ اس کے کچھ اور حصوں کو بھی بدلنا پڑے گا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے مسیحی سماجی کارکن اور استاد صابر مائیکل کے مطابق ''یہ قانون کہتا ہے کہ شادی سورج غروب ہونے سے پہلے ہونی چاہیے کیونکہ ڈیڑھ صدی پہلے شادی کےموقع پر فریقین کے لیے رات کے وقت سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا تھا لیکن اب تو بیشتر شادیاں ہوتی ہی شام کے بعد ہیں"۔

اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون 13 سال کی عمر کی لڑکیوں کی شادی کی اجازت بھی دیتا ہےجو "خواتین کے حقوق سے متعلق عالمگیر کنونشن کے علاوہ نو عمری کی شادیوں کے خلاف پاکستان کے اپنے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے"۔

صابر مائیکل جیسے لوگوں کا استدلال ہے کہ 1869 میں نافذ کردہ مسیحی طلاق ایکٹ بھی مسیحی خواتین کو غیر متناسب طور سے نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت کسی مسیحی خاتون کے لیے اپنے متشدد شوہر سے طلاق لینے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اس بات کا ثبوت فراہم کرے کہ اس کے شوہر کے کسی اور خاتون کے ساتھ جنسی تعلقات ہیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے زندگی بھر اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد اور بد سلوکی برداشت کرنا پڑے گی یا، جیسا کہ روتھ کے معاملے میں ہوا، اسے زندگی بھر تنہا رہ کر بچوں کی پرورش کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا۔

شدید گرمی کی وجہ سے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے اور اپنی بیٹیوں کو اپنے دوپٹے سے ہوا دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ وہ کبھی طلاق نہیں مانگیں گی کیونکہ طلاق مانگنا ان کے مذہبی اعتقادات کے خلاف ہے۔ اس کے بجائے ان کا کہنا ہے کہ "میں اب بھی اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں لیکن اگر وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تو میں کیا کر سکتی ہوں؟" 
شوہر کی واپسی کے علاوہ روتھ یہ بھی چاہتی ہیں کہ انہیں نان نفقہ ملنا چاہیے تا کہ وہ کسی پر بوجھ بنے بغیر اپنے بچوں کو پال سکیں۔ ان کا قیام اپنے بھائیوں کے گھر میں ایک تنگ و تاریک بد وضع کمرے میں ہے اور انہیں اکثر بھوکا سونا پڑتا ہے کیونکہ ان کا "صرف ایک بھائی برسرِ روزگار ہے جو مزدوری کرتا ہے لیکن اس کی آمدنی ہم سب کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی نہیں ہے"۔

روزی روٹی کا یہ ذریعہ بھی روتھ کو ہمیشہ میسر نہیں رہے گا۔ وہ مایوسی کے عالم میں کہتی ہیں کہ "جب میرے بھائی کی شادی ہو جائے گی اور اسے اپنے اہلِ خانہ کو پالنا پڑے گا تو نہ جانے ہم کہاں جائیں گے"۔

دستاویزی ثبوت کے بغیر شادیاں

بارہ سال پہلے جب سارہ کے والد نے اس کی والدہ نسرین کو چھوڑا تو اس وقت وہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھی۔

نسرین کا کہنا ہے کہ "میرا شوہر مجھ سے وفادار نہیں تھا۔ وہ میری نوعمر رشتہ دار لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا تھا اور مجھے اس بات سے نفرت تھی"۔ مگر نسرین یہ نہیں جانتی تھیں کہ شوہر سے طلاق لینے کے لیے وہ اس کی بدچلنی کا ثبوت کہاں سے لائیں کیونکہ اس مقصد کے لیے ایسے گواہوں کی موجودگی ضروری ہے جنہوں نے اسے جنسی حرکات کرتے دیکھا ہو۔ اس لئے وہ سوال کرتی ہیں کہ "یہ کس نے ایسا قانون بنایا ہے جس میں بدچلنی ثابت کرنے کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تو عورت کو خاموش کرنے کا ایک بہانہ ہے"۔

مقامی سیاست دان اور شانتی نگر یونین کونسل کے چیئرمین افتخار عالم عدیم کہتے ہیں کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے ذریعے مسیحی جوڑوں کو ایک دوسرے پر بدچلنی کا الزام عائد کیے بغیر طلاق لینے اور دینے کی سہولت ہو۔ ایسے قانون کی غیر موجودگی میں لوگ علیحدگی اختیار کرنے کے لیے ہر طرح کے نیم قانونی حتیٰ کہ غیر قانونی طریقوں سے کام لینے پر مجبور ہیں۔

مثال کے طور پر ایسے بہت سے لوگ طلاق کے لیے اسلام قبول کر لیتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کی مسیحی شادی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ عدیم کا  کہنا ہے کہ "بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مجھے ایسے حلف ناموں کی تصدیق کرنے کے لیے کہتے ہیں جن پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر اپنی شادی ختم کر رہے ہیں"۔  
عدیم انہیں بتاتے رہتے ہیں کہ ایسے حلف نامے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم اس کے باوجود یہ لوگ ایسی دستاویزات ان کے پاس لے کر آتے رہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس علیحدگی کو باضابطہ بنانے کا یہی بہترین راستہ ہے۔

دوسری طرف نسرین مطالبہ کرتی ہیں کہ قانون میں ایسی تبدیلی کی جانی چاہیے جس کی رو سے ان خواتین کو اپنی شادیاں ختم کرنے کا قانونی حق مل جائے جن کے شوہر انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس حق کے نہ ہونےکی وجہ  سے مرد جب چاہے اور جو چاہے کر سکتا ہے اور عورت اس کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا سکتی۔ 
وہ شانتی نگر میں اپنے بھائی کے گھر میں ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتی ہیں جس میں ایک ٹوٹے پھوٹے بیڈ کے علاوہ کوئی فرنیچر نہیں ہے۔ ان کے پاس چند پلیٹیں، دو دیگچیاں اور پانی کا ایک کولر ہے۔ یہ سب چیزیں ایک کچی دیوار کے ساتھ رکھی ہیں جبکہ ایک کونے میں کھانا پکانے کے چولہے کے ساتھ لگا ہوا ایک چھوٹا سا گیس سلنڈر بھی پڑا ہے۔

نسرین کو اپنے شوہر سے کوئی پیسے نہیں ملتے۔ ان کے پاس شوہر سے نان نفقہ طلب کرنے کے لیے عدالت میں جانے کے لیے مالی وسائل بھی نہیں ہیں لیکن ان کے بھائی کو یہ صورتِ حال پسند نہیں۔سارہ کہتی ہیں کہ "میرے ماموں میری والدہ سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر بوجھ ہیں"۔

قریب ہی ایک اور گھر میں رہنے والی 16 سالہ نمرا اور 12 سالہ نیناں کو پیسوں کی کوئی تنگی نہیں کیونکہ ان کے والد صابر مسیح ان کے ساتھ رہ رہے ہیں تاہم وہ ہمیشہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے پریشان رہتی ہیں جو اپنی والدہ کے پاس رہتے ہیں۔ جب ان کی والدہ نے صابر کے ساتھ رشتہ ختم کر کے اس کے چھوٹے بھائی سے شادی کے لیے اسلام قبول کیا تو وہ دونوں بچوں کو اپنے ساتھ لے گئیں۔

نمرا اور نیناں کہتی ہیں کہ ان کے والدین ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے لہٰذا چند سال بعد ایک دن ان کی والدہ اچانک کہیں چلی گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنی والدہ کی یاد نہیں آتی کیونکہ انہوں نے کبھی ان دونوں کا خیال نہیں رکھا تھا البتہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائی کو ضرور یاد کرتی ہیں۔ ماضی میں جب ان کی والدہ ان چھوٹے بچوں سے لاپروائی برتتی تھیں تو نمرا ہی ان کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ "وہ بہت چھوٹے ہیں اور ہمیں تشویش ہے کہ وہ نجانے کس حال میں ہوں گے"۔

تاہم وہ جانتی ہیں کہ کوئی قانون ان بچوں کو ان کے والد کی تحویل میں واپس  نہیں لا سکتا۔ نمرا کے مطابق " میرے والد کا کہنا ہے چونکہ ان کی والدہ نے اسلام قبول کر لیا ہے اس لیے اب کوئی عدالت ان بچوں کو ایک مسیحی باپ کے حوالے نہیں کرے گی"۔

شادی کی دستاویزات کی غیر موجودگی بھی ان بچوں کی واپسی کی راہ میں ایک اور رکاوٹ ہے۔ مثال کے طور پر صابر کے پاس سرکاری طور پر تصدیق شدہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ ان بچوں کا باپ ہے۔

ایسی دستاویزات کی عدم موجودگی میں ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے والے مسیحی جوڑوں کے لیے اپنے بچوں پر دعوے کا یہی راستہ رہ جاتا ہے کہ یا تو وہ ڈی این اے ٹیسٹ سے مدد لیں یا نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا ریکارڈ بطور ثبوت پیش کریں۔

تاہم ڈی این اے ٹیسٹ مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے مزید بگاڑ دیتا ہے اور خاص طور پر ایسی خاتون کے لیے صورتِ حال اور بھی مشکل ہو جاتی ہے جس پر بدچلنی کے الزمات ہوں۔ نادرا کے ریکارڈ میں بھی اکثر بہت سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر بیشتر شادی شدہ مسیحی خواتین کا نام سرکاری ریکارڈ میں ان کے شوہر کے بجائے ان کے والد کے ساتھ لکھا ہوتا ہے۔

اس صورتِ حال میں چونکہ ان کے پاس شادی کا سرکاری طور پر تسلیم شدہ کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا اس لئے وہ یہ ثابت نہیں کر سکتیں کہ انہوں نے قانونی طور پر شادی کر کے بچے پیدا کیے ہیں۔ اس لیے جب ان کے بچے ان سے لے لیے جائیں تو وہ انہیں اپنی تحویل میں لینے کے لیے قانون کی مدد بھی نہیں لے سکتیں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 5 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔