دریا کی موت کا نوحہ: 'جے راوی وچ پانی کوئی نئیں تے اپنی کہانی کوئی نئیں'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

دریا کی موت کا نوحہ: 'جے راوی وچ پانی کوئی نئیں تے اپنی کہانی کوئی نئیں'

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

دریا کی موت کا نوحہ: 'جے راوی وچ پانی کوئی نئیں تے اپنی کہانی کوئی نئیں'

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

بتیس سال پہلے محمد منظور دریائے راوی سے پانی بھرتے تھے تو انہیں اس کی آئینے سی شفاف سطح میں اپنا چہرا دکھائی دیتا تھا۔ وہ اس میں پھٹکری ڈال کر اس کو ہاتھ منہ دھونے ، وضو کرنے اور برتن دھونے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے لوگوں کو اِس دریا کا پانی پیتے بھی دیکھا ہے۔

محمد منظور پچھلے 40 سال سے راوی میں کشتی چلا رہے ہیں۔ ان کی کشتی کے مسافر زیادہ تر لاہور کے شہری ہوتے ہیں جنہیں دریا کے بیچوں بیچ واقع مغل شہزادے کامران کی بارہ دری کی سیر کرنا ہوتی ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر بنے پل کے جنوبی سرے کے عین  نیچے وہ لوہے کے ڈنڈوں اور کپڑے سے بنے ایک عارضی ٹکٹ گھر میں بیٹھے بارہ دری کی سیر کو جانے کے خواہش مند لوگوں سے مول تول کر رہے ہیں۔ سفید ٹوپی اور سفیدی مائل ہلکے رنگ کے کپڑے پہنے وہ ایک ملاح سے زیادہ مذہبی مبلغ لگتے ہیں۔ ان کی سفید داڑھی اس تاثر کو اور بھی گہرا کر رہی ہے۔

ان کے ٹکٹ گھر کے پاس سے دریا کی طرف دیکھیں تو اس کے کئی سو میٹر چوڑے پاٹ پر دور دور تک خشک ریت دکھائی دیتی ہے۔ اس خشکی کے درمیان پانی کی ایک پتلی لکیر بل کھاتی گذر رہی ہے جس کے بہاؤ کی رفتار اتنی سست ہے کہ راوی دریا سے زیادہ ایک لمبا سا تالاب لگتا ہے۔

بارہ دری جانے والے مسافروں کو محمد منظور کے ٹکٹ گھر سے بیسیوں میٹر کا فاصلہ دریا کے ریتیلے پاٹ پر پیدل چلنا پڑتا ہے پھر جا کے کہیں وہ ان رنگ برنگی کشتیوں تک پہنچتے ہیں جو انہیں دریا کے اندر لے جانے کے لئے وہاں کھڑی ہیں۔ دریا میں پانی اس قدر کم ہے کہ اسے پیدل بھی عبور کیا جا سکتا ہے لیکن سیر کے لئے آئے لوگ اپنے لباس اور ٹانگیں گیلی نہیں کرنا چاہتے۔

لیکن جیسے ہی کشتی چلنا شروع ہوتی ہے دریا کے سیاہ پانی سے اٹھنے والے بدبو کے بھبھوکے اِن مسافروں کا استقبال کرتے ہیں۔ اگرچہ محمد منظور اور دوسرے مقامی ملاح اس بدبو کے عادی ہو چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ 'اس بدبو نے ہماری سونگھنے کی حِس کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ ہمیں کسی کھانے میں کوئی خوشبو کوئی ذائقہ محسوس نہیں ہوتا'۔

دریا کی سطح پر جگہ جگہ مچھروں کے جھنڈ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک جانب کچھ بھنسیں پانی پی رہی ہیں۔ محمد منظور ان کے اس عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: 'یہ بھینسیں راوی کا گندا پانی پیتی ہیں اور پھر انہی کا دودھ ہم پیتے ہیں'۔

ماضی کا منظر

راوی ان چھ دریاؤں میں شامل ہے جو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے سے نکل کر مقبوضہ کشمیر اور انڈیا کے کچھ شمال مغربی علاقوں سے ہوتے ہوئے پاکستان میں آتے ہیں۔ راوی ضلع نارووال کے گاؤں کوٹ نیناں کے قریب پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور 675 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ضلع خانیوال کے گاؤں سردار پور کے پاس دریائے چناب میں شامل ہوتا ہے جو ضلع بہاولپور کے مغربی علاقے میں پنجند  -- یا پانچ بڑی ندیوں کے ملاپ --  کی شکل اختیار کر کے بالآخر دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔ 

انڈین مورخ پروفیسر عرفان حبیب کے مطابق راوی میں کبھی اس قدر پانی ہوتا تھا کہ اس میں جہاز چلتے تھے۔ وہ اپنی کتاب 'شہنشاہ اکبر' میں مغل حکمران اکبر کے وزیر ابوالفضل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 'راوی کنارے پہلا بڑا جہاز جون 1594 کو تیار ہوا جس کا افتتاح خود (اکبر) بادشاہ نے کیا تھا'۔

یہ جہاز اتنا بڑا تھا کہ ایک ہزار لوگوں نے اسے دھکا لگا کر دس دن میں دریا میں اتارا تھا۔ راوی سے ہوتا ہوا یہ جہاز چناب اور سندھ کے راستے ٹھٹھہ کی بندرگاہ پر پہنچا تا کہ وہاں سے 'لوگ مکہ کا سفر براستہ بحر احمر کر سکیں'۔

برطانوی عہدِ حکومت میں 1876 میں لاہور کو راوی سے پانی کی فراہمی کا ایک منصوبہ بھی شروع کیا گیا جس کے ذریعے دریا کا پانی اندرون شہر میں شاہی قلعے کے پاس ایک بہت بڑے تالاب میں لایا جاتا تھا جہاں سے اسے پورے شہر کو سپلائی کیا جاتا تھا۔ یہ تالاب آج بھی کشمیری بازار اور ہیرا منڈی کے سنگم پر موجود ہے۔ اس کی مناسبت سے یہ سارا علاقہ ابھی تک پانی والا تالاب کہلاتا ہے۔

راوی کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے محمد منظور کہتے ہیں: یہ دریا کبھی تفریح کا بہترین ذریعہ تھا۔ یہاں مرغابیاں اور دیگر مہاجر پرندے اور کئی قسم کی مچھلیاں ہوتی تھیں۔ ہم نے یہاں سے 18 کلو وزنی مچھلیاں بھی پکڑی ہیں'۔

ان کے مطابق ایک زمانے میں دریا بیس فٹ سے زیا دہ گہرا تھا اور یہاں لاہور کے گورنمنٹ کالج ، پنجاب یونیورسٹی اور  دیگر تعلیمی اداروں کی کشتیاں بھی موجود ہوتی تھیں جن میں طالب علم کشتی رانی کی تربیت حاصل کرتے تھے۔

لیکن اب یہ سب کچھ ایک بھولی بسری کہانی بن کر رہ گیا ہے کیونکہ دریا سوکھتے سوکھتے ایک تنگ سا نالہ بن چکا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق خشک موسم میں راوی کا بہاؤ صرف دس کیوبک میٹر فی سیکنڈ ہوتا ہے۔ بارشوں کے موسم میں بھی یہ بہاؤ 10000 کیوبک میٹر فی سیکنڈ سے نہیں بڑھتا جو ملک میں بہنے والی کچھ بڑی نہروں کے بہاؤ سے بھی کم ہے۔

راوی میں پانی کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور سے 62 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع بلوکی بیراج پر 1922 سے لے کر 1961 تک دریا میں پانی کی اوسط موجودگی سات ملین ایکڑ فٹ تھی جو 2011 میں کم ہو کر محض 0.85 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی تھی۔

دریا کی موت

پچھلی تین دہائیوں سے لاہور میں پیدا ہونے والا کوڑا کرکٹ، گندا پانی اور صنعتی اور تجارتی اداروں سے خارج ہونے والا زہریلا فضلہ سبھی بلا روک ٹوک راوی میں ڈالے جا رہے ہیں۔  
قدرتی ماحولیات کے تحفظ پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو  ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت لاہور میں 2700 مختلف صعنتی ادارے رجسٹرڈ ہیں جن سے خارج ہونے والا پانی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر راوی میں گرتا ہے۔شہر کے جنوبی صنعتی علاقوں -- کوٹ لکھپت ، فیروزپور روڈ اور سندر - میں واقع تمام صنعتوں کا فضلا کسی پلانٹ میں صاف ہوئے بغیر راوی میں جا گرتا ہے۔ اسی طرح  شہر کے شمالی علاقوں میں قائم لوہے کے کارخانوں سے خارج ہونے والے زہریلے کیمیکل بھی کسی نہ کسی طرح دریا ہی میں تلف ہوتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ انسانی فضلے کی ایک بڑی مقدار بھی روزانہ دریا میں شامل ہو رہی ہے۔

اس مقدار کا اندازہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کی 2013 کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں رہنے والا ہر فرد ایک سال میں اوسطاً 231 لیٹر مائع فضلہ پیدا کرتا ہے۔ اگر 2017 کی مردم شماری میں دی گئی لاہور کی آبادی کو پیشِ نظر رکھا جائے تو اس رپورٹ کے مطابق شہر میں رہنے والے لوگ لگ بھگ ڈھائی ارب لیٹر مائع فضلہ سالانہ پیدا کر رہے ہیں جس کا بیشتر حصہ راوی میں جا رہا ہے۔

اسی طرح غریب ملکوں کو امداد دینے والے ایک جاپانی ادارے، جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی (جائیکا)، نے بھی 2010 میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ لاہور میں آٹھ ملین کیوبک میٹر گندا پانی روزانہ پیدا ہوتا ہے جو تقریباً سارے کا سارا بغیر صاف ہوئے راوی میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس میں سے صرف 5.7 ملین کیوبک گندا پانی واسا کے  12 پمپنگ سٹیشنز سے گذرتا ہے جبکہ بقیہ بے قاعدہ طریقے سے بنی ہوئی نالیوں میں چلا جاتا ہے۔

 اس میں سے بے شمار کوڑا  لاہور کے چودہ بڑے برساتی اور سیوریج نالوں کے کناروں پر اور ان کے اندر  ملتا ہے جو اپنے اس تمام فضلے کے ساتھ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے راوی میں جا ملتے ہیں۔ یوں ان کا لایا ہوا کوڑا راوی کی سطح پر بکھر جاتا ہے۔  

یہ فضلہ نا صرف زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ دریا میں پائے جانے والے مختلف جانوروں کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق راوی کے آلودہ ہونے کی وجہ سے اس میں پائی جانے والی مچھلیوں کی 42 اقسام ختم ہو گئی ہیں اگرچہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں راوی کے ساتھ ساتھ تقریباً پانچ کروڑ لوگ آباد ہیں جن میں سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ صرف لاہور میں آباد ہیں۔

ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک ایف سی کالج یونیورسٹی میں ڈین فار پوسٹ گریجویٹ سٹڈیز ہیں اور اسی یونیورسٹی کے سکول آف لائف سائنسز میں پڑھا رہے ہیں۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے بنائے گئے ایک ایسے کمیشن کے سربراہ بھی رہے ہیں جس کا کام راوی کو آلودگی سے پاک کرنے کے لئے پنجاب کی صوبائی حکومت کو تجاویز پیش کرنا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی دریا آلودگی سے متاثر ہوتا ہے تو اس سے وابستہ ہر چیز بھی متاثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ پہلے مون سون میں ہمیں مینڈکوں کی آوازیں آتی تھیں لیکن اب نہیں آتیں کیونکہ پانی کے ذخائر سوکھنے کے ساتھ یہ مینڈک بھی غائب ہو گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'پانی سے اٹھنے والی بدبو میں انسان سانس نہیں لے سکتا تو مچھلیاں اس میں کیسے زندہ رہ سکتی ہیں'۔

ان کی اس بات کی تصدیق رافع عالم بھی کرتے ہیں۔ وہ لاہور میں ماحولیات کے ماہر قانون دان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے راوی کی آلودگی پر کمیشن انہی کی درخواست پر بنایا تھا۔ وہ خود بھی اس کمیشن کے ممبر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راوی میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ پانی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا مائع ہے جو کیمکلز سے بھرپور ہے'۔

ان کے بقول دریا کے اندر آلودگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس میں کوئی زندہ چیز  رہ نہیں سکتی۔ 'گندے پانی میں شامل دھاتیں اور کیمیائی مادے دریا میں رہنے والے جانوروں کی خوراک میں شامل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان جانوروں کا زندہ رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے'۔

ڈاکٹر امداد حسین دریا کے ساتھ جڑے پرندوں اور کیڑوں پر دریائی آلودگی کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ ایف سی کالج یونیورسٹی میں شہری پلاننگ کے استاد ہیں اور ماحولیات سے وابستہ کئی تحقیقاتی کاموں میں حصہ لے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'اگر آپ پی ٹی وی کے وہ پرانے ڈرامے دیکھیں جنہیں راوی کے کنارے ریکارڈ کیا گیا تھا تو آپ کو دریا کے آس پاس  یا تو بے شمار پرندے اڑتے ہوئے نظر آئیں گے یا ان کے گھونسلے نظر آئیں گے لیکن اب یہ پرندے راوی کے آس پاس کہیں نہیں ملتے' بلکہ ان کی جگہ محض چیلیں اور کوے ہی اس کی سطح پر اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 'لاہور کے گندے پانی سے راوی کی سانس بند ہو چکی ہے'۔

ڈاکٹر امداد حسین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دریائی حیات اور اس کے گرد رہنے والے کیڑوں کا بھی دریا کے ماحول میں بہت اہم کردار ہوتا ہے جس کا ہمیں ابھی مکمل علم ہی نہیں۔ 'اسی طرح دریا کے کنارے کئی قسم کی قدرتی جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں اگی ہوتی ہیں لیکن ہم نے نہ ان کا حساب رکھا ہے اور نہ انہیں بچانے کی کوشش کی ہے یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کئی اب ناپید ہو گئی ہیں۔

زمینی پانی میں زہر کی آلودگی

2017 میں لاہور میں ایک سرکاری ادارے پاکستان ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی پاکستان برانچ کے تعاون سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کہا گیا کہ لاہور میں زیرِ زمین پانی کو ٹیوب ویلوں اور موٹروں کی مدد سے اس تیزی سے نکالا جا رہا ہے کہ اس کی سطح ڈھائی سے تین فٹ سالانہ کی شرح سے نیچے جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وسطی لاہور میں زیرِ زمین پانی اب 130 فٹ کی گہرائی سے پہلے نہیں ملتا۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ سطح 2025 تک 230 فٹ سے بھی نیچے چلی جائے گی۔

اجلاس کے شرکا نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والی دو دہائیوں میں لاہور کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پانی کی اس قلت کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ دریائے راوی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے اتنا پانی زیرِ زمین جذب نہیں ہو رہا جتنا زمین سے نکالا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک ایک اور خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ راوی سے زمین میں جذب ہونے والا گندہ پانی زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہا ہے۔ 'اس گندے پانی میں کئی زہریلے کیمیائی مادے اور دھاتیں ہوتی ہیں جو زمین میں جذب ہو کر زیر زمین پانی کو زہریلا بنا رہی ہیں۔ اگر ہم نے اس آلودگی کو قابو میں نہ کیا تو یہ ہمارے زیر زمین پانی کے ذخائر کو مستقل طور پر تباہ کر دے گی'۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

رہائشی اور تجارتی منصوبوں کے ذریعے دریائے راوی کی بحالی: 'اس سے دریا آباد ہونے کے بجائے برباد ہو جائے گا'۔

ڈاکٹر امداد حسین  بھی ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر راوی کے قریب آباد بستیوں کے پانی کو دیکھا جائے تو اس کا رنگ صاف نہیں ہوتا بلکہ کئی جگہ تو اس سے بدبو بھی آتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'راوی کا پانی چونکہ لاہور اور فیصل آباد  ڈویژن کے کئی علاقوں میں زراعت میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے اس میں موجود زہریلے کیمیائی مادے فصلوں ، پھلوں اور ہماری خوراک کے ذریعے دوبارہ ہم تک پہنچ رہے ہیں'۔

انہیں حالات کی وجہ سے 2012 میں  لاہور ہائی کورٹ نے راوی میں شامل ہونے والے گندے پانی کی نوعیت جاننے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے ذرائع کی نشاندہی کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا جسے عدالت نے ہدایت کی کہ وہ دو ماہ میں اپنا کام مکمل کرے۔

اس کمیشن نے یہ تجویز دی کہ  ایک ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے جس میں توانائی کا استعمال کم سے کم ہو لیکن اس کی دریائی پانی کو صاف کرنے کی اہلیت مسلمہ ہو۔ چنانچہ راوی کے کنارے ایسے پودے لگانے اور ان میں ایسے بیکٹریا چھوڑنے کا منصوبہ پیش کیا گیا جو پانی میں شامل زیادہ تر زہریلے مادوں کو جذب کر سکیں تا کہ زمین کے اندر جانے والا پانی کم سے کم آلودہ ہو۔ اس  منصوبےکی لاگت پانچ لاکھ ڈالر تھی۔

لیکن رافع عالم کہتے ہیں کہ اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ ایک تو کسی سرکاری محکمے نے اس کی ذمہ داری لینے کی کوشش نہیں کی اور دوسرا اس وقت کی حکومت نے راوی پر ایک وسیع و عریض جدید بستی بسانے کا اعلان کر دیا۔ 'یوں ہماری تجویز کی حکومت کی جانب سے ہی مخالفت شروع ہو گئی جس کا کہنا تھا کہ آپ کا یہ چھوٹا سا منصوبہ ہمارے بڑے منصوبے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا'۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفع 7 نومبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 5 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔