ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے فیصلے نے کس طرح پی ایچ اے بہاول پور کو مقروض کر دیا؟

postImg

محمد یاسین انصاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے فیصلے نے کس طرح پی ایچ اے بہاول پور کو مقروض کر دیا؟

محمد یاسین انصاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

راولپنڈی کے ایک بینک پر لگے تشہیری بورڈ  کا کرایہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) راولپنڈی لیا کرتی تھی۔ 2019ء میں بینک انتظامیہ نے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی کہ تشہیری بورڈ بینک کی عمارت پر نصب ہے اس لیے پی ایچ اے کو کرایے کی وصولی سے روکا جائے۔عدالت نے فیصلہ بینک کے حق میں دے دیا۔

اس فیصلے سے پی ایچ اے بہاول پور کے دیوالیہ ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔

بہاول پور شہر کو سرسبز و شاداب بنانے والی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کی منظوری 2014ء میں ہوئی اور اس نے 2016ء میں کام شروع کیا۔

ابتدائی طور پر شہر میں گرین بیلٹس بنائی گئیں اور 20 پارک پی ایچ اے کی تحویل میں دیے گئے۔سات چوراہوں کو سبزے سے سنوارا گیا۔

پی ایچ اے کے اپنے ذرائع آمدن میں تشہیری بل بورڈ اور شہر بھر میں کھمبوں پر لگائے جانے والے سٹیمرز کا کرایہ شامل تھا۔

عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر بہاول پور میں بعض کاروباری افراد نے تمام بل بورڈز کا ٹیکس روکنے کے لیے پی ایچ اے بہاول پور کے خلاف رٹ دائر کر دی اور حکم امتناعی حاصل کر لیا۔

اس روز سے پی ایچ اے کی سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپے کی آمدن رک گئی۔

عدالتی فیصلے کے بعد گزشتہ چار برسوں میں بہاول پور شہر میں لگے ہوئے 51 بل بورڈ کے تقریباً چار کروڑ روپے ادا نہیں کیے گئے۔ جس کا براہ راست اثر ملازمین کی اجرتوں پر پڑا۔

پی ایچ اے بہاول پور میں اس وقت کام کرنے والے 81  ڈیلی ویجرز اور تحصیل میونسپل کارپوریشن سے بھیجے گئے50 ملازمین، سبھی کو چھ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔

یہاں تک کہ مستقل بنیادوں پر تعینات 76 افسران و دیگر کلیریکل سٹاف کی تنخواہیں بھی رکی ہوئی ہیں۔

پی ایچ اے میں ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے حبیب اللہ نے لوک سجاگ کو بتایا کہ بے روزگاری کے عالم میں اس ادارے میں ملازمت کی تھی، روزگار مل گیا لیکن چھ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔

"دکان داروں نے ادھار پر سودا سلف دینا چھوڑ دیا ہے اور نوبت فاقوں تک آ گئی ہے۔ تعلیمی اخراجات نہ ہونے کے باعث بچے تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی تنخواہیں ملنے کی امید پر وہ تھوڑی بہت ڈیوٹی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افسران مختلف اسلامی تہواروں پر مخیر حضرات سے راشن وغیرہ دلوا دیتے ہیں۔

محکمے کی جانب سے ہر بار بجٹ نہ ہونے کا کہہ کر اگلے ماہ تنخواہوں کی ادائیگی کا وعدہ کر لیا جاتا ہے۔

2016ء سےسال رواں تک پنجاب حکومت نے ادارے کے بجٹ کو کم و بیش مستقل رکھا ہوا ہے۔

ان سات برس میں دوسرے سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں خاصا اضافہ ہوا۔تاہم پی ایچ اے بہاول پور کے ملازمین  کی اجرت میں کوئی قابل ذکر بڑھوتری نہ ہوئی۔ نیز وہ میڈیکل الاؤنس، میرج گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ، پنشن اور دیگر سہولتوں سے بھی محروم چلے آ رہے ہیں۔

2016ء سے اب تک کسی ایک ملازم کو بھی پنشن نہیں ملی۔

 ورک چارج ملازمین نے تنخواہیں نہ ملنے پر ہڑتالیں کیں اور احتجاج کیا۔ اب وہ کبھی ڈپٹی کمشنر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو کبھی گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کی رہائش گاہ پر احتجاجی دھرنا دیتے ہیں۔

متعدد ملازمین صوبائی محتسب کی عدالت جا چکے ہیں۔

پی ایچ اے کے ڈیلی ویجر ملازم محمد ارشد نے لوک سجاگ کو بتایا "اگر نوکری چھوڑ دی تو شاید گزشتہ چھ ماہ کی تنخواہ بھی نہ ملے۔ اب ہم ہڑتال پر ہیں۔ صرف نظام کو چلانے کے ایک گھنٹہ کام کرتے ہیں اور باقی وقت تنخواہوں کے اجرا کے لیے ہڑتال کرتے ہیں۔"

ہڑتال کے باعث پارکوں اور گرین بیلٹ کی حالت خراب ہے۔ گھاس سوکھ چکا ہے اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہیں۔

پی ایچ اے شعبہ اکاؤنٹس کے حکام نے بتایا کہ ادارہ مالیاتی اداروں سے بطور سیلری لون تقریباً چھ کروڑ روپے لے چکا ہے۔ مختلف ٹھیکیداروں سے پارکس اینڈ گرین بیلٹس پر کام کرائے گئے لیکن ان کے بل دینے کی رقم موجود نہیں۔

پارکس اینڈ گرین بیلٹس کو پانی دینے کے لیے ٹریکٹروں کا ڈیزل تک دستیاب نہیں کیونکہ پٹرول پمپ مالکان کے بھی چار ماہ سے لاکھوں روپے بقایا ہیں۔

ڈی جی پی ایچ اے روبینہ اقبال عباسی نے لوک سجاگ کو بتایا کہ پی ایچ اے کے پاس 23 پارکس اور 53 کلومیٹر گرین بیلٹ ہے۔ ورک چارج ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے پارکس اور گرین بیلٹس دونوں تباہ ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فی الوقت پی ایچ اے بہاول پور کے ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ روہی پارک اور کشمیر پارک کی کینٹین ٹھیکے پر دے کر وہاں سے 82 ہزار روپے فی کینٹین کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔

"بجلی کے کھمبوں پر سٹیمر اور پارکوں کے اندر فیسٹیول کرانے والوں سے کرایہ وصول کر کے کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کو بقایاجات کی ادائیگی اور بجٹ میں اضافہ کے علاوہ گاڑیوں کی رجسٹریشن، کمرشل بلڈنگز، پلازوں کی تعمیر اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی منظوری کے وقت پی ایچ اے کا حصہ شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

"نجی ہاؤسنگ سکیموں کے پارکس کی دیکھ بھال ہمارے ادارے کی ذمہ داری ہے، اس لیے ان سے ہمیں کرایہ لینا چاہیے۔ عدالت عالیہ میں بل بورڈز کے کرایے کے حوالے سے حکم امتناعی ختم کرانے کے لیے پیروی کر رہے ہیں۔ عدالت سے فیصلہ آنے پر وصولی کریں گے"۔

 پی ایچ اے نے 2016ء میں کام شروع کیا تو گرین بیلٹس کا رقبہ 18.5 ایکڑ تھا۔

اس کے لیے دو ملازم فی ایکڑ کے حساب سے 36 ملازمین کی ضرورت تھی۔ اسی طرح 20 پارکس کا رقبہ 30.8 ایکڑ تھا جس کے لیے چار ملازم فی ایکڑ کے حساب سے 123 ملازمین کی ضرورت تھی۔ سات مختلف چوراہوں کا رقبہ 10 ایکڑ تھا جس کے لیے چار ملازم فی ایکڑ کے حساب سے 40 ملازمین کی ضرورت تھی۔

اس طرح مجموعی طور پر 209 ملازمین کی ضرورت تھی مگر ڈیلی ویجز پر 90 ملازم اور ٹی ایم اے سے 69 ملازمین تعینات کیے گئے جو 159 بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

نہ والڈ سٹی اتھارٹی بنی، نہ فنڈ ملے: ملتان کے گھنٹہ گھر کا بُرا وقت بدلتے بدلتے پھر رک گیا؟

دوسری جانب 2016ء سے 2022ء سے گرین بیلٹس کا رقبہ بڑھ کر 22.5 ایکڑ ہو گیا۔ 23 پارکس کا رقبہ بڑھ کر 55.4 ایکڑ ہوا اور چوک سات سے  بڑھ کر نو ہو گئے ہیں۔

بجٹ بڑھے تو بات بنے

پی ایچ اے بہاول پور میں 2014-15ء کے لیے 164 ریگولر سٹیوں کی منظوری ہوئی تھی جس کے لیے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے چار کروڑ 79 لاکھ 94 ہزار روپے بجٹ جاری کیا حالانکہ پی ایچ اے نے 10 کروڑ 80 لاکھ کا مطالبہ کیا تھا۔

اس بجٹ سے ملازمین کو تنخواہیں تو ملیں لیکن وہ الاؤنسز سے محروم رہے۔

2020-21ء میں آٹھ کروڑ 44 لاکھ 16 ہزار روپے بجٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے مقابلے میں تین کروڑ 30 لاکھ روپے حکومت اور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے مقامی آمدن سے حاصل ہوئے۔

اس دوران صرف تنخواہوں کی مد میں تقریباً پانچ کروڑ 70 لاکھ  روپے کی ضرورت تھی۔

2021-22ء میں 16 کروڑ 19 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا لیکن حکومت کی طرف سے تین کروڑ 36 لاکھ روپے جاری ہوئے۔

پی ایچ اے کی اپنی آمدن ایک کروڑ 20 لاکھ روپے تھی جبکہ تنخواہوں کے سالانہ اخراجات چھ کروڑ 95 لاکھ روپے  کے قریب تھے۔

 2022-23ء میں 10 کروڑ 80 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا لیکن حکومت کی طرف سے وہی تین کروڑ 36 لاکھ روپے جاری ہوئے۔

ایک کروڑ 40 لاکھ روپے پی ایچ اے بہاول پور کی ذاتی آمدن سے شامل ہوئے۔تاہم اس دوران تنخواہوں کے اخراجات سات کروڑ 55 لاکھ روپے سے تجاوز کرگئے۔

گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کے ترجمان راؤ رضوان نے لوک سجاگ کو بتایا کہ گورنر پی ایچ اے کے مسائل کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ فنڈز کے اجرا کے لیے کاوشیں کر رہے ہیں۔ جلد پی ایچ اے ملازمین کے مسائل حل کرائے جائیں گے۔

تاریخ اشاعت 14 جولائی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمدیاسین انصاری بہاول پور کے نوجوانوں صحافی ہیں۔ عرصہ 23 سال سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.