مونگ پھلی سونے کی ڈلی نہ رہی: کسان خریف کی اہم ترین نقد آور فصل سے منہ کیوں موڑ رہے ہیں

postImg

محمد صابرین

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مونگ پھلی سونے کی ڈلی نہ رہی: کسان خریف کی اہم ترین نقد آور فصل سے منہ کیوں موڑ رہے ہیں

محمد صابرین

loop

انگریزی میں پڑھیں

اٹک کے نواحی گاؤں ڈھلیاں کے کاشت کار یار محمد کا ملکیتی زرعی رقبہ 50 ایکڑ ہے جس میں سے 18 ایکڑ رقبے پر انہوں نے مونگ پھلی کاشت کی ہے جبکہ باقی 32 ایکڑ رقبہ خالی پڑا ہے۔

یار محمد کے بقول ان کا علاقہ چونکہ بارانی ہے (وہ زرعی زمین جس کی کاشت بارش پر منحصر ہوتی ہے) اس لیے وہ اتنی ہی فصل کاشت کرتے ہیں جس سے انہیں غیر موافق موسم کی صورت میں بڑے نقصان کا خدشہ نہ ہو۔

انھوں نے پچھلے سال 25 ایکڑ رقبے پر مونگ پھلی اگائی تھی لیکن اس مرتبہ زیر کاشت رقبے میں کمی کردی ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ پچھلے سیزن میں نہ تو وقت پر بارشیں ہوئیں اور جب ان کی فصل منڈی میں پہنچی تو مناسب نرخ بھی نہ ملے۔

یار محمد کہتے ہیں کہ موسم پر انسان کا زور نہیں لیکن انہیں یہ یقین ہو کہ فصل کے اچھے دام مل جائیں گے تو وہ 35 ایکڑ رقبے پر بھی مونگ پھلی کاشت کرسکتے ہیں۔

باقی 15 ایکڑ رقبے پر وہ مونگ پھلی کیوں نہیں لگائیں گے اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ رقبہ سخت زمین والا ہے، جس میں بارش کا پانی کھڑا ہوجاتا ہے اس لیے یہاں مونگ پھلی کاشت نہیں ہوسکتی۔

صوبائی محکمہ زراعت کے مطابق مونگ پھلی کی کاشت کے لیے ریتلی، ریتلی میرا یا ہلکی میرا زمین موزوں ہے اور فصل کی بڑھوتری کے دوران اگر مناسب وقفوں سے بارش ہوتی رہے تو یہ بہتر پیداوار دیتی ہے۔ بارانی علاقوں کے موسم میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہوتی ہیں اس لیے مونگ پھلی کا بیشتر ر قبہ بارانی علاقوں میں ہے۔

محکمہ زراعت کہتا ہے کہ گرم مرطوب آب و ہوا والا موسم اس فصل کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ بیج کے اگاؤ کے وقت درجہ حرارت 20 تا 30 درجہ سینٹی گریڈ رہے تو بہتر ہوتا ہے کیوں کہ 33 ڈگری سینٹی گریڈ پر بیج کا اگاؤ کم ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں 96 فیصد مونگ پھلی پنجاب میں کاشت ہوتی ہے اور صوبے میں اگنے والی فصل کا 80 فیصد حصہ پوٹھوہار کے علاقے راولپنڈی ڈویژن (اٹک، چکوال، جہلم اور راولپنڈی) میں ہوتا ہے۔

راولپنڈی ڈویژن میں بھی چکوال اور اٹک کے اضلاع میں مونگ پھلی سب سے زیادہ کاشت ہوتی ہے۔ 2021 میں چکوال میں ایک لاکھ 47 ہزار 997 ایکڑ اور  اٹک میں ایک لاکھ دس ہزار 338 ایکڑ پر یہ فصل اگائی گئی۔ اس سے اگلے سال 2022 میں چکوال میں ایک لاکھ 61 ہزار 158 ایکڑ اور اٹک میں ایک لاکھ دس ہزار 121 ایکڑ رقبے پر یہ فصل ہوئی۔ رواں سیزن میں بھی اٹک میں ایک لاکھ دس ہزار ایکڑ رقبے پر یہ فصل لگی ہے۔

اگر پورے ملک کی بات کی جائے تو ہر سال لگ بھگ تین سے ساڑھے تین لاکھ ایکڑ رقبے پر مونگ پھلی کی فصل کاشت ہوتی ہے اور اس سے ایک لاکھ ٹن کے قریب پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔

2021 میں پاکستان میں تین لاکھ 36 ہزار 767 ایکڑ رقبے پر مونگ پھلی کی فصل سے ایک لاکھ 21 ہزار 693 میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ اس سال پاکستان میں فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریبا نو من رہی۔

یار محمد کی عمر 55 سال ہوگئی ہے جب سے انھوں نے ہوش سنبھالا ہے وہ مونگ پھلی کاشت کرتے آرہے ہیں لیکن ان کا زیر کاشت رقبہ 18 ایکڑ سے 25 ایکڑ تک ہی رہا ہے۔

ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیپ کے گاؤں ڈومیال سے تعلق رکھنے والے مونگ پھلی کے کاشت کار ملک اظہر محمود بھی بڑے زمیندار ہیں ان کے خاندان کی ملکیتی زمین 875 ایکڑ (سات ہزار کنال) ہے جس میں سے اس مرتبہ انھوں ایک سو 25 ایکڑ رقبے پر مونگ پھلی کی فصل کاشت کی ہے۔

ملک اظہر کہتے ہیں پچھلے تین سال سے انھوں نے مونگ پھلی اگانا چھوڑ دی تھی اس کی وجہ ان کے بقول ایک تو بارشوں  کے دورانیے میں تبدیلیاں ہیں تو دوسرا مونگ پھلی کی فصل کی کٹائی کے لیے مزدوری کے اخراجات اس قدر زیادہ ہوگئے تھے کہ ان کا منافع بہت ہی کم رہ گیا تھا۔

قومی ادارہ شماریات کے مطابق ضلع اٹک میں کل زیر کاشت رقبہ سات لاکھ 89 ہزار 307 ایکڑ ہے اور اس میں سے 60 ہزار ایکڑ کے علاوہ باقی سارا بارانی ہے۔ یہاں کے کاشت کار سال میں زیادہ تر دو ہی فصلیں اگاتے ہیں جن میں ایک گندم اور دوسری مونگ پھلی ہے۔

یار محمد اور ملک اظہر کا ماننا ہے کہ ضلع اٹک میں مزید 50 سے 60 فیصد رقبہ ایسا ہے جہاں پر مونگ پھلی کی فصل کاشت ہوسکتی ہے۔

مونگ پھلی سونے کی ڈلی

مونگ پھلی پاکستان کے بارانی علاقوں میں کاشت کی جانیوالی موسم خریف کی اہم ترین نقد آور فصل ہے اور خاص طور پر خطہ پوٹھوار میں موسم خریف کی کوئی بھی ایسی دوسری فصل نہیں جو مونگ پھلی کے مقابلے میں زیادہ آمدنی دیتی ہو۔

اٹک کے کسانوں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی سے حاصل ہونیوالی آمدنی ان کے ضلعے سمیت پوٹھوہار کے علاقوں کے کاشتکاروں کی معاشی حالت کو سنوارنے اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مونگ پھلی کو سونے کی ڈلی بھی کہا جاتا ہے۔

یار محمد پچھلے 22 سال سے مونگ پھلی کا کاروبار بھی کررہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت اٹک میں مونگ پھلی کی 58 آڑھتیں ہیں جہاں ہر آڑھت پر 15 سے 20 مزدور کام رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے اٹک کی لگ بھگ 30 سے 40 فیصد آبادی کا روزگار کسی نہ کسی طرح مونگ پھلی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جب فصل کی برداشت ہوتی ہے تو سینکڑوں مزدور خاندان یہاں سے روزی کماتے ہیں اس کے علاوہ مونگ پھلی کو خشک کرنے کا کام کرنے والے اور ٹرانسپورٹر، جو جنس کو ملک کے دوسرے حصوں تک پہنچاتے ہیں، وہ بھی سیزن میں اچھی خاصی آمدنی حاصل کرلیتے ہیں۔

قومی لیبر فورس سروے 2020-21  کے مطابق ضلع اٹک میں سات لاکھ 52 ہزار 200 مزدور ہیں جن میں سے 47.3 فیصد یعنی تین لاکھ 55 ہزار 795 افراد زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔ اٹک میں زرعی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں میں 78 فیصد خواتین ہیں۔

لیکن ملک اظہر اور یار محمد ان اعداد و شمار کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ تعداد اس سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے اور حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے نہ صرف کسان بلکہ ان سب مزدورں کے معاشی حالات ابتر ہورہے ہیں۔

ملک اظہر کہتے ہیں کہ ضلع اٹک کے ساڑھے تین لاکھ ایکڑ رقبے پر مونگ پھلی کی کاشت ممکن ہے لیکن یہاں پر صرف ایک لاکھ ایکڑ پر یہ فصل اگائی جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ مہنگائی کی شرح اور مزدوری کے اخراجات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں لیکن فصل کی قیمت اور پیداوار وہیں کی وہیں ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں بیشتر کاشت کار اب بھی روایتی طریقہ کاشت پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ وہ  گھر کا بیج بناتے ہیں اور اسے سالوں تک استعمال کرتے ہیں جس سے ان کی پیداوار میں اضافے کے بجائے کمی آتی جارہی ہے۔ جبکہ محکمہ زراعت کی طرف سے ان کی کسی قسم کی کوئی بھی رہنمائی نہیں کی جاتی۔

یار محمد کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں مونگ پھلی کا ایک سرکاری ریسرچ سینٹر بھی قائم ہے جس کا انہیں چند ماہ پہلے ہی پتا چلا ہے لیکن انھوں نے کبھی نہیں سنا کہ اس ادارے نے کبھی کسی کسان کی رہنمائی کی ہو۔ اس لیے وہ سارے کام اندازے کے مطابق کرتے ہیں۔

تاہم اٹک کے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ؎ شکیل احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ زرعی ماہرین باقاعدگی سے ضلع بھر میں ہر سال  آگاہی کیمپ اور سیمینار منعقد کرتے ہیں۔ محکمہ زراعت ہر سال سو سے زیادہ تربیتی کیمپ لگاتا ھے اور رواں سال اب تک 142 تربیتی کیمپ لگائے جا چکے ہیں جہاں پر  کسانوں کو مفید مشورے دیے گئے۔

اٹک میں ایوب ایگرکلچر ریسرچ انسٹیوٹ کے مونگ پھلی ریسرچ سنٹر کے سائنس دان منظور حسین بتاتے ہیں کہ یہ سنٹر 22 سال سے کام کرہا ہے جس میں پانچ ریسرچر اور سائنسدان فرائض انجام دے رہے ہیں جن کی محنت سے مونگ پھلی کے بیج اٹک 2019 اور فخر اٹک متعارف کرائے گئے ہیں۔ انھوں نے ان اقسام کی تیاری کو بڑی کامیابی قرار دیا کیونکہ ان کے بقول بیج کی نئی قسم تیار کرنے پر آٹھ سے دس سال لگ جاتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ دیسی اقسام کے بیج کی فی ایکڑ پیداوار 8 سے 12 من جبکہ سنٹر کی تیار کردہ اقسام کی پیداواری صلاحیت 30 سے 40 من فی ایکڑ ہے۔

تاہم حقائق ان کے دعوے سے برعکس ہیں۔ پچھلے پانچ سال میں پاکستان میں کبھی بھی مونگ پھلی کی فی ایکڑ اوسط پیداوار ساڑھے دس من سے زیادہ نہیں رہی اور اٹک میں بھی فی ایکڑ اوسط پیداوار زیادہ سے زیادہ 15 من رہی ہے۔

مونگ پھلی کی کاشت میں فائدہ ہی فائدہ

امریکہ محکمہ زراعت کی مونگ پھلی سے متعلق عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں 70  فیصد کھانے کا تیل مونگ پھلی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں کھانے کے تیل میں مونگ پھلی کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں یہ زیادہ تر بھون کر کھائی جاتی ہے اور بیکری کی اشیا بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سندھ میں حکومت اور شوگر ملز کے خلاف گنے کے کاشتکاروں کا انوکھا اقدام

پاکستان میں مونگ پھلی کی فی ایکڑ اوسط پیداوار دس من ہے جو کہ بھارت سے آدھی ہے۔ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان میں پیداوار کم ہونے کی اہم وجہ زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی اقسام کی کمی، اچھا بیج نہ ہونا اور پیداوار بڑھانے کے عوامل پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔

ملک اظہر کہتے ہیں کہ مونگ پھلی برداشت کے لیے جو تھریشر ہے وہ بھی ایک مقامی کاری گر نے تیار کی ہے۔ اس کے علاوہ آج بھی بہت سارے کسان فصل کی پٹائی کَسّی سے کرتے ہیں کیوں کہ پٹائی کے لیے بھی کوئی مشین نہیں بنائی گئی۔ جو مشینیں کام کر رہی ہیں وہ بھی اسی طرح مقامی کاری گروں کی تیار کردہ ہیں۔

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے پلانٹ بریڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر محمود الحسن کے مطابق پاکستان خوردنی تیل کی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے سالانہ اربوں روپے پام آئل اور سویابین کی درآمد پر خرچ کرتا ہے۔ اگر مونگ پھلی کی پیداوار بڑھا دی جائے اور اسے بطور خوردنی تیل بھی استعمال کرنا شروع کردیا جائے تو اس سے ملکی معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔

محمود الحسن کہتے ہیں کہ کسان مونگ پھلی مقامی مارکیٹ میں اس لیے فروخت کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل اور آگہی کی بھی کمی ھے جس کی وجہ سے وہ اچھے معاوضے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بارانی یونیورسٹی نے مختلف علاقوں میں کسانوں کی معاونت کی ھے اور اب کسانوں کو تجارتی پیمانے پر مونگ پھلی کا تیل تیار کرنے کے قابل بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مونگ پھلی کا مکھن بھی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرسکتا ہے۔

یار محمد اور ملک اظہر جو دنوں مونگ پھلی کے کاروبار سے بھی منسلک ہیں ان کا بھی ماننا ہے کہ اگر حکومت آڑھتیوں کو سہولیات دے اور مونگ پھلی کو جدید طریقوں کے مطابق صاف کر کے پیک کرنے کے پلانٹ لگا کر دے تو اسے ایکسپورٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔

تاریخ اشاعت 31 اگست 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد صابرین کا تعلق ضلع اٹک کے گاؤں دکھنیر سے ہے ۔ گزشتہ تین دھائیوں سے انگریزی، اردو اخبارات اور نشریاتی اداروں کیلیے بطور فری لانس جرنلسٹ کام کر رھے ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.