دریا کنارے پیاسے لوگ: ناقص منصوبہ بندی کے ہاتھوں دریائے نیلم کی تباہی کیسے ہوئی۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

دریا کنارے پیاسے لوگ: ناقص منصوبہ بندی کے ہاتھوں دریائے نیلم کی تباہی کیسے ہوئی۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

دریا کنارے پیاسے لوگ: ناقص منصوبہ بندی کے ہاتھوں دریائے نیلم کی تباہی کیسے ہوئی۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

ستمبر 2018 کے پہلے ہفتے میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد کے باسیوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ دریائے نیلم اس شہر کے بیچوں بیچ گزرتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نامی منصوبے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی جس کے تحت مظفر آباد سے 41 کلومیٹر مشرق میں نوسیری کے مقام پر دریائے نیلم کا رخ موڑ کو اسے چھتر کلاس کے علاقے میں دریائے جہلم میں ڈالا گیا ہے جہاں اس سے نو سو 69 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 1997 میں تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس کی تعمیر سے پہلے مظفر آباد میں دریا کا کم سے کم بہاؤ جنوری 1982 میں ریکارڈ کیا گیا جب اس کی مقدار 33 مکعب میٹر فی سیکنڈ تھی جبکہ زیادہ سے زیادہ بہاؤ 1992 کے سیلاب کے دوران دیکھنے میں آیا جب اس کی مقدار چار ہزار مکعب میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ گئی تھی۔

لیکن سوا تین سال پہلے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے بجلی کی پیداوار کا آغاز ہوا تو مظفر آباد سے گزرنے والے دریائی پانی کی مقدار کم ہو کر صرف نو مکعب میٹر فی سیکنڈ رہ گئی جس کے  نتیجے میں ماکڑی کے مقام پر بنایا گیا شہر کو پانی فراہم کرنے والا نظام براہ راست متاثر ہوا اور شہریوں کو ان کی ضرورت سے کہیں کم پانی ملنے لگا۔

اس صورتِ حال سے پریشان مظفر آباد کے باسیوں نے فوراً ایک پرزور احتجاجی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں شہر کی انتظامیہ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے ذمہ دار وفاقی ادارے واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) سے بات چیت کر کے دریا کے بہاؤ کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔

تاہم پانی کی قلت کا مسئلہ مظفر آباد تک محدود نہیں بلکہ اس منصوبے کے آس پاس واقع متعدد دیہات کو اسی طرح پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ان میں کیالہ نامی گاؤں بھی شامل ہے جہاں کی رہنے والی 26 سالہ نورین بی بی کا کہنا ہے کہ 16-2015 کے بعد ان کے گاؤں کے قریب پائے جانے والے چشمے سوکھ گئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ہر روز تقریباً تین کلومیٹر کا سفر کر کے پانی لانا پڑتا ہے۔

اگرچہ ان کے گاؤں میں ہر خاندان نے بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے ٹنکیاں نصب کر رکھی ہے تا کہ وہ اسے پینے کے علاوہ دوسری گھریلو ضروریات کے لیے استعمال کر سکیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ کیالہ میں پانی کی کمی اس قدر شدید ہے کہ یہاں کے مقامی لوگ "پہلے کی طرح نہ تو سبزیاں اگا سکتے ہیں اور نہ ہی مال مویشی پال سکتے ہیں۔ اس لیے ان میں سے کئی ایک گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں"۔

پرتھامہ نامی ایک قریبی گاؤں میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔

یہاں کے 45 سالہ رہائشی نور حسین کریانے کی دکان چلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قریباً پانچ سال سے ان کے علاقے میں پانی کی اس قدر کمی ہو گئی ہے کہ انہیں روزانہ موٹر سائیکل پر جا کر کئی کلومیٹر دور واقع قدرتی چشموں سے پینے کا پانی لانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کبھی کسی مقامی خاندان کو شادی یا مرگ کے موقع پر معمول سے زیادہ پانی درکار ہوتا ہے تو اس کا انتظام مظفر آباد سے ٹینکر منگوا کر کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ایک ٹینکر پانی کی قیمت ساڑھے تین ہزار سے چار ہزار روپے ہوتی ہے اس لیے، ان کے مطابق، "بہت سے لوگ اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے"۔

مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ قدرتی چشموں کے سوکھنے کی وجہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں شامل سرنگوں کی تعمیر ہے۔ ان کے اس خیال کی تائید 2018 میں آزاد جموں و کشمیر کے تحفظِ ماحولیات کے ادارے کی طرف سے اس منصوبے کی انتظامیہ کو لکھے گئے ایک خط سے ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرنگوں کی تعمیر سے ہونے والی لرزش کے باعث پانی کے زیر زمین راستے بدل گئے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے آس پاس واقع دیہات میں پائے جانے والے قدرتی چشمے سوکھ گئے ہیں۔

ترے وعدے پہ اعتبار کیا

ناروے کی کمپنی، نارپلان کنسلٹنگ انجینئرز اینڈ پلانرز، نے 1997 میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے متعلقہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کہا تھا کہ نوسیری اور مظفرآباد میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریائے نیلم میں کم از کم 20 مکعب میٹر فی سیکنڈ کا بہاؤ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔

لیکن واپڈا نے یہ رپورٹ یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ دریا میں اتنا پانی چھوڑنے سے حکومتِ پاکستان کو چھ کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو گا جس کے نتیجے میں اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی مالی طور پر منفعت بخش نہیں رہے گی۔
چنانچہ وپڈا نے 2010 میں نارپلان کو اس مسئلے کا دوبارہ جائزہ لینے کو کہا جس کے بعد نارپلان نے مظفر آباد کی آبادی میں اضافے کے بارے میں اپنے تخمینے میں کمی کر لی۔ اپنی ابتدائی رپورٹ میں اس نے کہا تھا کہ 2050 میں شہر کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ 92 ہزار 92 افراد پر مشتمل ہو گی لیکن اس کی نظرِثانی شدہ رپورٹ کے مطابق 2050 میں یہ آبادی محض تین لاکھ 37 ہزار سات سو 96 افراد ہوگی جن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریائے نیلم میں 20 مکعب میٹر فی سیکنڈ کا بہاؤ برقرار رکھنا ضروری نہیں ہو گا۔

لیکن کچھ دوسرے اعداد و شمار ظاہر  کرتے ہیں کہ نارپلان کا نظر ثانی شدہ تخمینہ ٹھیک نہیں۔ مثال کے طور پر جاپان کے بین الاقوامی امداد فراہم کرنے والے ادارے جائیکا کا 2007 میں کیے گئے ایک تجزیے میں کہنا تھا کہ 2050 تک مظفر آباد کی آبادی پانچ لاکھ 92 ہزار نفوس پر مشتمل ہو گی۔

مقامی لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ 2005 میں آنے والے زلزلے کے بعد مظفر آباد کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ آزاد جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر یہاں منتقل ہو رہے ہیں تا کہ مستقبل میں کسی قدرتی آفت کا شکار ہونے کی صورت میں صحت اور نقل و حمل کی سہولیات ان کی پہنچ میں رہیں۔

اسی طرح وفاقی وزارتِ آبی وسائل نے بھی 2019 میں تیار کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ واپڈا کی طرف سے 11-2010 میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات کا کرایا گیا تجزیہ درست نہیں لگتا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس غلط تجزیے کی بنیاد پر دریائے نیلم کا ماحولیاتی بہاؤ (یعنی پانی کی وہ کم سے کم مقدار جو دریا کے قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے ضروری ہے) نو مکعب میٹر فی سیکنڈ رکھا گیا ہے "جو ناکافی معلوم ہوتا ہے"۔

آزاد جموں و کشمیر کے تحفظِ ماحولیات کے ادارے نے اسی طرح کے خدشات کے پیشِ نظر 2011 میں واپڈا کو نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کا اجازت نامہ جاری کرتے ہوئے کئی شرائط عائد کی تھیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ واپڈا ایسی سکیمیں شروع کرے گا جو مظفر آباد اور اس منصوبے سے متاثرہ دوسرے عللاقوں کی پانی کی ضرورت پوری کر سکیں۔

اس ادارے کے ڈائرکٹر جنرل عدنان خورشید کا کہنا ہے کہ اجازت نامہ دیتے وقت منصوبے کی انتظامیہ کو واضح طور پر کہا گیا تھا کہ وہ مظفر آباد اور اس کے گرد و نواح میں پانی کی فراہمی کے لیے سکیمیں شروع کرے گی، شہر کے استعمال شدہ گندے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ لگائے گی اور منصوبے سے متاثرہ علاقے میں زیرِ زمیں پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کیے پانی کے ذخیرے تعمیر کرے گی۔

2014 میں ان کے ادارے نے اپنی شرائط کو دہراتے ہوئے اسے خبردار کیا تھا کہ اگر مظفر آباد شہر اور نوسیری اور مجہوہی نامی دیہات کی مقامی آبادی کی پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے سکیمیں شروع نہ کی گئیں تو نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے دی گئی اجازت منسوخ کر دی جائے گی۔

دریا یا گندا نالہ

ادھیڑ عمر کے راجہ عمر احسن مظفر آباد کے سکریٹریٹ روڈ پر دریائے نیلم کے کنارے رہتے ہیں۔ ماضی میں جب ان کے رشتے دار دوسرے شہروں سے انہیں ملنے آتے تھے تو وہ ان کے ساتھ گرمیوں کی شاموں میں اپنے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھ کر دریا کی ٹھنڈی فضا کا مزا لیتے تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اب بدبو کی وجہ سے اس کے پاس کھڑا ہونا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر کا سارا  استعمال شدہ گندا پانی براہِ راست دریائے نیلم میں شامل ہو رہا ہے جبکہ اس کے کناروں پر بھاری مقدار میں پھینکا گیا گھریلو اور صنعتی و تجارتی کچرا بھی اس کے بہاؤ کا حصہ بنتا رہتا ہے۔

مظفر آباد کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والے معالج ڈاکٹر اعجاز احمد کہتے ہیں کہ پہلے بھی شہر کا کوڑا کرکٹ اور استعمال شدہ پانی دریائے نیلم میں ہی ڈالا جاتا تھا لیکن اس میں پانی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس ماحول دشمن عمل کے اثرات واضح نہیں ہوتے تھے۔ لیکن، ان کے مطابق، "اب ایک طرف دریا میں پانی کی مقدار کم ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اس میں پھینکے جانے والے فضلے اور کچرے کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ: مالی بےضابطگیوں اور بدعنوانی کی 21 سالہ طویل داستان۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دریائی آلودگی میں اضافے کی وجہ سے مظفر آباد میں پچھلے چند سالوں میں ٹائیفائیڈ، ڈائیریا اور ڈینگی جیسے وبائی امراض بڑھ گئے ہیں کیونکہ دریا میں پانی کی مقدار کم ہونے سے شہر کا اوسط درجہِ حرارت چار سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ  بڑھ گیا ہے (جس کی تصدیق وفاقی وزارتِ آبی وسائل نے بھی اپنی 2019 کی رپورٹ میں کی ہے) اور بارش اور گندے ندی نالوں سے دریا میں شامل ہونے والا پانی اس کے خشک پاٹ میں چھوٹے چھوٹے جوہڑوں کی صورت میں جمع ہو رہا ہے جہاں مچھروں کی خوب افزائش ہوتی ہے۔

عالمی ادارہِ صحت کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار ڈاکٹر اعجاز احمد کے تجزیے کی توثیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 2019 میں آزاد جموں و کشمیر میں ڈینگی کے ایک ہزار چھ سو 89 مریض سامنے آئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مظفر آباد سے تھا جبکہ نومبر 2021 میں ایسے مریضوں کی تعداد مزید بڑھ کر دو ہزار پانچ سو 80 ہو گئی۔

انہی مسائل کے حل کے لیے آزاد جموں و کشمیر کے تحفظِ ماحولیات کے ادارے نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی منظوری کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ واپڈا مظفر آباد میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر 16 ایسے پلانٹ لگائے گا جن سے گندا پانی صاف کر کے دریا میں ڈالا جائے گا۔ لیکن مقامی لوگ اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کے اہل کار کہتے ہیں کہ ابھی تک اس شرط پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

تاریخ اشاعت 18 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فضا اشرف نے اقراء یونیورسٹی اسلام آباد سے عالمی تعلقات میں ایم ایس سی کیا ہے۔ وہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔