چراغ تلے اندھیرا: آزاد جموں و کشمیر کے باسی اپنے دریاؤں سے بنی بجلی کے ثمرات سے محروم۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

چراغ تلے اندھیرا: آزاد جموں و کشمیر کے باسی اپنے دریاؤں سے بنی بجلی کے ثمرات سے محروم۔

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

چراغ تلے اندھیرا: آزاد جموں و کشمیر کے باسی اپنے دریاؤں سے بنی بجلی کے ثمرات سے محروم۔

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

دریائے نیلم اور دریائے جہلم کے سنگم پر واقع آزاد جموں و کشمیر کے صدر مقام مظفرآباد کو نہ صرف پانی کی قلت کا سامنا ہے بلکہ وفاقی محکمہِ آبی وسائل کی تیار کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس کے اوسط درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 

مقامی لوگ ان مسائل کی سب سے اہم وجہ اِن دریاؤں سے بجلی پیدا کرنے کے ایک منصوبے، نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ، کو قرار دیتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت 32 کلومیٹر لمبی سرنگوں کے ذریعے دریائے نیلم کا مظفرآباد آنے والا پانی نوسیری نامی جگہ سے موڑ کر دریائے جہلم میں ڈالا گیا ہے تاکہ اس سے نو سو 69 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے۔ 

نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ پر کام تو 2000 کی دہائی میں شروع ہو گیا تھا لیکن اس کی تکمیل کئی سال کی تاخیر کے بعد 2018 کے اختتام پر ہوئی۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے منفی آبی اور ماحولیاتی اثرات اس سے بجلی کی پیداوار شروع ہوتے ہی سامنے آنے لگے تھے۔

مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے سینئر وکیل امجد علی خان عالمی بنک کی جانب سے قائم کردہ ورلڈ کمیشن آن ڈیمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے بنائے گئے رہنما اصولوں کے تحت ایسا ہر ترقیاتی منصوبہ انسانی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کا ضامن ہونا چاہیے جس کا ایک حصہ دریائی پانی کو روکنے اور موڑنے پر مشتمل ہو۔ ان اصولوں کے مطابق "پن بجلی کی پیداوار کے لیے بنائے گئے ہر منصوبے کو اس علاقے کے لوگوں کی معاشی، سماجی اور ماحولیاتی ترقی کا باعث بننا چاہیے جہاں کی زمین پر یہ منصوبہ تعمیر کیا جاتا ہے"۔ 

لیکن وہ کہتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں منگلا ڈیم کی تعمیر سے لے کر آج کل دریائے جہلم پر مظفرآباد کے قریب بنائے جانے والے کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ تک "پن بجلی کے کسی بھی منصوبے سے آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کو کوئی مالی یا سماجی فائدہ نہیں ہوا"۔ اس کے برعکس، ان کے مطابق، مقامی لوگوں کو آج بھی لوڈشیدنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حالانکہ ان کے دریاؤں سے ہر روز ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔  

اس بنیاد پر وہ نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ اور کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ کو آزاد جموں و کشمیر کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ "جموں و کشمیر میں پائے جانے والے قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق اس میں رہنے والے لوگوں کا ہے"۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی نجی کمپنی یا حکومتِ پاکستان کا کوئی ادارہ آزاد جموں و کشمیر کے قدرتی وسائل استعمال کرنا چاہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس خطے کی قانون ساز اسمبلی سے اس استعمال کی منظوری لے اور پھر اس خطے کی حکومت کو اس استعمال سے ہونے والے مالی فوائد میں سے رائلٹی یا منافع دے۔ اسی طرح، امجد علی خان کے مطابق، ان وسائل کے استعمال کے لیے بنائے گئے تمام "منصوبوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے موجود مقامی قوانین پر عمل درآمد کریں"۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ اور کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ اوپر دی گئی کسی آئینی یا قانونی شرط پر پورے نہیں اترتے۔ ان کے بقول، "ان دونوں منصوبوں کے لیے نہ تو اسمبلی سے منظوری لی گئی ہے، نہ ان کے معاوضے کے طور پر آزاد جموں و کشمیر کو کوئی رائیلٹی یا منافع ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے منفی ماحولیاتی اثرات کا تدارک کرنے کے لیے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں"۔ 

انہی شکایات کی بنا پر 22 ستمبر 2018 کو امجد علی خان سمیت مظفرآباد کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 30 لوگوں نے ان منصوبوں کی مختلف آئینی، قانونی، مالی اور ماحولیاتی خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ان کے خلاف کئی رٹ پٹیشنیں دائر کر دیں۔ 

ہائی کورٹ کے تین ججوں، جسٹس محمد شیراز کیانی، جسٹس صداقت حسین راجہ اور جسٹس چوہدری محمد منیر، نے کئی ماہ ان پٹیشنوں کی سماعت کی جس کے بعد 15 نومبر 2019 کو انہوں نے فیصلہ دیا کہ حکومتِ پاکستان کے ادارے، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، نے ان منصوبوں کی تعمیر کے لیے ضروری آئینی اور قانونی شرائط پوری نہیں کیں اس لیے یہ دونوں نہ صرف غیر قانونی اور غیرآئینی ہیں بلکہ ان کی وجہ سے کشمیریوں کا حقِ زندگی اور حقِ جائیداد بھی سلب ہو رہا ہے۔ 

انہوں نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ کہ ان منصوبوں کی تعمیر آزاد کشمیر تحفظِ ماحولیات ایکٹ 2000 کی خلاف ورزی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے محکمہِ تحفظِ ماحولیات کی طرف سے 22 جولائی 2011 کو نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ اور 22 دسمبر 2016 کو کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ کو دی گئی مشروط منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واپڈا کو ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پینے کے پانی کی قلت اور دریاؤں میں جمع ہو جانے والے کوڑا کرکٹ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا تھے۔ ان کے مطابق محکمے نے واپڈا کو اس بات کا بھی پابند بنایا تھا کہ وہ دریائے نیلم کا رخ موڑے جانے کی وجہ سے مظفرآباد میں اس کے بہاؤ میں آنے والی کمی پر قابو پانے کے لیے آبی ذخیرے تعمیر کرے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ واپڈا نے ابھی تک ان میں سے کسی شرط پر عمل درآمد نہیں کیا۔ 

ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بھی واپڈا نے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔ بلکہ، امجد علی خان کے بقول، اس نے کبھی مظفرآباد کے لوگوں کی شکایات کو غور سے سنا ہی نہیں۔

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدِ حزبِ اختلاف چوہدری لطیف اکبر بھی ان کے شکوے کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے بقول نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ اور کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ "مظفرآباد کی شہری آبادی کے قتلِ عام" کی وجہ بن رہے ہیں کیونکہ یہ "قدرتی ماحول کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی قدرتی وسائل کو بے دریغ استعمال کر رہے ہیں جس سے آزاد جموں و کشمیر کی معیشت اور ماحول پر بہت منفی اثر پڑ رہا ہے"۔

انہوں نے یہ معاملہ اسمبلی میں بھی اٹھایا ہے اور نومبر 2021 میں ایک تحریکِ التوا جمع کرائی ہے تاکہ ان منصوبوں کے "ماحولیاتی اور سماجی اثرات پر تفصیل سے بحث کی جا سکے"۔ 

'کشمیریوں کے آبی حقوق کی پامالی'

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان کے درمیان طے پایا۔ یہ معاہدہ ان چھ دریاؤں کے پانی کو بانٹنے کے لیے کیا گیا جو انڈین علاقے سے بہہ کر پاکستان میں آتے ہیں۔ اگرچہ اس کے تحت تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کا پانی پاکستان کے لیے مختص کیا گیا لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا کہ انڈیا ان دریاؤں کا 20 فیصد پانی گھریلو استعمال، زرعی آبپاشی اور بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

لاہور میں مقیم وکیل رافع عالم کہتے ہیں کہ اس معاہدے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں انڈیا اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دونوں حصوں میں رہنے والے لوگوں کے آبی حقوق کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ 2008 اور 2010 میں اس معاہدے کی نگرانی کرنے والے پاکستانی ادارے میں کام کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ کشمیری عوام کی مرضی کی بغیر ہی دونوں ملک کشمیر سے گزرنے والے دریاؤں پر "دھڑا دھڑ پن بجلی کے بڑے بڑے منصوبے تعمیر کر رہے ہیں"۔

لندن کے کنگز کالج میں ماحولیات کے شعبے میں بطور سینئر لیکچرار کام کرنے والے ماجد اختر بھی کہتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے لیے کیے گئے مذاکرات میں نہ تو ان دریاؤں کے گرد صدیوں سے آباد لوگوں کی رائے لی گئی اور نہ ہی ان کی ضروریات کا خیال رکھا گیا۔ اس کے برعکس، ان کے بقول، "ان مذاکرات میں شامل انڈین اور پاکستانی انجنئر اور پالیسی ساز اس بات پر متفق تھے کہ کشمیریوں کو سندھ طاس معاہدے میں سیاسی آواز فراہم کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہوگا"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ: مالی بےضابطگیوں اور بدعنوانی کی 21 سالہ طویل داستان۔

امجد علی خان ان سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مظفرآباد کے باسیوں نے دریائے نیلم کے بہاؤ میں پہلی بار کمی 2016 میں محسوس کی جب انڈیا نے اس پر بنائے گئے کشن گنگا پاور پراجیکٹ سے بجلی پیدا کرنا شروع کی۔ لیکن، ان کے مطابق، 2018 میں یہ کمی اور بھی شدید ہو گئی جب نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ نے کام کرنا شروع کیا۔

اب جبکہ پاکستان نے ایک چینی کمپنی کو کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی دے دیا ہے تو انہیں خدشہ ہے کہ "انڈیا اور پاکستان کے درمیان مغربی دریاؤں پر بڑھتی ہوئی کش مکش کی وجہ سے چند برس میں مظفر آباد شہر میں قحط سالی کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے"۔ 

ان کی اس بات کی تصدیق امریکہ کی نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کی طرف سے 2015 میں کیا جانے والا ایک سروے بھی کرتا ہے جس میں اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ سندھ طاس میں شامل دریاؤں میں پانی کی سطح ہر سال چار ملی میٹر سے چھ ملی میٹر کم ہو رہی ہے۔ 

تاریخ اشاعت 4 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

زاہد علی ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فارسی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔