پاکستان کے 'گم شدہ' مسیحی: 2017 کی مردم شماری میں کس طرح مسیحیوں کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پاکستان کے 'گم شدہ' مسیحی: 2017 کی مردم شماری میں کس طرح مسیحیوں کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے۔

طاہر مہدی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

پاکستان کے 'گم شدہ' مسیحی: 2017 کی مردم شماری میں کس طرح مسیحیوں کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے۔

طاہر مہدی

loop

انگریزی میں پڑھیں

پاکستان میں رہنے والے مسیحیوں کا بھی ان لوگوں میں شامل ہونے کا امکان ہے جو 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے صحیح ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مسیحیوں کو پہلے سے ہی یہ شکایت ہے کہ سرکاری اعداد و شمار میں ان کی آبادی کو اصل سے کم ظاہر کیا جاتا ہے۔ موجودہ مردم شماری کے نتائج کو دیکھا جائے تو ان کی یہ شکایت درست معلوم ہوتی ہے۔ 

چند روز پہلے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مسلمانوں کی آبادی 1998 میں 12 کروڑ 74 لاکھ تھی جو 2017 میں 20 کروڑ چار لاکھ ہو گئی۔ یعنی 19 سال میں پاکستان کی مسلم آبادی میں 57.2 فیصد اضافہ ہوا ۔ دوسری جانب اسی عرصہ میں غیر مسلم آبادی میں اضافے کی شرح 48.7 فیصد رہی۔ 

حیرانی کی بات یہ ہے کہ دونوں شرحوں کے درمیان اس آٹھ فیصد فرق سے صرف مسیحی آبادی ہی متاثر ہوئی ہے کیونکہ 1998 سے 2017 کے درمیان اس میں صرف 26.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

پاکستان میں مسیحیوں کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں رہتی ہے جہاں مسلم اور مسیحی آبادیوں میں شرحِ اضافہ میں فرق اور بھی زیادہ ہے۔ مردم شماری کے نتائج بتاتے ہیں کہ 1998 اور 2017 کے درمیان اس صوبے میں مسلم آبادی 50.3 فیصد بڑھی جبکہ اسی عرصہ میں یہاں کی مسیحی آبادی میں صرف 21.6 فیصد اضافہ ہوا۔  

سالانہ حساب سے بھی دیکھا جائے تو پنجاب میں مسلم آبادی میں 2.2 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے جبکہ مسیحی آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح اس کے نصف سے بھی کم (1.0 فیصد) رہی ہے۔ اسی طرح پورے پاکستان میں مسلم اور مسیحی آبادی میں بالترتیب 2.4 اور 1.2 فیصد سالانہ شرح سے اضافہ ہوا۔ 

یہ فرق نا صرف حیران کن ہے بلکہ اس سے پہلے اس کی مثال بھی نہیں ملتی۔ 

گزشتہ مردم شماریوں میں در حقیقت مسیحیوں اور ہندوؤں کی آبادی میں اضافے کی شرح مسلمانوں کی آبادی میں شرحِ اضافہ سے زیادہ ریکارڈ کی جاتی رہی ہے۔ اس رجحان کو مدِ نظر رکھا جائے تو اس بار مسیحی آبادی میں اضافے کی شرح میں اچانک کمی کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔

ان اعدادوشمار میں یہ تاریک راز بھی چھپا ہوا ہے کہ اگر 20 سال میں مسیحیوں کی آبادی میں اسی شرح سے اضافہ ہوا ہوتا جس شرح سے مسلمانوں کی آبادی بڑھی ہے تو 2017 میں مسیحیوں کی آبادی مردم شماری میں دی گئی ان کی آبادی سے ساڑھے چھ لاکھ زیادہ ہوتی۔ گویا اس مردم شماری میں ہر پانچ میں سے ایک مسیحی یا تو غائب ہے یا اس کو گِنا نہیں گیا۔ اس بات سے شاید کسی کو حیرانی نہ ہو کہ اِن گم شدہ یا گنتی سے باہر مسیحیوں میں سے 486000 کا تعلق پنجاب سے ہے۔  

یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی کل آبادی میں مسیحیوں کا حصہ جو 1998 میں 2.31 فیصد تھا 2017 میں کم ہو کر 1.88 فیصد رہ گیا ہے۔ 

مسیحیوں کی اتنی بڑی تعداد کو ملکی آبادی میں شمار نہ کیے جانے سے پاکستان میں ان کی پہلے سے ہی خراب سماجی اور معاشی حالت مزید بگڑ جائے گی۔ اور کچھ نہیں تو اس سے ریاستی وسائل سے استفادے کے لیے ان کے دعوے کمزور پڑ جائیں گے اور ان کی سیاسی اہمیت بھی کم ہو جائےگی۔ 

مسیحیوں کی آبادی کو صحیح طرح سے نہ گنے جانے سے غیر مسلم پاکستانیوں کے اندر بھی ان کا درجہ کمتر ہو جائے گا۔ ان کی آبادی میں دکھائے گئے اضافے کی انتہائی کم شرح کے باعث اعلیٰ ذات اور شیڈولڈ کاسٹ کے ہندوؤں کی انتخابی سیاسی اہمیت بڑھ جائے گی جن کی آبادی میں اضافے کی شرح مسیحیوں سے کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔ 

اعدادوشمار اس فرق کو کھول کر دکھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی مجموعی غیر مسلم آبادی میں مسیحیوں کی تعداد 36.1 فیصد ہے جبکہ ہندوؤں کی مجموعی تعداد 60.8 فیصد بنتی ہے۔ لیکن 1998 میں یہ صورتِ حال اس سے مختلف تھی۔ اس وقت پاکستان کی غیر مسلم آبادی میں مسیحیوں کا تناسب 42.5 فیصد تھا جبکہ اعلیٰ ذات اور شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کا مجموعی تناسب 49.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ ذات کے ہندو ملک کی مجموعی غیر مسلم آبادی کا 42.9 فیصد تھے۔یعنی اس وقت ان کی تعداد لگ بھگ مسیحیوں کے برابر تھی۔ 

ذات بمقابلہ مذہب 

اعلیٰ ذات اور شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کی آبادی میں اضافے کی شرح میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس میں ماضی جیسی رفتار سے ہی اضافہ ہوا ہے چنانچہ 2017 کی مردم شماری میں بھی ان کی آبادی میں اضافے کی شرح مسلمانوں سے زیادہ رہی ہے۔ 

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے۔ 1882 کے بعد برطانوی ہند میں کی گئی ہر مردم شماری میں اعلیٰ ذات اور شیڈولڈ کاسٹ کے ہندوؤں کو دو الگ گروہوں کے طور پر گنا جاتا رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کی گئی ابتدائی تین مردم شماریوں میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ 

تاہم جنرل ضیا الحق نے ایک نیا سیاسی نظام وضع کیا جس کے تحت کسی مذہب کے پیروکار صرف اپنے ہی مذہب سے تعلق رکھنے والے انتخابی امیدواروں کو ووٹ دے سکتے تھے۔ اس جداگانہ انتخابی نظام میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں مسلمانوں، مسیحیوں، ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی آبادی کے تناسب کے مطابق ان میں تقسیم کی گئیں۔

اس نظام میں سب سے بڑا نقصان شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کو ہوا کیونکہ اس میں انہیں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں سے الگ شناخت نہیں دی گئی بلکہ انہیں 'بت پرستوں' کے ایک ہی خانے میں ڈال دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور مقامی سطح پر منتخب اداروں میں ہندوؤں کی تمام مخصوص نشستیں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ہاتھ آ گئیں کیونکہ شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کے مقابلے میں وہ نا صرف زیادہ وسائل کے مالک ہیں بلکہ سیاسی روابط کے اعتبار سے بھی ان سے آگے ہیں۔ 

اس کے بعد 1981 کی مردم شماری میں بھی دونوں ہندو برادریوں کو اکٹھا گنا گیا۔

1997 کے عام انتخابات تک اقلیتوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا نظام ہی قائم رہا لیکن اس سے اگلے سال ہونے والی مردم شماری میں اعلیٰ ذات اور شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کو ایک مرتبہ پھر الگ الگ گنا گیا۔ تاہم اس مردم شماری میں ہر 15 ہندوؤں میں سے صرف دو نے خود کو شیڈولڈ کاسٹ کے طور پر رجسٹرڈ کرایا۔بقیہ آبادی نے خود کو محض ہندو قرار دیا۔ 

1961 اور 1972 میں ہونے والی مردم شماری کے مقابلے میں یہ بہت بڑی تبدیلی تھی۔ ان دو مردم شماریوں میں ہر 15 میں سے 10 ہندوؤں نے خود کو شیڈولڈ کاسٹ بتایا تھا جبکہ صرف پانچ نے خود کو محض ہندوؤں کے طور پر رجسٹرڈ کرایا تھا۔ 

2017 کی مردم شماری کے نتائج میں شیڈولڈ کاسٹ یا دلت ہندوؤں کی آبادی میں ایک مرتبہ پھر کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے اندر اپنی علیحدہ شناخت کا احساس دھیرے دھیرے واپس آ رہا ہے کیونکہ اس مردم شماری کے مطابق ہر 15 ہندوؤں میں سے تین نے خود کو شیڈولڈ کاسٹ کے طور پر رجسٹرڈ کرایا ہے۔ 

مردم شماری کے اعداد و شمار کی رو سے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے مقابلے میں شیڈولڈ کاسٹ کی آبادی میں بھی بھاری شرح سے اضافہ ہوا۔ چنانچہ شیڈولڈ کاسٹ ہندو اب صوبہ سندھ کی مجموعی آبادی کا 1.7 فیصد ہو گئے ہیں جبکہ 1998 کی مردم شماری میں وہ صوبے کی آبادی کا 1.0 فیصد تھے۔

صوبے میں اعلیٰ ذات اور شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کی مجموعی تعداد اس لئے بھی بڑھی ہے کہ ان کی آبادی میں شرحِ اضافہ بہت بلند رہی ہے (یا شاید انہیں بہتر طور سے گنا گیا ہے)۔ لہٰذا اب اعلیٰ ذات اور شیڈولڈ کاسٹ ہندو مجموعی طور پر سندھ کی آبادی کا 8.7 فیصد ہیں۔ 1998 میں وہ صوبے کی کل آبادی کا7.5  فیصد تھے۔ 

تنازعات کی بھرمار

2017 کی مردم شماری کے حال ہی میں جاری کردہ نتائج مختلف گروہوں کی پہلے سے موجود شکایات میں مزید اضافہ کریں گے۔ مثال کے طور پر اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کی مسیحی آبادی ان اعداد و شمار کو چیلنج کرے گی۔ شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگ بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کی آبادی کی درست گنتی نہیں ہوئی۔ خاص طور پر جب اس کا موازنہ 1961 اور 1972 کی مردم شماری کے نتائج سے کیا جائے تو یہ خدشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ 

بعض دیگر گروہ پہلے ہی مردم شماری کے نتائج پر اعتراضات کر چکے ہیں۔ سندھ کی صوبائی حکومت 2018 سے شکایت کر رہی ہے کہ اس مردم شماری میں صوبے کی آبادی دو کروڑ کم بتائی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں، خصوصاً متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بھی یہ کہتی چلی آئیں ہیں کہ کراچی کی آبادی اس مردم شماری میں بتائی گئی تعداد (ایک کروڑ 60 لاکھ) سے کہیں زیادہ ہے۔ 

انہی شکایات کی بنا پر اس مردم شماری کی تکمیل کے تین سال بعد بھی اس کے نتائج کو سرکاری سطح پر جاری کرنے پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔ تاہم وفاقی اکائیوں کے درمیان اختلافات اور شکایات کے ازالے کے لیے بنائی گئی مشترکہ مفادات کونسل نے گزشتہ ہفتے بالآخر ان نتائج کی منطوری دے  دی (حالانکہ سندھ کی شکایات بدستور برقرار ہیں)۔ چنانچہ وفاقی ادارہ شماریات نے آبادی سے متعلق مخصوص نتائج کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنا شروع کر دیا ہے۔  

اس تنازعات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں جوں جوں مردم شماری کے مزید نتائج سامنے آتے جائیں گے تو اس حوالے سے تحفظات اور شکایات میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 31 مئی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 4 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

طاہر مہدی ایک انتخابی تجزیہ نگار ہیں انہیں صحافت کا وسیع تجربہ ہے اور وہ سیاسی اور سماجی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔