کندیاں میں کھیلوں کا واحد میدان جہاں گائے بکریاں اور کتے بھی کھیلتے ہیں

postImg

عریج فاطمہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

کندیاں میں کھیلوں کا واحد میدان جہاں گائے بکریاں اور کتے بھی کھیلتے ہیں

عریج فاطمہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

پندرہ سالہ نجیب اقبال کندیاں کے نواحی گاؤں کیتانوالہ میں رہتے ہیں۔ وہ چار سال سے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ان کا حال ہی میں ڈویژنل انڈر16 ٹیم میں چناؤ ہوا ہے۔ تاہم اس کامیابی پر وہ خوش ہونے کے ساتھ پریشان بھی ہیں۔

نجیب کی پریشانی یہ ہے کہ ان کے شہر میں  کوئی اچھا گراؤنڈ نہیں ہے۔ ان کے بقول بظاہر تو یہاں 'کندیاں سٹیڈیم' کے نام سے کرکٹ گراؤںڈ موجود ہے مگر اس کی حالت کھیلنے کے قابل نہیں ہے۔ چونکہ شہر میں کھیلنے کی کوئی اور جگہ نہیں ہے اس لیے نجیب اور ان کے ساتھی اسی گراؤںڈ میں پریکٹس کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ چار سال پہلے یہاں گراؤنڈ کے بجائے کچرا کنڈی کا گمان ہوتا تھا کیونکہ لوگ یہاں کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے۔ نجیب اور ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے اس میدان کو صاف کیا لیکن چار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے اسے بہتر حالت میں رکھنا ممکن نہیں کیونکہ آئے روز مویشی یہاں داخل ہو کر پچ کو خراب کر جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کھیلنے والوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

نجیب کا کہنا ہے کہ کندیاں میں کھیلوں کا بھرپور ٹیلنٹ پایا جاتا ہے۔ اگر شہر میں سپورٹس کمپلیکس بن جائے تو سیکڑوں نوجوانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

اڑتیس سالہ محمد عامر گیارہ سال سے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا کمسن بیٹا شاہ میر اپنے دوستوں کے ساتھ اس گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہا تھا کہ اسے آوارہ کتے نے کاٹ لیا۔ اس واقعے کے بعد شاہ میر نے گراؤںڈ میں کھیلنا بند کر دیا۔ عامر بتاتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے علاوہ بھی کئی بچوں کے ساتھ ایسے ہی واقعات پیش آ چکے ہیں۔

کندیاں میانوالی کی تحصیل پپلاں کا علاقہ ہے۔ 17 لاکھ آبادی کے اس ضلعے میں کندیاں شہر (کچا اور پکا کندیاں) کی آبادی لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ہے۔

2001ء میں ضلعی حکومت نے کندیاں میں کھیلوں کا سٹیڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے  لیے جی ٹی روڈ (اسے شیر شاہ سوری روڈ بھی کہتے ہیں) کے مغرب میں واقع 87 کنال سرکاری اراضی کا انتخاب کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے یہ رقبہ ضلعی سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا۔

حمیرحیات خان روکھڑی نے 2002ء میں بطور ضلع ناظم یہاں سٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھا۔ ضلعی حکومت نے 50 لاکھ روپے سے سٹیڈیم کی چار دیواری تعمیر کرائی، کرکٹ کے لیے تین پچیں بنوائیں اور اسے ضلعی محکمہ کھیل کے کنٹرول میں دے دیا۔

چار دیواری مکمل ہوتے ہی گراؤنڈ میں کھیل شروع ہو گئے جن میں کرکٹ، فٹ بال اور والی بال خاص طور پر نمایاں تھے۔

رضا کرکٹ کلب کے شریک انچارج محمد عزیز لوگی کہتے ہیں کہ جب گراؤنڈ بنا تو علاقے میں نوجوانوں نے تیتر بٹیر پالنا چھوڑ کر جسمانی کھیل کھیلنا شروع کر دیے۔ اس طرح یہ سٹیڈیم علاقے میں نوجوانوں کے لیے صحت مند تفریح کی جگہ بن گیا۔

عزیز بتاتے ہیں کہ 2008 میں ایک کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران مسلح افراد گراؤنڈ میں گھس آئے جنہوں نے وکٹیں توڑ دیں اور کھلاڑیوں سے سامان چھین لیا۔

گراؤنڈ کے قریب رہنے والے محمد بلال اور محمد وارث کے مطابق اس واقعے کا نہ تو مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی پولیس نے مداخلت کی۔ اس کے بعد پپلاں، چشمہ اور قریبی دیہات کے کھلاڑیوں نے اس گراؤنڈ میں آنا چھوڑ دیا۔

خوف کی فضا کے باعث جب کھیلوں کی سرگرمیوں میں کمی آئی تو لوگ دیوار کی اینٹیں اور گیٹ اکھاڑ لے گئے۔ 2011ء تک یہ میدان مویشیوں اور آوارہ کتوں کی آماجگاہ بن چکا تھا جس کے بعد اس زمین پر چنے کی کاشت شروع ہو گئی۔

2018ء میں مقامی کھلاڑیوں ثناءاللہ، امان اللہ اور محمد عامر نے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس کو سٹیڈیم کی جگہ خالی کرانے کے لیے درخواست دی۔ اس وقت گراؤنڈ پر ارشد نامی کاشت کار نے فصل کاشت کرر کھی تھی۔

اس درخواست پر ضلعی محکمہ کھیل نے فوری کارروائی کی۔ مقامی وڈیروں نے بھی کاشت کار ارشد سے رابطہ کیا جس کے بعد انہوں نے گراؤنڈ کا قبضہ چھوڑ دیا اور یہاں کھیل دوبارہ شروع ہو گئے۔

کندیاں کی سماجی و کاروباری شخصیت محمد اکبر ساجھرہ کرکٹ سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور سعودی عرب میں اپنے طویل قیام کے دوران ریاض کرکٹ ایسوسی ایشن سے بھی منسلک رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2019 میں وطن واپسی پر وہ گراؤنڈ میں گئے تو وہاں کے حالات بہت خراب تھے۔ انہوں نے اپنی جیب سے دولاکھ روپے خرچ کیے اور کھلاڑیوں کی مدد سے میدان کو کوڑے کرکٹ سے صاف کرایا اور ایک نئی پچ بھی بنوا کر دی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

کھیل کے میدانوں میں شادی بیاہ اور جلسے: فیصل آباد ریجن میں کرکٹ روبہ زوال

2021 ء میں انہوں نے اسی گراؤنڈ میں ضلعی سطح کا ٹورنامنٹ منعقد کرایا جس میں ضلعے کی 26 ٹیموں نے شرکت کی۔

محمد اکبر کہتے ہیں کہ کندیاں میں سپورٹس کمپلیکس مقامی آبادی کی ایک اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ضلعی محکمہ سپورٹس سے کئی مرتبہ بات کی ہے لیکن ہر مرتبہ انہیں ٹال دیا گیا۔

2019 ء میں پنجاب حکومت نے 14 تحصیلوں میں سپورٹس کمپلیکس بنانے کی منظوری دی تھی۔ اس سلسلے میں ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں ایک سپورٹس کمپلیکس بنایا گیا، پپلاں میں کرکٹ گراؤںڈ کی سہولت دی گئی، میانوالی شہر میں کرکٹ سٹیڈیم اور تحصیل سپورٹس کمپلیکس تعمیر ہوئے مگر کندیاں کو نظرانداز کر دیا گیا۔

ضلعی محکمہ کھیل کے حکام نے کندیاں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے لیے پچھلے سال سٹیڈیم کی جگہ کا جائزہ لیا تھا تاہم اس کی تعمیر کا تخمینہ لگائے جانے کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ضلعی افسرِ کھیل امتیاز احمد کہتے ہیں کہ کندیاں میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا کام جلد شروع ہو جائے گا۔ فی الوقت اس سلسلے میں مالی وسائل کی کمی درپیش ہے۔ وہ منتخب عوامی نمائندوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔

تاریخ اشاعت 1 اگست 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عریج فاطمہ کا تعلق کندیاں، ضلع میانوالی سے ہے۔ عریج نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ تعلیم، خواتین اور دیہی ترقی ان کے دلچسپی کے شعبے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.