ضلع قصور:صوبائی نشست کا اضافہ،کیا ن لیگ کو واقعی حلقوں میں ردوبدل کا فائدہ ہو گا ؟

postImg

افضل انصاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ضلع قصور:صوبائی نشست کا اضافہ،کیا ن لیگ کو واقعی حلقوں میں ردوبدل کا فائدہ ہو گا ؟

افضل انصاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

نئی حلقہ بندیوں کے ساتھ ہی ضلع قصور کو جہاں دس سال قبل ختم ہونے والی ایک صوبائی نشست واپس مل گئی ہے۔ وہیں سیاسی حلقوں میں نئی حد بندی پر بحث اور تنقید جاری ہے۔

ابتداء میں مقامی سیاسی رہنماؤں کے تیور دیکھ کر لگ رہا تھا کہ حلقوں میں معمولی ردوبدل پر بھی الیکشن کمیشن میں اعتراضات کی بھر مار ہو جائے گی۔ تاہم ابھی تک ضلع میں کسی پارٹی کا کوئی اعتراض ریکارڈ پر نہیں آیا ہے۔

 2013ء کے عام انتخابات میں ضلع قصور سے قومی اسمبلی کے چار اور صوبائی اسمبلی کی دس ارکان منتخب ہوئے تھی۔ لیکن پچھلے انتخابات میں ایک نشست کم کر دی گئی تھی۔ اب نئی حلقہ بندی میں یہاں صوبائی اسمبلی کی نشستیں دوبارہ 10 ہو گئی ہیں جبکہ قومی اسمبلی کی چار نشستیں برقرار ہیں۔

2018ء میں قومی اسمبلی کے حلقے یہاں این اے137 سے این اے 140 تک تھے۔ اب یہ نمبر این اے 131 سے شروع ہو کر این اے 134 پر ختم ہوتے ہیں۔ ان قومی حلقوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

پچھلے الیکشن میں قصور کے صوبائی حلقے پی پی 174 سے پی پی 182 تک تھے۔ اب یہاں حلقوں کے نمبر پی پی 175 سے پی پی 184 تک ہو گئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ یہ تمام حلقے 2013ء والے ہی ہیں۔

حالیہ حلقہ بندیوں میں دسویں صوبائی حلقے کی تشکیل کے لیے ضلع کے کسی ایک حلقے کو نہیں توڑا گیا۔ بلکہ متعدد حلقوں میں معمولی ردوبدل کی گئی ہے۔

نئے حلقے میں زیادہ تر آبادیاں پی پی 180، پی پی 177 اور پی پی 178 سے نکال کر شامل کی گئی ہیں۔

عام خیال یہی ہے کہ قصور کی نئی حلقہ بندی کا مجموعی فائدہ ن لیگ کو ہوا ہے۔ تاہم سب سے زیادہ فائدہ ن لیگ کے سابق ایم پی اے ندیم یعقوب سیھٹی کو ہوا ہے۔

ندیم یعقوب کا حلقہ پی پی 175 گزشتہ عام انتخابات میں تحصیل کوٹ رادھا کشن کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور ان کا آبائی علاقہ مصطفیٰ آباد قصور شہر کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔ یوں ان کا ووٹ بینک تقسیم ہو گیا تھا۔

تاہم وہ ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد کھڑے ہو گئے تھے اور پھر منظر سے غائب رہے۔ اب وہ دوبار اپنی جگہ بناتے نظر آ رہے ہیں۔

حلقہ پی پی 178 میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی اور یہاں روایتی سیاست دانوں کے اپنے اپنے دھڑے دھڑے موجود ہیں۔

سابق وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر خاص ملک محمد احمد خان اپنے حلقوں کی حد بندی سے اب بھی مطمئن نہیں ہیں۔ وہ پی پی 179 سے متوقع امیدوار ہیں اور اس حلقے سے بھیلہ ہتھاڑ، گاڑھے والا اور پکھوکی یونین کونسل کو نکلوا کر اس میں عثمان والا کو شامل کرانا چاہتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

پی پی 180 نسبتاً بڑا حلقہ تھا۔ نئی حلقہ بندی میں اس حلقے کی آبادی کم کرنا پڑی۔

اس لئے تین یونین کونسل بشمول پیال کلاں، تلونڈی اور عثمان والا کی پڑی آبادیوں کو یہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ جبکہ الٰہ آباد اور گیلن ہتھار کی آبادی اس حلقے میں شامل کی گئی ہیں۔

پی پی 180 کے کچھ علاقے ادھر ادھر ہونے کا فائدہ ن لیگ کے ملک خاندان کو ہوا ہے۔ اسی خاندان کے ایک نوجوان ملک مظہر رشید اب حلقے میں متحرک نظر آتے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ کا حتمی فیصلہ ہونے تک وہ ن لیگ کے امیدوار سابقہ ایم پی اے احسن رضا کے مقابلے میں اپنی انتخابی مہم چلائیں گے۔

حسن اختر موکل کے بیٹے وقاص حسن موکل بھی پی پی 180 سے ق لیگ کے متوقع امیدوار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آبادی کے تناسب سے حلقہ بندیوں میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یونین کونسلوں یا ایک دو گاؤں کے ردوبدل سے کسی سیاسی کارکن کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چوہدری منظور نئی حلقہ بندی سے نالاں ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ حلقہ بندی میں کوئی اصول مد نظر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی کوئی کوئی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اگر کوئی منصوبہ بندی تھی تو وہ صرف ن لیگ کو فائدہ پہنچانے کے لیے تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ نئی حد بندی نے انتخابی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے حلقہ این اے 132 میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقے( پی پی 176 تا179) پڑتے ہیں۔ یہ سراسر زیادتی ہےاور انتخابی مہم چلانا نا ممکن ہے۔

جماعت اسلامی کے متوقع امیدوار حاجی محمد رمضان بھی چوہدری منظور سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ حالیہ حلقہ بندیاں کسی قواعد و ضوابط کے بغیر کی گئیں ہیں اور اس کا مقصد صرف اور صرف ن لیگ کو فائدہ دینا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پی پی 180 اور 183 میں رانا اور راجپوت برادری کے علاقے ڈھونڈ ڈھونڈ کر شامل کیے گئے تاکہ ایک سیاسی خاندان کو فائدہ ہو۔ یہ خاندان ضلع کی دو قومی اور تین صوبائی نشستوں پر انتخابات لڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

لودھراں میں ایک صوبائی نشست کم ہوگئی، جہانگیر ترین کو نئی حلقہ بندیوں پر کیا اعتراضات ہیں؟

پی ٹی آئی قصور کے رہنما قیصر ایوب کا خیال ہے کہ حلقہ بندیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں کیونکہ ووٹ شخصیت کی بجائے پارٹی کو ملے گا۔ البتہ ضلعے میں صوبائی حلقے کے اضافے سے ان کی پارٹی کے دو متوقع امیدوارں کا تنازع ختم ہو گیا ہے۔ بیرسٹر شاہد محمود اور محمد حسین ڈوگر میں سے اب کوئی بھی آزاد لیکشن نہیں لڑے گا۔

نئے حلقے کے لیے صوبائی حلقوں میں توڑ پھوڑ سے صوبائی امیدواواروں کو تو شاہد کم فرق پڑے۔ تاہم قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں بعض جگہ تین اور چار صوبائی حلقے بھی آ گئے ہیں۔ یوں امیدواروں کے لیے مشترکہ انتخابی مہم خاصی مشکل ہو جائے گی۔

قصور میں الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی نئی حلقہ بندیاں پر کئی اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں ۔ یہ اعتراضات الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 20  رول 10 میں وضع کیے گئے اصولوں اور قواعد و ضوابط کے تحت ہیں۔ اگرچہ اپیل کنندگان کوئی نمایاں سیاسی شخصیات نہیں اور نہ ہی یہ اعتراضات کسی سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اٹھائے گئے ہیں  تاہم بیشتر اپیلیں ان حلقوں سے آئی ہیں جہاں ن لیگ کے بڑے برج براجمان ہیں۔

جیسا کہ پی پی 183, 184 میں سابق سپیکر صوبائی اسمبلی رانا محمد اقبال اور پی پی 178, 179 اور 176، جہاں ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ملک احمد خان کا اثر رسوخ ہے۔ یہ قصور کا بڑا سیاسی خاندان ہے۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے وہ حلقے زیادہ اعتراضات کی زد  میں ہیں جہاں ن لیگ کے بڑے نام اپنا قبضہ جمانے ہوئے ہیں۔ ان میں این اے 132 اور این اے 134 قابلِ ذکر ہیں۔

درخواست گزاروں کی طرف سے سب سے زیادہ اعتراض نئے حلقوں میں ووٹروں کی تعداد سے متعلق ہے جو الیکشن کمیشن کے اپنے طے کردہ فارمولا کے مطابق نہیں ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض قانون گو حلقہ اور پٹواری سرکل کی ہیر پھیر ہے جسے الیکشن کمیشن نے یا تو درست کرنا ہے یا اس کا قانونی جواز پیش کرنا ہے۔

 

تاریخ اشاعت 8 نومبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد افضل انصاری کا تعلق پنجاب کے تاریخی ضلع قصور سے ہے۔ وہ گزشتہ 18 برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.