ٹنڈو غلام علی کے مورتی سازوں کا روزگار خطرے میں: 'میں اپنی آمدن کا واحد ذریعہ کیسے چھوڑ دوں؟'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ٹنڈو غلام علی کے مورتی سازوں کا روزگار خطرے میں: 'میں اپنی آمدن کا واحد ذریعہ کیسے چھوڑ دوں؟'

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ٹنڈو غلام علی کے مورتی سازوں کا روزگار خطرے میں: 'میں اپنی آمدن کا واحد ذریعہ کیسے چھوڑ دوں؟'

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

جنوبی سندھ کے قصبے ٹنڈو غلام علی میں ایک کالعدم مذہبی تنظیم، سپاہِ صحابہ پاکستان، کے کارکنوں نے ایک مقامی مندر میں مورتیاں بنانے والے کرشن نامی ہندو کو 15 سال پہلے ڈرایا دھمکایا کہ وہ اپنا کام چھوڑ دے۔ اس نے ڈر کے مارے نہ صرف اپنا پیشہ ترک کردیا بلکہ اپنا گھر بار چھوڑ کر قریبی ضلعے  تھرپارکر میں منتقل ہو گیا۔ 

مورتیاں بنانے والے کئی مقامی ہندوؤں کو ابھی بھی ایسی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں حتیٰ کہ ان سب کے استاد، رگھو، کو بھی کئی بار یہ کام چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں متعدد دفعہ خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہو گا۔

لیکن رگھو کہتے ہیں کہ ان کی عمر 54 سال ہو چکی ہے جس کے باعث ان کے لیے کوئی نیا کام سیکھنا ممکن نہیں۔ اس لیے، ان کے بقول، "اگر میں مورتیاں نہ بناؤں تو میں اپنے خاندان کو کیسے پالوں گا؟" ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے کام سے کسی دوسرے مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اس لیے "میں اپنی آمدن کا واحد ذریعہ کیوں چھوڑ دوں؟"۔ 

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے تقریباً 80 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ٹنڈو غلام علی کے ایک سرکاری اہل کار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مورتیاں بنانے والے مقامی ہندوؤں نے ان دھمکیوں کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کو بارہا درخواستیں دی ہیں۔ اس معاملے کی مذہبی حساسیت کے پیشِ نظر اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں کے جواب میں "انتظامیہ مورتی سازوں کو یہ کہہ دیتی ہے کہ آئندہ انہیں کوئی تنگ نہیں کرے گا لیکن اس کے باوجود ہر مہینے دو مہینے کے بعد پھر ایسی ہی شکایت سامنے آجاتی ہے"۔ 

تاہم وہ کہتے ہیں ان شکایات پر کوئی انتظامی کارروائی نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے "مذہبی فسادات بھڑک اٹھنے اور علاقے کا امن تباہ ہونے کا اندیشہ ہے"۔ 

سندھ کی حکمران جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی، کے مقامی عہدے دار سید اعجاز شاہ اس صورتِ حال کی ذمہ داری پچھلے 40 سالوں میں لاگو کی جانے والی ریاستی پالیسیوں پر ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے، ان کے بقول، معاشرے میں عدم رواداری اور مذہبی انتہا پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "جس تنظیم نے غریب ہندو ہنرمندو ں کو دھمکایا ہے اس پر وفاقی حکومت نے پابندی لگائی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود پچھلے 10 سے 15 سالوں میں ہمارے علاقے میں اس کا اثرونفوذ بہت بڑھ گیا ہے"۔ 

تاہم وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے قصبے کی بیشتر آبادی ابھی بھی مذہبی رواداری پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق "مقامی ہندو مورتی ساز محرم کے مہینے میں اپنے محلے سے گذرنے والے مسلم جلوسوں کے شرکا میں نیاز کے چاول تقسیم کرتے ہیں اور ان کے لیے پانی کی سبیلیں لگاتے ہیں۔ مسلمانوں کے بہت سے مذہبی مقامات پر رنگ و روغن کرنے کا کام بھی یہی مورتی ساز کرتے ہیں"۔

ٹنڈو غلام علی کے زیادہ تر مسلمانوں کا رویہ بھی مقامی ہندوؤں کے ساتھ دوستانہ رہا ہے یہاں تک کہ قصبے کی ایک مشہور ہندو عبادت گاہ،  راما پیر جو مندر، کی زمین بھی میر بندہ علی تالپور نامی ایک مقامی مسلمان زمیندار نے بطور عطیہ دی تھی۔ 

مورتی سازی میں آنے والی تبدیلیاں

ادھیڑ عمر وگھارام راما پیر جو مندر کے احاطے میں واقع ایک برآمدے میں مورتیاں بنانے کا کام کرتے ہیں۔ اپنے 18 سالہ شاگرد مکیش کے ساتھ 'شیراں والی ماتا' کی مورتی پر کام کرتے ہوئے وہ ایک گہری سانس لیتے ہیں اور ایک سستی سگریٹ سلگا کر کہتے ہیں: "صاحب، وہ دن گئے جب ملک کے کونے کونے سے ہمیں کام کے آرڈر ملتے تھے اور ہمارا بچہ بچہ برسر روزگار تھا۔ اب تو یہ عالم ہے کہ ہم دو وقت کی روٹی کے لیے گاہکوں کی راہ تکتے ہیں"۔

راما پیر جو مندر وگھارام کے والد بیکھارام نے 1971 میں تعمیر کیا تھا لیکن کئی سال اس میں کوئی مورتی موجود نہیں تھی کیونکہ کسی مقامی ہندو کو مورتیاں بنانا آتا ہی نہیں تھا۔ لیکن پھر بیکھارام نے اپنے ایک رشتےدار، رگھو، کو ٹنڈو غلام علی سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال میں واقع شہر میرپورخاص بھیجا تاکہ وہ وہاں مورتی سازی سیکھ سکے۔ اس نے واپس آ کر راما پیر جو مندر میں رکھی جانے والی پہلی مورتی بنائی۔

وگھارام کے مطابق اس کے بعد مقامی ہندو نوجوانوں میں مورتی سازی کا ایسا رجحان پیدا ہوا کہ 1980 کی دہائی میں ہر صبح راما پیر جو مندر میں رگھو کے شاگردوں کا ایک میلہ لگا ہوتا۔ انہوں نے خود بھی رگھو سے ہی یہ کام سیکھا ہے اور کہتے ہیں کہ "میں اور میرا چھوٹا بھائی سکول سے چھٹی کے بعد سیدھا مندر پہنچ جاتے اور پھر سورج ڈھلنے تک مورتیاں بنانا ہی سیکھتے رہتے"۔ 

نتیجتاً 1990 کی دہائی میں ٹنڈو غلام علی اور اس کے آس پاس کے دیہات میں درجنوں مورتی ساز کام کر رہے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے پاس اتنا کام تھا کہ وہ اس سے اچھا روزگار کما رہے تھے۔

ان میں سے ایک چیلارام تھے۔ وہ رگھو کے شاگرد ہیں اور کہتے ہیں ایک زمانے میں ان کے پاس اس قدر کام ہوتا تھا کہ اسے مکمل کرنے کے لیے انہیں اپنے ساتھ دوسرے کاری گر بھی رکھنا پڑتے تھے۔ وہ دو کمروں پر مشتمل اپنے مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "یہ چھوٹا سا گھر میں نے اسی کام کی آمدنی سے بنایا ہے"۔  

لیکن وگھا رام کہتے ہیں کہ پچھلے 15 سالوں میں مورتی سازی کے متعدد جدید کارخانے لگ گئے ہیں جن کی وجہ سے روائتی کاری گروں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔ چنانچہ ان میں سے کئی مورتی سازی چھوڑ چکے ہیں۔

مثال کے طور پر 37 سالہ چیلا رام اب موچی کا کام کرتے ہیں۔ ان کے بقول "اس کام کو کسی کی نظرِ بد لگ گئی جس کی وجہ سے سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ختم ہوگیا ہے"۔

ناتھو مل نامی ایک اور مورتی ساز کی نظر میں اس تبدیلی کی وجہ کچھ اور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مورتیاں بنانے کے عمل میں استعمال ہونے والے سامان کی قیمتیں اب آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جسے خریدنا "اب غریب ہنرمندوں کے بس کی بات نہیں"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

انتظامی غفلت یا مذہبی تعصب: نادرا ریکارڈ میں مسیحیوں کے مذہب کی تبدیلی کی کیا وجوہات ہیں؟

ساون ٹھاکر نے بھی اسی وجہ سے 10 سال قبل مورتی ساز چھوڑ دی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مورتی بنانے پر 10 ہزار روپے خرچ آتے ہیں لیکن گاہک اس کے لیے سات آٹھ ہزار روپے سے زیادہ دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق "اگر مورتی بنانے والوں کو اس پر آنے والی لاگت سے کم آمدنی ہو گی تو کون اس کام کے ساتھ منسلک رہ سکے گا"۔

ساون ٹھاکر اب رکشا چلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "مجھے اپنے بچوں کو پالنا تھا اس لیے میں نے اس کام کو خیرباد کہہ دیا"۔

میلوں ٹھیلوں پر پابندی

پیر جو مندر کے نگران ہیمن داس کہتے ہیں کہ کورونا وبا کے پھیلنے سے پہلے ٹنڈو غلام علی میں ہر سال سردیوں کے موسم میں ایک تین روزہ میلا لگتا تھا جس میں نہ صرف پاکستان کے کونے کونے سے بلکہ انڈیا سے بھی لوگ شریک ہوتے تھے۔ ان کے مطابق "مقامی کاری گر اس میں اپنی تیار کردہ مورتیاں بیچنے کے لیے پیش کرتے تھے اور اس دوران اچھے پیسے کما لیتے تھے"۔ 

لیکن وہ کہتے ہیں کہ مسلسل دو سال سے حکومت نے اس میلے پر پابندی لگا رکھی ہے جس کی وجہ سے ہندو مورتی سازوں کی آمدن کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ 

حکمران جماعت کے رکن سید اعجاز شاہ اعتراف کرتے ہیں کہ "اس پابندی کی وجہ سے کافی لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے" اور یقین دلاتے ہیں کہ اگر کورونا کا پھیلاؤ قابو میں رہا تو اس سال یہ میلا ضرور لگے گا"۔  

تاہم وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کا فیصلہ "عوام کی بھلائی کے لیے ہی کیا ہے تاکہ انہیں اس وبا سے بچایا جا سکے"۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں صرف ٹنڈو غلام علی کا ہندو میلا ہی بند نہیں کیا گیا بلکہ کئی مسلم درگاہوں پر منعقد ہونے والے سالانہ اجتماعات بھی روک دیے گئے ہیں۔

تاریخ اشاعت 10 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔