ڈپٹی کمشنر حب کو غصہ کیوں آتا ہے؟ بھوتانی اور جام خاندان کی سونمیانی پر سیاسی رسہ کشی کی کہانی
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ڈپٹی کمشنر حب کو غصہ کیوں آتا ہے؟ بھوتانی اور جام خاندان کی سونمیانی پر سیاسی رسہ کشی کی کہانی

ظہیر ظرف

postImg

ڈپٹی کمشنر حب کو غصہ کیوں آتا ہے؟ بھوتانی اور جام خاندان کی سونمیانی پر سیاسی رسہ کشی کی کہانی

ظہیر ظرف

12 جنوری 2023ء کی صبح بلوچستان کے نئے تشکیل دیے گئے ضلع حب کے پہلے ڈپٹی کمشنر زاہد شاہ کے دفتر کے سامنے کافی رش تھا۔ یہاں بلوچستان عوامی پارٹی کے جام گروپ اور نیشنل پارٹی کے ارکان کا ایک وفد جمع تھا اور ڈی سی صاحب سے ملاقات پر بضد تھا لیکن صاحب مصروف تھے اور وفد کو وقت دینے پر راضی نہ تھے۔

بات جلد ہی نعرے بازی تک پہنچ گئی۔ ڈی سی صاحب کے صبر کا پیمانہ بھی جلد ہی لبریز ہو گیا اور انہوں دفتر سے نکل کر وفد کی قیادت کرنے والے جام گروپ کے رہنما ارشاد پارس کو تھپڑ جڑ دیا۔

اس سے معاملہ حل تو نہیں ہونا تھا۔ سیاسی کارکنان کے وفد نے آر سی ڈی شاہراہ کو حب سے لے کر بیلہ تک مختلف جگہوں پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

جام کمال گروپ پرانے ضلع لسبیلہ کی دو نئے اضلاع میں تقسیم سے ناخوش ہے اور ڈی سی صاحب کے رویے نے ان کو مشتعل کر دیا۔

بالآخر چھ گھنٹے کے احتجاج کے بعد جام کمال کے داماد زرین خان مگسی اور ڈپٹی کمشنر حب کے درمیان معاملات طے پا گئے اور ڈی سی حب نے ارشاد پارس سے معذرت کر لی۔

معاملے کے رفع ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ نئے ضلع حب کے قیام سے متعلق جام گروپ کی شکایات کا ازالہ بھی ہو گیا۔ واقعہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے زرین مگسی نے کہا کہ لسبیلہ کی تقسیم کا رزلٹ سب کے سامنے آ گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جام کمال لسبیلہ کی تقسیم کے خلاف تھے کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کا استحصال ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے کارکنوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ایسے معاملات کا مردانہ وار مقابلہ کریں گے۔

سیاسی بحران میں نئے ضلع حب کی پیدائش

جام کمال 2018ء کے عام انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کے طور پر ضلع لسبیلہ کے حلقے پی بی 50 لسبیلہ 2 سے منتخب ہوئے تھے اور اگست 2018ء میں صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔2021ء کے اواخر میں جب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کیا تو پہلا وار بلوچستان کی صوبائی حکومت پر کیا۔ جام کمال نے پہلے تو کافی مزاحمت کی لیکن بالآخر اکتوبر میں لائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور ووٹنگ سے پہلے ہی 24 اکتوبر 2021ء کو وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہو گئے۔ ان کی جگہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ہی عبدالقدوس بزنجو صوبے کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔

عبدالقدوس بزنجو 2018ء میں ضلع لسبیلہ سے متصل ضلع آواران کے حلقہ پی بی 44 آوارن کم پنجگور سے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے وزراتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد جو چند اہم فیصلے کیے، ان میں ضلع لسبیلہ کی انتظامی تقسیم بھی شامل تھی۔ لسبیلہ کو دو اضلاع لسبیلہ اور حب میں تقسیم کرنے کا نوٹیفیکیشن ستمبر 2022ء میں جاری کیا گیا۔

جام کمال اپنی وزراتِ اعلیٰ سے محرومی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کے علاوہ صوبائی وزیر بلدیات صالح بھوتانی کو سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ لسبیلہ کی تقسیم صالح بھوتانی کی ایما پر حب اور ملحقہ علاقوں میں ان کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے کی گئی جس کا نقصان لسبیلہ کے مقامی قبائل کو ہو گا۔
لسبیلہ کی تقسیم کو بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

بھوتانی اور جام میں منقسم لسبیلہ کا سیاسی اکھاڑہ

ضلع لسبیلہ 1977ء سے دو صوبائی حلقوں میں منقسم ہے۔ مشرقی حلقے میں بیلہ، اٹھال، کنراج اور لاکھڑا کی تحصیلیں شامل ہیں اور اس کی انتخابی سیاست پر جام خاندان کی اجارہ داری ہے۔ یہاں 1977ء اور 85ء میں جام غلام قادر اور اس کے بعد 2008ء تک ہونے والے چھے عام انتخابات میں مسلسل ان کے فرزند جام محمد یوسف کامیاب ہوتے رہے۔

لسبیلہ کا مغربی حلقہ صوبہ سندھ اور خاص کر اس کے کراچی ڈویژن سے متصل ہے۔ اس حلقے میں دریجی، گڈانی، حب اور سونمیانی کی تحصیلیں شامل رہی ہیں اور یہاں انتخابی تاریخ کے آغاز سے ہی بھوتانی خاندان کا راج ہے۔ 1977ء سے 97ء تک ہونے والے چھ عام انتخابات میں حلقے سے صالح بھوتانی کامیاب ہوتے رہے۔ اگلے دو انتخابات میں گریجوایشن کی شرط کے باعث وہ حصہ نہ لے سکے تو ان کے بھائی اسلم بھوتانی نے ان کی جگہ لے لی اور 2002ء اور 08ء میں بھی حب کی سیٹ بھوتانی خاندان کے پاس ہی رہی۔

2013ء کے انتخابات میں جام خاندان کی تیسری نسل کے نمائندہ جام کمال میدان میں اترے، انہوں نے آوارن اور لسبیلہ کے اضلاع کی مشترکہ قومی سیٹ این اے 270 سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے۔ لسبیلہ کی اپنی آبائی صوبائی سیٹ پر انہوں نے اپنے کزن کو کھڑا کیا اور وہ بھی کامیاب رہے۔

جام کمال نے ساتھ ہی لسبیلہ کی حب والی دوسری صوبائی سیٹ پر بھی انتخاب لڑا لیکن وہ یہاں صالح بھوتانی کو ہرانے میں ناکام رہے جو گریجوایشن کی شرط ختم ہو جانے پر دوبارہ میدان میں آ  گئے تھے۔ یوں جام خاندان کا علاقے کی قومی اور دونوں صوبائی سیٹوں پر قبضے کا خواب بھوتانی خاندان نے پورا نہیں ہونے دیا۔

سونمیانی کا 'پانی پت'

2018ء کے انتخابات سے پہلے نئی حلقہ بندیاں کی گئیں تو لسبیلہ کی قومی سیٹ میں ضلع آواران کی بجائے گوادر کو جوڑ دیا گیا۔ ان انتخابات میں اسلم بھوتانی نے جام کمال کو سخت مقابلے کے بعد شکست دے دی لیکن لسبیلہ کی دو صوبائی سیٹوں پر پہلے کی طرح مشرقی حلقے میں جام کمال کامیاب ہوئے اور سندھ سے متصل مغربی حلقے میں صالح بھوتانی۔ گویا 2018ء میں بھوتانی اس پوزیشن میں آ گئے جس میں 2013ء میں جام تھے۔

2018ء کی حلقہ بندیوں میں لسبیلہ کے دو صوبائی حلقوں میں بھی ایک اہم تبدیلی لائی گئی اور وہ یہ کہ تحصیل سونمیانی کا بڑا حصہ اس حلقے سے نکال دیا گیا جہاں سے بھوتانی جیتتے ہیں اور اس کو دوسرے حلقے میں جوڑ دیا گیا جہاں جام خاندان کی حیثیت مسلم ہے۔ یوں بھوتانی اور جام خاندان اپنے اپنے حلقوں میں اپنی سیاسی اجارہ داری قائم رکھنے میں تو کامیاب رہے لیکن حلقہ بندیوں کے ذریعے سونمیانی کی تحصیل بھوتانی خاندان کے ہاتھ سے نکل کر جام خاندان کے ہاتھ آ گئی۔

ضلع لسبیلہ کا کراچی سے متصل مغربی حصہ ایک صنعتی علاقہ ہے۔ خاص طور پر اس کی تحصیلوں حب، گڈانی اور سونمیانی میں سینکڑوں کارخانے، شپ بریکنگ انڈسٹری، حب کو پاور پلانٹ، بائیکو جیسے بڑے صنعتی ادارے موجود ہیں۔یہاں معاشی سرگرمی اور وسائل ضلع لسبیلہ کے مشرقی حصوں کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔

ستمبر 2022ء میں جب لسبیلہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیا گیا تو نئے ضلع حب میں تحصیل حب کے علاوہ دریجی، گڈانی اور سونمیانی کی تحصیلوں کو بھی شامل کیا گیا۔ ضلع کی تشکیل انتخابی حلقہ بندی پر براہِ راست اثر انداز ہو گی۔

یہ بات ابھی واضح نہیں کہ آئندہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر ہی ہوں گے یا ان سے پہلے نئی حلقہ بندیاں ہو جائیں گی۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ نئی حلقہ بندیاں جب بھی کی جائیں گی تو نئے ضلع حب کو ایک مکمل صوبائی سیٹ ملے گی کیونکہ حلقہ بندی کے اصولوں کے مطابق اس ضلع کی آبادی ایک صوبائی سیٹ سے کچھ زیادہ ہی ہے اور الیکشن کمیشن کی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ ایک حلقے کی حدود مکمل طور پر ایک ضلع کی حدود میں ہی رہے۔

ضلع حب پر بھوتانی خاندان کا انتخابی تسلط گذشتہ پچاس سال میں ناقابلِ تسخیر رہا ہے، امکان یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی بھوتانی اسے قائم رکھیں گے اور 2018ء کی حلقہ بندیوں کے باعث 'دولت مند' تحصیل سونمیانی کا جو حصہ ان کے اثر سے نکل کر جام خاندان کے حلقے میں چلا گیا تھا، نئے ضلع حب کی تشکیل اور اس کے بعد ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کی بدولت وہ بھی واپس ان کے حلقے میں آ جائے گا۔

<p>مظاہرین نے آر سی ڈی شاہراہ کو حب سے لے کر بیلہ تک مختلف جگہوں پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔<br></p>

مظاہرین نے آر سی ڈی شاہراہ کو حب سے لے کر بیلہ تک مختلف جگہوں پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

نئے اضلاع کی تشکیل کے ذریعے انتخابی حلقہ بندیوں پر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور اثر انداز ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

تاہم بھوتانی برادرز کے بقول لسبیلہ کی تقسیم محض ایک انتظامی فیصلہ ہے اور اس سے لسبیلہ کے مقامی قبائل کے حقوق غصب نہیں ہوں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں کم و بیش پندرہ ایسے اضلاع ہیں جن کی آبادی حب شہر سے بھی کم ہے۔ ان کے مطابق رقبہ اور آبادی کی تقسیم انتظامی حوالے سے آسانیاں پیدا کرے گی اور عوامی مساٸل کے حل میں معاون ثابت ہو گی۔

'ان کا مقصد شرپسندی کے سوا کچھ نہ تھا'

ضلع حب کی تشکیل ایک ماہ بعد اکتوبر 2022ء میں یہاں پہلے ڈپٹی کمشنر کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ ضلع تشکیل پانے اور ضلعی انتظامیہ کے فعال ہونے میں عموماً کافی وقت لگتا ہے۔

جام کمال گروپ گاہے بگاہے ڈی سی حب کی تعیناتی پر تنقید کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلع کے عوام اکثر ان کے دفتر کے چکر کاٹنے اور ان کی دفتر میں عدم موجودگی کا رونا روتے ہیں۔ ایڈوکیٹ واحد رحیم ایک سیاسی اور سماجی شخصیت ہیں، انہوں نے لوک سُجاگ کو بتایا کہ ڈی سی حب کی تین مہینے سے تعیناتی کے باوجود ان کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا۔ حب میں امن و امان کے مسائل ہوں یا ناجائز تجاوزات یا ذخیرہ اندوزی کی شکایات؛ کسی حوالے سے بھی ان کا کردار نظر نہیں آتا۔ "عوام کے ایک خادم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی شہری پر ہاتھ اٹھائے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

بلوچستان کے کان کن زندگی یا روز گار میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟

12 جنوری کے واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ اس روز ڈپٹی کمشنر، محکمہ تعلیم کے افسران کے ساتھ ایک آفیشل میٹنگ میں مصروف تھے جب احتجاج کرنے والے لوگ ان کے دفتر میں داخل ہوئے اور ہنگامہ آرائی کی۔

ڈپٹی کمشنر زاہد شاہ نے کہا: "میں نے انہیں انتظار کرنے کو کہا مگر وہ دفتر کے باہر مسلسل نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کرتے رہے، جس سے دفتری معاملات متاثر ہو رہے تھے۔ ان کا مقصد شرپسندی کے سوا کچھ نہ تھا۔"

بعدازاں ڈپٹی کمشنر نے اپنے رویے پر معذرت کی اور کہا کہ ان کا ہاتھ اٹھانا درست نہ تھا، ان کی نیت ایسی نہ تھی مگر احتجاج کرنے والے ان کی بات سننے کو تیار نہ تھے۔ وہ نہ کوئی بات کر رہے تھے، نہ سن رہے تھے بس مسلسل نعرے بازی اور گالم گلوچ کر رہے تھے۔

تاریخ اشاعت 17 جنوری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ظہیر ظرف کا بنیادی تعلق حب سے ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی سے میڈیا اسٹڈیز جب کہ بلوچستان یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرز کر چکے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ