شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں برادری سے باہر پسند کی شادی: 'ہم نے کئی بار سوچا کہ خودکشی کر لیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں برادری سے باہر پسند کی شادی: 'ہم نے کئی بار سوچا کہ خودکشی کر لیں'۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں برادری سے باہر پسند کی شادی: 'ہم نے کئی بار سوچا کہ خودکشی کر لیں'۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

مِصری بھیل کے گاؤں والوں نے پچھلے دو سالوں سے ان سے اور ان کے گھر والوں سے مکمل قطع تعلق کر رکھا ہے۔ ان کے قریبی رشتہ دار بھی ان سے بات چیت اور لین دین نہیں کرتے۔ کچھ مقامی خاندانوں نے تو یہ کہہ کر گاؤں ہی چھوڑ دیا ہے کہ "جہاں مِصری جیسا منحوس شخص رہتا ہو وہاں ہم نہیں رہ سکتے"۔

ایک مسلمان زمین دار کے ہاں ٹریکٹر ڈرائیور کے طور پر کام کرنے والے مِصری سندھ کے ضلع تھر پارکر کی تحصیل کلوئی کے مِٹھی گیچوں نامی گاؤں میں رہتے ہیں جس کی 70 گھرانوں پر مشتمل تمام آبادی کا تعلق ہندو شیڈولڈ کاسٹ بھیل قبیلے سے ہے۔ جولائی 2019 میں وہ قریبی ضلعے عمر کوٹ کی تحصیل کنری کے گاؤں نواب یوسف تالپر میں اپنے رشتہ داروں سے مِلنے گئے جہاں انہیں پڑوس میں رہنے والی کولہی برادری کی سویتا نامی لڑکی سے محبت ہوگئی۔

جلدی ہی 32 سالہ مِصری اور 25 سالہ سویتا نے شادی کرنے کا فیصلہ کر کے  اپنے گھر والوں کو  اس سے آگاہ کر دیا۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کی شادی پر کوئی رضامند نہیں ہو گا لیکن سویتا کے بقول "ہم نے سوچا کہ اگر ہم کچھ غلط نہیں کر رہے تو اس رشتے کو کیوں چھپائیں؟"

ان کے والد اور بھائیوں نے حسبِ توقع اس فیصلے کو رد کر دیا اور سویتا کو مار پیٹ کر ایک کمرے میں بند کر دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ "وہ میرے لیے ایک دولہا ڈھونڈنے لگے تا کہ جلدی سے میری شادی اپنی کولہی برادری میں ہی کر سکیں"۔
تاہم ستمبر 2019 کی ایک رات مِصری اور سویتا اپنے گھروں سے غائب ہو گئے۔ ان کی برادریوں کے لوگ انہیں کئی دن ڈھونڈتے رہے مگر وہ ان کے ہاتھ نہ آئے۔

اسی ماہ کے آخر میں وہ میرپور خاص کی ایک عدالت میں پیش ہوئے جہاں مکیش کمار بھیل نامی وکیل نے انکی شادی کرا دی۔ سویتا کے مطابق "عدالت میں مجھ سے پوچھا گیا کہ کہیں مِصری نے مجھے بہکایا تو نہیں یا وہ کہیں مجھے زور زبردستی سے شادی کے لیے مجبور تو نہیں کر رہا"۔ جب انہوں نے ان سوالوں کے جواب نفی میں دیے تبھی ان کی شادی کا عمل آگے بڑھایا گیا۔

ان کے وکیل مکیش کمار کہتے ہیں کہ "میں نے یہ شادی اس لیے نہیں کرائی کہ مِصری میری برادری سے تعلق رکھتا ہے بلکہ اس لئے کرائی کہ اپنی مرضی کی شادی کرنا ان دونوں کا قانونی حق تھا۔ چونکہ قانون کے مطابق ان کی عمریں اٹھارہ سال سے زائد تھیں اور وہ ایک دوسرے سے شادی کے لیے راضی تھے اس لئے اس عمل میں ان کی مدد نہ کرنے کا کوئی قانونی جواز نہ تھا"۔  

موت جیسی زندگی

دوسری طرف مِصری اور سویتا کی تلاش کرنے ولے لوگوں کو جب ان کی عدالت میں موجودگی کی خبر ملی تو وہ فوری طور پر وہاں پہنچ گئے۔ سویتا کہتی ہیں کہ "عدالت کے دروازے پر میرے والد اور بھائیوں سمیت میرے گاؤں کے درجنوں لوگوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ان میں سے کچھ مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنے لگے تاکہ مجھے اپنے ساتھ لے جا سکیں جبکہ دوسرے مِصری کو ڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے مارنے لگے۔ آخر کار پولیس نے ہمیں ان لوگوں سے بچایا اور وہاں سے نکالا"۔
اس واقعے کے بعد ان کی شادی کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کے نتیجے میں ان کے دوستوں، رشتہ داروں اور ان کی برادریوں کے لوگوں نے ان پر واضح کر دیا کہ وہ ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ حتیٰ کہ ان کے وکیل مکیش کمار سے بھی ان کی بھیل برادری نے قطع تعلق کر لیا۔

مِصری اس صورتِ حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "میں نے اس وقت جان پہچان والے سب لوگوں سے مدد کی درخواست کی مگر سب نے انکار کر دیا"۔ ان کے بقول اس وقت "ہمارے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی چھت تھی نہ کھانے کے لیے جیب میں پیسے"۔

اکتوبر 2019 سے اکتوبر 2020 تک مِصری اور سویتا بے یار و مددگار چھپتے چھپاتے سندھ بھر میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں پھرتے رہے۔ مِصری کا کہنا ہے کہ عدالت  سے نکلنے کے بعد ہم کچھ مہینے ضلع ٹنڈوالہ یار کے گلاب لغاری نامی گاؤں میں رہے لیکن "جب ایک جاننے والے شخص نے ہمیں وہاں دیکھ لیا تو ہم وہاں سے بھاگ کر ٹنڈو غلام علی نامی قصبے میں رہنے لگے۔ اس کے بعد بھی ہم مختلف گاؤں اور قصبوں میں بھٹکتے رہے"۔

اسی دوران ضلع عمر کوٹ کے کچھ ہندو پنڈتوں نے سویتا کے گھر والوں کو کہہ دیا کہ ان کی بیٹی اور اس کے خاوند نے بہت بڑا گناہ کیا ہے جس کی انہیں کوئی معافی نہیں مِل سکتی اس لیے انہیں مار دینے میں ہی ان کے خاندان کی بھلائی ہے۔ سویتا کہتی ہیں کہ "میں نے ایک دن اپنی ایک سہیلی کو فون کیا تو اس نے مجھے بتایا کہ میرے خاندان کے لوگ ہم دونوں کو مارنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں"۔

اس وقت مِصری اور سویتا کڑیو گنور نامی قصبے کے ایک نواحی گاؤں میں رہ رہے تھے۔ فون کال کے دو دن بعد کچھ لوگوں نے اس گاؤں میں رات کے اندھیرے میں ان پر حملہ کر دیا جس میں وہ دونوں بری طرح زخمی ہوئے تاہم، سویتا کے مطابق، گاؤں کے لوگوں نے ان کی چیخیں سن کر انہیں بچا لیا۔

اگلے دن انہوں نے وہ گاؤں بھی چھوڑ دیا۔

ان مشکل حالات میں مِصری اور سویتا نے کئی بار سوچا کہ وہ کیوں نہ خود کُشی کر لیں کیونکہ، مِصری کے بقول، "اس طرح ہم اکٹھے مر تو پاتے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتا"۔

لیکن کسی نہ کسی طرح وہ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے سے باز رہے اگرچہ، ان کے مطابق، اس عرصے کے دوران ان کی زندگی کسی اذیت سے کم نہیں تھی۔ دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھتے ہوئے سویتا کہتی ہیں "پل پل موت جیسی تھی وہ زندگی"۔

ان کی شادی کو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد مصری کے بوڑھے والد راگھو اور والدہ کھنڈ بائی نے بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری اور انکے بھائی ویرجی کولہی سے اس مسئلے کے حل کے لیے رجوع کیا جنہوں نے کوشش کر کے تمام فریقوں کے درمیان صلح کرا دی۔  اس صلح کے نتیجے میں مِصری اور سویتا نومبر 2020 میں مِٹھی گیچوں منتقل ہو گئے اور باقی آبادی سے کچھ دور ایک کچا مکان بنا کر اس میں رہنے لگے۔ تاہم اب بھی مصری کے والدین کے علاوہ کوئی ان سے بات نہیں کرتا۔ اسی طرح سویتا کے خاندان نے بھی ان سے ہر قسم کا رشتہ ختم کردیا ہے۔ نہ تو ان میں سے کوئی انہیں ملنے آتا ہے اور نہ ہی انہیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے ملنے کی اجازت ہے۔

کیا پسند کی شادی گناہ ہے؟

رمیش کمار حیدر آباد کی ضلع کچہری میں ایک وکیل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ کئی غیر سرکاری اداروں کے ساتھ بطور قانونی مشیر بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "اگرچہ (2016 میں بنائے گئے) سندھ ہندو میرج ایکٹ میں دو مختلف ہندو برادریوں کے افراد کے درمیان شادی کا کہیں ذکر نہیں لیکن اس قانون میں ایسی شادیوں کو روکا بھی نہیں گیا اس لئے ایسے جوڑے عدالت میں جا کر اپنی مرضی سے شادی کر سکتے ہیں"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سندھ ہندو میرج ایکٹ: 'شیڈولڈ کاسٹ ہندو عورتوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ قانونی طریقے سے طلاق لے سکتی ہیں'۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ" پچھلے دو سال میں میرے پاس اس طرح کی شادیوں کے 30 کے لگ بھگ مقدمے آئے ہیں" جس سے "یہ بات تو عیاں ہے کہ ہندو میرج ایکٹ میں ایسی ترامیم کی شدید ضرورت ہے جن سے ان شادیوں سے متعلق تمام قانونی مسائل حل ہو سکیں"۔

چندر کولہی کا بھی یہی خیال ہے۔ ان کا تعلق ضلع تھر پارکر کے شھر مِٹھی سے ہے اور وہ پروگریسو ہیومن فاؤنڈیشن نامی تنظیم چلاتے ہیں جو نوجوانوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "سندھ میں پچھلی دو دہائیوں کے دوران شیڈولڈ کاسٹ ہندو برادریوں میں ایسی شادیوں میں بہت اضافہ ہوا ہے جن میں میاں بیوی کا تعلق دو مختلف برادریوں سے ہوتا ہے"۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں اب ایک ساتھ پڑھنے اور کام کرنے لگے ہیں جس کے نتیجے میں ان میں سے کچھ ایک دوسرے کو پسند بھی کرنے لگے ہیں۔

لیکن، ان کے بقول، ان لڑکے لڑکیوں کے خاندان والے یہ کہہ کر ان کی شادیاں روک دیتے ہیں کہ ایسا کرنا گناہ ہے حالانکہ اس رکاوٹ کے "ان نوجوانوں کی زندگیوں پر بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں"۔
شیڈولڈ کاسٹ سے تعلق رکھنے والے لکھاری ھوت چند میگھواڑ کے مطابق ان اثرات کے خطرناک نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اس قسم کے کافی واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ جب لڑکے لڑکی کی شادی نہیں ہوتی تو وہ دلبرداشتہ ہو کر خود کُشی کر لیتے ہیں"۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 26 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 17 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔