کارونجھر کے 'زندہ' پہاڑ: گرینائٹ کی کان کنی کیسے ایک تاریخی پہاڑی سلسلے کی بقا کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کارونجھر کے 'زندہ' پہاڑ: گرینائٹ کی کان کنی کیسے ایک تاریخی پہاڑی سلسلے کی بقا کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔

جئہ کمار

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

کارونجھر کے 'زندہ' پہاڑ: گرینائٹ کی کان کنی کیسے ایک تاریخی پہاڑی سلسلے کی بقا کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔

جئہ کمار

loop

انگریزی میں پڑھیں

سانولی رنگت اور سرمئی بالوں والے 55 سالہ اللہ رکھیو ستمبر 2021 میں ایک دن کارونجھر کے پہاڑوں کے دامن میں بیٹھے اپنے اردگرد پھیلی چھوٹی بڑی پہاڑی چوٹیوں اور ان سے بہہ کر آنے والے پانی کو دیکھ رہے ہیں۔ 

یہ پہاڑ سندھ کے مشرقی ضلعے تھرپارکر میں ننگر پارکر کے قصبے سے چند کلومیٹر جنوب مغرب میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان میں ہندو اور جین مذاہب کی تقریباً ایک سو آٹھ قدیم عبادت گاہیں موجود ہیں جن میں سے بہت سی دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ 

اس پہاڑی سلسلے کی لمبائی 19 کلومیٹر اور سطحِ سمندر سے اونچائی 305 میٹر ہے۔ اس میں سنگِ مرمر کی طرح کا آرائشی پتھر گرینائٹ بہت بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جسے نکالنے کے لیے کان کنی کا آغاز 1988 میں ہوا جب حکومت نے مِل راک نامی کمپنی کو اس کام کا ٹھیکہ دیا۔ اس کمپنی نے بنک سے قرضہ لے کر کان کنی شروع کی تاہم کچھ عرصہ بعد ہی اس نے اسے ترک کر دیا اور کارونجھر سے چلی گئی۔ 

بعد ازاں پاک راک نامی کمپنی نے 1990 میں کارونجھر سے گرینائٹ نکالنے کا عمل شروع کیا۔ اس میں کام کرنے والے انجینئر غلام مصطفیٰ کھوسو کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی ایک مہینے میں ایک ہزار سے دو ہزار ٹن کے درمیان پتھر نکالتی تھی جس کے لیے ڈائنامائٹ کا استعمال کر کے پہاڑوں کو توڑا جاتا تھا۔ ان کے مطابق، اس عمل کے نتیجے میں نہ صرف بڑی مقدار میں پتھر ضائع ہو جاتے تھے بلکہ ڈائنامائٹ کے دھماکوں کا کارونجھر کے قدرتی ماحول پر بھی ناقص اثر پڑتا تھا۔

ان مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے 2010 میں پاک راک کمپنی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس کی سرگرمیوں کے باعث پہاڑوں میں واقع ایک تاریخی عبادت گاہ، چوڑیو نامی دیہات میں واقع دُرگا ماتا کا قدیم مندر، منہدم ہونے کا خدشہ ہے۔ عدالت نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے کمپنی کو کام روکنے کا حکم دے دیا۔

لیکن اس سے پہلے ہی 2004 میں کوہِ نور ماربل نامی کمپنی نے بھی مختلف ٹھیکے لے کر کارونجھر سے گرینائٹ نکالنا شروع کر دیا تھا۔ بعد میں اس کمپنی نے ایک معاہدے کے ذریعے اپنے ٹھیکے پاکستان آرمی کے شعبہِ انجینئرنگ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، کے حوالے کر دیے جو اس علاقے میں اب بڑے پیمانے پر کان کنی کر رہا ہے۔ 

اسی طرح دو سال پہلے جب تھرپارکر میں متعدد چھوٹے ڈیموں کی تعمیر شروع ہوئی تو ابتدا میں اس میں بھی مقامی پتھر استعمال کیا گیا کیونکہ اس منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو یہ پتھر ڈیموں کی جائے تعمیر تک لانے کے لیے محض 1500 روپے فی ٹرک خرچ کرنا پڑتے تھے جبکہ حیدرآباد کے ساتھ واقع جام شورو ضلعے سے پتھروں کا ایک ٹرک لانے میں 60 ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔ 

لیکن مقامی لوگوں نے اس پر شدید احتجاج کیا اور سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم چلائی۔ تھرپارکر بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے بھی ڈیموں میں مقامی پتھروں کے استعمال کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد بنچ سے رجوع کیا جس  نے 14 نومبر 2019 کو یہ عمل روک دیا۔

تاہم ایف ڈبلیو او اب بھی بڑے پیمانے پر ڈائنامائٹ سے پہاڑ توڑ کر پتھر نکال رہا ہے۔ 

اللہ رکھیو اس پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگ ہوسِ زر کی خاطر کارونجھر کے خوبصورت پہاڑوں کو کاٹ رہے ہیں تاکہ "ان کے پتھر امرا کے غسل خانوں کی زینت بنائے جا سکیں"۔

پہاڑ کی تباہی، ماحول کی تباہی

اللہ رکھیو کے لیے کارونجھر ایک "زندہ" پہاڑی سلسلہ ہے "جس میں دل بھی دھڑکتا ہے اور جو مقامی لوگوں کو تمام ضروریاتِ زندگی بھی فراہم کرتا ہے"۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ پہاڑ مقامی باشندوں کو "روزانہ سوا کلو سونا دیتے ہیں" جس کا مطلب یہ ہے کہ اِن لوگوں کا ذریعہِ معاش ان پہاڑوں سے جڑا ہوا ہے کیونکہ وہ ان میں پائی جانے والی مختلف جڑی بوٹیاں، سفید پیاز اور شہد بیچ کر اپنا رزق کماتے ہیں۔ 

اللہ رکھیو کہتے ہیں کہ وہ ان پہاڑوں کے قدرتی ماحول کو برباد نہیں ہونے دیں گے کیونکہ "جب ہمارے کنویں سوکھ گئے تو کارونجھر نے ہماری پیاس بجھائی تھی۔ جب اس پہاڑ نے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا تو ہم اسے کیسے اکیلا چھوڑ دیں''۔

انہوں نے کئی سال پہلے کارونجھر بچاؤ تحریک شروع کی تھی۔ اس وقت وہ اکیلے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں اس مہم میں پورے سندھ سے مدد مل رہی ہے۔ اس عوامی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "مقامی ہندو ہوں یا مقامی مسلمان۔ کوئی بھی اس علاقے میں نہ تو درخت کاٹتا ہے اور نہ ہی ان کی لکڑیاں جلاتا ہے۔ اس لیے جب ہم درخت نہیں کاٹتے تو کارونجھر کو کٹتا ہوا کیسے دیکھ سکتے ہیں جو ہزاروں درختوں کی پناہ گاہ ہے"۔ 

وہ اس بات پر شدید افسوسں کا اظہار کرتے ہیں کہ کان کنی کے لیے ڈائنامائٹ سے کیے جانے والے دھماکوں کے باعث کارونجھر میں پائے جانے والے گِدھوں کی آبادی کم ہو رہی ہے اور بارہ سنگھے، ہرن،  پاڑے اور چیتے جیسے کئی مقامی جانور اور بہت سی اقسام کے مقامی پرندے بھی اب دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح، ان کے مطابق، کان کنی کے باعث  گگرال کے درخت سوکھتے چلے جا رہے ہیں اور "جلد ہی ماضی کی داستان بن کر رہ جائیں گے"۔ 

مقامی محقق مشکور فلھکارو بھی کارونجھر کے بارے میں اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس پہاڑی سلسلے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ہر پہاڑ کا ماحولیاتی نظام دوسرے سے مختلف ہے۔ اگر ایک پر صرف چندور کے درخت دکھائی دیتے ہیں تو دوسرے پر صرف گِدھ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک پہاڑ پر مٹی کھانے والی مکھی ملتی ہے تو دوسرے پر چمگادڑوں کا بسیرا ہے۔ 

اینگرو نامی کمپنی کی طرف سے تھرپارکر پر کی گئی ایک حالیہ تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے فلھکارو کہتے ہیں کہ کارونجھر میں پائی جانے والی گرینائٹ کی چٹانیں زمین میں 990 فٹ کی گہرائی تک پائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گہری چٹانیں ایک ایسے ماحولیاتی دفاعی نظام کے طور پر کام کرتی ہیں جو تھر پارکر کو سمندری پانی اور اس کے اثرات سے بچاتا ہے۔

لیکن ماہرین ارضیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان چٹانوں کو اسی طرح کاٹا جاتا رہا تو بحیرہِ عرب نہ صرف تھرپارکر بلکہ اس کے شمال میں واقع ضلعے سانگھڑ میں بھی زیر زمین پانی کھارا کر دے گا۔

مقامی لوگوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ کان کنی اور ڈیموں کی تعمیر کی وجہ سے کارونجھر میں پائے جانے والے آبی وسائل کی بقا خطرے میں ہے۔ ان کے مطابق ان پہاڑوں میں موجود بہت سے قدرتی چشموں میں سارا سال پانی موجود رہتا ہے۔ درحقیقت یہ پہاڑ ننگر پارکر کے علاقے میں پینے کے صاف پانی کا واحد ذریعہ ہیں کیونکہ ان میں واقع کنوؤں کا پانی میٹھا ہوتا ہے جبکہ ان کے ساتھ ہی واقع میدانی علاقے میں پائے جانے والے کنوؤں کا پانی کھارا ہے۔

اللہ رکھیو کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے پرانے زمانے میں بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے پہاڑوں میں کنوئیں اور تالاب کھود رکھے تھے جن میں سے کئی اب بھی موجود ہیں۔ انہیں مقامی زبان میں 'سر' کہا جاتا ہے جیسے بھوڈے سر، رام سر وغیرہ۔ ان قدیم کنوؤں اور تالابوں کا ذکر سندھی صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے تین سو سال پہلے اپنی شاعری میں بھی کیا ہے۔
تاہم ان میں پایا جانے والا پانی نزدیکی آبادیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس لیے حکومتِ سندھ نے ورلڈ بنک کے تعاون سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت کارونجھر سمیت تھرپارکر کے مختلف حصوں میں چھوٹے بڑے 21 ڈیم بنائے جائیں گے۔ 

ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے ایک مقامی نوجوان ذوالفقار کھوسو اس منصوبے سے خوش نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ڈیموں کی تعمیر کسی جامع سائنسی تحقیق اور مقامی لوگوں کے تعاون کے بغیر کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں پہاڑوں سے پانی کا قدرتی بہاؤ بند ہو جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ مقامی لوگوں کو اس منصوبے کا فائدہ تبھی ہو سکتا ہے جب ڈیم مناسب جگہوں پر بنائے جائیں۔ لیکن، ان کے مطابق، "بہت سے ڈیم ایسی جگہوں پر تعمیر کیے جا رہے ہیں جہاں وہ پہاڑوں سے آنے والے پانی کے بہاؤ کی شدت کو برداشت نہیں کر پائیں گے اور ٹوٹ جائیں گے"۔ 

تاریخ اشاعت 12 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جئہ کمار فری لانس صحافی ہیں اور سندھ میں متنوع سماجی و سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔