English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'75 ایکڑ زرعی اراضی سیلاب کی نذر ہو گئی، اب دو وقت کی روٹی کے لیے مزدوری بھی نہیں ملتی'

تنویر احمد

postImg

'75 ایکڑ زرعی اراضی سیلاب کی نذر ہو گئی، اب دو وقت کی روٹی کے لیے مزدوری بھی نہیں ملتی'

تنویر احمد

بہادر علی کھوسو کا خاندان 75 ایکڑ زرعی اراضی کا مالک ہے لیکن موجودہ وقت میں وہ اپنے 20 افراد پر مشتمل گھرانے کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی نہیں کر پاتے۔

وہ کوئٹہ سے 317 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع صحبت پور کی تحصیل فرید آباد کے گوٹھ مراد علی کے رہائشی ہیں جسے اگست میں آنے والے سیلابی ریلے نے تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔ دوبارہ سے زندگی شروع کرنے کی تگ و دو کرتے ہوئے انہیں شکوہ ہے کہ ان بدترین حالات میں بھی حکومت ان کی مدد کے لئے نہیں آئی۔  

بیالیس سالہ بہادر علی کا خاندان تقریباً چار دہائیوں سے گوٹھ مراد میں آٹا پیسنے کی چکّی چلا رہا تھا جس سے 20 افراد پر مشتمل ان کے کنبے کا اچھا گزر بسر ہو جاتا تھا۔ زرعی زمین سے آںے والی آمدنی — اگرچہ جو کچھ زیادہ نہ تھی — اس کے علاوہ تھی۔ لیکن سیلاب نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

تین دسمبر کی دوپہر بہادر علی اپنی چکّی کے قریب کھڑے ہیں جو اب کھلے آسمان تلے پڑی ہے۔ سیلاب سے پہلے یہاں چند کمروں پر مشتمل عمارت ہوا کرتی تھی جو منہدم ہو چکی ہے۔ اب یہاں صرف آٹا پیسنے اور گندم اور چاول کی چھٹائی کرنے والے ٹاپے (گندم پیسنے کی مشین پر لگی لوہے کی چادر جس میں پسائی کے لئے گندم ڈالی جاتی ہے) ہی موجود ہیں جن سے چند فٹ کے فاصلے پر ان ٹاپوں کو چلانے والی موٹر کے آہنی پہیے دکھائی دیتے ہیں۔ اس موٹر کے بیشتر حصے پر اب مٹی جمی ہوئی ہے جبکہ اس کی بیلٹ بھی ٹوٹ چکی ہے۔

بہادر علی ملبے کے ایک ڈھیر کی طرف اشارہ کر کے بتاتے ہیں کہ یہ ان کی دُکان تھی جو سیلاب میں ڈھے گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیلاب میں دُکان منہدم ہونے اور چکّی تباہ ہو جانے سے انہیں تقریباً پانچ لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ چکّی سے ہونے والی روزانہ دو ہزار روپے تک کمائی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سیلاب آیا تو آس پاس کی آبادیوں کو بچانے کے لئے انتظامیہ نے اس علاقے سے گزرنے والی شاہی نہر میں شگاف ڈالا جس کے نتیجے میں گوٹھ مراد علی کی زرعی زمینیں زیرِ آب آ گئیں۔ چند روز بعد سم نہر میں بھی ایسا ہی شگاف کرنا پڑا جس سے سیلابی پانی نے ان کے گاؤں کا رُخ کر لیا جو ان کی چکّی اور دُکان کو بہا لے گیا۔

گوٹھ مراد تحصیل فرید آباد کے بھنڈ اور مانجھی نامی دو علاقوں کو ملانے والی سڑک پر واقع ہے جہاں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے اثرات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اس علاقے میں اب بھی چار سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے اور گوٹھ تک پہنچنے کے لئے اسی پانی سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔

جب گوٹھ مراد علی سیلاب کی زد میں آیا تو بہادر علی کے خاندان سمیت اس گاؤں کے تمام لوگوں نے اپنا علاقہ چھوڑ کر خیمہ بستیوں میں پناہ لے لی تھی۔ تاہم ناکافی سہولیات کے باعث ان کے لئے زیادہ عرصہ وہاں قیام کرنا ممکن نہیں تھا اس لئے انہوں ںے کوئٹہ جانے کا فیصلہ کیا۔

کوئی امید بر نہیں آتی

بہادر علی کا خیال تھا کہ کوئٹہ میں انہیں کوئی مزدوری مل جائے گی جس سے وہ سیلاب کے عرصہ میں اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں گے۔ لیکن وہاں انہیں کوئی کام نہ ملا بلکہ ان کے پاس جو جمع پونجی تھی وہ بھی گھر کے کرایے کی ادائیگی اور روزمرہ اخراجات پر صرف ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے گوٹھ مراد واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہاں برے حالات کے باوجود کم از کم انہیں گھر کے کرائے کی ادائیگی نہیں کرنا پڑتی۔

ان کا کہنا ہے کہ اب جبکہ پانی اتر چکا ہے تو وہ اپنی زرعی اراضی کو دوبارہ کاشت کے قابل بنا کر اس پر کاشت کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن اس علاقے میں ٹیوب ویل نہ ہونے اور نہری پانی کی کمی کے باعث ان کے لئے ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیلاب سے پہلے بھی ان کا مکمل رقبہ زیرِ کاشت نہیں تھا اور انہیں گزر بسر کے لئے چکّی سے حاصل ہونے والی کمائی پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

وفاقی ادارہ شماریات کے 2019-2020 کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں کُل سیراب ہونے والا رقبہ 1.28 ملین ہیکٹر (31 لاکھ 62 ہزار ایکڑ) ہے جس میں سے صرف 0.66 فیصد سرکاری نہروں سے، 0.7 فیصد نجی نہروں سے اور 0.45 فیصد ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صوبے میں زیرِ کاشت مجموعی رقبے میں سے صرف چھ فیصد پر چاول اگایا جاتا ہے کیونکہ یہ فصل زیادہ پانی مانگتی ہے۔ اس کے برعکس سندھ میں 46 فیصد اور پنجاب میں 66 فیصد زرعی رقبے پر چاول پیدا ہوتا ہے۔

پانی کی کمی کے باعث بلوچستان میں صحبت پور اور اس کے گرد و نواح میں زمین دار اپنی اراضی پر خود کاشت کاری کرنے کی بجائے اسے کسانوں (جنہیں مقامی زبان میں بزگر کہا جاتا ہے) کو دے دیتے ہیں اور فصل سے حاصل ہونے والا منافع برابر بانٹ لیا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے بہادر علی نے بھی اپنی اراضی بزگر کو دے رکھی تھی تاہم اس سے حاصل ہونے والا منافع بہت کم تھا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سیلاب نے کان مہترزئی میں سیب کے ہزاروں درخت بانجھ کر دیے: زمیندار زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے حکومتی سہارے کے منتظر۔

بہادر علی ںے سُود پر بیج لے کر فصل کاشت کی تھی جو ضائع ہو چکی ہے اور اب وہ اس سال سُود ادا نہیں کر پائیں گے جو اگلے سال تک کئی گنا بڑھ جائے گا۔

سیلاب کو چار مہینے گزر جانے کے باوجود انہیں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امداد نہیں ملی۔  وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 29 اگست کو اعلان کیا تھا کہ سیلاب کے متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 3 ستمبر تک فی کس 25,000 روپے دیئے جائیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ان کا خیال تھا کہ وہ سرکاری امداد سے اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن اب ان کی یہ امید دم توڑ چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت تو درکنار نجی امدادی ادارے بھی ان کے علاقے میں نہیں پہنچے۔ وہ۰ اپنی زرعی زمین کے مستقبل کی بابت زیادہ پُر امید نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں اپنی چکّی بحال کرنے کے تین سے چار لاکھ روپے مل جائیں تو وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

تاریخ اشاعت 6 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

  • 6منٹ کی پڑھائی loop
  • وڈیو شامل ہےloop

خیبر پختونخوا میں ہسپتالوں کے عملے کو تنخواہیں کیوں نہیں مل رہی ہیں؟