طبی تعلیم کی نج کاری: حکومتی پالیسیوں کے باعث ڈاکٹر بننے کی قیمت میں شدید اضافہ۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

طبی تعلیم کی نج کاری: حکومتی پالیسیوں کے باعث ڈاکٹر بننے کی قیمت میں شدید اضافہ۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

طبی تعلیم کی نج کاری: حکومتی پالیسیوں کے باعث ڈاکٹر بننے کی قیمت میں شدید اضافہ۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

احمد کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے والد کا خواب پورا کریں گے جو انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔

اس جستجو میں انہیں سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب وہ 2019 میں کسی سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے میں ناکام رہے۔ اگرچہ ان کے والد نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ کسی پرائیویٹ میڈیکل کالج میں ان کے داخلے کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں مگر احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کا ٹیسٹ (MDCAT) مزید اچھے نمبروں سے پاس کرنے کی ایک اور کوشش کریں گے۔

تاہم دوسری مرتبہ بھی وہ اچھے نمبر نہ لے سکے۔ 

امتحان سے چند ہی ہفتے پہلے اس کے نصاب میں جلدی جلدی میں کی جانے والی بہت سی تبدیلیوں نے احمد کی تیاری کو بری طرح متاثر کیا۔ نتیجتاً وہ سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے خاطرخواہ نمبر نہ لے سکے۔ اب ان کے پاس ایک ہی راہ باقی ہے کہ وہ کسی پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیں۔

احمد کے والد سوات میں زمینوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں۔ 2020 میں ان کی آمدنی میں کمی آ گئی کیونکہ کورونا وائرس کے باعث ان کے علاقے میں یہ خرید و فروخت سست پڑ گئی تھی۔ چنانچہ فوری طور پر اضافی مالی وسائل کا بندوبست کیے بغیر ان کے لیے اپنے بیٹے کو پرائیویٹ میڈیکل کالج میں بھیجنا ممکن نہیں۔

ان اضافی وسائل کا انتظام کرنے کے لیے انہوں نے اپنی آبائی زمین میں اپنا حصہ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بارے میں احمد کا کہنا ہے کہ 'زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے بمشکل میری تعلیم کے پہلے دو سال کے اخراجات کی ہی ادائیگی ممکن ہو سکے گی'۔ بقیہ تین سال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کے والد کو اپنی کار اور چند دیگر قیمتی اشیا فروخت کرنا پڑیں گی۔ تاہم اس سے بھی احمد کے تعلیمی اخراجات پورے نہیں ہو پائیں گے۔ اسی لیے ان کے والد اپنے بھائیوں سے قرضہ لینے کا بھی سوچ رہے ہیں۔

احمد کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے والد کو یہ سب کچھ کرنا پڑے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ نجی اداروں میں مہنگی تعلیم حاصل کرنے کی صورت میں ان کے پورے خاندان کو سنگین نوعیت کے مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اگر میرے والدین اپنے تمام وسائل میری تعلیم پر صرف کر دیں تو گویا میں اپنے چار چھوٹے بہن بھائیوں کا حق ماروں گا''۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زید کو بھی کم و بیش ایسی ہی پریشانی کا سامنا ہے۔

دو سال پہلے جب وہ ایک سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی تگ و دو کر رہی تھیں تو ان کی والدہ زبان کے کینسر میں مبتلا اور زندگی و موت کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ لہٰذا 2019 میں سعدیہ کو نا صرف MDCAT کا امتحان دینا تھا بلکہ اپنی والدہ اور دو چھوٹے بہن بھائیوں کی نگہداشت بھی کرنا تھی۔ نتیجتاً وہ امتحان میں اتنے نمبر نہ لے سکیں جو انہیں سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے درکار تھے۔

2020 میں انہوں نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا اور بہت پہلے ہی اس کی تیاری شروع کر دی مگر سات مارچ 2020 کو ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس سے ان کے عزائم کو بہت بڑا دھچکا لگا۔ یوں جذباتی طور پر منتشر ہونے کے باعث وہ MDCAT 2020 میں بھی اچھی کارکردگی نہ دکھا پائیں اور سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے سے محروم رہیں۔

سعدیہ کے والد نے دوسری شادی کر لی ہے جس کے بعد نا صرف انہیں اپنی پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے تین بچوں بلکہ دوسری اہلیہ کے پانچ بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا ہوتی ہے۔ اس لیے سعدیہ نے پرائیویٹ کالج میں داخلے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی والدہ کے زیورات اور گھر کی دوسری اشیا فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں 'یہ سوچ کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے کہ میں امتحان میں اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہ دکھا پائی اور مجھے ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا'۔ 

اریب کے مسائل بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔

انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے پاس کیا۔ MDCAT 2020 سرکاری شعبے کے کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لیے ان کی دوسری کوشش تھی مگر ناکام رہنے کے بعد اب وہ کسی نجی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کا سوچ رہے ہیں۔

تاہم ان کا گھرانہ نجی شعبے میں چلنے والے میڈیکل کالجوں کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ان کے والد ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار ہیں جو اب لاہور کے ایک بینک میں سکیورٹی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے بینک اکاؤنٹس، پرائز بانڈز  اور دوسری بچتوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں گویا وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اچانک یہ اثاثے دو گنا بڑھ جائیں اور وہ اریب کو  میڈیکل کالج میں داخلہ دلوا دیں۔

اریب کا کہنا ہے 'میرے والد طویل عرصہ سے جوڑی ہوئی اپنی بچت کی رقم سے میری پہلے سال کی فیس ادا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک پلاٹ فروخت کریں گے جو انہوں نے چند سال پہلے خریدا تھا۔ اس رقم سے میرے پہلے تین تعلیمی سال کے اخراجات ہی پورے ہو جائیں گے'۔ لیکن اریب اور ان کے والد کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ آخری دو سال کے اخراجات کہاں سے پورے کریں گے۔

اریب کا کہنا ہے 'مجھے یہ سوچ کر بیحد دکھ ہوتا ہے کہ میرے والد کو محض اس لیے کڑی محنت سے بنائی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور اثاثوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے تا کہ نجی شعبے کا تعلیمی مافیا ہمیں لوٹ سکے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمارا واسطہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے بجائے پرائیویٹ میڈیکل کمیشن سے پڑا ہو'۔

پیسہ پھینک تماشہ دیکھ

طبی تعلیم اور علاج معالجے کے شعبے کی نگرانی کے لیے حال ہی میں بنائے گئے نئے ادارے پاکستان میڈیکل کونسل (پی ایم سی) کی جانب سے متعارف کرائی گئی کئی تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو اپنی فیس خود طے کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ 2020 کی دوسری ششماہی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیے جانے والے پی ایم سی ایکٹ کا سیکشن 24 پرائیویٹ اداروں کی فیسوں سے متعلق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادارے طلبا سے کتنی فیس وصول کر سکتے ہیں۔ اس فیس میں نا صرف سالانہ ٹیوشن فیس بلکہ ناقابل واپسی داخلہ فیس، ہاسٹل کے اخراجات، نقل و حمل کے اخراجات اور چند دیگر متفرق اخراجات بھی شامل ہیں۔

اس طرح پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی مجموعی فیس طلبا کی توقعات سے کہیں زیادہ  ہو گئی ہے۔ لیکن فیسوں میں اضافے کا کوئی طے شدہ طریقہ کار نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اس سال جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں داخلہ لینے والے طلبا کو پچھلے سال داخلہ لینے والے طلبہ کے مقابلے میں اپنا پانچ سالہ تعلیمی پروگرام پورا کرنے کے لیے 842,300 روپے زیادہ ادا کرنا پڑیں گے۔

دوسری جانب سی ایم ایچ (کمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل) لاہور کو اپنی فیس 4,527,912 روپے سے 3,451,708 روپے بڑھا کر 7,979,620 روپے تک لے جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

احمد، سعدیہ اور اریب جیسے طلبا کے سامنے ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں تعلیمی معیار وہاں وصول کی جانے والی فیسوں سے مشروط ہوتا ہے۔ جن اداروں میں اعلیٰ معیار کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں بھاری فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ نسبتاً کم معیار والے اداروں میں فیس بھی قدرے کم ہوتی ہے۔  

یہ سب کچھ 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے عدالتی فیصلے سے بالکل متضاد ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی پرائیویٹ میڈیکل کالج 850,000 روپے سے زیادہ سالانہ فیس وصول نہیں کرے گا اور اس میں ہر سال صرف پانچ فیصد اضافہ کیا جا سکے گا۔ اب ایسی کوئی روک باقی نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

میڈیکل کالجوں کے داخلہ ٹیسٹ میں بد انتظامی: 'پی ایم سی نے ہزاروں طلبا کا مستقبل داؤ پر لگا دیا'۔

پی ایم سی کے پیشرو ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے آخری صدر ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ   نے اس صورتحال پر سجاگ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو لگام ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف سے کی گئی کوششوں کو پٹڑی سے اتار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں میڈیکل کی تعلیم تیزی سے مہنگی ہو رہی ہے اور خاص طور پر متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے'۔

تاہم پی ایم سی کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی اس سارے مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اگر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ کالج کی فیس بہت زیادہ ہے تو انہیں اپنے بچوں کے لیے ایسے تعلیمی شعبوں کا چناؤ کرنا چاہیے جن کے اخراجات ان کے بس میں ہوں'۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ 'پرائیویٹ ادارے اس لیے زیادہ فیس لیتے ہیں کہ وہاں طلبہ کو سرکاری شعبے کے اداروں کی نسبت زیادہ سہولیات مہیا کی جاتی ہیں'۔

سجاگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ 'پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ داخلوں سے پہلے اپنی فیس کے بارے میں لوگوں کو مکمل طور پر آگاہ کریں۔ اس طرح طلبا اور ان کے اہلخانہ کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے مناسب وقت مل جائے گا کہ آیا وہ کسی ادارے کی فیس ادا کر سکتے ہیں یا نہیں'۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 5 جنوری 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 12 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فریال احمد ندیم نے کنیئرڈ کالج لاہور سے عالمی تعلقات میں بی ایس آنرز کیا ہے۔ وہ صحت اور تعلیم سے متعلق امور پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔