فیصل آباد کے گھروں میں آنے اور صنعتوں سے جانے والے آلودہ پانی کے مابین کیا تعلق ہے؟

postImg

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

فیصل آباد کے گھروں میں آنے اور صنعتوں سے جانے والے آلودہ پانی کے مابین کیا تعلق ہے؟

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

فیصل آباد کے جنرل ہسپتال غلام محمد آباد کے شعبہ بیرونی مریضاں میں 35 سالہ زرینہ بی بی اپنی باری کی منتظر ہیں تاکہ اپنے پانچ سالہ بیٹے علی رضا اور تین سالہ بیٹی زینب کا ڈاکٹر سے معائنہ کروا سکیں۔ وہ شہر کے شمال مغربی علاقے قادر آباد کے قریب سیم نالے سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع کچی آبادی کی رہائشی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بچے گزشتہ ایک ہفتے سے اسہال اور پیٹ درد کی شکایت کر رہے تھے۔

"پہلے تو میں گھریلو ٹوٹکوں سے ان کے علاج کی کوشش کرتی رہی لیکن جب بیماری سے ان کی کمزوری بڑھ گئی تو مجھے انہیں ہسپتال لانا پڑا۔"

زرینہ کے شوہر قادر آباد میں ایک پاور لوم فیکٹری میں یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور ان کا تعلق فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے ایک گاؤں سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر پہلے گاؤں میں کھیت مزدور کے طور پر کام کرتے تھے اور وہ تین سال پہلے بہتر روزگار کی تلاش میں فیصل آباد شہر منتقل ہوئے تھے۔

"یہاں آکر روزگار کا مسئلہ تو حل ہو گیا ہے لیکن فیصل آباد کا پانی ہمیں راس نہیں آیا اور اکثر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد بیمار رہتا ہے۔"

زرینہ بی بی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں سرکاری پانی دستیاب نہیں ہے اور زیادہ تر لوگ زمین میں بور کر کے موٹروں کے ذریعے پانی نکال کر استعمال کرتے ہیں جو کھانا پکانے یا پینے کے قابل نہیں ہے۔

"میرے خاوند ڈیوٹی سے واپسی پر ایک فلاحی ادارے کی طرف سے لگائے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹ سے پانی کا کین بھر کر لے آتے ہیں لیکن اکثر وہ بھی بند ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔"

زرینہ بی بی کی کچی آبادی کی طرح شہر کے زیادہ تر متوسط اور پوش علاقوں میں بھی لوگ زمین میں بور کر کے موٹروں کے ذریعے نکالا جانے والا کھارا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

تاہم اب زیر زمین موجود کھارے پانی کی سطح بھی کم ہونا شروع ہو گئی ہے اور پانی کے حصول کے لیے لوگوں کو بور مزید گہرے کرنے پڑ رہے ہیں۔

صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کے درمیان سے گزرنے والی نہر رکھ برانچ سے تقریباً پانچ سو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر کے پوش علاقے سرفراز کالونی میں بھی زیر زمین پانی کی سطح 300 فٹ تک نیچے جا چکی ہے۔

اس علاقے کے رہائشی محمد جمیل نے بتایا کہ انہوں نے چند ماہ پہلے ہی بور مزید 50 فٹ گہرا کروایا ہے تاکہ زمینی پانی کا معیار بہتر ہو سکے۔

"بور کے پانی میں ریت آنا شروع ہو گئی تھی اور پانی کا رنگ بھی زردی مائل تھا جس میں سے ہلکی ہلکی بو محسوس ہوتی تھی۔"

انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقے کا زیر زمین پانی نہر قریب ہونے کے باوجود اس وجہ سے بھی زیادہ خراب ہو چکا ہے کہ نہر اور ان کی کالونی کے درمیان مقبول روڈ پر واقع بہت سی ڈائنگ فیکٹریاں کیمیکل زدہ پانی بورنگ کر کے زیر زمین پمپ کر دیتی ہیں۔

صاف سے آلودہ پانی تک کا سفر

محکمہ ماحولیات سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کی گئی معلومات کے مطابق شہر کے 120 کارخانوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب ہیں جبکہ ٹریٹمنٹ کے بغیر کیمیکل زدہ پانی کے اخراج پر پنجاب انوائرمینٹل ٹربیونل کو گزشتہ چار سال کے دوران 145 صنعتی یونٹس کے خلاف کیس بھجوائے گئے ہیں۔ ان میں سے تین فیکٹریوں کو ایک لاکھ 35 ہزار روپے جرمانہ ہوا ہے جبکہ باقی کیس زیر سماعت ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات فیصل آباد محمد نواز خان نے بتایا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق شہر کے رہائشی علاقوں میں قائم کم از کم 25 فیصد کارخانے مضر صحت کیمیکل زدہ پانی بغیر ٹریٹمنٹ، خارج یا ڈسچارج کرتے ہیں۔

دوسری طرف آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد اصغر نے بتایا ہے کہ محکمہ ماحولیات سے متعلق قوانین کی پابندی کے لیے زیادہ تر بڑے صنعتی اداروں نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے ہوئے ہیں لیکن ان کا صاف کیا ہوا پانی محکمہ واسا کی طرف سے دوبارہ گندے نالوں میں ڈال کر آلودہ کیا جا رہا ہے جس سے اُن کی محنت اور واٹر ٹریٹمنٹ پر  آنے والے اخراجات ضائع ہو جاتے ہیں۔

"اندرون شہر موجود تقریباً 150 سے زائد صنعتی یونٹس میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگے ہوئے ہیں جو یومیہ 10 لاکھ گیلن سے زائد پانی کو ٹریٹ کرنے کی استعداد کے حامل ہیں"۔

اگرچہ محکمہ ماحولیات نے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم اگر انہیں درست مان بھی لیا جائے تب بھی فیصل آباد کی صنعت سے یومیہ خارج ہونے والے 51 کروڑ 70 لاکھ گیلن ویسٹ واٹر کی نسبت یہ مقدار نہ ہونے کے برابر ہے۔

ساندل بار کے اس علاقے میں انگریز سرکار نے لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے نام سے نیا شہر بسانے کا فیصلہ میٹھے زیرزمین پانی کے زرعی اور انسانی استعمال کے لیے انتہائی موزوں ہونے کی بنا پر کیا تھا۔تاہم ایک صدی بعد ہی فیصل آباد اپنے زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر سے محروم ہو چکا ہے۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی طرف سے 2006ء میں رچنا دو آب کے پانی کے معیار سے متعلق تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق فیصل آباد کے 90 فیصد سے زائد علاقوں کا زیر زمین پانی مضر صحت ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی 2021ء میں پانی کے معیار سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد میں کم از کم 59 فیصد زیر زمین پانی کے ذخائر آلودہ ہو چکے ہیں کیونکہ ان میں ٹی ڈی ایس، آئرن اور کلورائیڈ کی مقدار مقررہ معیار سے 23 فیصد، نائٹریٹ 18 فیصد، ہارڈنیس اور بیکٹریل آلودگی 14 فیصد جبکہ فلورائیڈ نو فیصد زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ وزارت ماحولیات کی طرف سے مقررہ نیشنل سٹینڈرڈز آف ڈرنکنگ واٹر کے مطابق پینے کا صاف پانی بے رنگ، بے ذائقہ اور بے بو ہونا چاہیے۔ اس معیار کے مطابق ایک لیٹر پینے کے صاف پانی میں کلورائیڈ کی مقدار 250 ملی گرام، فلورائید کی 1.5 ملی گرام، ہارڈنیس کی 500 ملی گرام، آئرن کی 0.3 ملی گرام اور نائٹریٹ کی مقدار 10 ملی گرام ہونی چاہیے جبکہ ٹی ڈی ایس کی سطح ایک ہزار ملی گرام سے زیادہ نہ ہو۔

بڑھتے شہر کو زیادہ پانی چاہیے

دوسری طرف شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے 1978ء میں قائم کیا گیا محکمہ واسا فیصل آباد ابھی تک شہر کی 100 فیصد آبادی کو صاف پانی کی فراہمی کا ہدف حاصل نہیں کر سکا ہے۔

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کی گئی معلومات کے مطابق واسا فیصل آباد کی طرف سے ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد رجسٹرڈ صارفین کو یومیہ 11 کروڑ گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

اس میں سے پانچ کروڑ 60 لاکھ گیلن پانی دریائے چناب سے، دو کروڑ گیلن جھنگ برانچ نہر سے، ایک کروڑ 80 لاکھ گیلن رکھ برانچ نہر سے، ایک کروڑ 35 لاکھ گیلن جھال خانوآنہ واٹر ورکس، 10 لاکھ گیلن ملت ٹاؤن واٹر ورکس اور 15 لاکھ گیلن پانی گلفشاں کالونی واٹر ورکس سے حاصل کیا جاتا ہے۔

واسا کی طرف سے جن صارفین کو پانی فراہم کیا جاتا ہے ان میں ایک لاکھ 13 ہزار گھریلو صارفین، دو ہزار 348 کمرشل اور 92 صنعتی صارفین شامل ہیں جبکہ 443 صنعتی صارفین کو واسا نے ایکوفر کنکشن جاری کیے ہوئے ہیں جن کے تحت وہ زیرزمین پانی استعمال کر رہے ہیں۔

مینجنگ ڈائریکٹر واسا عامر عزیز کے مطابق واسا فیصل آباد کا مجموعی سروس ایریا 225 مربع کلومیٹر پر محیط ہے جس میں سے تقریباً 70 فیصد حصے کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

تاہم فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 2021ء میں اگلے 20 سال کے لیے تیار کیے گئے ماسٹر پلان کے مطابق تحصیل سٹی میں یومیہ 16 کروڑ 10 لاکھ گیلن سے زائد صاف پانی کی فراہمی کی ضرورت ہے جو کہ واسا کی حالیہ استعداد سے پانچ کروڑ 10 لاکھ گیلن یومیہ زیادہ ہے۔
علاوہ ازیں واسا کا پانی استعمال کرنے والے زیادہ تر شہری اس کے معیار اور فراہمی کے دورانیے سے مطمئن نہیں ہیں۔

پیپلز کالونی کی رہائشی فوزیہ خالد کے مطابق ان کے گھر میں گزشتہ چار دہائیوں سے واسا کا واٹر کنکشن موجود ہے لیکن انہوں نے آج تک اس پانی کو پینے یا کھانا پکانے کے لیے استعمال نہیں کیا ہے۔

"واسا کی طرف سے دن میں چار یا چھ گھنٹے کے لیے پانی فراہم کیا جاتا ہے جس کا معیار بورنگ والے پانی سے کچھ ہی بہتر ہوتا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ اس پانی سے سیوریج کی بدبو آنا بھی شروع ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اس کا رنگ مٹیالا ہوتا ہے۔

"آپ شہر کے کسی علاقے میں چلے جائیں زیادہ تر لوگ پینے کا پانی خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ جو صاحب حیثیت ہیں وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ متوسط اور غریب طبقے کے لوگ فلٹریشن پلانٹ، نہر پر لگے ہوئے پمپس یا نلکوں سے پانی لا کر استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے معیار کو بھی جانچنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔"

آلودہ پانی کے پیدا کردہ مریض

آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے سبب فیصل آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں ہر وقت مریضوں کا رش لگا رہتا ہے۔

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی فیصل آباد سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2022ء کے دوران آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث پانچ لاکھ 40 ہزار 655 مریضوں نے سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز کا رخ کیا جبکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں دو لاکھ 71 ہزار 866 ایسے مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا۔

اس طرح سال 2022ء کے دوران آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے 29 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد کی ادویات استعمال ہوئیں جبکہ رواں سال اس مد میں خرچ ہونے والے رقم کا تخمینہ تقریباً 29 کروڑ 47 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

جنرل ہسپتال غلام محمد آباد میں تعینات میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ارم رشید نے بتایا ہے کہ آلودہ پانی کے استعمال سے بچوں میں اسہال، الٹی، پیٹ میں درد، کان میں درد اور سانس یا گلے کا انفیکشن عام ہے۔

" آلودہ پانی کے مسلسل استعمال سے فیصل آباد میں بڑی عمر کے افراد میں ہیپاٹائٹس، گردوں، کینسر، ٹائیفائیڈ اور اعصابی بیماریوں کے علاوہ جلد کے امراض میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے"۔

شروع نہ ہونے والے اہم منصوبے

واسا فیصل آباد گزشتہ پانچ سال کے دوران شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی اور انڈسٹریل ویسٹ واٹر کی ٹریٹمنٹ کے دو بڑے منصوبوں پر عمل درآمد شروع نہیں کر سکا ہے۔

شہر کی 100 فیصد آبادی کو صاف پانی کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے اپریل 2017ء میں پنجاب حکومت نے فرانس کے تعاون سے "فرنچ پراجیکٹ فیز II" کا منصوبہ شروع کرنے کی منظوری دی تھی

یہ بھی پڑھیں

postImg

'پنجاں پانیاں اچ دتی زہر رلا': فیصل آباد کی صنعتوں سے نکلنے والا گندا مواد زیرِ زمیں پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

اس منصوبے پر اخراجات کا تخمینہ 14 ارب 63 کروڑ روپے سے زائد لگایا گیا تھا جس میں سے دو ارب 84 کروڑ روپے پنجاب حکومت نے فراہم کرنا تھے جبکہ 11 ارب 79 کروڑ روپے سے زائد رقم فرانس کی گورنمنٹ نے بطور امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اس پراجیکٹ کے تحت شہر کے شمال مشرقی علاقے کی سات لاکھ سے زائد آبادی کو یومیہ تین کروڑ گیلن صاف پانی فراہم کرنے کے لیے لوئیر گوگیرہ برانچ پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنایا جانا تھا۔ تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد روک دیا گیا اور اب اس منصوبے کی لاگت 20 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے۔

واسا ترجمان کے مطابق "فرنچ پراجیکٹ فیز II" کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 90 ایکڑ اراضی حاصل کر لی گئی ہے جبکہ کنسلٹنٹ بھی ہائر کیا جا چکا ہے اور امید ہے کہ اس پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔

اسی طرح 2019ء میں واسا نے شہر کے مشرقی حصے میں 19 ارب روپے کی لاگت سے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا منصوبہ تیار کیا تھا جو کہ 2021ء میں مکمل ہونا تھا۔

اس منصوبے کی تکمیل سے کھرڑیانوالہ کے علاقے میں لگی ہوئی انڈسٹری سے نکلنے والے ویسٹ واٹر میں سے روزانہ چار کروڑ 40 لاکھ گیلن ویسٹ واٹر کو صاف کر کے زرعی مقاصد کے لیے کسانوں کو فراہم کیا جانا تھا لیکن یہ منصوبہ بھی تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔

اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عدنان نثار نے بتایا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کنسلٹنٹ کا انتخاب ہو چکا ہے اور امید ہے کہ جنوری 2024ء میں اس پر کام شروع ہو جائے گا۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہو گا جس میں پہلے مرحلے کو 19 ارب روپے کی لاگت سے ڈنمارک کے مالی تعاون سے مکمل کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 19 ارب روپے کی فنڈنگ کے لیے کام جاری ہے۔

تاریخ اشاعت 6 نومبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.