بھوک چہروں پر لیے چاند سے پیارے بچے: آجروں کے تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں کو انصاف کیوں نہیں ملتا؟

postImg

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بھوک چہروں پر لیے چاند سے پیارے بچے: آجروں کے تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں کو انصاف کیوں نہیں ملتا؟

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

تیرہ سالہ نجمہ فیصل آباد کے نواحی گاؤں ستیانہ کی رہائشی ہیں۔ وہ مدینہ ٹاون کے ایک گھر میں تین سال سے کام کر رہی ہیں۔ ان کے دن کا آغاز صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتا ہے۔ وہ گھر کی صفائی، برتن کپڑے دھونے، روٹی پکانے اور دیگر کاموں میں رات گئے تک مصروف رہتی ہیں۔ مالکن کی آٹھ سالہ بیٹی اور پانچ سالہ بیٹے کی دیکھ بھال بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ انہیں یہاں کھانے کو گھر والوں کی بچی کھچی روٹی اور رات کو سونے کے لیے چٹائی ملتی ہے۔ تنخواہ کے نام پر ان کی والدہ کو پانچ ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔

نجمہ کے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ان کی والدہ اور بڑی بہن بھی گھروں میں کام کرتی ہیں۔وہ بتاتی ہیں کہ کئی مہینے بعد ایک دو دن کی چھٹی ملتی ہے۔ مالکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھڑکیاں دیتی ہیں۔ان کے بچے بھی مارتے اور بدسلوکی کرتے ہیں۔

شہر کے اس خوشحال رہائشی علاقے کے بڑے بڑے گھروں میں نجمہ جیسے درجنوں بچے کام کرتے ہیں اور ان پر تشدد کے واقعات بھی مسلسل رپورٹ ہوتے ہیں۔اس کے باوجود ملزموں کی اکثریت سزا سے بچ جاتی ہے۔

ایسا ایک واقعہ رواں سال یکم مئی کو خیابان کالونی میں پیش آیا تھا۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ٹیم نے پولیس کے ساتھ ایک گھر پر چھاپہ مارا اور دو کمسن بہنوں 11 سالہ ایمان فاطمہ اور آٹھ سالہ زہرہ کو بازیاب کرا لیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں کے جسم پر تشدد اور زخموں کے علاوہ چہرے پر بھی مار پیٹ کے نشانات تھے۔ ایک بچی کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں۔

متاثرہ بچیوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ دونوں بطور ملازمہ کام کرتی تھیں۔ ایمان اور زہرہ کو بالترتیب چار ہزار اور تین ہزار روپے ماہوارملتے تھے۔مالکان ان پر روٹی چرانے اور کام ٹھیک نہ کرنے کے الزام لگاتے، تشدد کرتے اور ان کے جسم کو داغتے تھے۔

پولیس نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی درخواست پر مقدمہ درج کیا۔ گھر کے مالک وقار ان کے بھائی بلال اور دونوں کی بیویوں کو گرفتار کیا گیا۔ میڈیکو لیگل کے بعد بچیوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تحویل میں دےدیا گیاتھا۔

تاہم اگلے ہی روز عدالت میں پہلی پیشی پر دونوں بچیوں اور ان کی والدہ نے چائلد پروٹیکشن بیورو اور پولیس کو دیئے گئے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور عدالت نے ملزموں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

اسی طرح 28 مارچ 2023ء کو تھانہ گلبرگ کی پولیس نے دس سالہ گھریلو ملازم علی کے قتل کا مقدمہ درج کیا۔ گھر کے مالک بلال اور شعبان پر علی کو تشدد کے بعد پھندہ ڈال کر قتل کرنے اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کے الزام تھا۔ مقتول کو ملازم رکھوانے والے میاں بیوی بھی ملزموں میں شامل تھے۔

کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد سرفراز بتاتے ہیں کہ ملزموں کو مقتول کے ورثا نے معاف کر دیا تھا۔ اس لیے عدالت نے بھی ان لوگوں کو رہا کر دیا۔

پنجاب انفارمیشن ایکٹ کے تحت فیصل آباد پولیس سے ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق جنوری 2018ء سے جولائی 2023ء تک چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی مدعیت میں 22 مقدمات درج ہوئےجن میں 53 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

تاہم 22 میں سے 21 مقدمات کے متاثرین عدالتوں میں پولیس کو دیے گئے بیانات سے منحرف ہو گئے۔ اسی بنیاد پر عدالتوں نے ملزموں کو رہا کر دیا۔

دی پنجاب ڈیسٹیٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ 2004 کی شق 34کے تحت اگر کوئی شخص 18 سال سے کم عمر بے سہارا بچے کو اپنی تحویل میں رکھتا ہے یا اس ایکٹ کی کسی شق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اسے تین ماہ سے پانچ سال تک قید اور دس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

غربت، مجبوری اور سودے بازی

بے سہارا بچوں کی حفاظت کے لیے قائم ادارے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد بتاتی ہیں کہ بیورو نے صوبے میں رواں سال جنوری سےاگست تک چار ہزار 660 بچوں کو ریسکیو کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ گزشتہ آٹھ ماہ میں بیورو نے تشدد اور استحصال کا شکار 42 بچوں کو تحویل میں لیا ہے۔ تین سال میں گھریلو تشدد کا شکار 437 بچوں کو ریسکیو کیا گیا۔ تین سو سے زیادہ کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ تاحال کسی ملزم کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو فیصل آباد کے لیگل ایڈوائزر محمد عادل بتاتے ہیں اس ایکٹ کے تحت ملزموں کو سزا ہونے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

"متاثرہ بچے اور ان کے والدین شہادت کے لیے عدالتوں میں پیش ہی نہیں ہوتے ہیں۔اگر وہ پیش ہو بھی جائیں تو اپنے164 کے بیانات سے منحرف ہو جاتے ہیں۔"

عادل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ"ہم متاثرہ بچوں اوران کے والدین کی ماہر نفسیات کے ذریعے کونسلنگ کرتے ہیں کہ اگر آپ اپنے بیان پر قائم رہیں گے تو ملزموں کو سزا اور انہیں رقم ملے گی۔ لیکن وہ سالوں انتظار نہیں کرتے اور ملزموں سے فوری مالی فائدہ لے لیتے ہیں۔"

ان کا کہنا ہے کہ جب سے یہ قانون بنا ہے صرف ایک کیس میں ملزموں کو سزا ہوئی ہے۔ دو ماہ پہلے فیصل آباد میں ایک گھریلو ملازمہ پر تشدد کا جرم ثابت ہوا تھا۔ عدالت نے ملزم اویس مجاہد اور اس کی بہن سونیا کو دو سال قید کے علاوہ چار لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔

لیگل ایڈوائزر نے بتایا کہ اس سے پہلے اسلام آباد کی عدالت نے طیبہ تشدد کیس میں بھی سزا سنائی تھی۔ اپریل 2018ء میں سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو ایک ایک سال قید اور پچاس، پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

محمدعادل نے بتایا کہا اگر کوئی کم عمر بچہ کسی گھر میں بطور گھریلو ملازم کام کر رہا ہے تو اس پرکارروائی کرنا لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ تشدد اور استحصال پر چائلد پروٹیکشن بیورو کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔

گھروں میں چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے پنجاب حکومت نے 2019ء میں ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019ء متعارف کروایا تھا۔

اس قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچے کو گھر میں ملازم رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں 12 سال سے کم عمر بچے کو ملازم رکھنے والےکو ایک ماہ تک قید ہو گی۔ 15 سال سے کم عمر بچے کو ملازم رکھنے پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست پر لیبر ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد سے بتایا گیا ہے کہ ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ کے تحت کم عمر بچوں کو گھریلو ملازم رکھنے والے شہریوں کے خلاف کارروائی کے لیے ابھی تک لیبر انسپکٹروں کو نوٹیفائی ہی نہیں کیا گیا۔

اس قانون کے سیکشن 36 میں یہ پابندی بھی لگائی گئی ہے کہ شکایت موصول ہونے یا سیکشن 25 کے تحت تشکیل دی گئی ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کی ہدایت کے بغیر کسی گھر کی انسپکشن نہیں کی جا سکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاحال یہ کمیٹیاں تشکیل ہی نہیں پا سکیں۔

پنجاب چائلڈ لیبر سروے 20-2019ء کے مطابق کام کرنے والے پانچ سے14 سال تک کی عمر کے بچوں کی تعداد 38 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں سے 48 فیصد نامناسب ماحول اور نو فیصد خطرناک صنعتوں یا پیشوں سے وابستہ ہیں۔13 فیصد بچے رات کو کام کرنے پر مجبور ہیں۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم ساحل کی ششماہی رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2023ء کے دوارن دو ہزار 227 بچوں کو جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں ایک ہزار 207 لڑکیاں اور ایک ہزا20 لڑکے شامل ہیں۔

ساحل کے لیگل ایڈوائزر امتیاز احمد سومرہ بتاتے ہیں کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد اور استحصال کے کیسز بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں۔اس لیے ان کی درست تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔رضوانہ اور طیبہ کے کیسز بھی میڈیا کی وجہ سے رپورٹ ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'زمیں کھا گئی یا آسمان نگل گیا'، سکھر میں بچوں کے اغوا کی بڑھتی وارداتوں پر پولیس کی بے بسی

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ڈیسٹیٹیوٹ ایکٹ اور پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ کے مقابلے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 328 اے زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے۔اس کے تحت بچوں کے خلاف جرم ناقابل ضمانت ہے۔ مجرم کو ایک سے تین سال تک قید ہو سکتی ہے۔ یہاں قانون تو بن گئے مگر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔

سماجی تنظیم ویمن ان سٹرگل فار ایمپاورمنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بشریٰ خالق بتاتی ہیں کہ جنوری 2019 ءسے فروری 2021ء تک صرف پنجاب میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے خلاف جسمانی اور جنسی تشدد کے 74 کیس رپورٹ ہوئے۔ان میں سے 15 بچے تشدد کے باعث دم توڑ گئے یا انہیں قتل کر دیا گیا۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں کام کرنے والی چائلڈ سائیکالوجسٹ ماریہ حسین بتاتی ہیں کہ تشدد اور استحصال کا شکار بچے عموماً طویل عرصہ نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔

الائیڈ ہسپتال II فیصل آباد کی ماہر نفسیات جواہرہ احسان کہتی ہیں کہ اگر جسمانی وجنسی تشدد کا شکار بچے کی نفسیاتی بحالی کا کام بروقت شروع نہ کیا جائے تو ان کے خودکشی کرنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔

تاریخ اشاعت 12 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.