نقل مکانی یا تبدیلی مذہب: اٹک صدر کی ہندو آبادی میں متواتر کمی کیوں ہو رہی ہے؟

postImg

ندیم حیدر

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

نقل مکانی یا تبدیلی مذہب: اٹک صدر کی ہندو آبادی میں متواتر کمی کیوں ہو رہی ہے؟

ندیم حیدر

loop

انگریزی میں پڑھیں

ستائیس سالہ سیتا کماری(فرضی نام) ضلع اٹک کے علاقے صدر کی رہائشی ہیں۔ وہ اور جوزف ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور آپس میں شادی کرنا چاہتے تھے، مگر گھر والے نہیں مان رہے تھے۔
وہ بتاتی ہیں کہ "جوزف مسیحی ہیں اور صدر ہی میں رہتے ہیں۔ ہم دونوں کے مذاہب الگ تھے اس لیے گھر والوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ شادی نہ ہو۔ آخر دو سال بعد راضی ہو گئے۔ اب ہماری شادی کو پانچ سال ہو چکے ہیں۔"
ان کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد ان پر شوہر یا سسرال نے کبھی کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ تاہم انھوں نے اپنی مرضی سے ہندو مت چھوڑ کر مسیحی مذہب اپنا لیا ہے۔ وہ اب باقاعدگی سے چرچ جاتی ہیں۔ وہ والدین، رشتے داروں کے گھر جاتی ہیں اور رشتے دار بھی ان کے ہاں آ جاتے ہیں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
سیتا کماری کے بقول مسیحی لڑکے سے ان کی شادی کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس علاقے میں رہنے والے ہندو اور مسیحی کمیونٹی کے لڑکے لڑکیوں کی آپس میں پہلے بھی شادیاں ہوئی ہیں۔

راجیش لعل (فرضی نام) بھی اٹک کینٹ میں رہائش پذیر ہیں اور ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی بیٹی نے کچھ سال پہلے مسلمان لڑکے سے شادی کر لی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی بیٹی کالج میں پڑھتی تھیں۔ وہاں ان کی ایک مسلمان لڑکے سے جان پہچان ہو گئی اور دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصے بعد لڑکا رشتہ لے کر میرےگھر آ گیا۔ مسیحی لڑکوں سے تو ہندو لڑکیوں کی شادیاں پہلے بھی ہوچکی ہیں لیکن مسلمان سے شادی کا سن کر حیرت ہوئی۔ مگر بچوں کی ضد تھی اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی ہم  نے اپنی بیٹی مسلمان لڑکے سے بیاہ دی۔"

راجیش کی بیٹی جس مسلمان لڑکے سے بیا ہی گئی تھیں ان کا سال بعد ہی انتقال ہو گیا تھا اور ان کی بیٹی ان کے گھر واپس آ گئی تھیں۔ اسی دوران بیٹی کے ہاں بچے کی پیدائش بھی ہوئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد انھوں نے اپنی بیٹی کی دوسری شادی کا فیصلہ کیا۔ تو بیٹی کیوں کہ مسلمان ہو چکی تھیں اس لیے وہ دوبارہ بھی مسلمان سے بیا ہ کرنا چاہتی تھیں۔

"اس سلسلے میں کچھ جان پہچان والوں نے میری مدد کی اور ایک مسلم لڑکے نے میری بیٹی کو اولاد سمیت اپنا لیا۔"

راجیش لعل دعویٰ کرتے ہیں کہ اٹک صدر کے تمام مسیحی پہلے ' والمیکی ہندو' تھے اور یہ کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ اس لیے ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ ایک دوسرے کی غمی خوشی و تہواروں میں شرکت کرتے ہیں اور قبرستان بھی مشترکہ ہے۔

'ہندو والمیکی' برادری کی بنیاد مہارشی سوامی گرو والمیکی نے رکھی تھی جنہوں نے تیسری صدی قبل مسیح میں رامائن کی تالیف کی تھی۔ یہ لوگ وید پڑھتے اور رامائن کا پاٹھ کرتے ہیں۔ دوسرے ہندوؤں کے برعکس یہ لوگ اپنے مردے کو دفن کرتے ہیں۔

سماجی کارکن اشوک کمار کہتے ہیں کہ ہندو، مسیحی لڑکے لڑکیوں کی یہاں جتنی بھی شادیاں ہوئیں وہ سب پسند کی شادیاں تھیں۔ ان سب کے گھر والے نہ چاہتے ہوئے بھی رشتوں پر رضامند ہو گئے۔

لیکن بعض مقامی ہندؤوں کو یہ اعتراض ہے کہ ہندو لڑکی مسیحی نوجوان سے شادی کرے تو وہ مذہب تبدیل کر لیتی ہے۔ لیکن اگر کوئی مسیحی لڑکی ہندو نوجوان سے شادی کرتی ہے تو وہ اپنا مذہب نہیں چھوڑتی۔ پھر بھی بعض ہندو لڑکے بیوی کا مذہب اپنا لیتے ہیں۔

انسٹھ سالہ پرویز لعل کی بہو مسیحی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ "چند سال قبل میرے بیٹے آصف نے مسیحی لڑ کی سے شادی کی تھی۔اب دونوں خوشی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم نے بہو کو کبھی چرچ جانے سے نہیں روکا اور نہ ہی انہیں مندر جانے کے لیے کہا ہے۔"

برصغیر میں 1941ء کو ہونے والی مردم شماری کے وقت اٹک میں ہندوؤں کی تعداد ضلع کی کل آبادی کا 6.36 فیصد یعنی لگ بھگ 43 ہزار تھی۔ جبکہ اس زمانے میں اس شہر میں عیسائیت کو ماننے والے صرف 504 افراد تھے۔

 یونائٹیڈ پرسبیٹیرین(یو پی) چرچ کے پادری جاوید جانسن پیٹر اتفاق کرتے ہیں کہ اٹک کے زیادہ تر کرسچن، ہندو مت سے مسیحی ہوئے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ تاہم غریب ہندووں کو راشن مراعات کے ساتھ انگریزوں کے اچھے اخلاق نے بھی متاثر کیا۔

عارف کھوکھر کا تعلق ہندو برادری سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1992ء میں سانحہ بابری مسجد کے بعد اٹک صدر میں شری بالمیک مندر کو ان کے سامنے گرا دیا گیا تھا۔ تب کچھ ہندو خوف کے باعث یہاں سے چلے گئے تھے یا پھر مذہب تبدیل کر لیا تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ "وہ اگر مسلمان یا مسیحی ہو جائیں گے تو ان کی جان بچ جائے گی۔"

وہ سمجھتے ہیں کہ ہندو کمیونٹی کو دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ امتیازی سلوک اور منفی رویوں کا سامنا ہے۔ سرکاری نوکریوں اور مراعات میں بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ شاید مستقبل میں اٹک میں ایک بھی ہندو باقی نہ رہے۔

وجے کمار 11 سال سے محکمہ پولیس میں بطور سوئیپر کام کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہاں ہندوؤں کی اکثریت انتہائی غریب ہے۔ پڑھے لکھے افراد گنے چنے ہیں جن میں پنڈت سرون کمار فارماسوٹیکل کمپنی، راکیش کمار  اے ایس ایف میں ملازمت کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ چند لوگ سرکاری اداروں میں درجہ چہارم اور سوئیپر کی نوکری کرتے ہیں۔ کچھ ہنر مند ہندو فریج، اے سی مکینک، پینٹر اور درزی کا کام کرتے ہیں لیکن ان کا کاروبار بھی مندہ ہے۔ کیوں کہ یہاں پر بیشتر لوگ مذہب کے باعث ان سے لین دین نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

دیکھ کبیرا رویا: سندھ میں شیڈولڈ ذاتوں کے ہندو کیوں مسیحی اور کبیر پنتھی ہو رہے ہیں؟

وہ ایک سرکار ی ملازم امر داس کے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ سناتے ہیں۔ " امر داس کی ڈیوٹی کچھ دن کے لیے لنگر تقسیم کرنے پر لگا دی گئی۔ جب محکمے کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ ہندو مذہب سے ہیں تو انہوں نے کھانے لینے سے انکار کر دیا۔"

روپ لعل بھی ایک سرکاری ادارے میں 28 سال سے بطور سوئیپر کام کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مسیحی تہواروں پر کرسچن عملے کو حکومت کی جانب سے راشن اور نقد رقم کے خصوصی پیکج دیے جاتے ہیں۔ لیکن انہیں محروم رہنا پڑتا ہے "مسیحی ساتھی مجھے اکثر کہتے ہیں کہ آپ بھی مسیحی ہو جائیں۔ "

وہ کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی نے انٹر اچھے نمبروں سے پاس کر لیا ہے۔ لیکن بیٹی کو اچھے کالج یا یونیورسٹی میں داخل کر نے کی ان کی استطاعت نہیں ہے۔ حکومت کم از کم غریبوں کے بچوں کو پڑھانے کا انتظام ہی کر دے۔

تاریخ اشاعت 27 اکتوبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ندیم حیدر کا تعلق اٹک شہر سے ہے۔ گزشتہ آٹھ سال سے ملکی سطح کے مختلف نیوز چینلز کے ساتھ بطورڈسٹرکٹ رپورٹر کام کر رہے ہیں۔

thumb
سٹوری

مرد کے لیےطلاق آسان لیکن عورت کے لیےخلع مشکل کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر
thumb
سٹوری

بھنبھور: ہاتھی دانت کی صنعت کا سب سے بڑا مرکز

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی خوش خوراکی: 'وہ لوگ گوشت کھاتے اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

میدان جنگ میں عید: ایک وزیرستانی کا عید کے لیے اپنے گھر جانے کا سفرنامہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
thumb
سٹوری

پاکستان میں صنعتیں کلین انرجی پر چلانا کیوں مشکل ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

بلوچستان: عالمی مقابلے کے لیے منتخب باکسر سبزی منڈی میں مزدوری کر رہا ہے

thumb
سٹوری

گوڑانو ڈیم: تھر کول مائننگ کا پانی کیسے آبادیاں اور ارضیاتی ماحول تباہ کر رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو

جھنگ: سیم اور تھور ہماری زمینوں اور گھروں کو نگل گیا

thumb
سٹوری

نارنگ منڈی میں فرقہ واریت کی آگ کون بھڑکا رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ

پہاڑ نے بدلے میں قدرتی جنگل سے نواز دیا

thumb
سٹوری

'قراقرم ہائی وے پر بڑھتے حادثات کی وجہ کیا ہے، انسانی غلطی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

ضلع مہمند: "ہمارا وطن مشکلات کا وطن ہے"

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.