پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کے مسائل
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کے مسائل

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کے مسائل

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

عبدالواثق ایک وکیل ہیں۔ ان کی اٹھارہ سالہ بہن مہک 22 دسمبر 2020 کو کورونا وائرس میں مبتلا پائی گئیں۔ 

دو روز بعد ایک سرکاری اہل کار راولپنڈی شہر کی ہارلے سٹریٹ میں واقع ان کے گھر آئیں۔ انہوں نے خود کو 'سپروائزر' کے طور پر متعارف کرایا اور واثق اور ان کے اہل خانہ سے کہا کہ ان کو کورونا ٹیسٹ کروانا ہو گا۔ جب واثق کے گھر والوں نے پوچھا کہ آیا وہ ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے لیں گی یا ناک میں پھائے کے ذریعے لعاب حاصل کر کے یہ ٹیسٹ کریں گی تو وہ کوئی جواب نہ دے سکیں۔ 

یہ 'سپروائزر' نمونے لیے بغیر واپس چلی گئیں۔ 

26 دسمبر کو ایک اور سرکاری ٹیم ان کے گھر آئی۔ اس نے واثق کے اہل خانہ کے نام اور دیگر نجی معلومات حاصل کیں جن میں ان کے شناختی کارڈ اور موبائل فون نمبر بھی شامل تھے۔ مگر اس ٹیم نے بھی کورونا ٹیسٹ کے لیے گھر والوں میں سے کسی کے خون یا ناک کے لعاب کا نمونہ نہ لیا۔ 

پانچ روز بعد واثق اور ان کے تمام گھر والوں کو موبائل فون پر پیغامات کے ذریعے ان کے 'ٹیسٹ کی رپورٹیں' بھیج دی گئیں۔ پنجاب کے محکمہ ابتدائی و ثانوی صحت کی جانب سے جاری کردہ ان 'رپورٹوں' میں کہا گیا تھا کہ ان کے گھرانے کا کوئی فرد کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہے حالانکہ محکمے والوں نے ٹیسٹ کے لیے گھر کے کسی فرد کا بھی نمونہ نہیں لیا تھا۔ اسی دوران واثق کی بہن کورونا سے متعلقہ طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو کر انتقال کر گئیں۔ 
رابعہ بانو کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ 

نومبر 2020 میں محکمہ بنیادی و ثانوی صحت کے حکام نے انہیں بتایا کہ ان کے تمام اہل خانہ کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا ہو گا کیونکہ ان کے برادر نسبتی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ 20 نومبر کو ایک سرکاری ٹیم جوہر ٹاؤن میں واقع ان کے گھر آئی اور ٹیسٹ کے لیے گھر کے تمام افراد کے نمونے لے گئی۔

سات روز بعد جب انہیں ٹیسٹ کے نتائج موصول نہ ہوئے تو انہوں نے محکمے سے رابطہ کیا جس پر انہیں بتایا گیا کہ ان کے نمونے گم ہو گئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں 'تحقیق سے یہ سامنے آیا کہ محکمے کے اہلکاروں نے نمونوں پر نام نہیں لکھے تھے اور سب کو ایک ساتھ رکھ دیا تھا۔' 

اس دوران انہیں جو بھی افسر ملا اس سے انہوں نے اس معاملے کی شکایت کی۔ 

اگلے روز ایک سرکاری ملازم ان کے گھر آیا اور دوبارہ نمونے لے کر چلا گیا۔ بارہ گھنٹے کے بعد انہیں صرف ایک نمونے کی رپورٹ موصول ہوئی۔ اس کے بعد اب تک تین مہینے گزر چکے ہیں مگر انہیں اب بھی بقیہ لوگوں کی رپورٹوں کا انتظار ہے۔ 

رابعہ چھ ارکان پر مشتمل متوسط طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اگر ان کے تمام گھر والے نجی لیبارٹری سے کورونا ٹیسٹ کرائیں تو اس کے لیے انہیں 40 ہزار روپے فیس ادا کرنا پڑے گی جو ان کی استطاعت سے باہر ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'ہمارے لیے سرکاری ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔' 

پاکستان بھر میں ایسے لاکھوں گھرانے ہیں جو یا تو سرکاری بدانتظامی یا نجی لیبارٹریوں کی مہنگی فیسوں کے باعث کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں کرا سکتے۔ 

حکومت کو کورونا وائرس سے متعلق اعداد و شمار کی تیاری میں مدد دینے والی کمپنی لو فار ڈیٹا کے چیف ایگزیکٹو تجمل حسین سمجھتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے کورونا ٹیسٹ نہ کرانے کی وجہ اس پر اٹھنے والے بھاری اخراجات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اگر لوگوں میں کورونا کی علامات موجود بھی ہوں تو بھی وہ گھر پر رہ کر ہی بیماری کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔' 

اس وبا کے پھیلاؤ کی ابتدا میں نجی شعبے میں چلنے والی ہر لیبارٹری میں کورونا ٹیسٹ کی قیمت مختلف تھی۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی پہلی لہر مارچ اور جولائی 2000 کے درمیان آئی۔ اس وقت کورونا وائرس کا پتا چلانے والے پی سی آر (پولیمیریس چین ری ایکشن) ٹیسٹ کی فیس پانچ ہزار سے 11 ہزار روپے کے درمیان تھی۔ تاہم دسمبر 2020 میں حکومت نے ٹیسٹ کی فیس6500 روپے مقرر کر دی۔

تاہم یہ فیس بھی پاکستان میں بیشتر لوگوں کی استطاعت سے باہر ہے۔ حتیٰ کہ چھ سے سات افراد پر مشتمل اور ایک لاکھ روپے تک آمدنی والے متوسط طبقے کے خاندان بھی گھر کے تمام افراد کا نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کے لیے 40 ہزار روپے ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ 

اس وبا کے آغاز پر پاکستان کے پاس روزانہ صرف 200 افراد کے ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجود تھی۔ بعدازاں ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) جیسے عالمی اداروں کی مدد سے اس صلاحیت میں اضافہ ہوا جو پہلے روزانہ 30 ہزار پھر 50 ہزار ٹیسٹ تک پہنچ گئی۔ 

تاہم یہ صلاحیت کبھی بھی پوری طرح استعمال نہیں ہو پائی۔ 27 نومبر 2020 کو پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ٹیسٹ ہوئے جن کی تعداد 48 ہزار 223 تھی۔ اس کے بعد 18 دسمبر 2020 کو 48 ہزار 78 ٹیسٹ کیے گئے۔ 

درحقیقت پاکستان کورونا ٹیسٹ کرنے میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتا اور یہ بات سرکاری اعداد و شمار سے بھی واضح ہے۔ 

15 فروری 2021 تک پاکستان بھر میں ہونے والے کورونا ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 84 لاکھ 98 ہزار 22 تھی۔ اس دن تک پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 824 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مثبت ٹیسٹ کے لیے 16.5 ٹیسٹ کیے گئے۔ 

یہ تعداد ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کورونا کے ہر مصدقہ مریض کے مقابلے میں ٹیسٹوں کی طے کردہ کم سے کم تعداد (10 تا 20) کے تقریباً درمیان میں ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہر صحت ڈاکٹر فہیم یونس کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی ٹیسٹنگ کی صورتحال خراب ہے۔ 

انہوں نے پاکستان میں کیے جانے والے کورونا ٹیسٹوں کی تعداد کا دوسرے ممالک سے موازنہ کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور برطانیہ میں ہر 10 لاکھ افراد میں سے آٹھ لاکھ کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ انڈیا اور بنگلہ دیش میں یہ تعداد اگرچہ بہت کم رہی ہے لیکن وہاں بھی ہر 10 لاکھ میں سے 1 لاکھ 30 ہزار افراد کے ٹیسٹ ہوئے۔ تاہم پاکستان میں صورتحال بہت ہی خراب ہے کیونکہ یہاں ہر 10 لاکھ افراد میں سے صرف 30 ہزار کے ٹیسٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی حالیہ ٹویٹ میں بتایا ہے کہ اگر کورونا ٹیسٹ کے حوالے سے عالمی درجہ بندی کو دیکھا جائے تو پاکستان 156 ویں نمبر پر آتا ہے۔

تاہم اس تعداد کے پیچھے بہت سی اندرونی بے قاعدگیاں چھپی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا ٹیسٹوں کی تعداد پاکستان کی آبادی میں اس کے حصے سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح مجموعی ٹیسٹنگ میں سندھ اور خیبر پختونخوا (اس میں قبائلی علاقے شامل نہیں) میں ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد بھی ان کی آبادی کے تناسب سے قدرے زیادہ ہے۔ 

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں ایک بھی ٹیسٹ نہیں ہوا جبکہ پورے بلوچستان میں روزانہ صرف 500 ٹیسٹ ہو رہے ہیں حالانکہ وہاں پاکستان کی پانچ فیصد سے زیادہ آبادی مقیم ہے۔ 

ان اعدادوشمار کو مزید تفصیل سے دیکھا جائے تو صوبوں کے مختلف حصوں میں ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد میں بھی بہت سے فرق نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر سندھ میں بیشتر ٹیسٹ کراچی میں ہوئے جبکہ پنجاب میں سب سے بڑی تعداد میں ٹیسٹ لاہور میں لیے گئے۔ 

پنجاب میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی 52 لیبارٹریوں میں سے 32 لاہور میں ہیں حالانکہ جنوبی پنجاب کے اضلاع جیسا کہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں بعض اوقات کورونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد شاید لاہور سے زیادہ بھی رہی ہے۔ 

ٹیسٹنگ کی سہولیات کا لاہور میں اس قدر ارتکاز اس شہر سے دور رہنے والے لوگوں کے لیے بہت سے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ زیادہ تر دیہی آبادی پر مشتمل ضلعے پاک پتن میں رہنے والی ایک خاتون کو شکایت ہے کہ اسے کورونا ٹیسٹ کرانے کے لیے اپنے گھر سے 185 کلومیٹر کا سفر طے کر کے لاہور آنا پڑا۔ 
کراچی سے تعلق رکھنے والی وبائی امراض کی ماہر ڈاکٹر شوبھا لکشمی کورونا ٹیسٹنگ کے سرکاری نظام میں شہری آبادی کو حاصل ترجیح کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں قائم بیشتر لیبارٹریوں میں پی سی آر ٹیسٹ کے لیے درکار مہارت اور وسائل ہی موجود نہیں ہوتے۔ وہ کہتی ہیں 'یہ ٹیسٹ نمونوں کے حصول اور تجزیوں میں جس خاص احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں وہ بڑے شہروں میں ہی ممکن ہے۔' 

اسی لیے ڈاکٹر لکشمی یہ تجویز دیتی ہیں کہ حکومت چھوٹے شہروں اور دیہات میں ٹیسٹنگ کا ایسا نظام متعارف کرائے جو لوگوں کے گھر کے پاس موجود مرکز صحت میں ہی ہو سکے۔ ایسے طبی مراکز پر لوگوں میں کورونا کے خلاف مدافعت کی نشاندہی کرنے والے ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ نا صرف آسان ہوتے ہیں بلکہ ان کے نتائج بھی فوری آتے ہیں اور ان کے ذریعے انفیکشن کا پتہ چلانے میں زیادہ دقت نہیں ہوتی۔ 

ملک بھر میں ہر جگہ دستیاب اور یکساں طور پر موثر ٹیسٹنگ کے ایسے طریقہ کار کی عدم موجودگی میں حکومت یا تو کورونا کے متاثرین کی حقیقی تعداد جاننے سے محروم رہتی ہے یا اس کے پھیلاؤ کی خطرناک ترین جگہیں سرے سے نظر ہی نہیں آتی ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی ادویہ ساز کمپنی گیٹز فارما کے زیراہتمام بہت سے لوگوں کے خون کے نمونوں کے ذریعے کیے جانے والے جائزے سے موخرالذکر خدشہ درست ثابت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر لکشمی کے مطابق 'ٹیسٹوں کے موجودہ طریقہ کار کے ہوتے ہوئے اگر بہت سے مثبت کیس سامنے آنے سے رہ جائیں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے'۔ لہٰذا وہ خبردار کرتی ہیں کہ 'حکومت کی جانب سے ٹیسٹنگ کا بہتر طریقہ متعارف کرائے جانے تک ہم اس بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔' 
پنجاب کی حد تک دیکھا جائے تو اگرچہ سرکاری سطح پر ہونے والی ٹیسٹنگ میں بہت سے مسائل ہیں مگر نجی لیبارٹریوں کی صورتحال بھی اطمینان بخش نہیں کہی جا سکتی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے حسیب نیازی کو پیش آنے والی صورتحال سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے 31 اکتوبر 2020 کو چغتائی لیب میں کورونا ٹیسٹ کے لیے اپنا نمونہ دیا کیونکہ انہیں اپنے اہل خانہ سے ملنے متحدہ عرب امارات جانا تھا۔ اس لیبارٹری نے انہیں ٹیسٹ کا جو نتیجہ دیا اس کی رو سے وہ کورونا وائرس سے متاثر تھے۔ 

حسیب نیازی کہتے ہیں کہ ان میں کورونا کی کوئی علامت نہیں تھی اور سماجی رابطوں میں خاص احتیاط کے باعث ان کا اس وائرس سے متاثر ہونے کا امکان بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا اور اس مرتبہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی لیبارٹری کا انتخاب کیا۔ تاہم اس مرتبہ ان کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا یعنی وہ کورونا وائرس سے متاثر نہیں تھے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس لیبارٹری کی رپورٹ پر یقین کریں۔ وہ کہتے ہیں 'میرا تمام سفری منصوبہ اور اہل خانہ کی صحت کا دارومدار میرے ٹیسٹ کے نتائج پر تھا۔' 

اس پریشانی سے بچنے کے لیے انہوں نے چھ روز بعد شوکت خانم ہسپتال کی لیبارٹری سے ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ کرایا۔ جب اس ٹیسٹ کا نتیجہ بھی منفی آیا تو تبھی وہ متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوئے۔ 

ان کے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ نجی لیبارٹریوں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانے کے لیے اقدامات کرتے تا کہ وہاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ طریقہ ہائے کار اور ضوابط کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر حکومت پاکستان میں ٹیسٹنگ کے بحران پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ نتیجتاً اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ 6500 روپے دے کر بھی آپ نے اپنے ٹیسٹ کے درست نتائج حاصل کیے ہیں یا نہیں۔ 

دوسری جانب چغتائی لیب کے عملے کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے نتائج کا دارومدار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے اسی لیے لیبارٹری میں ٹیسٹ کا غلط نتیجہ آنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں دستیاب سب سے اچھی ٹیسٹ کِٹ کے ذریعے بھی درست نتیجے کا زیادہ سے زیادہ امکان 70 فیصد ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ایسے ساز و سامان کے ذریعے کیے جانے والے ہر ٹیسٹ کا درست نتیجہ حاصل کرنا ممکن ہی نہیں۔ 

تاہم حسیب نیازی پاکستان میں نجی ٹیسٹنگ کے معیار کی شکایت کرنے والے واحد شہری نہیں ہیں۔ غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کے بارے میں ایسی ہی شکایات کی ہیں۔ مثال کے طور پر وبا کی پہلی لہر میں امارات ایئر لائن اپنے مسافروں کے چغتائی لیب سے کرائے گئے ٹیسٹ کے نتائج قبول کرتی تھی تاہم بیماری کی دوسری لہر میں اس نے اسی لیب کے نتائج قبول کرنا بند کر دیے۔ 

لاہور میں رہنے والی 27 سالہ برطانوی پاکستانی شہری نور جہاں مختلف لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کے لیے اختیار کردہ مختلف طریقہ ہائے کار کار کو اس کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ 

نور جہاں اور ان کے شوہر نے حالیہ دنوں لندن جانے سے پہلے کورونا ٹیسٹ کرانا تھا لہٰذا انہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے کسی یقینی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ایک کے بجائے دو لبیارٹریوں سے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا۔ 

ان کا کہنا ہے کہ دونوں لیبارٹریوں نے الگ الگ قواعد و ضوابط اختیار کیے۔ ایک لیبارٹری نے ٹیسٹ کے لیے ایک نتھنے سے روئی کے ذریعے لعاب حاصل کیا جبکہ دوسری نے اس مقصد کے لیے نا صرف دونوں نتھنوں بلکہ گلے سے بھی لعاب لیا'۔ 

تاہم ان شکایات پر حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس حولاے سے پنجاب میں ٹیسٹنگ کے عمل کی نگرانی کے ذمہ دار ابتدائی و ثانوی صحت کے محکمے کا کردار اس قدر غیر شفاف ہے کہ اس نے مندرجہ بالا حالات پر میڈیا کے ساتھ بات کرنے سے بھی انکار کر رکھا ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 22 فروری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 7 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔