براڈ شیٹ کیس: 20 سال میں کیا ہوتا رہا
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

براڈ شیٹ کیس: 20 سال میں کیا ہوتا رہا

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

براڈ شیٹ کیس: 20 سال میں کیا ہوتا رہا

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

براڈ شیٹ نامی کمپنی کے سربراہ کاوے موساوی کی طرف سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات کے نتیجے میں پاکستانی سیاست میں گرما گرمی عروج پر ہے۔ کاوے موساوی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب براڈ شیٹ نے پاکستانی حکومت کے خلاف برطانیا میں ثالثی کا ایک مقدمہ جیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کمپنی کو برطانیا میں پاکستانی سفارتخانے کے بینک اکاؤنٹ سے تقریباً دو کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی گئی ہے۔

پچھلی دو دہائیوں کے دوران پاکستان اور براڈ شیٹ کے درمیان اس قضیے میں کب کیا ہوتا رہا اس کی مختصر تفصیل درج سطور میں ملاحظہ کیجیے۔ 

اکتوبر 1999 :

جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کے فوجی چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) جاری کیا۔ 

اکتوبر 1999 :

مشرف حکومت نے بدعنوانی میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) قائم کیا جس کے پہلے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید امجد حسین تھے۔ 

اکتوبر 1999 :

دبئی میں کام کرنے والے ایک اکاؤنٹنٹ غصنفر صادق علی اور ان کے ساتھی طارق فواد ملک نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل امجد حسین سے ملے اور انہیں پیشکش کی کہ ایک غیر ملکی کمپنی ٹروونز ایل ایل سی پاکستانیوں کے بیرون ملک ناجائز اثاثوں کا پتا چلانے میں نیب کی مدد کر سکتی ہے۔ طارق فواد ملک نے اس ملاقات میں دعویٰ کیا کہ وہ ٹروونز ایل ایل سی کے پاکستان میں نمائندے ہیں۔ 

اپریل 2000 : 

لیفٹیننٹ جنرل امجد حسین طارق فواد ملک کے ذریعے امریکی ریاست کولوراڈو میں ٹراوونز ایل ایل سے کے نمائندے جیری جیمز اور ڈاکٹر ولیم پیپر سے ملے اور نیب کے لیے ان کی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ 

28 مئی 2000 :

پاناما میں رجسٹرڈ دو کمپنیوں آکسفورڈ انٹرنیشنل ہولڈنگز اور برک شائر ہولڈنگز نے برطانوی جزیرے آئل آف مین میں براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی شیل کمپنی قائم کی جس کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 200 پاؤنڈ تھی۔ اس کمپنی کے مالک امریکی ریاست کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے جیری جیمز تھے۔ جیری جیمز ٹراوونز ایل ایل سی کے شریک مالک بھی تھے۔ اس کمپنی کو بنانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ٹروونز ایل ایل سی کے شریک مالک رونلڈ روڈمین کو کولوراڈو بار نے دھوکہ دہی کے جرم میں پانچ سال کے لیے وکالت سے روک دیا تھا۔ 

20 جون 2000 :

نیب نے مبینہ بدعنوانی کی رقم سے بیرون ملک بنائی گئی جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کی تلاش میں معاونت کے لیے ٹروونز ایل ایل سی کے بجائے چند ہفتے پہلے بنائی گئی براڈ شیٹ ایل ایل سی کے ساتھ معاہدہ کیا حالانکہ اس کمپنی کے پاس بیرون ملک اثاثوں کا پتہ چلانے کا تجربہ نہیں تھا۔ براڈ شیٹ ایل ایل سی کو نیب کے مرکزی دفتر میں اپنا دفتر قائم کرنے کی اجازرت دی گئی اور اس کے لیے کوئی کرایہ یا دوسرے اخراجات بھی نہیں لیے گئے۔ یہ دفتر طارق فواد ملک چلاتے تھے۔ 

جب مشرف نے لوٹی دولت واپس لانے کا اعلان کرتے ہوئے نیب قائم کیا تو اسی وقت براڈ شیٹ کمپنی بھی وجود میں آ گئی۔ 

جولائی 2000 :

نیب نے برطانوی کمپنی انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری (آئی اے آر) سے بھی براڈ شیٹ جیسا معاہدہ کر لیا۔ اس دوران طے پایا کہ یورپ، امریکہ اور ایشیا میں اثاثوں کی تلاش کا کام براڈ شیٹ کرے گی جبکہ دنیا کے دیگر حصوں میں یہ کام آئی اے آر کو سونپا گیا۔ کچھ سال بعد کاوے موساوی نے آئی اے آر کو خرید لیا۔ 

17 جولائی 2000 :

نیب نے براڈ شیٹ کو 17 افراد کے ناموں کی فہرست بھیجی اور ان کے بیرون ملک مبینہ اثاثوں کا پتہ چلانے کو کہا۔ 

جولائی 2000 :

براڈ شیٹ کے مالک جیری جیمز نے نیب کی دی ہوئی فہرست میں موجود لوگوں کے خلاف کارروائی کے لیے میٹرکس ری پروچ نامی برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کیں جس کے عوض اس نے اسے پانچ لاکھ ڈالر ادا کیے۔ 

12 اگست 2000 :

نیب نے مبینہ بدعنوانی میں ملوث پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کا پتہ چلانے کے لیے براڈ شیٹ کو دوسری فہرست بھیجی جس میں 16 افراد کے نام شامل تھے۔ 

4 ستمبر 2000 :

نیب نے براڈ شیٹ کو تیسری فہرست بھیجی جس میں 51 افراد کے نام شامل تھے۔ 

نومبر 2000 :

میٹرکس ری پروچ کے نمائندوں نے پاکستان آ کر نیب کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور نیب کی دی ہوئی فہرستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ 

8 نومبر 2000 :

نیب نے مبینہ بدعنوانی میں ملوث پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کا پتہ چلانے کے لیے براڈ شیٹ کو چوتھی اور پانچویں (آخری) فہرستیں بھیجی گئیں جن میں بالترتیب 75 اور 40 افراد کے نام شامل تھے۔

دسمبر 2000 :

لیفٹیننٹ جنرل امجد حسین نیب کے چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔ 

یکم جنوری 2001 :

لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ 

فروری 2001 :

میٹرکس ری پروچ کے نمائندوں ںے نیب حکام سے اسلام آباد میں دوسری ملاقات کی۔ 

مئی 2001: میٹرکس ری پروچ کے نمائندوں نے نیب حکام سے اسلام آباد میں تیسری ملاقات کی۔اس کے بارے میں انہوں نے ثالثی عدالت کے جج کو بتایا کہ نیب نے اپنی فہرستوں میں موجود لوگوں کے بارے میں ان کے سوالات کا جواب دینے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔  

جون 2001 :

نیب نے دو پاکستانی کاروباری افراد سلطان لاکھانی اور صدرالدین ہاشوانی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے پورے خاندان سمیت بہت سے افراد کے نام براڈ شیٹ کو دی گئی فہرست سے واپس لے لیے۔ 

اکتوبر 2001 :

لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نیب کے چیئرمین اور طلعت گھمن ڈائریکٹر اوورسیز ونگ بنا دیے گئے۔ 

28  اکتوبر 2003 :

نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا جس کے بعد براڈ شیٹ نے نیب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا۔

10 نومبر 2004 :

لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ 

احمر بلال صوفی نے نیب کی جانب سے براڈ شیٹ کے ساتھ تصفیہ کرتے ہوئے کولوراڈو میں قائم نئی براڈ شیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر ادا کیے۔ 

2005 :

براڈ شیٹ اپنے وکیل کو 19 ہزار ڈالر کی رقم ادا نہ کرنے پر دیوالیہ قرار دے دی گئی اور آئل آف مین کی ایک عدالت نے اس کی تحلیل کا حکم دے دیا۔ لیکن براڈ شیٹ کے مالک جیری جیمز نے کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے بعد اسے تحلیل کر دیا اور امریکی ریاست کولوراڈو  میں اسی نام سے ایک اور کمپنی قائم کر لی جس میں ڈاکٹر ولیم پیپر بھی اس کے ساتھ تھے۔ دیوالیہ ہونے والی براڈ شیٹ کو کچھ سال بعد اس کے واجب الادا قرضوں سمیت کاوے موساوی اور ڈاکٹر پیپر نے اپنے زیر انتظام لے لیا۔

17 اپریل 2007 :

نیب کے وکیل احمر بلال صوفی نے جیری جیمز کے ساتھ تصفیے کے لیے مذاکرات شروع کر دیے۔  

19 اپریل 2007 :

احمر بلال صوفی نے آئی اے آر کے ساتھ تصفیے کے لیے اس کی نمائندگی کرنے والے کاوے موساوی اور ڈاکٹر پیپر کے ساتھ مذاکرات کیے جس میں طے پایا کہ پاکستان اس کمپنی کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرنے کی پاداش میں اسے 22 لاکھ پچاس ہزار ڈالر دے گا اور کمپنی پاکستان کے خلاف مزید عدالتی کارروائی نہیں کرے گی۔ 

7 جولائی 2007 :

شاہد عزیز کی جگہ نوید احسن کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ 

جنوری 2008 :

نیب نے آئی اے آر کے ساتھ حتمی تصفیہ کر لیا اور اس کو رقم کی ادائیگی کر دی۔ 

20 مئی 2008 :

نیب نے جیری جیمز کی امریکہ میں قائم براڈ شیٹ کمپنی کے ساتھ تصفیہ کر کے اسے 15 لاکھ ڈالر ادا کر دیے۔

ستمبر 2009 :

کاوے موساوی کی ہدایت پر ڈاکٹر پیپر نے پاکستان کو نوٹس بھیجا کہ برطانوی جزیرے آئل آف مین میں قائم براڈ شیٹ کے ساتھ اپنا معاہدہ یک طرفہ ختم کرنے پر پاکستان 51 کروڑ پندرہ لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرے۔ 

نومبر 2009 :

آئل آف مین میں براڈ شیٹ کی تحلیل کے لیے چلنے والی کارروائی روک کر ایک مقامی عدالت نے اسے اختیار دیا کہ وہ پاکستان سے ہرجانہ وصول کرنے کے لیے عدالتی کارروائی شروع کر سکے۔ کاوے موساوی اور ڈاکٹر ولیم پیپر اس سے پہلے براڈ شیٹ ایل ایل سی کے تمام کاروباری اور انتظامی حقوق خرید چکے تھے۔ 

24 فروری 2010 :

نیب کے چیئرمین نوید احسن نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 

جنوری 2016 :

لندن کی ثالثی عدالت (لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربٹریشن) میں سینئر جج سر انتھونی ایونز کے روبرو نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان مقدمے کا آغاز ہوا جس کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ ان کے درمیان معاہدے کے خاتمے کا ذمہ دار کون ہے۔ 

اگست 2016 :

براڈ شیٹ نے نیب کے خلاف یہ دعویٰ جیت لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ وہ نیب سے ہرجانے کی رقم کی وصولی کی حقدار  ہے۔ 

2000  سے 2008 تک کاوے موساوی براڈ شیٹ کا حصہ نہیں تھے۔

دسمبر 2018 :

عدالت (ایل سی آئی اے) نے نیب کے خلاف دو کروڑ 15 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا۔ تب سے اب تک روزانہ کی بنیاد پر لگنے والا 4758 ڈالر سود شامل کیا جائے تو یہ رقم دو کروڑ 87 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ علاوہ ازیں مقدمے کے اخراجات کے ضمن میں پاکستان کو مزید 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا حکم بھی دیا گیا۔ یہ ادائیگی باقی ہے۔  

جون 2020 :

براڈ شیٹ نے ثالثی عدالت سے عبوری حکم حاصل کیا کہ پاکستان نے اسے رقم کی ادائیگی کرنا ہے لہٰذا اس کے جہاں بھی اثاثے ہوں ان کی قرقی کے لیے ایک ضمنی حکم جاری کیا جائے۔ 

17 نومبر 2020 :

لندن ہائی کورٹ نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے دو کروڑ 87 لاکھ ڈالر لینے کا حکم دیا۔ عدالت نے پاکستان کو 22 دسمبر تک اس فیصلے کو چیلنج کرنے اور 31 دسمبر تک ادائیگی مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی مگر پاکستان دونوں تاریخوں پر یہ اقدامات کرنے میں ناکام رہا۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

بینکوں کے مہنگے قرضے اور افسر شاہی کے تاخیری حربے کس طرح شمسی توانائی کے فروغ کو روک رہے ہیں۔

یکم جنوری 2021 :

وفاقی کابینہ نے بینک سے پیسے کٹ جانے کے بعد براڈ شیٹ کو رقم ادا کرنے کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ عدالت کی جانب سے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے رقم نکوالنے کے فیصلے کو چیلنج کرے گی۔ 

21 جنوری 2021 :

حکومت نے براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہ میں کمیٹی قائم کر دی۔ یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ براڈ شیٹ اور آئی اے آر کا انتخاب کیسے کیا گیا، ان کمپنیوں کا تعارف کس نے کرایا اور معاہدے کا ڈرافٹ کس نے تیار کیا۔2003 میں کن وجوہات کی بنا پر معاہدے کو منسوخ کیا گیا، نیب نے کب معاہدے کی منسوخی کا فیصلہ کیا اور کیا معاہدے کی منسوخی سے قبل براڈ شیٹ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔جنوری 2008 میں آئی اے آر اور مئی 2008 میں براڈ شیٹ کے ساتھ تصفیے کی شرائط کیا تھیں، تصفیے کے وقت کس قسم کی قانونی مشاورت کی گئی، تصفیے کے لیے ادائیگی کا طریقہ کار کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے کس انداز میں لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (ایل سی آئی اے) کے روبرو کارروائی میں حصہ لیا اور لندن ہائی کورٹ آف جسٹس میں اپیل دائر کی، کیا قانونی چارہ گوئی کے عمل کی معقول نگرانی کی گئی۔ دعوے دار کو ادائیگی کے عمل اور برطانیہ میں حکومت پاکستان کے اثاثوں کی حفاظت کے بارے میں بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی کو کسی بھی فرد کو طلب کرنے اور کسی بھی محکمے سے ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔

جنوری 2021 :

پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے جسٹس عظمت سعید شیخ کی تقرری کو رد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس عظمت سعید شیخ خود نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رہے ہیں اور عدالتی کارروائیوں میں بھی وہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے لوگوں کے خلاف فیصلے دینے میں شامل رہے ہیں۔ اس لیے ان کے غیر جانبدار ہونے پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 2 فروری 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 9 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔