ٹھٹھہ میں گاڑہو کا پان: مقامی سطح پر پان کی کاشت نے کسانوں کے لیے امکانات کے نئے در کھول دیے

postImg

اویس رحمانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ٹھٹھہ میں گاڑہو کا پان: مقامی سطح پر پان کی کاشت نے کسانوں کے لیے امکانات کے نئے در کھول دیے

اویس رحمانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

حیدر آباد کے علاقے گاڑی کھاتا میں محمد علی میمن نے ایک کیبن میں پان کی دکان کھول رکھی ہے۔ صبح سے رات تک ان کے ہاں گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔  وہ طرح طرح کے پان بیچتے ہیں تاہم خاص پان کی قیمت پانچ سو سے آٹھ سو روپے تک ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں "پان میں شامل کی جانے والی اشیا مختلف ہو سکتی ہیں مگر پتا سب میں ایک سا  پڑتا ہے۔ پہلے ہم سری لنکا سے آنے والا پتا استعمال کرتے تھے مگر ایک تو وہ بہت مہنگا ہو گیا ہے دوسرا آتا کم ہے، اسی لیے اب ہم گاڑہو سے پان منگواتے ہیں جو سستے اور آسانی سے دستیاب ہیں، اور ذائقے میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے۔"

صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے ساحلی شہر گاڑہو سے ملک بھر کو پان کے پتے بھیجے جاتے ہیں اور ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

50 سالہ رحمت اللہ گاڑہو میں چھوٹے کسان ہیں اور ایک ایکڑ پر پان کاشت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "پاکستان میں پہلے انڈیا اور سری لنکا سے پان کے پتے درآمد کیے جاتے تھے لیکن چند برس قبل ہم نے یہاں پان لگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ سری لنکا کا پان ہمارے پان کی نسبت بڑا اور میٹھا ہوتا ہے مگر ہمارا پان بھی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ہمارے پاس تین اقسام کے پان سانجی، سیلون اور پاکستانی بڑے پیمانے پر اگائے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ پر پان کاشت کرنے کے لیے تقریباً 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اچھی فصل ہو تو اس سے سال میں ایک کروڑ روپے کمائی ہو جاتی ہے۔

رحمت اللہ بتاتے ہیں کہ پان دیگر فصلوں کی طرح کھلے آسمان کے نیچے نہیں اگتے۔ ان کو ہلکے سائے کی ضرورت پڑتی ہے اسی لیے پہلے چھاپرے بنائے جاتے ہیں۔چھاپرا تیار کرنے کے لیے پہلے لکڑی کےکھمبے یا پلر لگائے جاتے ہیں۔ ایک ایکڑ میں ایک ہزار سے 12 سو پلر لگائے جاتے ہیں جن پر چھ لاکھ کے قریب لاگت آتی ہے۔ چھت بنانے کے لیے چٹائی درکار ہوتی ہے۔ ایک ایکڑ میں سات سو سے زیادہ چٹائیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک چٹائی کی قیمت تقریباً چھ سو روپے ہے اور اس چھت پر مجموعی طور پر پانچ لاکھ روپے کے قریب خرچ ہوتے ہیں۔ چھت کی بدولت پودے تیز دھوپ کے علاوہ تیز ہوا اور مٹی سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

پان کی کاشت کے لیے ایک ایکڑ میں تقریباً پانچ سو سے چھ سو تک گملے لگتے ہیں۔ ایک گملے کی قیمت نو سو روپے تک ہوتی ہے۔ پان کی فصل کے چاروں طرف دیوار بنائی جاتی ہے۔ کھاد، ادویات اور مزدوری کے علاوہ دیگر اخراجات بھی ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سیلاب، بارشیں اور تیز ہوائیں نقصان نہ پہنچائیں تو پان کے پودے کی عمر 20 سے 25 سال ہو سکتی ہے۔ ایک ہفتے میں دو مرتبہ پان کے پتے چنے جاتے ہیں۔ بڑے، چھوٹے اور سب سے چھوٹے پتوں کو الگ الگ کیا جاتا ہے۔ ان کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں۔ پتے توڑنے کے بعد دو ہفتوں میں نئے پتے پیدا ہو جاتے ہیں۔"

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے تین شہروں کراچی ، حیدرآباد اور ٹھٹہ میں پان کی منڈی لگتی ہے۔

گاڑہو سے تعلق رکھنے والے ایک اور کاشت کار میر بلوچ نے بتایا کہ وہ پان کی فصل کا اپنی اولاد کی طرح خیال رکھتے ہیں۔ پان نازک ہوتے ہیں اس لیے ان کی سارا دن دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ کھیت میں گودائی اور پٹائی ہوتی ہے اور پودوں کی بیماری پر ہر وقت نظر رکھی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سانجی پان کی فصل سب سے اچھی ہوتی ہے۔ سیلون پان نازک ہوتا ہے اور اس میں ہوا اور گرمی برداشت کرنے استطاعت بہت کم ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کی پیداوار بھی کم ہوتی ہے۔

پاکستان میں کسانوں کے لیے سود مند اس فصل پر اب تک کوئی تحقیق منظر عام پر نہیں آئی اور نہ ہی محکمہ زراعت کے عملے کو اس بارے میں کچھ علم ہے۔

گاڑہو میں سات سے آٹھ ہزار چھاپروں میں بڑے پیمانے پر پان کی پیداوار ہوتی ہے۔

پان کے کھیت پر مزدوری کرنے والے عثمان بلوچ نے بتایا کہ وہ ہفتے میں دو دن پان کے پتے چنتے ہیں۔ پانی بھی بہت احتیاط سے دینا پڑتا ہے۔ پان کے کھیتوں میں نالیوں کے ذریعے اتنا پانی دیاجاتا ہے جو چند منٹوں کے اندر زمین میں جذب ہو جائے۔ اگر پانی کھڑا ہو جائے گا تو پان کی فصل تباہ ہو جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ موسم سرما میں پان کی پیدوار میں کمی آجاتی ہے۔

حیدر آباد میں پان منڈی کے کمیشن ایجنٹ اعجاز عزیز نے بتایا کہ وہ گاڑہو کے زمین داروں سے کمیشن پر مال خریدتے ہیں۔ انہیں پان پر 15 روپے فی کلو کمیشن ملتا ہے اور وہ اسے دکان داروں اور دیہی علاقوں میں فروخت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیلون پان دو ہزار سے تین ہزار روپے کلو، سانجی پان 13 سو سے 15 سو روپے کلو جبکہ سری لنکا کا پان ساڑھے چار ہزار روپے کلو فروخت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

تھل میں کسانوں نے روایتی فصلوں کی کاشت سے منہ موڑ لیا، چنے، مونگ پھلی اور گوار کے کھیت سکڑنے لگے

"اس کاروبار میں کبھی کبھی ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ ہم مال خرید کر جلد آگے فروخت کر دیتے ہیں۔ اگر تین دن میں پان فروخت نہ ہو تو پتا سُکڑ کر خراب ہو جاتا ہے جس سے ہمیں بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں منگل اور ہفتے کے روز منڈی لگتی ہے جس میں پان کا ہزاروں کلو پتا فروخت ہوتا ہے۔ منڈی کے ایک دکان دار کامران قائم خانی نے بتایا کہ وہ مال خرید کر اسی وقت برف کے ٹکڑے کے ساتھ ٹوکری میں ڈال کر ٹھنڈی جگہ پر رکھ دیتے ہیں اور پھر اسے عمر کوٹ، بدین، سانگھڑ، نواب شاہ، تھرپارکر سمیت دیگر اضلاع میں فروخت کیا جاتا ہے۔

رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ اگر کسانوں کو پان کی کاشت کے حوالے سے رہنمائی اور وسائل مہیا کیے جائیں تو یہ ملک کی نقد آور فصلوں میں ایک اور اچھا اضافہ ہو گا۔

تاریخ اشاعت 9 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد اویس رحمانی کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے۔ پانچ سال سے حیدرآباد میں صحافت کر رہے ہیں۔ زراعت اور رورل ڈیولپمینٹ پر لکھنے کا شوق ہے۔

thumb
سٹوری

لاہور: اندرون شہر کے کئی علاقوں میں سولر پینلز لگانا مشکل، حل کیا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

ضلع خیبر: ڈوبتی ہوئی زراعت کو سولر سسٹم کا سہارا

لاہور کی یونیورسٹیاں، فضائی آلودگی کے خلاف متحد

thumb
سٹوری

شانگلہ میں سیاح کیوں نہیں جاتے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

آزاد کشمیر: میرپور میں ماحول دوست عوامی گاڑی چل پڑی

thumb
سٹوری

شمسی توانائی، قبائلی ضلع خیبر کے لوگوں کی تکالیف کیسے کم کررہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

بجلی آئے نہ آئے، ہسپتال کھلا ہے

thumb
سٹوری

کاسا-1000: کرغزستان اور تاجکستان سے بجلی لانے والی ٹرانسمشن لائن کا کام کب شروع ہو گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

لیپ آف فیتھ: اقلیتی رہنماؤں کے ساتھ پوڈ کاسٹ سیریز- ڈاکٹر یعقوب بنگش

کل مالی تھا آج ایم فل ہوں

چلتے پھرتے سولر سسٹم بھکر پہنچ گئے

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا میں انصاف کے متبادل نظام کی کمیٹیاں، ایک بھی خاتون شامل نہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.