بہاولپور: نواب، گدی نشین، چودھری اور ملک آمنے سامنے

postImg

محمد یاسین انصاری

postImg

بہاولپور: نواب، گدی نشین، چودھری اور ملک آمنے سامنے

محمد یاسین انصاری

پولنگ کا دن جوں جوں قریب آرہا ہے ضلع بہاولپور میں انتخابی مہم میں تیزی آ  گئی ہے۔

اس ضلعے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 23 لاکھ 22 ہزار 545 ہے جن میں 12 لاکھ 44 ہزار مرد 324 اور 10 لاکھ 78 ہزار 221 خواتین ووٹر ہیں۔

بہاولپور کی پہلی قومی نشست این اے 164 تحصیل خیر پور ٹامیوالی اور حاصل پور کے علاقوں مشتمل ہے جہاں ریاض حسین پیرزادہ ن لیگ، سید عرفان احمد گردیزی پیپلز پارٹی اور ملک اعجاز احمد گڈن پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔ اس حلقے میں جماعت اسلامی اور تحریک لبیک نے بھی اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پچھلے عام انتخابات میں یہاں سے پی ٹی آئی کے نعیم الدین وڑائچ کو دس ہزار ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔

اس بار نعیم الدین وڑائچ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے تھے اور تحریک اںصاف نے ملک اعجاز گڈن کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس حلقے سے ریاض پیر زادہ کئی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اور مضبوط ترین امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔

تاہم اس حلقے میں ملک اعجاز کی گڈن برادری کے بہت سے ووٹ ہیں اور انہیں پاپولر پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ سید عرفان گردیزی کا خاندان یہاں دہائیوں سے الیکشن لڑتا آ رہا ہے اور انہیں ذاتی ووٹ بینک کے ساتھ کسی حد تک ارائیں برادری کی حمایت بھی حاصل ہے۔

سیاسی و سماجی کارکن رانا ناصر محمود کا خیال ہے کہ اس حلقے میں فائنل ریس میاں ریاض حسین پیرزادہ اور ملک اعجاز کے درمیان ہو گی۔ اگرچہ اس وقت ن لیگ کے امیدوار کا پلہ بھاری ہے تاہم عرفان گردیزی کی موجودگی ریاض پیرزادہ کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس نشست پر زبردست مقابلہ ہے لیکن اگر پی ٹی آئی کے سابقہ امیدوار نعیم الدین وڑائچ جو جٹ برادری میں مقبول ہیں، نے پوری قوت سے ملک اعجاز کا ساتھ دیا تو تحریک انصاف بازی پلٹ سکتی ہے۔

اس قومی حلقے کی نیچے دو صوبائی نشستیں آتی ہیں جن میں پہلی پی پی 245 خیر پور ٹامیوالی ہے۔ یہاں سے گذشتہ انتخابات میں ن لیگ کے کاظم پیرزادہ منتخب ہوئے تھے جو رایاض پیرزادہ کے بھانجے ہیں۔

اب کی بار کاظم پیرزادہ مسلم لیگ ن، علی امین وینس پیپلز پارٹی اور امیر حمزہ عباسی پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔ کلیم اللہ جماعت اسلامی، صائمہ ناز مرکزی مسلم لیگ اور رانا اظہر افضل خان تحریک لبیک کے امیدوار ہیں۔

یہاں سے پی ٹی آئی کے امیدوار احمد نواز عباسی تھے لیکن ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد ان کے بھانجے امیر حمزہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔


بہاولپور نئی حلقہ بندیاں 2023

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این  اے 170 بہاولپور 1 اب این اے 168 بہاولپور 5 ہے
یہ حلقہ بہاولپور کا شہری حلقہ ہے اور اس میں بہاولپور کینٹ بھی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ بس اس حلقے کا سیریل نمبر تبدیل ہوا ہے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این  اے 171 بہاولپور 2 اب این اے 164 بہاولپور 1 ہے
یہ حلقہ حاصل پور اور خیرپور ٹامے والی تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ جس میں بہاولپور صدر تحصیل کا ایک قانون گو حلقہ عباس نگر بھی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این  اے 172 بہاولپور 3 اب این اے 165 بہاولپور 2 ہے
یہ حلقہ یزمان تحصیل کا ہے جس میں اب قصبہ چنی گوٹھ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں احمد پور شرقیہ تحصیل کے قانون گو حلقے چنی گوٹھ، چنی گوٹھ ٹاؤن کمیٹی اور قصبہ کلاب قانون گو حلقے کو شامل کیا گیا ہے۔ بہاولپور صدر تحصیل کے قصبے حمیتیاں قانون گو حلقے کو نکال دیا گیا ہے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این  اے 173 بہاولپور 4 اب این اے 167 بہاولپور 4 ہے
یہ حلقہ بہاولپور صدر تحصیل اور احمد پور شرقیہ تحصیل پر مشتمل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جیسا کہ احمد پور شرقیہ تحصیل کی مبارک پور ٹاؤن کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی خانقاہ شریف اور قصبے حمیتیاں قانون گو حلقے کو شامل کیا گیا ہے جو 2018 کے انتخابات میں اس کا حصہ نہیں تھے۔ اسی طرح احمد پور شرقیہ تحصیل کے قصبہ ہتھیجی قانون گو کے پٹوار سرکل ملکانی بستی، قصبہ کوٹلہ موسی خان قانون گو کے پپٹوار سرکل دھور کوٹ اور قصبہ سکھیل قانون گو حلقے کے پٹوار سرکل چنڈو چنڑ کو نکال دیا گیا ہے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این  اے 174 بہاولپور 5 اب این اے 166 بہاولپور 3 ہے
 یہ حلقہ احمد پور شرقیہ تحصیل پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں جیسا کہ تحصیل احمد پور شرقیہ کے قصبہ کلاب اور چنی گوٹھ قانون گو حلقے کو نکال دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ احمد پور شرقیہ تحصیل کے قصبہ ہتھیجی قانون گو کے پٹوار سرکل ملکانی بستی، قصبہ کوٹلہ موسی خان قانون گو کے پپٹوار سرکل دھور کوٹ اور قصبہ سکھیل قانون گو حلقے کے پٹوار سرکل چنڈو چنڑ کو شامل کیا گیا ہے۔


رانا ناصر کہتے ہیں کہ اس نشست پر کاٹنے دار مقابلہ ہو گا۔ مزید جوڑ توڑ نہ ہوا تو فائنل ریس پی ٹی آئی کے امیر حمزہ اور سابق ایم پی اے کاظم علی پیرزادہ کے درمیان ہو گی۔

پی پی 246 حاصل پور سے گزشتہ الیکشن میں ن لیگ کے محمد افضل گل کامیاب ہوئے تھے اور خلیل باجوہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے دوسرے نمبر پر نظر آئے تھے۔

اس بار سابق ایم پی اے افضل گل ہی ن لیگ کے امیدوار ہیں اور خلیل باجوہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پی ٹٰی آئی نے ان کی اہلیہ فرزانہ خلیل باجوہ کو امیدوار کھڑا کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چودھری کامران کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔

خلیل احمدباجوہ پی ٹی آئی کے سرگرم رہنما ہیں اور 2018ء میں پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد الیکشن لڑے مگر صرف تین ہزار ووٹو ں سے ہار گئے تھے۔

رانا ناصر کا کہنا ہے کہ فرزانہ خلیل باجوہ اور افضل گل کا تعلق جٹ برادری سے ہے۔ دونوں مضبوط امیدوار ہیں تاہم ہار جیت کا فیصلہ پارٹی ووٹ کرے گا۔

این اے 165 یزمان"ہائی وولٹیج" حلقہ ہے جہاں سے پچھلے انتخابات میں ق لیگ کے طارق بشیر چیمہ کامیاب ہوئے تھے اور ن لیگ کے چودھری سعود مجید تقریباً ساڑھے چار ہزار ووٹوں سے ہارے تھے۔

اس بار ن لیگ نے ق لیگ سے سمجھوتے کے نتیجے میں اس نشست پر اپنا امیدوار نامزد نہیں کیا تاہم چودھری سعود مجید آزاد، ولایت وڑائچ پیپلز پارٹی، طارق بشیر چیمہ ق لیگ اور بشارت علی رندھاوا پی ٹی آئی سے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔

اس حلقے میں پنجابی بولنے والی جٹ اور ارائیں برادریاں اکثریت میں ہیں اور اب تک یہاں اسی بنیاد پر الیکشن لڑا جاتا رہا ہے۔ طارق بشیر چیمہ جٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اس قومی حلقے کے نیچے دو صوبائی نشستوں پر ارائیں برادری کے ڈاکٹر افضل اور چودھری احسان الحق کو ساتھ ملا کر الیکشن لڑتے تھے۔

طارق چیمہ کے مدمقابل سعود مجید نیچے صوبائی حلقوں میں ارائیں برادری سے اپنے بھتیجے چودھری سعد مسعود اور خالد محمود ججہ کوالیکشن لڑاتے تھے۔ یوں وہ ایک صوبائی حلقے میں دوسری برادری کا امیدوار نہ لانے کے باعث مسلسل ہارتے رہے ہیں۔

لیکن اس مرتبہ طارق چیمہ کو جٹ ارائیں والی سیاست چھوڑنا پڑی ہے کیونکہ جب وہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے معاملے پر چودھری پرویز الہی سے الگ ہوئے تو دونوں ایم پی ایز ڈاکٹر افضل اور احسان الحق چودھری نے طارق چیمہ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں نو مئی کے ایشو پر ان دونوں کو بھی پرویز الہی کوچھوڑنا پڑا۔

اس قومی حلقے کی حماتیاں قانگوئی میں ارائیں برادری کے بہت زیادہ ووٹ تھے جن کو نئی حلقہ بندیوں میں یہاں سے نکال کر احمد پور شرقیہ کی ڈیڑھ لاکھ سے زائد سرائیکی بولنے والی آبادی کو اس حلقے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس علاقے سے اب شیخ حسن عسکری سابق وزیر طارق چیمہ کی مدد کر رہے ہیں۔

ن لیگ کے سعود مجید پارٹی ٹکٹ لینے میں تو ناکام رہے مگر انہوں نے قیادت کو اپنے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے پر راضی کر لیا اور اس قومی نشست کے نیچے صوبائی حلقوں میں اپنے بھتیجے سعد مسعود اور خالد محمود ججہ کو ن لیگ کے ٹکٹ دلوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف احمدپور شرقیہ کے ایک لاکھ ووٹ چھن (یزمان کے حلقے میں) جانے سے نواب صلاح الدین عباسی کو بھی بڑا جھٹکا لگا تھا کیونکہ احمد پور سے ان کے صاحبزادے نواب بہاول خان عباسی( نواب گروپ) سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نئی صورتحال کے بعد نواب صلاح الدین نے یہاں سے اپنے حامیوں کو سعود مجید کی حمایت پر آمادہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

سیاسی کارکن رانا ناصر بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے امیدوار بشارت علی رندھاوا کاتعلق بھی جٹ برداری سے ہے جس کا طارق چیمہ کو نقصان ہو گا جبکہ وہ ارائیں برادری کی حمایت بھی کھو چکے ہیں۔ اگرچہ سعود مجید کا پلہ بھاری ہے تاہم اس حلقے میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔

یزمان کی قومی نشست کے نیچے پی پی247 میں یزمان شہر، سالاری، لاڈم سر، کڈوالہ وغیرہ شامل ہیں جہاں سے 2018ء کے انتخابات میں احسان الحق ق لیگ سے کامیاب ہوئے تھے اور ن لیگ کے خالد محمود ججہ رنر اپ تھے۔

اب یہاں سے خالد ججہ ن لیگ، طارق چیمہ کے صاحبزادے ولی داد ق لیگ، مظہر نواز پیپلز پارٹی، حاکم علی رندھاوا پی ٹی آئی، شمائلہ نصرت مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے عرفان انجم، فرزانہ رؤف آزاد اور تحریک لبیک کے نعیم منظور بھی میدان میں موجود ہیں۔

اس نشت پر خالد محمود ججہ بظاہر مضبوط ہیں تاہم سخت مقابلہ دکھائی دے رہا ہے۔ پی پی248 میں یزمان تحصیل کا غربی حصہ اور احمدپور کا چنی گوٹھ تک کا علاقہ آتا ہے جہاں پچھلی بار ق لیگ کے ڈاکٹر افضل جیتے تھے اور ن لیگ کے سعد مسعود رنر اپ تھے۔

اس بار یہاں سے ن لیگ کے چودھری سعد مسعود، پیپلز پارٹی کے علی حسن گیلانی، پی ٹی آئی کے حسن خورشید وڑائچ اور ق لیگ کے شیخ حسن عسکری نمایاں امیدوار ہیں۔ جماعت اسلامی، ٹی ایل پی اور سرائیکی پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔

یہاں چودھری سعد مسعود کو ارائیں برادری اور پارٹی ووٹ کی حمایت حاصل ہے جبکہ علی حسن گیلانی روایتی مقامی سیاستدان ہیں اور ذاتی اثرو رسوخ کے ساتھ پارٹی ووٹ کا فائدہ بھی لیں گے۔

اسی طرح حسن خورشید وڑائچ جٹ برادری سے ہونے علاوہ پاپولر پارٹی ووٹ پر انحصار کر رہے ہیں۔ شیخ حسن عسکری سرائیکی برادریوں میں تعلقات اور مستحکم مالی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں اس نشست پر اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

این اے 166 میں تحصیل احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف کے علاقے آتے ہیں جہاں سے پچھلے انتخابات میں پی ٹی آئی کے سمیع الحسن گیلانی کامیاب ہوئے تھے، نواب بہاول عباسی دوسرے اور پیلپلز پارٹی کے علی حسن گیلانی تیسرے نمبر پر نظر آئے تھے۔

اب کی بار بہاول خاں عباسی نواب گروپ، سمیع الحسن گیلانی ن لیگ، علی حسن گیلانی پیپلز پارٹی اور کنول شوذب پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔

یہاں سے تحریک انصاف کے سابق ایم این اے سمیع الحسن سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بھانجے ہیں جو پی ٹی آئی سے منحرف ہو گئے تھے اور اب ن لیگ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار علی حسن گیلانی سمیع الحسن کے سوتیلے بھائی ہیں جو پہلے بھی یہاں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔

کنول شوذب مخصوص نشست پر پی ٹی آئی کی سابق ایم این اے رہ چکی ہیں اور پارٹی کی لیڈر ہونے کی وجہ سے انہیں پاپولر ووٹ پر بھروسہ ہے۔ بہاول خان عباسی کا نواب خاندان کا فرد ہونے کے باعث احترام کیا جاتا ہے۔

صحافی اظہرعلی دانش بتاتے ہیں کہ سمیع الحسن اور علی حسن گیلانی کے چچا ظفر گیلانی، سیدزمرد بخاری اور اوچ کی بڑی برادریاں بہاول خان عباسی کے ساتھ ہیں۔ علی حسن گیلانی کی پوزیشن بھی مضبوط ہے اس لیے یہاں فائنل ریس بہاول خان اور علی حسن گیلانی کے درمیان ہو گی۔

حلقہ پی پی249 میں احمد پور شرقیہ شہر سے کوٹلہ موسیٰ تک کا علاقہ شامل ہے جہاں سے پچھلی بار ن لیگ کے ملک خالد محمود منتخب ہوئے تھے۔

اس بار یہاں صاحبزادہ گزین عباسی نواب گروپ، قاضی عدنان فرید ن لیگ، رافعت الرحمن رحمانی پیپلز پارٹی، جواد لودھی پی ٹی آئی، صاحبزادہ عمر عباسی آزاد اور فہمیدہ اختر جماعت اسلامی سے امیدوار ہیں۔

صاحبزادہ گزین عباسی گزشتہ انتخابات میں ہتیجی والے حلقے سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر متخب ہوئے تھے اور قاضی عدنان فرید جو گورنر بلیغ الرحمن کے کزن ہیں دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ نئی حلقہ بندی میں ہتیجی والے حلقے کا بیشتر علاقہ اسی نشست میں شامل ہونے وجہ سے دونوں یہیں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

یہاں رافعت الرحمن رحمانی کئی بار الیکشن لڑ چکے ہیں جنہوں نے بچھلی بار قومی نشست پر بھی اچھے خاصے ووٹ لیے تھے لیکن صاحبزادہ گزین عباسی اور قاضی عدنان فرید فرنٹ رنر ہیں۔

 حلقہ پی پی 250 اوچ شریف سے 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے افتخار الحسن گیلانی منتخب ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی کے عامر گیلانی رنر اپ تھے۔

اب افتخار الحسن گیلانی آئی پی پی کے امیدوار ہیں جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے عامر گیلانی، نواب گروپ کے احمد یار وارن اور پی ٹی آئی کے مجیب الرحمن مڑل سے ہے۔ ان کے علاوہ طاہر منظور جماعت اسلامی، فاروق حمید شیخ آزاد، سید عشرت جہانیاں تحریک لبیک کے امیدوار ہیں۔

اس حلقے میں ن لیگ نے آئی پی پی سے ایڈجسٹمنٹ کے تحت اپنا امید نامزد نہیں کیا جس کی وجہ سے ن لیگ کے نوید خالد بطور آزاد امیدوار میدان میں اترے ہیں۔ یہاں ایک اور آزاد امیدوار فاروق حمید شیخ سابق بیوروکریٹ ہیں جو زور و شور سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں تاہم اس نششت پر افتخار گیلانی اور عامر گیلانی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

این اے 167 میں خانقاہ شریف، مبارک پور، کلانچ والا، حمایتیاں وغیرہ آتے ہیں جہاں سے ن لیگ کے میاں نجیب اویسی کامیاب ہوئے تھے جبکہ پی ٹی آئی کی خدیجہ عامر دوسرے اور پی پی کے علی حسن گیلانی تیسرے نمبر پر نظر آئے تھے۔

میاں نجیب اویسی خانقاہ شریف کے گدی نشینوں میں سے ہیں جن کے صاحبزادے عثمان نجیب اویسی اس بار ن لیگ کے امیدوار ہیں اور پہلی مرتبہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہاں ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے شاہ رخ ملک، پی ٹی آئی کے ملک محبوب احمد، نواب گروپ کے ملک عامر یار وارن سے ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ضلع سرگودھا میں ہائی وولٹیج مقابلے مریم نواز کے مد مقابل کون الیکشن لڑے گا؟

اس حلقے کے رہائشی سماجی کارکن ملک اعجاز ارائیں کا خیال ہے کہ اس نشست پر چاروں مضبوط امیدوار ہیں مگر عثمان نجیب اویسی آگے نظر آتے ہیں۔

اس قومی نشست کے نیچے پی پی 251 میں ہتیجی، مبارک پور اور نور پور نورنگا وغیرہ شامل ہیں جہاں سے پی ٹی آئی کے گزین عباسی کامیاب ہوئے تھے اور ن لیگ کے عدنان فرید دوسرے نمبر پر تھے مگر اب یہ دونوں ہی اوچ والے حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

اب کی بار اس نشست پر خالد محمود وارن ن لیگ، نسیم عباس بخاری پیپلز پارٹی، رئیس عبدالقیوم پی ٹی آئی، صاحبزادہ عثمان عباسی نواب گروپ اور جہانزیب وارن تحریک نوجوانان پاکستان اور عاصم علی تحریک لبیک کے امیدوار ہیں۔ یہاں صاحبزادہ عثمان عباسی( نواب گروپ) کی پوزیشن سب سے بہتر بتائی جا رہی ہے۔

پی پی 252 میں بغداد الجدید سے خانقاہ شریف اور سمہ سٹہ تک کا علاقہ آتا ہے جہاں سے پچھلے انتخابات میں گدی نشین خاندان کے میاں شعیب اویسی منتخب ہوئے تھے۔

اس بار بھی یہاں سے شعیب اویسی ن لیگ، شاہ رخ ملک پیپلز پارٹی اور شفقت شاہین پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں جبکہ چودھری محمود مجید، سید محمد یعقوب اور صاحبزادہ منور حیات عباسی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ملک اعجاز ارائیں بتاتے ہیں کہ اس حلقے میں ارائیں برادری کا خاصا ووٹ ہے۔ یہاں سے چودھری محمود جو ن لیگ کے رہنما سعود مجید کے بھائی ہیں انہیں نواب گروپ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ شفقت شاہین کو پاپولر پارٹی سپورٹ کا بھروسہ ہے جبکہ شعیب اویسی سابق ایم پی اے اور پیر خاندان سے ہیں۔ اس لیے اس حلقے میں کافی ٹف مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

این اے 168 الیکشن کمیشن کی ترتیب کے لحاظ سے ضلع بہاول پور کا آخری قومی حلقہ ہے لیکن یہ مرکزی شہر اور کینٹ کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں سے گزشتہ الیکشن میں ملک فاروق اعظم موجودہ گورنر اور ن لیگ کے امیدوار بلیغ الرحمان کو ہرا کر منتخب ہوئے تھے تاہم اب دونوں ہی میدان میں نہیں ہیں۔

اب کی بار اس حلقے میں دو سابق صوبائی وزراء ن لیگ کے ملک اقبال چنڑ اور پی ٹی آئی کے سمیع اللہ چودھری کے درمیان مقابلہ ہے۔ پیپلزپارٹی کے حافظ حسین احمد مدنی، جماعت اسلامی کے ملک کامران، جے یو آئی کے صفدر شہباز، سید تابش الوری آزاد اور سید عرفان گیلانی تحریک لبیک کے امیدوار ہیں۔

سمیع اللہ چودھری شہر اور ملک محمد اقبال چنڑ شہر اور نواحی دیہات کے حلقے سے ایم پی اے بنتے آئے ہیں اور پہلی بار دونوں آمنے سامنے ہیں۔ اس حلقے میں چنڑ بڑی برادری ہے جو ملک اقبال کا ساتھ دیتی ہے جبکہ شہر میں سمیع اللہ کو زیادہ سپورٹ حاصل رہی ہے اور اس بار پاپولر پارٹی ووٹ بھی ان کے ساتھ ہے۔

سماجی رہنما محمد ایوب باجوہ کا کہنا ہے کہ ملک اقبال اور سمیع اللہ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے تاہم پی ٹی آئی کا ووٹ سمیع اللہ کو زیادہ فائدہ دے سکتا ہے۔

پی پی253 میں بہاولپور شہر کا شمالی حصہ اور نواحی دیہات شامل ہیں جہاں چنڑ اور جوئیہ خاندانوں کا روایتی مقابلہ چلا آ رہا ہے۔ پچھلی بار یہ نشست اقبال چنڑ کے صاحبزادے ظہیر اقبال چنڑ نے جیتی تھی اور پی ٹی آئی کے محمد اصغر جوئیہ ہار گئے تھے۔

اس بار بھی ظہیر اقبال ن لیگ اور محمد اصغرجوئیہ پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں لیکن اس حلقے سے چنڑ برادری کا 25 سے 30 ہزار ووٹ شہر والے صوبائی حلقے پی پی 254 میں شفٹ ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک عبدالمجید بھی چنڑ برداری سے تعلق رکھتے ہیں جن کا نقصان ظہیر اقبال کو ہو سکتا ہے۔ تاہم توقع کی جارہی ہے کہ ظہیر اقبال اور اصغر جوئیہ کے درمیان زاور دار مقابلہ ہو گا۔

پی پی 254 شہر کے جنوبی حصے پر مشتمل ہے جہاں سے 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے سمیع اللہ چودھری ن لیگ کے ڈاکٹر رانا طارق کو ہرا کر منتخب ہوئے تھے۔

اس بار ڈاکٹر رانا طارق ن لیگ، عثمان چنڑ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر ان کی والدہ  شفقت شاہین پی ٹی آئی، سید تطہیر الحسن پپو پیپلز پارٹی، ذیشان اختر جماعت اسلامی اور سیدعرفان گیلانی تحریک لبیک کے امیدوار ہیں۔

 سماجی رہنما ایوب باجوہ کے مطابق راناطارق کے لودھراں کا رہائشی ہونے کی وجہ سے اس نشست پر ن لیگ میں اختلافات ہیں۔ جبکہ مدمقابل مسز شفقت شاہین چنڑ برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کو پاپولر پارٹی سپورٹ حاصل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پیپپلز پارٹی کے سید تطہیر الحسن کو پارٹی ووٹ کے علاوہ شہر کی اردو بولنے والی آبادی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔تاہم اب تک فضا پی ٹی آئی امیدوار کے حق میں لگ رہی ہے۔

تاریخ اشاعت 31 جنوری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمدیاسین انصاری بہاول پور کے نوجوانوں صحافی ہیں۔ عرصہ 23 سال سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.