کراچی کی 13 سالہ مسیحی لڑکی کا اغوا، تبدیلی مذہب اور شادی: انسانی حقوق کے کارکن عدالتی فیصلے سے ناخوش۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کراچی کی 13 سالہ مسیحی لڑکی کا اغوا، تبدیلی مذہب اور شادی: انسانی حقوق کے کارکن عدالتی فیصلے سے ناخوش۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

کراچی کی 13 سالہ مسیحی لڑکی کا اغوا، تبدیلی مذہب اور شادی: انسانی حقوق کے کارکن عدالتی فیصلے سے ناخوش۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

پیٹر جیکب آج کل بے حد پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے 'وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کا وجود ختم ہو جائے گا'۔

سول سوسائٹی کی تنظیم پیپلز کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے سربراہ ہونے کے ناطے انہیں غیرمسلم پاکستانیوں کے حقوق کی تکذیب سے متعلق ہولناک واقعات سے روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'تازہ ترین مردم شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے سالوں میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی آبادی کم ہو گئی ہے'۔

ان کے مطابق یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ غیرمسلم پاکستانی اپنی بے قدری، اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور اپنے استحصال سے خوش  نہیں ہیں اور اسی لیے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

پیٹر جیکب کراچی میں تیرہ سالہ بچی آرزو راجا کی اپنے سے کہیں بڑی عمر کے شخص سے شادی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس میں معاملے کی نزاکت کو پوری طرح پیش نظر نہیں رکھا۔ اس بچی کے والدین کے پاس اس کی عمر کے بارے میں نادرا کے شناختی کارڈ کی صورت میں ایک مستند سرکاری ثبوت کی موجودگی کے باوجود ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 29 اکتوبر کو اسے اس کے مبینہ 'خاوند' کے ساتھ بھیج دیا تھا۔

بعدازاں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے قریباً ہر شخص نے نشاندہی کی ہے کہ کم عمری کی شادی کے خلاف بنائے گئے قانون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ بچی/بچے سے شادی کرنا جنسی زیادتی کی ذیل میں آتا ہے خواہ اس میں بچی/بچے کی رضامندی ہی شامل کیوں نہ ہو اور اس جرم کی سزا بھی وہی ہے جو جنسی زیادتی کے جرم میں دی جاتی ہے۔ ایسے میں جج حضرات نے اس بچی کو ایسے شخص کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے یہ قانونی شرط کیوں نظرانداز کی جس پر بچی کے والدین اس کے اغوا کا الزام عائد کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب خود جج صاحبان کو ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد آرزو کی والدہ ریٹا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر عام ہو چکی ہے جس میں انہیں سندھ ہائی کورٹ کے باہر روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور جس میں وہ ججوں سے اپنی بیٹی واپس لوٹانے کی فریاد کر رہی ہیں۔

سجاگ کی تحقیقات کے مطابق کراچی کے ضلع جنوبی میں ریلوے کالونی کی رہائشی آرزو اپنے گھر کے باہر کھیل رہی تھی کہ علی اظہر نامی 44 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اسے اغوا کر لیا۔ آرزو کے والدین ریٹا اور راجا لال نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی کہ ان کی بیٹی کو کسی نامعلوم شخص نے اغوا کر لیا ہے۔ فریئر ہال تھانے نے اس واقعے کی باضابطہ رپورٹ درج کر لی اور وہاں تعینات بعض پولیس حکام نے آرزو کو بازیاب کرانے کے لیے علی اظہر کے گھر پر چھاپہ بھی مارا۔

اسی دوران علی اظہر نے پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے ناصرف اس کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی بلکہ اس کے گھر کے قریب واقع تھانے کو آرزو کی حفاظت کا حکم بھی دیا تاکہ اسے علی اظہر کی تحویل سے واپس نہ لیا جا سکے۔
علی اظہر نے آرزو کو بالغ ثابت کرنے کے لیے جو واحد دستاویز عدالت میں پیش کی وہ ایک حلف نامہ ہے جس پر بظاہر آرزو کے دستخط ہیں۔ اس حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اس کی عمر اٹھارہ سال ہے اور وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہے۔

قانون کیا کہتا ہے؟

آرزو کے کیس سے واضح ہو جاتا ہے کہ سماج کے پسماندہ طبقات کے تحفظ کے لیے محض قانون سازی ہی کافی نہیں بلکہ ان قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل یقینی بنانا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

یہ واقعہ سندھ میں پیش آیا ہے جہاں قانون کی رو سے کم عمری کی شادی ممنوع یہے۔ صوبے میں 2020 میں بنائے گئے کم عمری کی شادی کی ممانعت کے قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی کم عمر فرد سے شادی کرنا ایک جرم ہے۔ یہ قانون کم عمر فرد سے شادی کرنے والے اور اس شادی میں سہولت فراہم کرنے والے لوگوں کے لیے واضح سزائیں تجویز کرتا ہے۔

اگر جبری تبدیلی مذہب کے متاثرین پر جبر نہ ہونے کی بات درست ہے تو پھر خودکشی جرم کیوں ہے جبکہ خودکشی کرنے والے شخص کی مرضی بھی اس عمل میں شامل ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خودکشی کرنے والے شخص کو درپیش خارجی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہیں اسی طرح جبری تبدیلی مذہب کے کیسز میں بھی متاثرہ فرد کے زیرِجبر ہونے کو سامنے رکھنا ضروری ہے: پیٹر جیکب

سندھ ہائی کورٹ کے جج حضرات نے آرزو کی عمر کا ثبوت اور اس کا دستخط شدہ حلف نامہ ملاحظہ کرتے وقت شاید اس قانون کے الفاظ کو تو مدنظر رکھا مگر ایسا لگتا ہے کہ انہوں ںے اس قانون کی روح پر عمل نہیں کیا جس کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بچی کی عمر اور اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کے بیان کی غیرجانبدارانہ طور سے تصدیق کرانا چاہیے تھی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ نے آرزو کے والدین کو اپنا کیس پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی حالانکہ وہ دونوں کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ اس کے بجائے ججوں نے ظاہری قانون کو ہی مدنظر رکھا اور وہی کچھ کیا جو عدالتیں پولیس کے ہاتھوں ہراساں کیے جانے کی شکایات پر سائلین کو تحفظ مہیا کرنے کے احکامات دے کر کرتی ہیں حالانکہ اس معاملے میں عدالت کو یہ تحقیق کرنا چاہیے تھی کہ جس شخص کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اس کے خلاف الزام کی نوعیت اور شدت کیا ہے۔ مگر عدالت نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

چونکہ آرزو کم عمر ہے اس لیے اس کے ساتھ جنسی عمل قانونی طور پر جنسی زیادتی کے مترادف ہے۔ ایسے میں کیا یہ سمجھا جائے کہ جج حضرات نے علی اظہر کو اسے اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دے کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی اجازت دے دی ہے؟ جبران ناصر اپنے ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں: 'اب اس لڑکی کے ساتھ جو کچھ ہو گا اس کی ذمہ داری ججوں پر ہو گی'۔

سجاگ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 30 نومبر کو ضلع جنوبی میں آرزو کے والدین کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں انہوں نے تھا کہ علی اظہر کے گھر کی تلاشی لی جائے اور وہاں سے آرزو کو برآمد کر کے اسے دارالامان بھیجا جائے۔ تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی حالانکہ اس کے سامنے پولیس حکام نے تصدیق بھی کی کہ آرزو کے والدین کی جانب سے پیش کیا جانے والا اس کا پیدائشی سرٹیکفیکٹ ہی اصلی ہے۔ اس کے باوجود عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرزو کو پہلے ہی تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔ جبران ناصر کہتے ہیں: 'اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے ایک عدالتی حکم کو ایک بچے کے استحصال کے لیے باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے'۔

نادرا کا جاری کردہ پیدائش سرٹیفکیٹ جس کی رو سے آرزو کی عمر 13 برس ہے

اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کا معاملہ بھی متنازع فیہ ہے۔ کیا کسی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی کوئی نوعمر لڑکی اپنے سے کہیں بڑی عمر کے ایسے شخص کی تحویل میں ہوتے ہوئے اپنی مرضی سے کوئی قدم اٹھا سکتی ہے جو اس کے انکار کو باآسانی توہین مذہب کا معاملہ بنا سکتا ہو؟ جب اس سوال کا جواب آ جائے تو پھر ایک اور پریشان کن سوال ابھرتا ہے کہ کیا جبری طور پر مسلمان کی گئی کسی لڑکی کو دوبارہ غیرمسلم بنایا جا سکتا ہے؟

اس سوال کا قانونی جواب اشتعال انگیز ہو سکتا ہے شاید اسی لیے جج حضرات جبری تبدیلی مذہب کے مقدمات کا فیصلے کرتے وقت عموماً قانون کو دیکھنے کے بجائے معاملے کے مذہبی پہلو کو مدنظر رکھتے ہیں۔

قانون دان اور انسانی حقوق کی کارکن سلیمہ جہانگیر نے اپریل 2020 میں ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا کہ 'پاکستان کے قانونی نظام میں خاص طور پر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے اور ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والے لوگ بااثر ہونے کے ناطے اپنے مقاصد میں کامیاب رہتے ہیں اسی لیے سماج کے کمزور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مثبت قانون سازی کی فوری ضرورت ہے'۔

نادرا کے جاری کردہ 'ب فارم' سے بھی آرزو کے والدین کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے
 
پاکستان میں انسانی حقوق پر تحقیق اور ان کی تعلیم و ترویج کے لیے کام کرنے والی تنظیم موومنٹ فار سالیڈیرٹی اینڈ پیس (ایم ایس پی) نے 2014 میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال قریباً ایک ہزار خواتین کو جبری طور پر مسلمان بنایا جاتا ہے۔ لیکن سرکاری حکام عموماً اس حقیقت سے آنکھیں چراتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملی ہیں: 'جنسی زیادتی کا شکار خواتین اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر پاتیں'۔

مثال کے طور پر ایسے معاملات کو دیکھنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے چند ہفتے پہلے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی کمیٹی نے جبری تبدیلی مذہب کے جن بیشتر کیسز پر تحقیق کی ہے ان میں سے بیشتر میں'کسی حد تک لڑکیوں کی رضامندی بھی پائی گئی تھی'۔

پیٹر جیکب اس حوالے سے ایک برمحل سوال اٹھاتے ہیں کہ 'اگر جبری تبدیلی مذہب کے متاثرین پر جبر نہ ہونے کی بات درست ہے تو پھر خودکشی جرم کیوں ہے کیونکہ خودکشی کرنے والے شخص کی مرضی بھی تو اس عمل میں شامل ہوتی ہے۔ جس طرح خودکشی کے معاملے میں ہم مرنے والے شخص کو درپیش خارجی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہیں اسی طرح جبری تبدیلی مذہب کے کیسز میں بھی متاثرہ فرد کے زیرِجبر ہونے کو سامنے رکھنا ضروری ہے'۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسا معاشرہ جو کمزور اور پسماندہ طبقات پر جبر کرتا ہے اور جہاں قانون طاقتور طبقات کے حق میں جھک جاتا ہے وہاں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کے پاس خود کو اذیت دینے والوں کے مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
آرزو کے والدین اس حقیقت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

قانون دان جبران ناصر کہتے ہیں کہ وہ آج (سوموار کو) سندھ ہائی کورٹ سے کم سن دلہن کی فوری بازیابی کی استدعا کریں گے۔ اپنی درخواست میں وہ آرزو کو ججوں کے سامنے پیش کرنے اور اس کی عمر کی ازسرنو تصدیق کے لیے کہیں گے۔

کیا ان کی درخواست منظور کر لی جائے گی؟

ایسا اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر جج حضرات بیک وقت قانون کے ظاہری الفاظ اور اس کی روح کے مطابق اس کی تشریح کریں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 2 نومبر 2020  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 17 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔