سیاحوں کی تعداد اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ: وادی نیلم میں ماحولیاتی آلودگی بڑھنے لگی

postImg

صائمہ اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

سیاحوں کی تعداد اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ: وادی نیلم میں ماحولیاتی آلودگی بڑھنے لگی

صائمہ اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

اپنے خوبصورت مناظر، دلکش نظاروں اور بھرپور ثقافتی ورثے کے ساتھ آزاد کشمیر کا علاقہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کی منزل ٹھہرتا ہے۔ آزاد کشمیر کے محکمۂ سیاحت کے مطابق رواں سال ستمبر تک یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد متاثرہ کن طور پر گیارہ لاکھ 25 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

یہ تعداد گزشتہ برس کی نسبت تین لاکھ ساٹھ ہزار زیادہ ہے۔ 2018 کے بعد رواں سال آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ سیّاح آئے۔ 2018 میں 14 لاکھ سیاح آزاد کشمیر  آئے تھے۔ اس کے بعد  کورونا وائرس کی وبا اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی وجہ سے اس میں بہت کمی آ گئی تھی۔ لیکن فروری 2021 سے لائن آف کنٹرول پر امن کے باعث سیاحوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سیاحوں کی اکثریت وادیٔ نیلم، شاونٹر جھیل، لیپا ویلی اور رتّی گلی جیسی جگہوں کا رخ کرتی ہے، ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مقامی ٹرانسپورٹروں، دکانداروں، شورومز ، پٹرول پمپوں، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤس مالکان، یہاں تک کہ گھوڑا بانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

آزاد کشمیر میں جہاں سرکاری نوکری کے علاوہ ملازمت کے کوئی خاص مواقع نہیں ہیں، سیاحوں کی بڑی تعداد کے آنے کے باعث ٹوریسٹ گائیڈز کے علاوہ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں لوگوں کو ملازمتیں مل جاتی ہیں، اگرچہ انہیں یہ فائدہ صرف سیاحتی سیزن میں ہی ہوتا ہے، لیکن بہر حال یہ ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

وادیٔ نیلم سے تعلق رکھنے والے گیسٹ ہاؤس مالک خواجہ بلال گرمیوں میں اپنے چار کمروں کے گھر کو گیسٹ ہاوس میں تبدیل کر دیتے ہیں اور کمرے کرائے پر دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ "سیاحوں کی آمد مارچ اپریل سے شروع ہوتی ہے اور ستمبر تک جاری رہتی ہے، مئی سے اگست تک میں روزانہ اوسطاً تین سے چار ہزار روپے کما لیتا ہوں، ویسے تو برف باری کے دونوں میں بھی سیاح آتے ہیں، مگر ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔"

خواجہ بلال ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آزادی کی مسلح تحریک شروع ہوئی اور لائن آف کنٹرول پر وادیٔ نیلم میں پاک بھارت افوج کے درمیان جھڑپیں جاری رہتی تھیں تو یہ وادیٔ دونوں ممالک کے درمیان نومبر 2003 کے فائر بندی معاہدے تک دنیا سے کٹ گئی تھی۔

"لوگ بنکروں میں زندگی بسر کرتے تھے، روز گارختم ہوچکا تھا۔ فائر بندی کے بعد یہاں سیاح آنے لگے اور ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا۔"

ان کا کہنا ہے کہ چند سال کے بعد لائن آف کنڑول پر دوبارہ دو طرفہ فائرنگ کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے سیاحت پھر سے متاثر ہوئی لیکن فروری 2021 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان  2003 کی فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری پر اتفاق کے بعد اب سکون ہے اور سیاح بھی آنے لگے ہیں۔

آزاد کشمیر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹورازم رئیس خواجہ کا اندازہ ہے کہ اگر ہر سیاح اپنے دورے کے دوران، جو کم ازکم تین دن پر محیط ہو، اوسطاً دس ہزار روپے خرچ کرے تو اس سے ریاست کی معیشت کو 11 بلین روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔

"حکومت کی پالیسی ہے کہ نئے گیسٹ ہاوسز تعمیر نہ کیے جائیں بلکہ سیاحتی مقام کو ترقی دی جائے اور سرمایہ کاری کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ حکومتی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔"

رئیس خواجہ کا کہنا ہے کہ محکمہ سیاحت کو رواں سال گیسٹ ہاؤسز سے پونے دو کروڑ  روپے کی آمدنی ہوئی، جبکہ اس سے پہلے اسی دورانیے میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ تک آمدنی ہوتی رہی ہے۔

محکمۂ سیاحت کے مطابق، آزاد کشمیر میں 3422 کمروں پر مشتمل 619 گیسٹ ہاؤس اور ہوٹل ہیں جن میں 60 سرکاری گیسٹ ہاؤس بھی شامل ہیں، ان میں 30 گیسٹ ہاؤس محمکۂ سیاحت کے زیرانتظام ہیں۔

نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ گاڑیوں سے دس سے بیس روپے فی گاڑی ٹیکس لیتا ہے جس سے 20 تا 25  لاکھ روپے سالانہ آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، آزاد کشمیر حکومت کو سیاحت سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔

لاہور سے وادیٔ نیلم کی سیر پر آئے ہوئے ایک خاندان کے سربراہ منیر احمد اس جگہ کی خوبصورتی کے معترف ہیں اور بار بار یہاں آنے کے خواہشمند ہیں، لیکن انہیں شکایت ہے کہ اس خطے میں سہولیات کا شدید فقدان ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اکثر مقامات پر سڑک کی حالت خراب ہے، راستے میں موبائل فون کے سگنل نہیں آتے، بعض مقامات پر فوج کے مواصلاتی شعبے سپیشل کمیونیکیشن آرگناٰئزیشن (ایس سی او) کا موبائل فون چلتا ہے، جس کیلئے الگ سے سم لینی پڑتی ہے۔

"انٹرنیٹ کہیں چلتا ہے، کہیں نہیں، مقامی آرگینک فوڈ کے بجائے عام بازاری کھانا ملتا ہے، جو بدمزہ ہوتا ہے، صحت کی سہولیات بھی بہت کم ہیں اور صفائی ستھرائی کا انتظام بھی نہیں  ہے۔"

یہ بھی پڑھیں

postImg

'انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ'، گلگت بلتستان میں سیاحوں کی تعداد نصف سے کم رہ گئی

ایک اور سیاح فرہاد بٹ کو شکایت ہے کہ سیاحوں سے جگہ جگہ ٹیکس(چونگی) لیا جاتا ہے، جو لوگ وادیٔ نیلم میں خصوصاً اڑنگ کیل جاتے ہیں انہیں اپنی گاڑیاں کیل میں پارک کرنا پڑتی ہیں اور ان سے پارکنگ کی فیس کے نام پر بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔

"سب سے زیادہ مسئلہ سڑک کی خستہ حالی اور اس کے کناروں پر رکاوٹوں کا نہ ہونا ہے، دوسرا یہ کہ اگر کوئی سیاح بیمار ہو جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو جاتی ہے تو وادیٔ نیلم میں ایک بھی اچھا ہسپتال یا اچھا ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔"

سیاحوں کی بڑھتی تعداد اپنے ساتھ مسائل بھی لے کر آرہی ہے، جیسا کہ نئے گیسٹ ہاؤسز کی بلا روک ٹوک تعمیر نے تفریحی مقامات پر کھلی جگہوں کے سکڑنے اور مقامی ماحولیات پر دباؤ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان خدشات کے حوالے سے محکمۂ سیاحت کے رئیس خواجہ کہتے ہیں کہ کہ  قدرتی حسن کے تحفظ اور پائیدار بنیادوں پر سیاحت یقینی بنانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محکمۂ سیاحت نے ریاستی حکومت کو لکھا ہے کہ گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر سے پہلے اجازت کے حصول کے لیے قوانین بنائے جائیں اور سیاحتی مقام تک رسائی کیلئے سڑکوں کو بہتر کیا جائے۔

"گیسٹ ہاؤسز کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ٹریفک قوانین کا سختی سے نفاذ اور ذمہ دارانہ سفری طریقوں کے بارے میں سیاحوں میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔"

تاریخ اشاعت 20 اکتوبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

صائمہ اشرف کئی سالوں سے بطور کارکن صحافی متحرک ہیں۔ کشمیر ٹائمز سے وابستگی کے ساتھ ریڈیو مظفرآباد ایف ایم 93 پر نیوز اینکر کے طور پر کام کررہی ہیں اور مختلف سماجی مسائل پر لکھتی آ رہی ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.