جنوبی پنجاب میں عورتوں کے خلاف تیزاب گردی: بے خدوخال چہروں اور بے حال زندگیوں کی داستان
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

جنوبی پنجاب میں عورتوں کے خلاف تیزاب گردی: بے خدوخال چہروں اور بے حال زندگیوں کی داستان

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

جنوبی پنجاب میں عورتوں کے خلاف تیزاب گردی: بے خدوخال چہروں اور بے حال زندگیوں کی داستان

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

فرحانہ بیضوی آنکھوں اور لمبے سیاہ بالوں والی فربہی مائل خاتون تھیں جن کی گوری رنگت ان کے خد و خال کو اور بھی نمایاں کرتی تھی۔

وہ کہتی ہیں: 'میں ایک خوبصورت عورت تھی ۔۔۔ خاص طور پر میری آنکھیں۔ لوگ ان آنکھوں کو دیکھ کر میرے حسن کی تعریف کیا کرتے تھے مگر اب دیکھیں کہ یہ کیا سے کیا ہو گئی ہیں'۔ فرحانہ نے اپنے آنسو پونچھنے کے لیے عینک اتاری تو ان کی بائیں آنکھ مستقل طور پر بند دکھائی دے رہی تھی۔

2012 میں تیزاب حملے کے نتیجے میں ان کا چہرہ پگھل گیا تھا۔ ان کی ناک، ہونٹ اور ایک آنکھ گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل ہو گئے تھے۔ ان کے دائیں گال کا گوشت بھی پوری طرح گُھل گیا تھا اور اس کی جگہ صرف جبڑے کی ہڈی ہی بچی تھی۔

فرحانہ کو اپنی جلد کے آپریشن سے پہلے پانچ مہینے ہسپتال میں گزارنے پڑے۔ چونکہ ان کے ہونٹوں کا گوشت بھی گُھل گیا تھا اس لیے ان میں چربی داخل کر کے انہیں نئے سرے سے بنایا گیا۔ اسی طرح جسم کے دوسرے حصوں سے جلد لے کر بتدریج ان کے چہرے کو بحال کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

تاہم تیرہ آپریشن ہونے کے باوجود ان کی شکل پہچانی نہیں جاتی۔ ناک متاثر ہونے کے باعث انہیں سانس لینے میں بھی مشکل پیش آتی ہے مگر ان کے نتھنوں کا مزید آپریشن نا ممکن ہے کیونکہ ان کی جلد اب مزید ایسا علاج برداشت نہیں کر سکتی۔

ہمارے خطے میں رہنے والی درمیانی عمر کی بیشتر شادی شدہ خواتین کی طرح فرحانہ بھی اپنے پانچ بچوں کے لیے اچھی زندگی کی خواہش مند تھیں چنانچہ جب ان کے شوہر نے ان سے بیٹی کو اپنے نشئی بھتیجے سے بیاہنے کی بات کی تو فرحانہ نے انکار کر دیا۔ وہ بتاتی ہیں: 'اس نے مجھے مارا پیٹا اور اپنا حکم ماننے پر مجبور کیا مگر میں اپنی ہی بیٹی کو اس مصیبت میں کیسے جھونک سکتی تھی جسے میں خود بھی برداشت کر رہی تھی'۔

انہوں نے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا اور بعدازاں دونوں میں طلاق ہو گئی جس کے بعد وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے والدین کے گھر میں آ کر رہنے لگیں۔ بالاخر انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے ایک مناسب رشتہ بھی ڈھونڈ لیا مگر ایک دن جب وہ اپنے ہونے والے داماد کے اہلخانہ سے ملنے جا رہی تھیں تو گلی کی نکر پر کھڑے ان کے سابق شوہر نے ان کے چہرے پر کالا تیزاب انڈیل دیا۔

فرحانہ کے گھر جا کر اندازہ ہوتا ہے کہ ملتان میں تیزاب حملے کس قدر عام ہیں۔ ان کے اپنے گھرانے کے چار افراد ایسے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان کے گھر میں موجود ان کی چچا زاد بہن نے سجاگ کو بتایا کہ ان کی ساس بھی تیزاب حملے سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اب وہ چل بھی نہیں سکتیں کیونکہ تیزاب سے زخمی ہونے کے نتیجے میں ڈاکٹروں کو ان کی ٹانگیں کاٹنا پڑی تھیں۔

فرحانہ کے گھر میں جو پانچ بچے گولیوں ٹافیوں سے کھیل رہے ہیں ان میں ایک بچی دوسروں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ فرحانہ نے بتایا کہ 'یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے جس نے گھریلو ناچاقی پر اپنی بیوی پر تیزاب پھینکا لیکن اس کی زد میں اس کی اپنی نوعمر بیٹی بھی آ گئی۔ چونکہ یہ غسل خانوں میں استعمال ہونے والا تیزاب تھا (جس کی شدت دوسرے تیزابوں سے کم ہوتی ہے) تھا اس لیے یہ بچ گئی اور صرف اس کی جلد ہی متاثر ہوئی ہے'۔

فرحانہ کے گھر میں کم از کم آٹھ افراد رہتے ہیں جن میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔ گھر کے دروازے میں کواڑوں کی جگہ کپڑے کا پردہ لٹکایا گیا ہے جو قریبی سڑکوں پر چلتی ٹریفک کے شور کو گھر میں داخل ہونے سے روک نہیں پاتا۔ گھر کے ایک کچے حصے سے سرائیکی موسیقی کی مدھم سی آواز سنائی دے رہی ہے۔ فرحانہ کہتی ہیں 'میرا بیٹا گھر کا واحد کمانے والا فرد ہے۔ مجھے کبھی کوئی کام مل جاتا اور کبھی نہیں ملتا۔'

وہ ایک کارخانے میں مٹھائیاں ڈبوں میں بند کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگ مجھے گھر واپس بھیج دیتے ہیں کیونکہ دوسری خواتین میری شکل دیکھ کر خوف کھاتی ہیں۔ میں جھاڑو پونچھا کرنے کو بھی تیار ہوں مگر لوگ کہتے ہیں کہ انہیں میرے چہرے سے خوف آتا ہے'۔

کوئلہ بھی نہ راکھ ہوا

''میں نے کہا 'نہیں'۔ اس نے مجھ سے دوبارہ پوچھا کہ آیا میں اس سے شادی کرنے پر تیار ہوں۔ میں نے جواب دیا 'نہیں، تم میرے بہنوئی ہو'۔ اس نے اپنے ہاتھ میں موجود بوتل کا ڈھکن کھولا اور اس کے بعد مجھے صرف یہی یاد ہے جیسے کسی نے میرا چہرہ آگ میں ڈال دیا ہو۔ جب تیزاب نے میرا چہرہ جلایا تو میں چیخ چلا رہی تھی'۔

یہ لاہور میں رہنے والی 22 سالہ ثمن کی کہانی ہے۔ اُس دن وہ پڑھنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی جا رہی تھیں جب ان کے بہنوئی نے انہیں راستے میں روک لیا اور پیش کش کی کہ وہ انہیں ڈراپ کر دے گا۔ تاہم اس نے یونیورسٹی جانے کے بجائے کوئی اور راستہ اختیار کر لیا مگر جب ثمن نے احتجاج کیا تو اس نے ایک درگاہ کے قریب موٹرسائیکل روک لی۔ وہاں اس نے دوبارہ پوچھا کہ کیا وہ اس سے شادی پر رضامند ہے۔ انکار پر اس نے ثمن کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ تیزاب نے ثمن کی ناک کو بری طرح متاثر کیا جسے بحال کرنے کے لیے انہیں کئی آپریشن کروانا پڑے تاکہ وہ نارمل طریقے سے سانس لے سکیں۔

اس واقعے کو پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی ثمن کے مسائل ختم نہیں ہوئے کیونکہ ان کے اہلخانہ نے انہیں چھوڑ دیا ہے اور وہ اکیلا رہنے پر مجبور ہیں۔ شماریات میں گریجوایٹ ہونے کے باوجود انہیں نوکری نہیں ملتی کیونکہ بیشتر ادارے 'داغدار' چہرے والی لڑکی کو اپنے دفتر میں نہیں رکھنا چاہتے۔

ثمن بتاتی ہیں کہ ایک انٹرویو میں ادارے کے مالک نے ان سے پوچھا: 'کیا آپ سمجھتی ہیں کہ چہرے پر ایسے نشانات کی موجودگی میں آپ دفتر میں باآسانی کام کر سکیں گی؟' ان کا کہنا ہے کہ 'لوگ سمجھتے ہیں تیزاب حملوں کے متاثرین جیسے انسان  نہیں کوئی اور ہی چیز ہیں اور انہیں سماج سے ختم کر دینا چاہیے'۔

اسی طرح تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی راحیلہ بتاتی ہیں کہ 'جب میرے چہرے پر تیزاب پھینکا گیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھے دوزخ کی آگ میں ڈال دیا گیا ہو۔ میں اپنا گوشت جلنے کی بو محسوس کر سکتی تھی اور اس وقت تکلیف کے سوا کوئی احساس باقی نہیں رہا تھا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی راحیلہ پر 2015 میں ان کے سابق منگیتر نے تیزاب حملہ کیا۔ وہ ان کا ہمسایہ بھی تھا۔ راحیلہ کے خاندان نے ان کی منگنی ختم کر دی تھی جس سے چھ ماہ بعد انہیں تیزاب میں جھلسا دیا گیا۔ حملہ آور پولیس میں کانسٹیبل ہے۔ اس نے راحیلہ کے اہلخانہ کو مجبور کر کے ان کا رشتہ لے لیا مگر اس کے غیر مہذب رویے کی بنا پر یہ منگنی قائم نہ رہ سکی۔ میڈیا فوٹیج میں ملزم حملے کا اعتراف کرتا دیکھا جا سکتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ سب کچھ محبت کے نام پر کیا تھا۔

جب راحیلہ پر حملہ ہوا تو اس وقت انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان دے رکھا تھا اور اس کا نتیجہ آنے کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ عید کا موقع تھا اور وہ دیگر نوجوان لڑکیوں کی طرح چوڑیاں لینے اور مہندی لگوانے گلشن اقبال میں اپنے گھر سے قریبی بازار جا رہی تھیں۔ مگر ان کے ہاتھوں پر مہندی سجنے کے بجائے ان کا چہرہ تیزاب سے بگڑ گیا۔

راحیلہ کا پورا چہرہ جل کر سیاہ ہو گیا اور ان کے بیشتر خدوخال غائب ہو گئے۔ تیزاب حملے کے بعد ان کے چہرے پر ہلکا سا گوشت اور ابھری ہوئی ہڈیاں ہی باقی رہ گئیں۔ ان کے چہرے کی بحالی کے لیے کراچی کے آغا خان ہسپتال میں دو سال کے دوران ان کے سات آپریشن ہوئے جس کے بعد مزید گیارہ مرتبہ مختلف طرح کی سرجری کی گئی۔ ان کے گال بھرنے کے لیے انہی کے جسم سے لی گئی جلد کے حصے استعمال کیے گئے، ان کے منہ کی جگہ مصنوعی طور سے بنائے گئے ہونٹ لگائے گئے اور آنکھ کی جگہ گوشت اس طرح لگایا گیا کہ اس کا سوراخ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔

راحیلہ پر حملے کو پانچ برس گزر چکے ہیں مگر ان کا کیس بدستور کراچی میں زیرِ سماعت ہے۔ مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کا شکار ہونے کے باعث ان پر حملہ کرنے والے ملزم کو انہیں دھمکانے کے مزید موقع مل گئے ہیں۔ ملزم کا خاندان بھی راحیلہ پر کیس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

راحیلہ نے سجاگ کو بتایا: 'کئی مرتبہ مجھے موٹرسائیکلیں اپنا پیچھا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ میں بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے عدالت کے چکر لگاتے ہوئے خوف سے کانپ رہی ہوتی ہوں۔ وہ مجھے اور میرے تمام اہلخانہ کو کال کرتے ہیں اور مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں'۔

ان کا کیس انسداد دہشت گردی عدالت سے ہائی کورٹ میں گیا اور اب سیشن کورٹ میں اس پر سماعت چل رہی ہے۔ اسی دوران انہوں نے جان کے خطرے کے پیش نظر کراچی چھوڑ دیا ہے اور آجکل روپوشی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

جبری خاموشی

رضیہ بی بی کی کہانی اوپر دی گئی کہانیوں سے محض اس قدر مختلف ہے کہ انہوں نے خود پر تیزاب پھینکنے والے مرد سے صلح کر لی ہے۔

دس سال پہلے صبح کے چار بجے وہ اپنے گھر میں سو رہی تھیں۔ اس سے پچھلے روز ان کی اپنے سسرال سے اس وقت تلخ کلامی ہوئی تھی جب ان کا شوہر بہاولپور میں واقع اپنے ترنڈہ بشارت نامی گاؤں سے باہر جانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ نیند کے دوران رضیہ بی بی کو اپنے جسم پر جلتا ہوا مادہ گرتا محسوس ہوا۔ انہوں نے سوچا کاش یہ خواب ہو مگر یہ مادہ ان کی بقیہ تمام زندگی کی دردناک حقیقت بننے جا رہا تھا۔ ان کے شوہر کے بڑے بھائی نے سلفیورک ایسڈ کا پیپا ان کے جسم پر انڈیل دیا تھا۔ کچھ تیزاب ان کی دو سالہ بیٹی پر بھی گرا جو رضیہ بی بی کے ساتھ ہی سو رہی تھی۔

جنوبی پنجاب کی جھلسا دینے والی گرمی میں آٹھ بچوں کی ماں رضیہ بی بی مدد کے لیے چیختی چلاتی رہی مگر کوئی انہیں بچانے نہ آیا کیونکہ ان کے سسرال والوں نے اس واقعے کو خفیہ رکھا تھا۔ صبح ہونے پر انہوں نے بیٹے کو اپنی پھوپھی زاد بہن کے گھر اطلاع دینے بھیجا جو وہاں سے گیارہ کلومیٹر دور رہتی تھیں۔ اس حملے کے سات گھنٹے بعد دوپہر گیارہ بجے رضیہ بی بی کو نشتر ہسپتال ملتان کے برن یونٹ میں منتقل کیا گیا۔

رضیہ بی بی اب اپنے چہرے کو چادر میں لپیٹے رکھتی ہیں جس میں صرف ان کی سرمہ لگی آنکھیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ اس چادر کے پیچھے ان کے چہرے پر انہی کی جلد سے لے کر لگائے گئے ٹکڑے اور ابھری ہوئی رگیں ہی نظر آتی ہیں۔ رضیہ خدا کا شکر ادا کرتی ہیں کہ 'فرحانہ باجی کے برعکس اس حملے میں میری آنکھیں محفوظ رہیں'۔

رضیہ بی بی کے اردگرد موجود لوگوں نے حملے کے بعد ان سے قطع تعلق کر لیا۔ انہیں رہنے کے لیے گھر ڈھونڈنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ لوگ مکانوں کے مالکان سے کہتے تھے کہ وہ 'لعنت کا شکار' ہونے والی عورت کو علاقے میں مت رہنے دیں۔

رضیہ بی بی نے سجاگ کو بتایا کہ 'لوگ میرے ہاتھ سے پانی بھی نہیں پیتے۔ میں کسی تقریب میں شرکت نہیں کر سکتی کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ میری موجودگی برا شگون ہو گی۔ اس لیے میں گھر میں ہی رہ کر اپنے خاوند کا انتظار کرتی ہوں جو دن بھر محنت مزدوری کر کے شام کو کچھ پیسے کما کر لاتا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

جنوبی پنجاب میں تیزاب گردی کے شکار افراد: 'یہ زندگی تو موت سے کہیں بدتر ہے'۔

رضیہ بی بی کا کیس پاکستان کے لولے لنگڑے نظامِ انصاف کی ایک واضح مثال ہے۔ جب ان کی شکایت پر پولیس نے ان کے سسرال کے خلاف مقدمہ درج کیا تو انہیں طلاق دے دی گئی۔ رضیہ کے والد ضعیف تھے اور ان کی سوتیلی ماں اور ان کے سوتیلے بہن بھائیوں کے ساتھ رہتے تھے۔ اسی لیے انہیں جلد ہی پتا چل گیا کہ انصاف حاصل کرنا اکیلی عورت کے بس کی بات نہیں۔ رضیہ بی بی کہتی ہیں 'میرے ساتھ خاندان کا کوئی مرد رکن نہیں تھا جو میرے کیس کی پیروی کرتا یا مجھے تحفظ دیتا'۔

تیزاب حملے سے چند ماہ بعد ایک مقامی زمیندار نے گاؤں کے بڑوں کا جرگہ بلایا اور فریقین کو مل بیٹھ کر معاملہ طے کرنے کو کہا۔ زمیندار کا کہنا تھا: 'جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے اور اب اس تنازعے کو مزید طول نہ دیا جائے'۔ رضیہ بی بی کہتی ہیں 'انہوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس شخص کو معاف کر دوں جس نے میری زندگی تباہ کی تھی۔ میں نے 'معافی نامے' پر دستخط کر دیے اور پھر مجھے گھر واپس بھیج دیا گیا'۔

اعداد و شمار کا گورکھ دھندا

پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس میں تیزاب حملے خواتین کو نشانہ بنانے کا ایک بنیادی طریقہ ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برس کے دوران اس رحجان میں قدرے تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

بیشتر تیزاب حملے اب بھی خواتین پر ہوتے ہیں مگر عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے خلاف ایسے حملوں کی شرح میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔ درحقیقت اب ہر طرح کے نجی جھگڑے اور جائیداد کے تنازعات میں بدلہ لینے کے لیے تیزاب حملہ ایک آسان اور سستا طریقہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یوں تیزاب گردی صرف غیرت اور طیش کے نام پر ہونے والے جرائم تک ہی محدود نہیں رہی۔

حالیہ عرصہ میں بچوں کے خلاف تیزاب حملوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ بیشتر بچے تیزاب حملوں کا نشانہ بننے والے بڑوں کی ہمراہی میں ہونے کی بنا پر ان حملوں کی زد میں آتے ہیں تاہم حساس جِلد ہونے کی بنا پر ان کے جسم بڑوں کی نسبت زیادہ بری طرح جل جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ چند برس میں تیزاب حملوں میں کمی ہوئی ہے۔ 2015 میں ایسے 101 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2019 میں صرف 27 واقعات سامنے آئے۔ تاہم محض ان اعداد و شمار کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہو گا۔ باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگرچہ تیزاب حملوں میں کمی آئی ہے مگر خواتین کے خلاف تشدد میں مجموعی طور پر اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب میں صنفی مساوات سے متعلق 2018 میں بنائی گئی ایک رپورٹ کی رو سے 2017 میں اس صوبے میں خواتین کے خلاف تشدد کے 7678 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2015 میں یہ تعداد 6505 تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر تیزاب استعمال نہ بھی ہو تو تب بھی پاکستان میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 15 اکتوبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 17 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔