سنگِ مرمر کی فیکٹریوں کا کیمیائی فضلہ: 'بونیر کے ندی نالوں سے مچھلیاں ختم ہو گئی ہیں اور ان کا پانی مقامی زمینوں کو بنجر کر رہا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

سنگِ مرمر کی فیکٹریوں کا کیمیائی فضلہ: 'بونیر کے ندی نالوں سے مچھلیاں ختم ہو گئی ہیں اور ان کا پانی مقامی زمینوں کو بنجر کر رہا ہے'۔

سلمان یوسفزئی

postImg

سنگِ مرمر کی فیکٹریوں کا کیمیائی فضلہ: 'بونیر کے ندی نالوں سے مچھلیاں ختم ہو گئی ہیں اور ان کا پانی مقامی زمینوں کو بنجر کر رہا ہے'۔

سلمان یوسفزئی

عبدالاکبر کے کھیت بنجر ہو چکے ہیں اور ان کی مالی حالت بہت پتلی ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محض چند سال پہلے "ان کی زمین سونا اگلتی تھی" اور وہ اس سے گندم اور تمباکو کی بھرپور فصلیں اٹھا کر ایک خوشحال زندگی گزارتے تھے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب مقامی پانی میں ایک ایسا زہر شامل ہو گیا ہے جس سے زرعی اراضی بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔ 

وہ خیبرپختونخوا کے شمالی ضلع بونیر کی تحصیل چغرزئی کے رہنے والے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تباہی کی وجہ ان کے علاقے میں قائم سنگِ مرمر کی درجنوں فیکٹریاں ہیں۔ ان کے مطابق ان فیکٹریوں سے نکلنے والا کیمیائی فضلہ برندو نامی ایک مقامی ندی کو اس قدر آلودہ کر چکا ہے کہ اس کا پانی حیوانات اور نباتات کے لیے مہلک ہو گیا ہے۔ 

ان کی عمر 62 سال ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک اس ندی میں مچھلیوں کی اتنی بہتات تھی کہ انہیں پکڑنے کے شوقین لوگ اس مقصد کے لیے بڑی تعداد میں یہاں آتے تھے۔ اسی طرح، ان کے مطابق، جب کبھی بارشیں نہ ہونے کی صورت میں مقامی زمین داروں کو اپنی فصلیں سیراب کرنے کے لیے پانی کی ضرورت پڑتی تھی تو وہ "اس ندی کا رخ اپنی زمینوں کی جانب موڑ لیتے تھے"۔

لیکن وہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب برندو میں آبی حیات ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی اور زمین دار اپنی فصلوں کو اس کا پانی لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ 

چغرزئی ہی کے ایک اور رہائشی، 37 سالہ عظمت اللہ، بچپن سے اس ندی سے مچھلیاں پکڑتے چلے آئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ "پچھلے دو سال میں مجھے یہاں سے ایک مچھلی بھی ہاتھ نہیں آئی"۔ اس تبدیلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ برندو کا صاف شفاف پانی اب ایک گاڑھے دودھیا جھاگ کی شکل اختیار کر چکا ہے "جس میں کسی جاندار کا زندہ رہنا ممکن نہیں"۔

سنگ مرمر کی فیکٹریوں سے پیدا ہونے والا فضلہ مقامی ندی نالوں میں بہا دیا جاتا ہےسنگ مرمر کی فیکٹریوں سے پیدا ہونے والا فضلہ مقامی ندی نالوں میں بہا دیا جاتا ہے

عبدالاکبر کی طرح عظمت ﷲ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا سبب سنگ مرمر کی مقامی فیکٹریاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "2015 کے بعد ان فیکٹریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن اس دوران ان سے نکلنے والے کیمیائی مادوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا بلکہ انہیں کسی روک ٹوک کے بغیر مقامی ندی نالوں میں شامل ہونے دیا جا رہا ہے"۔ 

سرکاری شعبے میں کام کرنے والے تعلیمی ادارے، یونیورسٹی آف بونیر، کے استاد سید کوثر سعید ان کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان فیکٹریوں کی وجہ سے ضلع بونیر کے آبی ذرائع خطرناک حد تک آلودہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مقامی ندی نالوں کے پانی پر سنگ مرمر کی صنعت کے اثرات کا جائزہ لے کر 2011 میں ایک تحقیقی مقالہ لکھا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ 1990 کی دہائی میں برندو ندی میں 13 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی تھیں لیکن آج اس میں کسی ایک قسم کی مچھلی بھی نہیں ملتی۔ 

سرکاری شعبے کے ہی ایک اور اعلیٰ تعلیمی ادارے، یونیورسٹی آف پشاور، کے شعبہ ماحولیات کے سربراہ ڈاکٹر محمد نفیس بھی یہی کہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف تو سنگ مرمر کو پہاڑوں سے نکالنے، کاٹنے اور اس سے مختلف اشیا بنانے کے عمل میں بھاری مقدار میں پتھریلے ذرات اور گردوغبار ہوا میں شامل ہو کر انسانوں، حیوانوں اور نباتات کی صحت اور افزائش کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب سنگ مرمر کی چٹانوں کو مختلف مصنوعات کی شکل میں ڈھالنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی اور کئی کیمیائی مادوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس استعمال شدہ پانی اور کیمیائی مادوں کا آمیزہ ایک دودھیا رنگ کے مائع کی صورت میں فیکٹریوں سے نکل کر قریبی ندی نالوں کی تہہ میں بیٹھ جاتا ہے جس سے نہ صرف ان کے پانی کی شفاف رنگت ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ کسی استعمال کے قابل بھی نہیں رہتا۔ ان کے بقول "یہ پانی مچھلیوں کے گلپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے چنانچہ وہ اس میں زندہ نہیں رہ سکتیں"۔ اسی طرح "اگر مویشی یہ پانی پی لیں تو ان کے دودھ کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے اور اس سے سیراب ہونے والی زمین رفتہ رفتہ بنجر ہو جاتی ہے"۔ 

سنگ مرمر کا شہر

ضلع بونیر کے مختلف حصوں میں سنگ مرمر کی لگ بھگ چار سو فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جن میں سے تقریباً 95 فی صد صرف تحصیل چغرزئی میں واقع ہیں۔ 

عبدالاکبر کہتے ہیں کہ 2017 میں انہوں نے بہت سے مقامی لوگوں سے مل کر ان فیکٹریوں سے نکلنے والے فضلے کو ندی نالوں میں ڈالے جانے کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان کے مطابق "ان مظاہروں کے نتیجے میں اُس وقت کے بونیر کے ڈپٹی کمشنر نے فیکٹری مالکان کو حکم دیا کہ وہ ان کا فضلہ باہر نہ نکلنے دیں بلکہ اسے ان کے احاطوں کے اندر جمع کرنے کے لیے ٹنکیاں بنائیں"۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ "کسی فیکٹری کے مالک نے اس سرکاری حکم کی تعمیل نہ کی اور نہ ہی انتظامیہ نے اس حکم عدولی پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی کی"۔

کیمیائی فضلے کی وجہ سے ندیوں کا پانی گاڑھے دودھیا رنگ کی شکل اختیار کر چکا ہےکیمیائی فضلے کی وجہ سے ندیوں کا پانی گاڑھے دودھیا رنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے

دوسری طرف فیکٹری مالکان کی تنظیم، بونیر ماربل ایسوسی ایشن، کے نائب صدر گل روز خان اس مسئلے کا ایک اور حل تجویز کرتے ہیں۔ یہ مانتے ہوئے کہ فیکٹریوں کے آلودہ پانی کے بارے میں عوامی شکایات بہت حد تک درست ہیں وہ کہتے ہیں کہ انہیں دور کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ضلع بھر میں موجود تمام ماربل فیکٹریوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ایک ماربل سٹی قائم کیا جائے تاکہ "ان سے نکلنے والا سارا پانی ایک ہی جگہ جمع کر کے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے"۔

وہ انکشاف کرتے ہیں کہ 2018 میں خیبرپختونخوا کی حکومت نے سالارزئی تحصیل کے بامپوخہ کلے نامی علاقے میں ایک ہزار 52 کنال رقبے پر اس طرح کے ماربل سٹی کے قیام کا منصوبہ بنایا تھا اور 20-2019 کے صوبائی بجٹ میں اس کے لیے 50 کروڑ روپے بھی مختص کیے تھے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ "مقامی لوگوں کی مخالفت کے باعث اس پر کام شروع نہ ہو سکا کیونکہ ان کی زرعی زمینیں اس منصوبے کی زد میں آ رہی تھیں"۔ 

تاہم بونیر کے سابق اسسٹنٹ کمشنر لطیف الرحمٰن کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے ایک جرگے کے ذریعے بامپوخہ کلے کے لوگوں کو ماربل سٹی کے لیے زمینیں دینے پر راضی کر لیا تھا۔ مگر اس کے باوجود اس پر کام شروع نہ ہو سکا کیونکہ، ان کے مطابق، اس علاقے میں پانی کی بہت زیادہ کمی تھی جبکہ سنگ مرمر کی فیکٹریوں کو اپنے کام کے دوران بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔  

ڈاکٹر محمد نفیس بھی سمجھتے ہیں کہ ایک ماربل سٹی کا قیام ہی چغرزئی کے قدرتی اور آبی ماحول کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے قیام سے نہ صرف ایک ہی جگہ پر کام کرنے والی تمام فیکٹریوں کا فضلہ اکٹھا کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ اسے "جمع کر کے اس سے تعمیراتی سامان بھی بنایا جا سکتا ہے"۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اگر بامپوخہ کلے میں ماربل سٹی کا قیام ممکن نہیں ہو سکا تو "اس کے لیے فوری طور پر کسی اور جگہ کا انتخاب کرنا بہت ضروری ہے"۔

تاریخ اشاعت 8 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سلمان یوسفزئی گزشتہ پانچ سالوں سے پشاور میں ٹرائبل نیوز نیٹ ورک ( ٹی این این ) کے ساتھ بطور پرڈیوسر فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور مختلف موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔