گوادر میں خواتین کا احتجاج: 'ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

گوادر میں خواتین کا احتجاج: 'ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

گوادر میں خواتین کا احتجاج: 'ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

جنوبی بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی پورٹ روڈ پر واقع ایک چٹیل میدان میں لڑکیوں اور عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ وہاں مقامی لڑکے اور مرد فٹ بال کھیلتے ہیں۔ 

لیکن 13 دسمبر 2021 کو وہاں دو ہزار سے زیادہ عورتیں اور بچیاں جمع ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے کالی چادریں اوڑھ رکھی ہیں اور اپنے ماتھوں پر سفید پٹیاں باندھ رکھی ہیں جن پر 'حق یا شہادت' لکھا ہوا ہے۔

اس مجمعے کے ایک طرف کھڑی کچھ کم سِن لڑکیاں باری باری صحافیوں کو انٹرویو دے رہی ہیں۔ وہ صحافی کا لباس یا اس کے گلے میں لٹکا ہوا شناختی کارڈ دیکھ کر فیصلہ کرتی ہیں کہ اس سے انہوں نے اردو میں بات کرنی ہے یا بلوچی میں۔ ابہام کی صورت میں وہ پوچھ بھی لیتی ہیں کہ وہ کس زبان میں بولیں۔ 

ان میں 15 سالہ ہانی بلوچ بھی شامل ہے۔ انٹرویو دیتے ہوئے وہ جوان لوگوں کی سی خود اعتمادی کے ساتھ بات کرتی ہے۔ جلسے میں بہت سے بچوں اور بچیوں کی موجودگی کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ "ہم چاہتے ہیں کہ حکومت چیک پوسٹیں بنانے کے بجائے ہمیں سکولوں میں اچھے استاد اور اچھے تعلیمی ادارے دے"۔ 

اس کی ایک ساتھی لڑکی نے ایک نظم یاد کر رکھی ہے۔ کیمرے کے سامنے آتے ہی وہ ایک لمبی سانس بھر کر ایک تقریری انداز میں اسے پڑھنا شروع کردیتی ہے:

"اپنا ہے ازل سے

کیسے یہ تمہارا ہے

بلوچستان ہمارا ہے

بلوچستان ہمارا ہے۔" 

ایک تیسری لڑکی کہتی ہے کہ وہ ریاستی جبر کے خلاف احتجاج کے طور پر جلسے میں شرکت کر رہی ہے۔ وہ کیمرے کے ذریعے اربابِ اختیار کو مخاطب کر کے کہتی ہے کہ "جو آئین آپ نے خود بنایا ہے اسی کو آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ عدالتیں بھی آپ نے خود بنائی ہیں (لیکن اس کے باوجود) آپ ہمارے نوجوانوں کو کیوں اٹھا لیتے ہیں اور کیوں (ان پر مقدمہ چلائے بغیر) ان کی مسخ کردہ لاشیں (ویرانوں میں) پھینک دیتے ہیں؟" 

میدان میں موجود ایک بوڑھی خاتون اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں: "اگر ہمارے بچوں نے کوئی جرم کیا ہے تو پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں۔ انھیں وہاں کیوں پیش نہیں کیا جاتا؟" ایک دوسری خاتون بھی جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: "ہم میں سے کئی سالہا سال سے اپنے لاپتہ بھائیوں، بیٹوں اور شوہروں کی منتظر ہیں"۔ 

گوادری خواتین کے مطالبات

ستمبر 2021 میں پاکستان کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے وفاقی ادارے، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، نے گوادر کے مشرقی ساحل پر ایک گڑھا کھود کر نہ صرف مقامی ماہی گیروں کی سمندر تک رسائی روک دی بلکہ سمندر میں پہلے سے موجود ماہی گیروں کی واپسی بھی ناممکن بنا دی۔

اس رکاوٹ کا سب سے زیادہ منفی اثر گوادر کے جنوبی محلے مُلا بند کے رہنے والے ماہی گیروں پر پڑا۔ لہٰذا وہاں کی رہنے والی ماسی زینب نامی ایک بزرگ خاتون نے فوری طور پر مقامی عورتوں کو جمع کر کے شہر کی بین الاقوامی بندرگاہ کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک احتجاجی دھرنا دے دیا۔

کچھ دیر کے بعد انہوں نے اس دھرنے کی ویڈیو بنا کر ایک مقامی سیاسی رہنما ہدایت الرحمان کو بھیج دی کیونکہ وہ حال ہی میں گوادر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاجی جلسے جلوسوں کی قیادت کر چکے تھے۔ وہ اس وقت کوئٹہ جا رہے تھے لیکن ویڈیو وصول کرتے ہی انہوں نے خواتین کے مظاہرے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ 

ہدایت الرحمان کی شمولیت سے احتجاج کی شدت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کو ماہی گیروں کا راستہ کھولنا پڑا۔ یہ کامیابی بعد ازاں 'گوادر کو حق دو' نامی احتجاجی تحریک کے آغاز کی ایک اہم وجہ ثابت ہوئی۔ 

فٹ بال کے میدان میں ہونے والا عورتوں کا جلسہ اسی تحریک کا حصہ تھا (جو 16 نومبر 2021 کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر کو اختتام پذیر ہوئی)۔ اس کے مرکزی مطالبات میں گوادر کو پانی، بجلی اور گیس کی بلاتعطل فراہمی، مقامی سمندر سے مچھلی پکڑنے والے ٹرالروں پر پابندی اور چیک پوسٹوں کی وجہ سے مقامی لوگوں کی نقل و حرکت پر لگی پابندیوں کا خاتمہ شامل تھے۔ اس کا سب سے بڑا اجتماع  10 دسمبر 2021 کو ہوا جس میں ہزاروں عورتیں بھی موجود تھیں۔

ان میں سے ایک خاتون نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی کسی سیاسی جلسے میں شرکت نہیں کی تھی کیونکہ، ان کے مطابق، وہ "سیاست کے بارے میں زیادہ نہیں جانتیں"۔ لیکن ان کے بقول اب "گوادر کے لوگوں کے پاس اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہماری بقا خطرے میں پڑ جائے گی"۔ 

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ٹرالروں نے ہمارے سمندر میں کوئی مچھلی نہیں چھوڑی۔ ہمارے مرد سارا سارا دن سمندر میں گزارتے ہیں مگر وہ اتنی مچھلی بھی نہیں پکڑ سکتے جسے بیچ کر وہ اپنے گھریلو اخراجات پورے کر سکیں"۔ اس صورتِ حال کے باعث "ہمارے گھروں میں فاقے شروع ہو گئے ہیں"۔ 

تحریک میں شامل عورتوں کا ایک بہت بڑا مطالبہ یہ بھی تھا کہ گوادر میں منشیات کی خرید و فروخت روکی جائے اور شہر میں موجود شراب کی دکانوں کو بند کیا جائے۔ ایک مقامی عورت نے اس مطالبے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے ہسپتالوں میں سردرد کی گولی موجود نہیں لیکن اس کے برعکس گوادر میں شیشہ اور کرسٹل جیسی منشیات عام ملتی ہیں۔ ہمارے گھروں میں پینے کا پانی نہیں ہے مگر شہر میں شراب چوبیس گھنٹے دستیاب ہے"۔

سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت

ہدایت الرحمان 'گوادر کو حق دو' تحریک کے بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔

ان کی جماعت کے مرکزی امیر سراج الحق (جو ماضی میں اس کی ذیلی طلبہ تنظیم، اسلامی جمیعت طلبا، کے ناظم بھی رہ چکے ہیں) 'گوادر کو حق دو' تحریک سے اظہارِ یک جہتی کے لیے 6 دسمبر 2021 کو گوادر آئے۔ جب وہ مظاہرین سے خطاب کرنے کے بعد سٹیج سے نیچے اترے تو کچھ مقامی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ "آپ بلوچ لوگوں سے کیسے اظہارِ یک جہتی کر رہے ہیں جبکہ اسلامی جمعیت طلبا کے ارکان پنجاب میں پڑھنے والے بلوچ طلبہ پر آئے روز حملے کرتے ہیں اور حکومت کو کہتے ہیں کہ انہیں بلوچستان واپس بھیجا جائے"۔ 

سراج الحق نے اس سوال کو بلوچ "قوم پرستوں کا پراپیگینڈہ" قرار دے کر اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ تاہم ہدایت الرحمان سے یہ سوال کبھی نہیں کیا گیا حالانکہ انہوں نے بھی اپنی ابتدائی سیاسی تربیت اسلامی جمیعت طلبا کے پلیٹ فارم سے ہی حاصل کی ہے۔ 

مقامی لوگوں کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہدایت الرحمان نے 'گوادر کو حق دو' تحریک کو جماعتِ اسلامی کے اغراض و مقاصد کے تابع نہیں ہونے دیا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ "جماعتِ اسلامی سے وابستگی میرا ذاتی مسئلہ ہے لیکن یہ تحریک ہر بلوچ کی تحریک ہے"۔

ان کے بقول اس کے شروع میں ہی انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اسے کسی خاص جماعت سے منسلک نہیں کریں گے بلکہ اسے "تمام بلوچ عوام کی تحریک" بنائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے "جماعتِ اسلامی کے تمام مقامی کارکنوں کو کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے جھنڈے اِس تحریک کے مظاہروں سے دور رکھیں"۔ 

کچھ مبصرین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ایک قدامت پرست مذہبی سیاسی جماعت سے منسلک ہونے کے باوجود ہدایت الرحمان کیسے عورتوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی طور پر متحرک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جبکہ دوسری طرف ترقی پسند بلوچ قوم پرست جماعتیں گوادر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں گہرا سیاسی اثرورسوخ ہونے کے باوجود کبھی ایسا نہیں کر پائیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

گوادر کو حق دو تحریک: 'ترقی کے نام پر ہم سے ہمارا سمندر اور پہاڑ چھین لیے گئے ہیں'۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی کارکن سعدیہ بلوچ کہتی ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہدایت الرحمان نے عورتوں کے مسائل اور ان کی آوازوں کو مردوں کے مسائل اور آوازوں جتنی اہمیت ہی دی ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے گوادر میں شراب کی فروخت کا مطالبہ بھی اسی شدت سے اٹھایا جس شدت سے کہ وہ دوسرے مطالبات اٹھا رہے تھے حالانکہ امکان غالب ہے کہ بہت سے مقامی مرد عورتوں کی طرف سے کیے گئے اس مطالبے کی مکمل حمایت نہیں کر رہے ہوں گے۔ 

اس کے برعکس، سعدیہ بلوچ کے مطابق، بلوچ قوم پرست جماعتوں کے مرد رہنماؤں نے کبھی عورتوں کو سیاسی میدان میں اہمیت نہیں دی بلکہ "اگر کبھی انہیں ایسا کرنا بھی پڑا تو انہوں نے عورتوں کی حیثیت محض علامتی ہی رکھی"۔ یہی وجہ ہے کہ "وہ عوام کا اعتماد جیتنے میں ناکام ہو رہے ہیں اور ان کی سیاسی اہمیت میں کمی آ رہی ہے"۔ 

تاہم ان کا کہنا ہے کہ بلوچ عورتوں کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا کوئی نئی بات نہیں۔ مثال کے طور پر جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے نہ صرف لاپتہ افراد کی ماؤں، بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں نے مہینوں کوئٹہ کے پریس کلب کے سامنے ہڑتالی کیمپ لگائے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ نے تو اسی مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے 2013 میں کوئٹہ سے  لے کر اسلام آباد تک کیے گئے پیدل لانگ مارچ میں بھی حصہ لیا تھا۔ 

دوسرے لفظوں میں بلوچ عورتیں "سالہا سال سے ایسے مسائل پر بہت متحرک رہی ہیں"۔

تاریخ اشاعت 11 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔