گندم کی نئی فصل سندھ کو ایک نئے غذائی بحران کے دہانے پر لے آئی ہے؟ سات اہم باتیں

postImg

جانی خاصخیلی

postImg

گندم کی نئی فصل سندھ کو ایک نئے غذائی بحران کے دہانے پر لے آئی ہے؟ سات اہم باتیں

جانی خاصخیلی

سندھ میں گندم کی کٹائی آخری مراحل میں ہے اور اب تک کی خبریں خوش آئند نہیں ہیں۔ سات اہم باتیں جو اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔

1: تاریخی کمی

سندھ میں اس سال 20 لاکھ 70 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت کی گئی جبکہ گذشتہ سال صوبے میں گندم کا زیر کاشت رقبہ 29 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تھا۔

یہ ایک بہت بڑی اور انتہائی پریشان کن تبدیلی ہے جو آئندہ دنوں میں ایک شدید مالی اور غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

1977ء میں سندھ میں 22 لاکھ 91 ہزار ایکڑ پر گندم کاشت کی گئی تھی، اس کے بعد 46 سالوں میں (2022ء تک) صوبے میں گندم کا زیر کاشت رقبہ کبھی 20 لاکھ ایکڑ سے کم نہیں رہا بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ان 46 سالوں کے لیے سندھ میں گندم کے زیرکاشت رقبے کی اوسط 25 لاکھ 75 ہزار ایکڑ بنتی ہے۔ 2023ء میں یہ رقبہ اپنی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔

سندھ پہلے ہی اپنی ضرورت سے کم گندم پیدا کرتا ہے۔ حالیہ کمی کا واضح مطلب یہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں گندم کو بھاری مقدار میں درآمد کرنا پڑے گا جو ملک میں ڈالر کی کمیابی کے باعث ایک کٹھن کام ہو گا۔

2: میں نہ مانوں ۔۔۔

سندھ کے اس سال کے گندم کے زیر کاشت رقبے کے اعداد و شمار وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ نے 28 دسمبر 2022ء کو ایک پریس کانفرنس میں پیش کیے۔ ان کے مطابق وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے 13 اکتوبر 2022ء کو ہونے والے ایک اجلاس میں گندم کی کاشت کے صوبائی اہداف پر اتفاق کیا تھا جس کے مطابق سندھ میں گندم 27 لاکھ 90 ہزار ایکڑ پر کاشت کی جانی تھی لیکن صوبائی کراپ رپورٹنگ سنٹر نے دو ماہ بعد 22 دسمبر 2022ء کو وفاق کو مطلع کیا کہ صوبے میں گندم صرف 20 لاکھ 70 ہزار ایکڑ پر ہی کاشت ہو سکی ہے جو کے ہدف کا 74 فیصد بنتی ہے۔

تاہم محکمہ زراعت سندھ مقامی طور پر ان سے مختلف اعداد و شمار جاری کر رہا ہے۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل ہدایت اللہ چھجڑو نے گذشتہ دنوں لوک سجاگ کو بتایا کہ امسال صوبے میں ساڑھے 29 لاکھ ایکڑ پر گندم کی بوائی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اور ان کے کراپ رپورٹنگ سنٹر کے مطابق صوبے میں اس سے صرف 61 ہزار ایکڑ کم پر گندم کاشت کی گئی جو مقررہ ہدف کے 98 فیصد کے برابر ہے۔

ایک ہی محکمے کی جانب سے متضاد اعداد شمار جاری کرنے میں کیا حکمت ہو سکتی ہے؟

لوک سجاگ کو اضلاع سے موصول ہونے والی رپوٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اس سال نہ صرف گندم کے زیرکاشت رقبے میں کمی آئی ہے بلکہ فی ایکڑ پیداوار بھی گذشتہ سالوں کی نسبت بہت کم ہو گئی ہے۔
ایسا کیوں ہوا؟

3: زیرِ کاشت، زیرِ آب

ضلع دادو کی تحصیل ناتھن شاہ کے لیاقت بگھیو چار سو ایکڑ کے بڑے رقبے کے مالک ہیں۔ پچھلے سال انہوں نے اپنے تمام رقبے پر گندم کاشت کی تھی لیکن 2022ء کے سیلاب نے ان کے علاقے کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ ان کا تمام رقبہ زیر آب آ گیا تھا۔

"انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پانی کی بروقت نکاسی نہیں ہو سکی۔ ہم بڑی مشکل سے صرف 50 ایکڑ پر گندم کاشت کر سکے۔ باقی رقبے پر پانی کہیں فروری میں جا کر نکالا گیا لیکن اس وقت گندم کی کاشت کا وقت گزرے بہت عرصہ بیت چکا تھا۔ ہم بینکوں اور بیوپاریوں کے مقروض ہو چکے ہیں"۔

نبی بخش سٹھیو سندھ کے کاشتکاروں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ایوان زراعت سندھ کے سینئر نائب صدر ہیں۔

<p>دادو کے سیلاب زدہ علاقے کا کاشتکار لیاقت بگھیو اپنی زمیں پر سیلاب کا پانی دکھاتے ہوئے<br></p>

دادو کے سیلاب زدہ علاقے کا کاشتکار لیاقت بگھیو اپنی زمیں پر سیلاب کا پانی دکھاتے ہوئے

انہوں نے سجاگ کو بتایا کہ سندھ کے تینوں بیراجوں کا مجموعی قابل کاشت رقبہ ایک کروڑ 65 لاکھ ایکڑ ہے۔ جس میں سے گڈو بیراج پر 30 لاکھ ایکڑ، سکھر بیراج پر 40 لاکھ ایکڑ اور کوٹری بیراج پر 23 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت ہوتی ہے، باقی اراضی کچے کی ہیں۔ 2022ء کے سیلاب میں 34 لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین زیر آب آگئی تھی، اور کپاس، چاول، مرچ سمیت دیگر کئی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور بہت سے علاقوں میں پانی کی نکاسی میں دیر ہو جانے کے باعث گندم کی فصل کاشت نہیں کی جاسکی۔

4: ایک ماہ کی سردیاں

نبی بخش سٹھیو ضلع ٹنڈو محمد خان کے کاشتکار بھی ہیں۔انہوں نے ہر سال کی طرح اس بار بھی اپنی 95 ایکڑ زمین پر گندم ہی کاشت کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ سال ان کی پیداوار 35 سے 40 من فی ایکڑ تھی جبکہ اس سال 30 سے 33 من آ رہی ہے۔ وہ اس کی وجہ موسمیاتی تغیر کو قرار دیتے ہیں۔

"اس بار خلاف معمول فروری میں ہی گرمی شروع ہو گئی جس سے گندم کی فصل کمزور ہوگئی"۔

زیریں سندھ کے ضلع میرپورخاص، بدین اور عمرکوٹ میں گندم کی کاشت سب سے پہلے یعنی اکتوبر کی ابتداء میں ہی شروع ہو جاتی ہے اور فروری کے وسط سے گندم کی کٹائی کا آغاز ہو جاتا ہے۔مارچ کے شروع میں یہاں کی نئی گندم مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔

 میر پور خاص کے سب سے زیادہ سیلاب زدہ علاقے جھڈو کے کاشتکار زاہد بھرگڑی نے اس سال بھی اپنے 130 ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی۔

زاہد کہتے ہیں کہ سندھ میں موسم سرما دسمبر سے لیکر فروری کی آخر یا مارچ کے پہلے ہفتے تک جاری رہتا ہے لیکن رواں سال یہ دسمبر کے آخر سے شروع ہو کر جنوری کے آخر تک بمشکل ایک ماہ ہی رہا اور فروری میں ہی گرمی شروع ہو گئی جس سے گندم کے پودوں کو نقصان پہنچا۔ ان میں دانوں کی تعداد کم بھی ہو گئی اور وہ چھوٹے بھی رہ گئے، نتیجتاً فی ایکڑ پیداوار خاصی کم ہو گئی۔

بہت سے کاشت کاروں کا ماننا ہے کہ سیلاب کے باعث زیر زمین پانی کے سطح بلند ہو جانے سے بھی گندم کی پیداوار پر منفی اثرات پڑے ہیں۔

زاہد نے بتایا کہ ان کی اوسط پیداوار گذشتہ برس 33 سے 35 من فی ایکڑ تھی جبکہ اس سال یہ 26 سے 28 من رہ گئی ہے۔

5: بن موسم برسات

ضلع حیدرآباد کے علاقے مسوبھرگڑی کے تین چھوٹے کاشتکار - حضور بخش بروہی، عبدالرحمان بروہی اور محمد حفیظ سیال – اپنی گندم کی کٹائی کرنے کے بعد تھریشر کا انتظار کر رہے تھے جب 21 مارچ کو سندھ بھر میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ان کی گندم تھریشنگ سے پہلے ہی تباہ ہو گئی۔

<p>حیدرآباد موسم بہار کی بارشوں میں گندم کی کٹائی کی ہوئی فصل بارش کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے <br></p>

حیدرآباد موسم بہار کی بارشوں میں گندم کی کٹائی کی ہوئی فصل بارش کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے

حضور بخش بروہی اور عبدالرحمان بروہی نے بتایا کہ گذشتہ سال مون سون کی بارشوں نے ان کی کپاس کی فصل تباہ کردی تھی اور رواں سال موسم بہار کی بارشوں نے گندم کی تیار فصل کو برباد کردیا۔

گذشتہ سال کی موسمیاتی تباہی نے میرپورخاص کے گاؤں گل محمد گلانی کے میر حسن گلانی کی چار ایکڑ پر تیار کپاس کی فصل اور اتنے ہی رقبے پر کھڑی گنے کی فصل کو مکمل طور پر تباہ کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال انہوں نے بیج، کھاد اور ڈیزل ادھار پر لے کر گندم کی فصل لگائی لیکن نامواقف موسم کے باعث ان کی فی ایکڑ پیداوار گذشتہ سال کی اوسط 33 من سے کم ہو کر اس سال 25 من پر آ گئی ہے۔

6: امدادی قیمت = اضافی لاگت

میرپورخاص کے زاہد بھرگڑی کا کہنا ہے کہ اس سال گندم کی کاشت پر خرچ گذشتہ سال کی نسبت دو گنا سے بھی زائد تھا۔ وہ اس کی تفصیل اس طرح بتاتے ہیں:

گذشتہ سال گندم کے بیج کے تھیلے کی قیمت تین ہزار روپے تھی جو اس سال بڑھ کر پانچ ہزار چھ سو ہوگئی، یوریا کی بوری 19 سو سے 33 سو اور ڈی اے پی کی بوری آٹھ ہزار سے 12 ہزار روپے پر چلی گئی جبکہ ڈیزل 140 روپے لٹر سے بڑھ کر 295 روپے پر پہنچ گیا۔

ان کے حساب کے مطابق پچھلے برس کل پیداواری لاگت 25 ہزار روپے فی ایکڑ تھی جو اس برس 60 ہزار ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اور روس-یوکرین جنگ کی حدت: 'پاکستان کو گندم کی درآمد پر پہلے سے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا'۔

گندم کی امدادی قیمت پچھلے سال دو ہزار دو سو روپے فی من مقرر تھی جسے اس سال حکومت سندھ نے بڑھا کر چار ہزار روپے کر دیا لیکن امدادی قیمت میں یہ تاریخی اضافہ بھی لاگت میں اضافے کا ازالہ کرنے کے لیے ناکافی تھا پھر فی ایکڑ پیداوار میں کمی نے بچت کے امکانات کو یکسر ختم کر دیا۔

7: ملاکھڑا – سرکار بمقابلہ بیوپاری

محکمہ خوراک سندھ یکم مارچ سے سرکاری نرخ پر کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کر رہا ہے جس کے لیے صوبے بھر میں ساڑھے چار سو خریداری مرکز قائم کیے گئے ہیں۔لیکن زیادہ تر کاشتکار جو اب تک اپنی گندم بیچ چکے ہیں، انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ بیوپاری چار ہزار روپے فی من کے سرکاری ریٹ سے بھی دو سو روپے زیادہ ادا کر کے ان کی پیداوار خرید رہے ہیں۔

کاشتکار بھی سرکار کی بجائے منڈی میں اپنی فصل کو بیچنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

سجاول کے اسمعیل درس کہتے ہیں: "محکمہ خوراک گندم تو خریدتا ہے لیکن وہ رقم کی ادئیگی کے لیے ہمیں بہت رلاتے ہیں، کئی دنوں تک بینکوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں، جبکہ بیوپاری نہ صرف ریٹ ان سے زیادہ دے رہا ہے بلکہ رقم بھی اسی وقت نقد ادا کر دیتا ہے"۔

سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل کنبھر کہتے ہیں کہ گذشتہ سال حکومت سندھ نے گندم خریداری کا ہدف 14 لاکھ ٹن مقرر کیا تھا لیکن وہ صرف ساڑھے نو لاکھ ٹن ہی خرید پائی تھی۔اس سال بھی ٹارگٹ 14 لاکھ ٹن کا ہی رکھا گیا ہے۔

"اس سال جب مجموعی پیداوار میں پچھلے سال کی نسبت دس لاکھ ٹن کی کمی متوقع ہے، 14 لاکھ ٹن کی خریداری ناممکن نظر آ رہی ہے۔"

سرکاری گوداموں میں کم گندم کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کی رسد اور قیمت طے کرنے میں بیوپاریوں کا پلڑا بھاری رہے گا اور سرکار ان کے سامنے بے بس نظر آئے گی۔

تاریخ اشاعت 2 اپریل 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جانی خاصخیلی کا تعلق حیدرآباد سے ہے، وہ سیاست، ماحولیات، زراعت، انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں اور اقلیتوں کو درپیش مسائل سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.