ضلع شیرانی میں آٹھ سال پہلے عارضی طور پر معطل کی گئی بجلی بحال نہ ہو سکی

postImg

حمید اللہ شیرانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ضلع شیرانی میں آٹھ سال پہلے عارضی طور پر معطل کی گئی بجلی بحال نہ ہو سکی

حمید اللہ شیرانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

سولہ سالہ خوشحال خان بلوچستاں کے ضلع شیرانی کے گاؤں ( کلی) خان عالم کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے انٹر کالج مانیخواہ میں ایف ایس سی میں داخلہ لے رکھا ہے۔ مگر امتحان کی تیاری کے لیے انہیں کوئٹہ میں رہنا پڑ رہا ہے۔

ایسا نہیں کہ خوشحال خان کو ضلع شیرانی یا اپنے کالج میں پڑھنا ناپسند ہے۔ ان کی مشکل یہ ہے کہ شیرانی میں نہ تو ان کے گھر میں بجلی ہے اور نہ ہی کالج میں یہ سہولت میسر ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ شدید گرمی میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کالج میں پڑھائی نہیں ہوتی تھی اور گھر میں بھی یہی حال تھا۔ان کے والد کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ رات کو روشنی اور پنکھے کے لیے سولر یا کوئی اور انتظام کر سکیں۔

اسی لیے انہیں مجبوراً اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ اب ان کا داخلہ تو شیرانی کے کالج میں ہے مگر وہ پڑھائی کوئٹہ میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔

واحد تحصیل پر مشتمل ضلع شیرانی کے شمال میں جنوبی وزیرستان، مشرق میں ڈیرہ اسماعیل خان، جنوب مشرق میں موسیٰ خیل اور جنوب مغرب میں ضلع ژوب واقع ہے۔ شیرانی کی مغربی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔

2023ء کی مردم شماری میں ضلع شیرانی کی آبادی تین لاکھ 97 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ یہاں اوسط شرح خواندگی 28 فیصد جبکہ خواتین میں یہ شرح 15.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

 یہاں اس وقت صرف ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے دفاتر پر مشتمل شیرانی ٹاؤن اور میونسپل کمیٹی کے نواح میں 18 سے 20کلومیٹر پر مشتمل علاقے کو ژوب سے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔

 شیرانی ٹاون کے علاوہ پورا ضلع اٹھارہ یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جہاں لگ بھگ پانچ ہزار آبادی والے تقریباً سو گاؤں ہیں۔ تاہم ان کےکسی باسی نے پچھلے آٹھ سال میں بجلی نہیں دیکھی۔

 ملک گل آدم کپیپ 15 سال سے بنیادی مرکز صحت کلی خان عالم میں بطور میڈیکل ٹیکنیشن کام کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بی ایچ یو میں آس پاس کے پانچ چھ دیہات سے لگ بھگ 10 ہزار لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔ مگر بجلی نہ ہونے کے باعث لیبارٹری میں مشینیں تک خراب ہو چکی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے فریزر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم بجلی نہ ہونے کے سبب اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث ڈاکٹر بھی یہاں رہ نہیں سکتے۔

یونین کونسل لواڑہ کی آبادی 20 ہزار سے زیادہ ہے۔ یہاں کے رہائشی گل شاہ خان علاقے کے ہائی سکولوں میں آٹھ سال سے بطور معلم وابستہ ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ لواڑہ سمیت بعض یونین کونسلوں میں واپڈا نے کبھی بجلی کا ایک پول بھی نہیں لگایا۔ تاہم آٹھ سال پہلے یہ صورتحال نہیں تھی اور شیرانی ٹاؤن کے علاوہ 13 یونین کونسلوں کو بھی بجلی میسر تھی۔

کلی زیندی ملو کے رہائشی محمد خان بتاتے ہیں کہ ژوب تا ڈیرہ غازی خان نیشنل ہائی وے کی آٹھ سال قبل توسیع ہوئی تو شیرانی کو آنے والی ٹرانسمیشن لائن کے کئی پول سڑک میں آ گئے۔ ان پولز کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ تب سے نہ تو ٹرانسمیشن لائن مرمت ہوئی اور نہ ہی ضلع شیرانی کو بجلی بحال ہوسکی۔ اب تو وہاں سے بجلی کے تار اور دیگر سامان بھی غائب ہو چکا ہے۔

اختر شاہ شیرانی لوکل گورنمٹ میں بطور سیکرٹری یونین کونسل ملازم ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ بجلی کی عدم فراہمی سے یونین کونسل مانیخواہ کے 36 ہزار لوگ آٹھ سال سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے بجلی کے متبادل کےطور پر شمسی توانائی استعمال کرنا شروع کر دی ہے لیکن سبھی اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔

 اختر شاہ کے مطابق انہوں نے بجلی کی بحالی کے لیے کئی بار آواز اٹھائی اور ضلعی انتظامیہ سے ملاقاتیں بھی کی ہیں مگر مرمت کا کام شروع نہیں ہو سکا۔

ضلع شیرانی کے ایس ڈی او افتخار اللہ مانیخواہ فیڈر سے تین ہزار میٹر تار چوری ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم گرفتار کر لیے گئے اور کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیڈر کو بحال کردیا ہے لیکن کوئی اہلکار اس کی تصدیق نہیں کرتا۔

افتخار اللہ کہتے ہیں کہ ضلع شیرانی کو تقریباً 15 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے مگر اس وقت ایک میگاواٹ سے بھی کم فراہم کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

چراغ تلے اندھیرا: آزاد جموں و کشمیر کے باسی اپنے دریاؤں سے بنی بجلی کے ثمرات سے محروم۔

سپرنٹنڈنگ انجینئر(ایس ای) کیسکو آپریشن لورالائی عبدالقیوم بنگلزئی کا کہنا ہے کہ شیرانی میں بجلی بحال کرنی ہے تو ارکان اسمبلی پی ایس ڈی پی میں فنڈ مختص کرائیں۔کمپنی کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہوتا۔

 چیف ایگزیکٹو افسر کیسکو کے پرسنل اسسٹنٹ ممتاز شیر بھی ایس ای کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ صرف بجلی کی فراہمی کے منصوبے بنا سکتا ہے۔ نیا ترقیاتی کام کرنا اس کی ذمہ داری نہیں۔ اس مقصد کے لیے منتخب نمائندوں کو فنڈ مہیا کرنا ہوں گے۔

الیکشن 2018ء میں ضلع شیرانی سے منتخب ہونے والے ایم این اے مولانا عبدالواسع سے اس بارے میں بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح مقامی ایم پی اے بابر موسیٰ خیل کے فوکل پرسن فہیم زیب سے رابطے کی کوششیں بھی ناکام رہیں۔

شیرانی میں زیادہ تر لوگ زراعت پر گزارہ کرتے ہیں۔ یہاں پیدا ہونے والی گندم، مکئی، سبزی اور کئی اقسام کے پھل مقامی ضروریات کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ چلغوزے کے جنگلات کے لیے بھی مشہور ہے۔ اب یہاں زیتون بھی متعارف ہو رہا ہے۔ ضلعی افسر زراعت امیر شاہ کا کہنا ہے کہ اگر بجلی بحال ہو جائے تو علاقے میں زیرکاشت رقبے کو تین گنا تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

تاریخ اشاعت 14 اگست 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

حمید اللہ شیرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ مختلف ملکی و غیر ملکی اداروں کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم “فریڈم نیٹ ورک” کے صوبائی کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔

thumb
سٹوری

لاہور: اندرون شہر کے کئی علاقوں میں سولر پینلز لگانا مشکل، حل کیا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

ضلع خیبر: ڈوبتی ہوئی زراعت کو سولر سسٹم کا سہارا

لاہور کی یونیورسٹیاں، فضائی آلودگی کے خلاف متحد

thumb
سٹوری

شانگلہ میں سیاح کیوں نہیں جاتے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

آزاد کشمیر: میرپور میں ماحول دوست عوامی گاڑی چل پڑی

thumb
سٹوری

شمسی توانائی، قبائلی ضلع خیبر کے لوگوں کی تکالیف کیسے کم کررہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

بجلی آئے نہ آئے، ہسپتال کھلا ہے

thumb
سٹوری

کاسا-1000: کرغزستان اور تاجکستان سے بجلی لانے والی ٹرانسمشن لائن کا کام کب شروع ہو گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

لیپ آف فیتھ: اقلیتی رہنماؤں کے ساتھ پوڈ کاسٹ سیریز- ڈاکٹر یعقوب بنگش

کل مالی تھا آج ایم فل ہوں

چلتے پھرتے سولر سسٹم بھکر پہنچ گئے

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا میں انصاف کے متبادل نظام کی کمیٹیاں، ایک بھی خاتون شامل نہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.