اپر دیر میں ٹائیفائیڈ کی نئی قسم کی وبا: بیماریوں کے خلاف آزمودہ دوائیں بے اثر کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟

postImg

سید زاہد جان

postImg

اپر دیر میں ٹائیفائیڈ کی نئی قسم کی وبا: بیماریوں کے خلاف آزمودہ دوائیں بے اثر کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟

سید زاہد جان

ضلع اپردیر کے علاقے سندرول کے محمد مصطفیٰ خان کو کئی روز سے جسم میں درد اور بخار تھا۔ مقامی سطح پر علاج کے باوجود بیماری کی شدت بڑھتی گئی۔ بالآخر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال دیر منتقل ہونا پڑا جہاں ان جیسے درجنوں مریض پہلے سے داخل تھے۔

ٹیسٹ کے نتائج دیکھنے کے بعد ڈاکٹروں نے 32 سالہ محمد مصطفیٰ کو بتایا کہ انہیں ٹائیفائیڈ تو ہے، مگر یہ عام قسم کا نہیں بلکہ ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ ہے جو عام قسم سے بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

ڈاکٹر حنیف اللہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں میڈیکل سپیشلسٹ ہیں۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ انتہائی طاقتور اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے بغیر کنٹرول نہیں ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں اینٹی بایئوٹک کے غیر ضروری اور بے دریغ استعمال کے باعث بہت سی بیماریوں کی جراثیموں نے ان ادویات کے خلاف اپنی قوت مزاحمت بڑھا لی ہے یعنی پہلے جن اینٹی بائیوٹک دواؤں کے استعمال سے یہ جراثیم تلف ہو جاتے تھے اور ان سے متاثرہ مریض صحتیاب ہو جاتے تھے، اب وہ بے اثر ہو چکی ہیں۔ ان سخت جان جراثیموں کو تلف کرنے کے لیے زیادہ طاقتور اینٹی بائیوٹک کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایکس ڈی آر (ایکسٹینسولی ڈرگ ریزسٹنٹ) ٹائیفائیڈ بھی اس مرض کی ایسی ہی سخت جان قسم ہے۔

"ہم عام ٹائیفائیڈ کے مریض کو جو اینٹی بائیوٹک دیا کرتے تھے ان کی قیمت مناسب ہوتی تھی اور ان سے مریض بھی جلد ٹھیک ہوتے تھے۔ ایکس ڈی آر کا علاج جس اینٹی بائیوٹک سے ہوتا ہے اس کا ایک انجکشن مارکیٹ میں تین ہزار روپے تک کا ہے اور ایک مریض کے مکمل علاج پر 60 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک خرچہ آتا ہے"۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ وبائی صورت اختیار کر رہا ہے؟

ڈی ایچ کیو دیر کے ایم ایس ڈاکٹر صاحبزادہ امتیاز احمد نے لوک سجاگ کو بتایا کہ پچھلے سال جولائی، اگست میں بھی ٹائیفائیڈ اور ہیضہ کی وبا پھوٹ پڑی تھی اور سینکڑوں مریض ڈی ایچ کیو ہسپتال لائے گئے تھے۔ تاہم ان میں ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

ان کے مطابق اس علاقے میں اس نئی قسم کا ٹائیفائیڈ رواں برس فروری میں پہلی بار سامنے آیا تھا۔

ڈاکٹر حنیف اللہ کا کہنا کہ فروری سے اب تک ان کے میڈیکل وارڈ میں چار سو کے قریب ٹائیفائیڈ کے مریض لائے گئے ہیں۔ "ہم نے ان میں سے جن مریضوں کے بلڈ کلچر ٹیسٹ کیے ان میں سے 60 مریضوں کی رپورٹس ایکس ڈی آر پازٹیو آئی ہیں یعنی وہ ٹائیفائیڈ کی اسی سخت جان قسم کے مریض تھے"۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اپر دیر ڈاکٹر خالد خان نے لوک سجاگ کو بتایا کہ دو جون کو اپر دیر کی تحصیل واڑی کے بالائی علاقے دسکوڑ کے مدرسہ حفظ القرآن کے 15 طلبا کو واڑی کے تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تین طلبا کے نمونے لیبارٹری بھیجوائے گئے۔ ان میں سے ایک کا نتیجہ آ چکا ہے جس کے مطابق مریض کو ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ ہے۔

ڈاکٹر خالد کے مطابق ٹیسٹ کے لیے مدرسے کے تمام 80 طلبا کے خون کے نمونے لیے جائیں گے۔ اگلے مرحلے میں پورے علاقے کے لوگوں کا بلڈ کلچر ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ ایکس ڈی آر کی وبا کی بروقت روک تھام ہو سکے۔

اینٹی بائیوٹک ادویات کیوں بے اثر ہوتی جا رہی ہیں؟

توقیر مصطفیٰ فلیمنگ فنڈ پاکستان میں پبلک ہیلتھ سپیشلسٹ ہیں اور پاکستان میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت سے متعلق کام کرتے ہیں۔

 انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ ابتدا میں ٹائیفائیڈ کے مریضوں کا علاج ایک یا زائد عام اینٹی بائیوٹک جیسا کہ ایم پیسلین، کلورم فینکال اور کوٹریموکسازول سے ہو جاتا تھا۔

"1970ء کی دہائی میں ٹائیفائیڈ کی پہلی سخت جان قسم ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ (ایم ڈی آر) ٹائیفائیڈ دنیا بھر میں پھیلی بالخصوص ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں۔ اور ان ممالک میں ہی اینٹی بائیوٹک کا استعمال بلا روک ٹوک اور بے تحاشہ ہوتا ہے۔ ایم ڈی آر ٹائیفائیڈ کے علاج میں پہلی تینوں ادویات بے اثر ثابت ہوتی تھیں  لیکن ان سے زیادہ طاقتور ادویات اثر کر جاتی تھیں۔

"2016ء میں صوبہ سندھ کے ضلع حیدرآباد میں ٹائیفائیڈ کی ایک نئی قسم پھیلی جس میں اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت اتنی زیادہ تھی کہ اس پر صرف اور صرف طاقتور ترین ایزتھرمائی سین اینٹی بائیٹک اثر رکھتی ہے۔

"ایزتھرمائی سین کھانے والی اینٹی بائیٹک میں سب سے زیادہ طاقتور ہے اور اگر یہ بھی کام نہ کرے تو مریض کا علاج انجکشن کے ذریعے دی جانے والی انتہائی طاقتور ادویات سے کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے ٹائیفائیڈ کی اس قسم کو ایکسٹینسولی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹائیفائیڈ کا نام دیا گیا۔"

توقیر  نے بتایا کہ کورونا (کووڈ 19) کی وبا کے دوران ایزتھرمائی سین کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا کیونکہ یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ اس کی مدد سے کورونا سے بچا جا سکتا ہے۔ اس غیر ضروری استعمال نے اس دوا کے اثر کو بھی کم کر دیا۔ اس لیے اب ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے ایزتھرمائی سین (کھانے والی) کے ساتھ تھڑد جنریشن کے میروپینیم (انجکشن) کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی خطرناک صورت حال ہے کیونکہ اگر ٹائیفائڈ کے جراثیم نے موجودہ دواؤں کے خلاف بھی مزاحمت حاصل کر لی تو اس کا علاج ناممکن ہو جائے گا۔

توقیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں اینٹی بائیوٹک کا غیر ضروری اور بے دریغ استعمال ان ادویات کے بے اثر ہو جانے کا بنیادی سبب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) سمیت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف ہسپتالوں میں اس قسم کے مریضوں میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔

مفت دوا نہ ملتی تو ۔ ۔ ۔

زیرعلاج محمد مصطفیٰ کہتے ہیں کہ ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد ان کی حالت میں بہت بہتری آئی ہے۔ ان کے والد روح اللہ نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال دیر میں ان کے بیٹے کو ہزاروں روپے کے انجکشنز اور ادویات دونوں مفت فراہم کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

دریائے پنجکوڑہ کے پانی کو دیر شہر کے سیوریج سے بچانا کس کی ذمہ داری ہے؟

اسی ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں پناہ کوٹ کے چھ سالہ بچے کے ساتھ ان کی والدہ فریدہ بی بی موجود ہیں۔ بچے کو بھی ٹائیفائیڈ ہے۔ بچے کی والدہ نے بتایا کہ ہمیں ہسپتال سے مہنگی ادویات مفت فراہم کی گئیں ورنہ ان میں انہیں خریدنے کی سکت نہیں تھی۔

ڈاکٹر امتیاز احمد کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے قریب آبادی کے سیوریج اور ڈرینج براہ راست دریاؤں میں ڈال دیے جاتے ہیں جس سے ان کا پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ یہی آلود پانی پینے اور کھانے کی چیزوں کے علاوہ مساجد اور گھروں میں وضو کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ٹائیفائیڈ اور دیگر خطرناک امراض کا سبب بنتا ہے۔ مریض کے سفر کرنے سے یہ دور دراز علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔

حنیف اللہ کے مطابق اس مرض میں لوگوں کو چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ چونکہ عموماً یہ آلودہ پانی سے ہوتا ہے اس لیے پانی اچھی طرح ابال کر پینا اور کھانے کی اشیا میں استعمال کرنا چاہیے۔ رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا چاہیے۔

تاریخ اشاعت 19 جون 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سید زاہد جان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے اور وہ گزشتہ باٸیس سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

بھنبھور: ہاتھی دانت کی صنعت کا سب سے بڑا مرکز

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی خوش خوراکی: 'وہ لوگ گوشت کھاتے اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

میدان جنگ میں عید: ایک وزیرستانی کا عید کے لیے اپنے گھر جانے کا سفرنامہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
thumb
سٹوری

پاکستان میں صنعتیں کلین انرجی پر چلانا کیوں مشکل ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

بلوچستان: عالمی مقابلے کے لیے منتخب باکسر سبزی منڈی میں مزدوری کر رہا ہے

thumb
سٹوری

گوڑانو ڈیم: تھر کول مائننگ کا پانی کیسے آبادیاں اور ارضیاتی ماحول تباہ کر رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو

جھنگ: سیم اور تھور ہماری زمینوں اور گھروں کو نگل گیا

thumb
سٹوری

نارنگ منڈی میں فرقہ واریت کی آگ کون بھڑکا رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ

پہاڑ نے بدلے میں قدرتی جنگل سے نواز دیا

thumb
سٹوری

'قراقرم ہائی وے پر بڑھتے حادثات کی وجہ کیا ہے، انسانی غلطی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

ضلع مہمند: "ہمارا وطن مشکلات کا وطن ہے"

thumb
سٹوری

زیر زمین کوئلے سے گیس اور بجلی بنانے کا منصوبہ، حقیقت یا افسانہ؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.