ہوئی صورت نہ کچھ اپنی شفا کی: خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کے رہائشی افراد صحت سہولت پروگرام کی متعدد سہولتوں سے محروم۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ہوئی صورت نہ کچھ اپنی شفا کی: خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کے رہائشی افراد صحت سہولت پروگرام کی متعدد سہولتوں سے محروم۔

اسلام گل آفریدی

postImg

ہوئی صورت نہ کچھ اپنی شفا کی: خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کے رہائشی افراد صحت سہولت پروگرام کی متعدد سہولتوں سے محروم۔

اسلام گل آفریدی

سیناب اللہ کو ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنا خراب گردہ جلد از جلد تبدیل کرائیں ورنہ ان کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ کسی نجی ہسپتال سے یہ تبدیلی کرانے پر 18 لاکھ روپے خرچ آتا ہے جس کا انتظام کرنا ان کے لیے نا ممکن ہے جبکہ علاج معالجے کا سرکاری پروگرام انہیں یہ سہولت فراہم کرنے کو بالکل تیار نہیں۔

ان کی عمر محض 30 سال ہے اور وہ چار سال سے گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ ان کے خاندان میں ان کی بیوی اور تین بچوں کے علاوہ ان کی 50 سالہ والدہ اور دو چھوٹے بھائی بھی شامل ہیں جن میں سے ایک فالج زدہ ہے۔ چونکہ ان کے والد پانچ سال پہلے فوت ہو چکے ہیں اس لیے اس تمام کنبے کی کفالت کی ذمہ داری ان کے بھائی حکمت اللہ کے سر  ہے جو سوات کے علاقے میں محنت مزدوری کر کے 25 ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ ان کے مطابق اس محدود آمدن سے گردے کی تبدیلی تو ایک طرف گھر کا خرچہ چلانا بھی مشکل ہے۔

سیناب اللہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل برقمبر خیل سے ہے۔ لیکن اپنے گردوں کی صفائی (ڈائلیسس) کرانے کے لیے انہیں ہفتے میں دو مرتبہ  پشاور کے ایک ہسپتال میں جانا پڑتا ہے۔ اس لیے آج کل وہ اسی شہر کے نواحی علاقے پشتَخرہ میں اپنے ماموں کے گھر میں مقیم ہیں۔

اگرچہ وہ خیبرپختونخوا میں جاری مفت علاج کے سرکاری منصوبے، صحت سہولت پروگرام، سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں اور اسی کے تحت کوئی رقم ادا کیے بغیر اپنے گردوں کی صفائی کراتے ہیں لیکن اس کے ذریعے انہیں اپنا گردہ تبدیل کرانے کی اجازت نہیں۔ ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے آبائی ضلعے سمیت پاک-افغان سرحد پر واقع سات قبائلی اضلاع کے لوگوں کو صحت سہولت پروگرام کے تحت متعدد ایسی سہولتیں دستیاب نہیں جو صوبے کے باقی ضلعوں کے لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔

خیبر کے باسیوں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت وہ گردے اور جگر کی پیوند کاری اور ہڈیوں کے گودے کی تبدیلی جیسے متعدد ضروری علاج نہیں کرا سکتے۔ اسی طرح ان سات ضلعوں سے تعلق رکھنے والے ہر خاندان کو ایک سال میں سات لاکھ 20 ہزار روپے مالیت کا مفت علاج کرانے کی اجازت ہے جبکہ دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے لیے یہ سالانہ حد 10 لاکھ روپے ہے۔ دورانِ علاج یہ حد پار کرنے کی صورت میں وہ فوری طور پر حکومت سے اگلے سال کے لیے مختص کی گئی رقم میں سے چار لاکھ روپے بطور ایڈوانس بھی لے سکتے ہیں جبکہ یہ سہولت بھی خیبر اور دوسرے قبائلی اضلاع کے لوگوں کو دستیاب نہیں۔

مزید برآں ان ساتوں اضلاع کے رہنے والے لوگوں کو صحت انصاف پروگرام کے تحت مفت علاج کرانے کے لیے صوبائی محکمہ صحت سے ایک خاص کارڈ بنوانا پڑتا ہے جس کے لیے انہیں سرکاری دفتروں کے کئی چکر لگانا پڑتے ہیں۔ لیکن باقی اضلاع کے لوگ محض اپنا قومی شناختی کارڈ استعمال کر کے اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

وفاق بمقابلہ صوبہ

جون 2018 سے پہلے قبائلی اضلاع میں رہنے والے لوگوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے پاس تھی کیونکہ اس وقت ان کے آئینی، سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے طور پر چلائے جاتے تھے۔ جب اُس سال 31 مئی کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں خیبرپختونخوا کا حصہ بنایا گیا تو ان میں طبی سہولتوں کی فراہمی پھر بھی وفاقی حکومت کی ہی ذمہ داری رہی تاآنکہ 21 فروری 2022 کو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے ان میں جاری صحت کے وفاقی پروگرام کے عملے، اثاثوں اور واجبات کو خیبرپختونخوا کی حکومت کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی۔

اس منظوری کے بعد اِس سال 30 مارچ کو خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اعلان کیا کہ ان اضلاع کے لوگوں کو بھی وہ تمام طبی سہولتیں مہیا کی جائیں گی جو 2015 سے صوبے میں جاری صحت سہولت پروگرام کے تحت اس کے باقی اضلاع میں دی جا رہی ہیں۔ یہ اعلان سن کر سیناب اللہ اور ان کے اہلِ خانہ بہت خوش آئے کیونکہ انہیں لگا کہ اب جلد ہی ان کا گردہ مفت تبدیل ہو جائے گا۔ اسی توقع کی بنا پر انہوں نے اپنی سرجری کے لیے ضروری تمام طبی ٹیسٹ کرا لیے اور ان کی والدہ انہیں اپنا گردہ دینے کو بھی تیار ہو گئیں۔

اسی دوران ان کے بھائی تقریباً ہرروز پشاور میں واقع صحت سہولت پروگرام کے دفتر جا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کو گردے کی مفت تبدیلی کی سہولت کب ملے گی۔ لیکن خیبرپختونخوا میں یہ سہولت فراہم کرنے والے واحد ہسپتال، رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، کے عملے کا کہنا ہے کہ تیمور سلیم جھگڑا کے اعلان کے پانچ ماہ بعد بھی  اسے صوبائی حکومت کی طرف سے قبائلی اضلاع کے رہنے والے مریضوں کے گردے مفت تبدیل کرنے کے بارے میں کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا: خیبر پختونخوا میں صحت سہولت کارڈ مریضوں کے لیے کیسے تکلیف کا باعث بن گیا۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تاخیر کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق انہیں وفاقی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ قبائلی اضلاع میں صحت سہولت پروگرام کی تمام سہولتوں کی فراہمی کے لیے درکار اضافی رقم وفاق کے مالی وسائل میں سے فراہم کی جائے گی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اِس سال 9 اپریل کو وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی جگہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے برسرِاقتدار آنے کے بعد اِس رقم کی فراہمی روک دی گئی ہے۔

اس صورتِ حال کے بارے میں صحت انصاف پروگرام کے صوبائی انچارج ڈاکٹر ریاض تنولی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ان اضلاع میں لوگوں کے علاج معالجے کی تمام ذمہ داریاں تو صوبے کو منتقل کردی ہیں لیکن وہ اس مقصد کے لیے درکار رقم فراہم کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے مطابق "اس رقم کے بغیر صوبائی حکومت کے لیے ممکن نہیں کہ وہ قبائلی اضلاع میں بھی وہی طبی سہولتیں فراہم کرے جو صوبے کے دوسرے اضلاع میں دی جاتی ہیں"۔

تاریخ اشاعت 6 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اسلام گل آفریدی پچھلے سولہ سال سے خیبر پختونخوا اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں قومی اور بیں الاقوامی نشریاتی اداروں کے لئے تحقیقاتی صحافت کر رہے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔