گوڑانو ڈیم: تھر کول مائننگ کا پانی کیسے آبادیاں اور ارضیاتی ماحول تباہ کر رہا ہے؟

postImg

جی آر جونیجو

postImg

گوڑانو ڈیم: تھر کول مائننگ کا پانی کیسے آبادیاں اور ارضیاتی ماحول تباہ کر رہا ہے؟

جی آر جونیجو

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے سندھ حکومت کے جوائنٹ وینچر سے 10-2009ء میں تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ میں واقع بلاک ٹو پر مائننگ کا کام شروع کیا جو لگ بھگ 95 مربع کلومیٹر یعنی کول فیلڈ کے کل رقبے کا ایک فیصد بنتا ہے۔

صحرا میں 9 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے کول فیلڈ کو 14 بلاکوں میں ڈیویلپ کیا گیا ہے جن میں سے کوئلہ نکالنے کا کام صرف دو بلاکوں میں ہی ہو رہا ہے۔

 کول بلاک ٹو کی کانوں سے نکلنے والے پانی کے لیے 2016ء میں 26 کلومیٹر دور واقع گاؤں گوڑانو کے ساتھ ایک بڑا ذخیرہ (ریزروائر) بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مقامی لوگ اس مصنوعی جھیل کو'گوڑانو ڈیم' کہتے ہیں جس کا کل رقبہ ڈیڑھ ہزار ایکڑ ہے۔

اس جھیل کی زمین، لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت حاصل کی گئی تھی جس پر گاؤں کے لوگ معترض تھے۔ اس دوران ریونیو ریکارڈ کے مسائل اور ملکیتوں کا ازالہ نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔

 لیکن اب مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ مائننگ ویسٹ (فضلہ) کے اس جوہڑ (گوڑانو ڈیم ) سے علاقے کی اراضی، زیر زمین پانی اور ماحول تباہ ہو رہا ہے۔ تاہم سندھ اینگرو کول کمپنی ان الزامات کو رد کرتی آئی ہے۔

 گوڑانو گاؤں کے باسی لیلارام میگھواڑ ایڈووکیٹ و دیگر نے 2017ء میں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ گوڑانو ڈیم غیرقانونی ہے۔ اس کو بنانے کے لیے مقامی آبادی کو نہ تو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی اس کے فائدے یا نقصانات بتائے گئے۔

"یہ گندہ پانی ایک ٹیلوں کے درمیان ایک زیریں علاقے میں چھوڑ دیا گیا جس کو پختہ اور ہموار (پچنگ) بھی نہیں کیا گیا جس سے ناقابل تلافی ماحولیاتی، سماجی اور معاشی نقصان ہوگا۔ اس لیے اس تالاب کو کسی دوسری جگہ پر منتقل کیا جائے۔"

ہائیکورٹ میں یہ کیس چھ سال چلتا رہا اور بالآخر 16 جون 2023ء کو یہ کہہ کر نمٹا دیا گیا کہ گوڑانو سے ماحولیاتی خرابی کی کوئی لیبارٹری رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ تاہم متاثرین نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ  میں چیلینج کر دیا ہے۔

گوڑانو گاؤں کے باسیوں نے یہ ڈیم بنانے کے خلاف طویل تحریک چلائی اور ایک سال تک اسلام کوٹ پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے رہے تھے۔

پچھتر سالہ دھارو مل بھی گوڑانو ریزروائر کے خلاف پٹیشنرز میں سے ایک ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پہلے یہاں زیرزمین پانی میٹھا تھا اور لوگ کنویں کا پانی پیتے تھے۔ لیکن اس ریزوائر میں "مائننگ فضلہ" چھوڑے جانے کے بعد پانچ کلومیٹر تک کے علاقے میں پانی کڑوا ہو چکا ہے۔

 " گاؤں گوڑانو کے 25 کنویں پانی خراب ہو جانے کے باعث بند ہو چکے ہیں۔ اب کمپنی نے ہمارےگاؤں میں ایک ہی آر او پلانٹ لگایا ہے جو ساڑھے تین ہزار سے زائدآبادی کے لیے نا کافی ہے اور لوگ پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔"

وہ کہتے ہیں کہ اس دیہات میں ڈیم کے اثرات سے سبزہ اور درخت ختم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے مقامی کسان مال مویشی پالنا چھوڑتے جا رہے ہیں جو یہاں گذر بسر کا واحد ذریعہ تھے۔

تھر میں کوئلہ نکالنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ اوپن پٹ (یا اوپن کٹ) مائننگ کہلاتا ہے۔

تھر کول انرجی بورڈ سندھ کے مطابق تھر کے کوئلے میں  تقریباً پانچ سے ساڑھے چھ فیصد راکھ، ساڑھے26 سے 33 فیصد کم زیادہ ہونے والا مادہ (وولاٹائل میٹر) ، 43 سے 49 فیصد نمی اور ایک فیصد سے زائد تک سلفر پائی جاتی ہے۔

انٹر نیشنل جرنل آف مائننگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق  کھلے گڑھے بنا کر کوئلہ نکالنے (اوپن پٹ مائننگ) سے جہاں زمین کی اوپری ساخت بدل جاتی ہے وہیں 'ایکویفر' کے دباؤ سے دور دراز کے آبی ذخائر کا رساؤ (لیکیج) ہوتا ہے جس سے زمینی پانی میں ہائیڈرو کیمیکل، دھاتوں اور نمکیات کی ملاوٹ ہو جاتی ہے۔

"نیو ساؤتھ ویلز (آسٹریلوی ریاست) میں اوپن پٹ مائننگ کے نتیجے میں واٹر ٹیبل نہ صرف 150 میٹر یا اس سے زیادہ نیچےچلی گئی بلکہ کان سے نکالی جانے والی 10 ارب کیوبک میٹر سے زیادہ مٹی اور پتھر کے انبار سے ایک نئی شکل کی پہاڑی بن گئی"۔

ایکویفر کیا ہے؟

ایکویفر، سطح زمین کے نیچے گہرائی میں چٹان یا ریت مٹی کی ایک تہہ ہوتی ہےجس میں پانی کاذخیرہ موجود ہوتا ہے۔

سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی کے حکام بتاتے ہیں کہ تھر کول بلاک ٹو میں تین ایکویفر ہیں جن میں سے پہلا (اوپر والا) ایکویفر 50 سے 100 میٹر نیچے ہے۔ دوسرا ڈیڑھ سے دو سو میٹر اور تیسرا دو سے تین سو میٹر گہرائی میں واقع ہے۔

کمپنی ماہرین کہتے ہیں کہ تھر میں کوئلہ دوسرے اور تیسرے ایکویفر کے درمیان پایا جاتا ہے یعنی کوئلے کے اوپر اور نیچے ایکویفر ہیں۔

 تھر میں کوئلہ چونکہ پانی کی دو تہوں (ایکویفرز) کے درمیان دفن ہے اس لیے اسے باہر لانے کے لیے گڑھے سے پانی نکالنا لازم ہوتا ہے جس سے کان خشک اور محفوظ رہتی ہے۔ کمپنیوں نے یہ پانی نکالنے کے لیےکانوں کی تہہ میں سبمرسیبل پمپ نصب کر رکھے ہیں جو مسلسل چلتے رہتے ہیں اور یہی پانی گوڑانو ریزروائر میں چھوڑا جا رہا ہے۔

غیر سر کاری ادارے 'پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایکویٹیبل ڈیولیپمنٹ ' (پرائیڈ) نے تھر کول پاور منصوبوں پر فروری 2022ء میں ایک رپورٹ  شائع کی تھی۔

یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کول مائنز سے پانی کے ساتھ عام طور پر سنکھیا، تانبا اور سیسہ جیسی بھاری دھاتیں باہر آتی ہیں۔ دوسرے کان سے نکالنے کے بعد کوئلے کو جلانے کے قابل بنانے کے لیے اسے کیمیکلز سے دھویا جاتا ہے۔اس مواد کے اخراج کو 'کان کی تیزابی نکاسی یا ایسڈ مائن ڈرینیج' کہا جاتا ہے جو پانی کے ریزروائر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

 "دیسی ساختہ ریزروائر(تالاب) کی لیکیج وغیرہ سے قریبی ندیوں، جھیلوں اور ایکویفر کا پانی متاثر ہوتا ہے جو پینے کے قابل نہیں رہتا اور صحت عامہ، مقامی نباتات و حیوانات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔"

اس رپورٹ کے مطابق کانکنی میں توسیع سے گندے پانی کو ٹھکانے لگانے کے لیے گوڑانو ریزروائر کافی نہیں ہوگا جس کے لیے دھکڑچو گاؤں میں بھی تالاب بنایا گیا ہے۔ نتیجتاً تھر میں گندے پانی کے بڑھتے حجم سے زیر زمین پانی کے معیار اور مقدار کے ساتھ لائیوسٹاک اور مویشی پر بھی اثرات ہوں گے۔

پانچ مارچ کو گوڑانو ڈیم کے قریب مختلف دیہات کے لوگوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں نئے ریزروائر دھکڑچھو کے متاثرین بھی شامل تھے جہاں اسی بلاک کا پانی چھوڑا گیا ہے۔

ھیرو مل بھیل دھکڑچھےگاؤں کے رہائشی ہیں جو سمرسمبل پمپ سے سبزیاں اور پھل اگاتے ہیں۔ وہ بہت مایوس دکھائی دیے، کہتے ہیں کہ اب ان کی زمین بھی گوڑانو کی زمین کی طرح برباد ہو جائے گی۔ وہ دن رات کی محنت سے آباد کی گئی اپنی اراضی کو تباہ ہوتا دیکھ نہیں پائیں گے۔

گوڑانو گاؤں کے باسی لچھمن داس بتاتے ہیں کہ کنویں کڑوے ہونے کے بعد جانوروں کے لیے بھی پانی کی قلت ہے جو پیاس کی وجہ سے گوڑانو ڈیم کا پانی پیتے ہیں اور بیمار ہو جاتے ہیں۔

"مجھے یقین ہے یہاں سے پانی پینے والے پرندے بھی مر جاتے ہوں گے۔ مویشیوں کے ڈوبنے کا خطرہ الگ رہتا ہے کیونکہ خاردار تار ہونے باوجود یہاں ایک آدمی ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔"

لیکن سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کا اصرار ہے کہ کمپنی ماحولیاتی معیاروں کو برقرار رکھتی ہے اور ان پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

 لوک سجاگ کے بذریعہ ای میل سوالات کے جواب میں کمپنی کا کہنا ہے کہ سندھ کول اتھارٹی نے گوڑانو اور دھکڑچو میں پانی چھوڑنے کی سکیم کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا تھا جس کے بعد ہی سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی(آئی پی اے) نے این او سی جاری کیا تھا۔

کمپنی کے مطابق غیر جانبدار ماحولیات مانیٹرنگ کنسلٹنٹ کے ذریعے پانی کی مستقل نگرانی اور جانچ کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ اس کی رپورٹس ہر ماہ آئی پی اے کو جمع کرائی جاتی ہیں۔

کمپنی حکام دلیل دیتے ہیں کہ گوڑانو تالاب کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی جانب سے بھی بہتر ویٹ لینڈ (جھیل) تسلیم کیا گیا ہے۔ ( تاہم آئی یو سی این کی اس رپورٹ پر غیر سرکاری ماہرین میں کافی لے دے ہو چکی ہے)۔

کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ صوبائی محکمہ لائیو سٹاک اور فشریز کی معاونت سے گوڑانو تالاب میں بائیو سیلائین فش فارمنگ کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جہاں مچھلی کی 10 سے زیادہ اقسام کی افزائش کی گئی ہیں جو انسانی استعمال کے لیے بھی موزوں ہیں۔

تاہم گوڑانو کے رہائشی بھیم راج، کمپنی کے موقف کی اس حد تک تصدیق کرتے ہیں کہ تالاب میں مچھلی کا بیج (پونگا) ڈالا گیا تھا لیکن اس وقت یہاں بہت سے درخت موجود تھے اور پانی تازہ تھا۔

"اب درخت ختم ہو چکے ہیں اور پانی بھی بہت گندہ ہو گیا ہے جس کے بعد ہم میں سے کسی نے اس تالاب میں کوئی مچھلی نہیں دیکھی۔"

وہ بتاتے ہیں کہ کول مائنز کے دونوں ریزروائرز سے چھوٹے بڑے 12 گاؤں اور تقریباً 15 ہزار آبادی متاثر ہو رہی ہے جن میں سے 16 گھرانوں پر مشتمل صرف ایک گاؤں سلیمان حجام کو منقل کیا گیا ہے۔ تاہم اب شاید گوڑانو کو بھی شفٹ کر دیا جائے۔

مائننگ کمپنی کے مطابق سی ایس آر (کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلیٹی) پروگرام کے تحت تھر فاؤنڈیشن کے ذریعے مقامی آبادی کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے پائیدار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

"گوڑانو تالاب کے آس پاس دیہات میں پانچ آر او پلانٹ نصب کیے گئے ہیں جو مقامی آبادی کو میٹھا اور صاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔"

ماہر ماحولیات ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھار، سندھ زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور انہوں نے گوڑانو ریزروائر کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

وہ تصدیق کرتے ہیں کہ تالاب کا علاقے گوڑانو میں کنووں کا پانی کالا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے 15 ہزار سے زائد لوگوں کے پاس ضرورت کے مطابق پانی میسر نہیں جبکہ زیر زمین پانی پینے والے کو بیماری کا سامنا پڑتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ خراب پانی سے کانٹا، روہیڑو، جار، نیم، بیری، کونبھٹ سمیت کئی نباتات اور اس سے وابستہ جنگلی حیات ختم ہو رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں گوڑانو کے آس پاس 15 کے قریب گاؤں اور دھانیاں شامل ہیں جبکہ گاؤں سلیمان حجام، شو جو تھر، الہا دیا حجام، کولہن دھانی تالاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'ہمیں پینے کا پانی میسر نہیں جبکہ بجلی گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑے بڑے تالاب بنائے جا رہے ہیں'۔

وہ کہتے ہیں کہ کول مائننگ کے پانی کو اگر ٹریٹ بھی کر لیا جائے تب بھی یہاں کی ماحولیات کو برقرار رکھنا ممکن نظر نہیں آتا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ نبی سر سے پراجیکٹ کے لیے لائے جانے والے میٹھے پانی سے مقامی لوگوں کو محروم نہ رکھا جائے اور کمپنیاں پلانٹ میں پانی کو ری سائیکل کر کے دوبار استعمال کریں۔

کول کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ گوڑانو تالاب کی تعمیر سے پہلے عوامی نمائندوں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر یہاں کے رہائشیوں کے حقیقی خدشات کا ازالہ کیا گیا تھا جس میں زمین کی قیمتوں کی ادائیگی، پانی کی فراہمی اور صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات شامل ہیں۔

تاہم مقامی لوگ زمین کامعاوضہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کا شکوہ کرتے ہیں۔
لچھمن داس کہتے ہیں کہ کمپنی نے کوئی سہولت دی اور نہ ہی گاؤں والوں کو کہیں شفٹ کیا، یہاں تک کہ پینے کو پانی بھی میسر نہیں ہے۔ پورے خاندان کو روزانہ صرف دو لٹر پانی اور سالانہ ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا جا تا ہے جس سے زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے۔

پرکھو میگھواڑ گوڑانو گاؤں کے رہائشی تھے جو اب فوت ہوچکے ہیں۔ ان کے نام پر'سروے سیریل نمبر 68' کے مطابق کچھ اراضی تھی جو ریزروائر ایریا میں آ چکی ہے مگر با اختیار لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ آنجہانی کے بیٹے چیتن ابھی تک معاوضے کا حق تسلیم کیے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

 پنہوں مل میگھواڑ بھی پریشان ہیں جن کی کل ملکیتی چھ ایکڑ آباد اراضی گوڑانو ڈیم کے زد میں آگئی اور انہیں ابھی تک معاوضہ بھی نہیں ملا۔

دو دسمبر 2023ء کو نگراں صوبائی کابینہ نے تھر کول ٹو کے متاثرہ 757 میں سے 501 خاندانوں کے معاوضے کے لیے ایک کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار روپے کی منظوری دی تھی مگر یہ رقم بھی تاحال ریلیز نہیں ہوئی۔

بھیم راج بتاتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے یہ رقم اس معاوضے کے لیے منظور کی تھی جو گوڑانو گاؤں کے متاثرہ ہر گھرانے کو ایک لاکھ روپے سالانہ دیا جاتا ہے اور تین مرتبہ مل چکا ہے۔ تاہم زمینوں کی قیمت کی ادائیگیوں کا کچھ معلوم نہیں۔

تاریخ اشاعت 12 جون 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جی آر جونیجو کا تعلق تھرپارکر سے ہے۔ وہ گذشتہ پانچ سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ سیاست، ماحولیات، تعلیم، کلچر، انسانی حقوق اور پسماندہ طبقوں کو درپیش مسائل سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

لاہور: اندرون شہر کے کئی علاقوں میں سولر پینلز لگانا مشکل، حل کیا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

ضلع خیبر: ڈوبتی ہوئی زراعت کو سولر سسٹم کا سہارا

لاہور کی یونیورسٹیاں، فضائی آلودگی کے خلاف متحد

thumb
سٹوری

شانگلہ میں سیاح کیوں نہیں جاتے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

آزاد کشمیر: میرپور میں ماحول دوست عوامی گاڑی چل پڑی

thumb
سٹوری

شمسی توانائی، قبائلی ضلع خیبر کے لوگوں کی تکالیف کیسے کم کررہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

بجلی آئے نہ آئے، ہسپتال کھلا ہے

thumb
سٹوری

کاسا-1000: کرغزستان اور تاجکستان سے بجلی لانے والی ٹرانسمشن لائن کا کام کب شروع ہو گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

لیپ آف فیتھ: اقلیتی رہنماؤں کے ساتھ پوڈ کاسٹ سیریز- ڈاکٹر یعقوب بنگش

کل مالی تھا آج ایم فل ہوں

چلتے پھرتے سولر سسٹم بھکر پہنچ گئے

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا میں انصاف کے متبادل نظام کی کمیٹیاں، ایک بھی خاتون شامل نہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.