بنا ہوا ہے مرا شہر قتل گاہ کوئی: 'اس وقت شمالی وزیرستان میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ اس کا دوست کون ہے اور دشمن کون'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بنا ہوا ہے مرا شہر قتل گاہ کوئی: 'اس وقت شمالی وزیرستان میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ اس کا دوست کون ہے اور دشمن کون'۔

کلیم اللہ

postImg

بنا ہوا ہے مرا شہر قتل گاہ کوئی: 'اس وقت شمالی وزیرستان میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ اس کا دوست کون ہے اور دشمن کون'۔

کلیم اللہ

زرباد خان اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد جلد از جلد گھر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے بیٹے کے قتل کے ایک ماہ بعد بھی لوگ تعزیت کے لئے ان کے ہاں آ رہے ہیں۔

وہ نیم سرکاری فون کمپنی پاکستان ٹیلی کمونیکیشن لمیٹڈ میں ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں اور خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے شہر میرعلی سے چار کلو میٹر جنوب میں واقع حیسو خیل نامی گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کے 30 سالہ بیٹے وقار احمد داوڑ کو نامعلوم افراد نے 19 جون 2022  کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے ساتھ موجود ان کے تین دوست سنید داوڑ، اسداللہ اور حماد داوڑ بھی اس حملے میں مارے گئے تھے۔

زرباد خان 14 جولائی 2022 کی سہ پہر اپنے حجرے میں تعزیت کے لیے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ "محدود مالی وسائل کے باوجود میں نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی اور اسے سرکاری سکول کی بجائے اچھے نجی سکولوں میں پڑھایا"۔

اپنی ابتدائی تعلیم شمالی وزیرستان میں  مکمل کرنے کے بعد وقار احمد داوڑ نے پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں سے نباتات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ایک نیم سرکاری سکول، گورنر ماڈل سکول میر علی، میں بطور استاد ملازمت کرنے لگے۔ زرباد خان کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے اس ملازمت سے ملنے والی تنخواہ سے کبھی ایک پیسہ بھی گھر میں نہیں دیا تھا بلکہ "یہ ساری رقم وہ فلاحی کاموں یا عوامی حقوق کے لیے دیے جانے والے دھرنوں اور احتجاجوں پر خرچ کر دیتا تھا"۔

ان سماجی اور سیاسی مصروفیات کی وجہ سے وقار احمد داوڑ بسا اوقات راتوں کو دیر سے گھر آتے تھے لیکن ان کے والد کو ان کی سلامتی کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہوتی تھی کیونکہ، ان کے بقول، "ان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی یا رنجش نہیں ہے"۔

زرباد خان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ان کے بھتیجے 26 سالہ اظہر الدین کہتے ہیں کہ وقار احمد داوڑ خود بھی صلحِ کُل پر یقین رکھنے والے شخص تھے۔ اس لیے جب کبھی شمالی وزیرستان میں قبائل کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے تھے تو ان میں "صلح کرانے کے لیے وہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں پا پیادہ جانے سے بھی نہیں کتراتے تھے اور کسی نہ کسی طرح تصفیہ کروا ہی لیتے تھے"۔ وہ خدی خیل اور مدی خیل نامی دو مقامی قبائل کے درمیان ہونے والے تصفیے کی ویڈیو دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے دوران وقار احمد داوڑ گولیوں کا نشانہ بنتےبنتے بچے تھے۔

وہ 2014 میں یوتھ آف وزیرستان کے نام سے قائم کی گئی مقامی نوجوانوں کی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اکثر اُن لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی احتجاجی مظاہرے کرتے تھے جن کی زندگیاں، گھر بار اور کاروبار شمالی وزیرستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے کیے جانے والے فوجی آپریشن، ضربِ عضب، کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان کی شادی 2020 کے اوائل میں ہوئی تھی اور وہ اپنے پیچھے اپنی بیوہ کے علاوہ 14 ماہ کی بچی بھی چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی بیٹی کو گود میں اٹھائے ہوئے زرباد خان کہتے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کے قتل پر انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں کیونکہ، ان کے مطابق، کوئی حکومتی یا ریاستی ادارہ یہ قبول کرنے کو تیار ہی نہیں کہ قاتلوں کو گرفتار کرنا اور سزا دینا اس کی ذمہ داری ہے۔ ایک حسرت بھری آواز میں وہ سوال کرتے ہیں کہ آخر "انصاف کی یہ امید حکومت سے رکھی جائے یا ججوں اور جرنیلوں سے؟"۔

شمالی وزیرستان کی ضلعی پولیس کے سربراہ فرحان خان بلواسطہ طور پر ان کے شکوک و شبہات کو درست تسلیم کرتے ہوئے مانتے ہیں کہ ان کا محکمہ ابھی تک وقار احمد داواڑ اور ان کے ساتھیوں کے قاتلوں کا پتہ چلانے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن، ان کے نزدیک، "اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو ہمارے پاس مطلوبہ افرادی قوت نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارے پاس تجربہ کار تفتیشی افسر موجود نہیں"۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقامی پولیس اہل کار مئی 2018 میں شمالی وزیرستان کے خیبرپختونخوا میں ادغام سے پہلے ایک قبائلی سرحدی ملیشیا، خاصہ دار فورس،  کا حصہ تھے۔ "اس لیے نہ تو انہیں پولیس کے طور پر کام کرنے کا تجربہ ہے اور نہ ہی انہیں قتل جیسے جرائم کی تفتیش کے لیے درکار تربیت فراہم کی جا سکی ہے"۔

 لاؤ تو قتل نامہ مرا

شمالی وزیرستان کے ایپی نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ سنید داوڑ یونیورسٹی آف لاہور میں بی ایس فزکس کے اخری سمسٹر  کے طالب علم تھے۔ ان کے چچازاد بھائی وسیم سجاد کے مطابق ان کے گھرانے کی مالی حالت اتنی خراب ہے کہ انہیں پڑھانے کے لیے ان کے والد کو ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع اپنا گھر اور گاؤں میں موجود کچھ زمینیں بیچنا پڑی تھیں۔

<p>قاری سمیع الدین کے قتل پر مقامی لوگوں کا احتجاج<br></p>

قاری سمیع الدین کے قتل پر مقامی لوگوں کا احتجاج

سنید داوڑ نے اپنی یونیورسٹی کے کچھ دوسرے طالب علموں کے ساتھ مل کر پشتون سٹوڈنٹ کونسل نامی تنظیم قائم کر رکھی تھی جس کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ لاہور میں اپنے آبائی علاقے کے مسائل کے حوالے سے ہونے والے ہر احتجاجی مظاہرے میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ اِس سال 18 مارچ کو لاہور میں ہونے والے پشتون تعلیمی مارچ کی ایک تصویر میں انہیں ایک پلے کارڈ اٹھائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس پر لکھا ہے کہ "وزیرستان میں مورچے نہیں یونیورسٹیاں بناؤ"۔

وسیم سجاد کہتے ہیں کہ سنید داوڑ کے قریبی رشتہ داروں میں خواتین تو دور کی بات ہے کوئی مرد بھی پڑھا لکھا نہیں ہے لیکن "وہ ہر وقت خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے اور انہیں تعلیم  دلانے کی بات کرتے تھے"۔ اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے دبئی میں کام کرنے والے اپنے چچا زاد بھائی کی مالی امداد سے ایک موٹر سائیکل رکشا خرید رکھا تھا تاکہ ان کا چھوٹا بھائی ان کی بیٹی اور خاندان کی دوسری بچیوں کو اس میں بٹھا کر روزانہ سکول پہنچا سکے۔

ان کے دوست اور پشتون تخفظ موومنٹ نامی سیاسی تحریک کے رکن رحیم وزیر سمجھتے ہیں کہ سنید داوڑ اور ان کے ساتھیوں کا قتل شمالی وزیرستان "میں ابھرنے والی ایک نئی سیاسی سوچ کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش" کا نتیجہ ہے جس کے ماننے والے پشتون قوم پرستی کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی بات بھی کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں حالیہ سالوں میں متعدد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں اس سوچ کے حامل نوجوانوں کو اسی طرح چن چن کر مارا گیا ہے "جس طرح 2000 کی دہائی میں طالبان مخالف قبائلی زعما کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تھا"۔

مقامی صحافی اس حد تک ان کی بات کی توثیق کرتے ہیں کہ پچھلے کچھ عرصے سے شمالی وزیرستان میں ایسے متعدد لوگ قتل ہو چکے ہیں جو طالبان کی پرتشدد مذہبی سیاست کے خلاف ہیں۔ ان صحافیوں کے مطابق 2018 میں اس طرح کی ہلاکتوں کے 20 واقعات سامنے آئے لیکن 2019 میں ان کی تعداد بڑھ کر 51 ہو گئی۔ 2020 میں اگرچہ ان میں تھوڑی سی کمی دیکھنے آئی اور ان کی تعداد 46 رہی لیکن 2021 میں ان میں دوبارہ اضافہ ہوا اور ان کی تعداد 63 ہو گئی۔ رواں سال کے پہلے سات مہینوں میں بھی اس طرح کے 33 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان میں وقار احمد داواڑ، سنید داوڑ اور ان کے دو ساتھیوں کا قتل بھی شامل ہے۔

رحیم وزیر کچھ سال مزید پیچھے جاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 2014 میں شمالی وزیرستان اور پاک-افغان سرحد پر واقع دیگر علاقوں سے طالبان کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک شمالی وزیرستان میں مجموعی طور پر چار سو 70 افراد کو باقاعدہ نشانہ بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔

اس ضلعے سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے رکن اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ نامی سیاسی جماعت کے سربراہ محسن داوڑ ان واقعات کی ذمہ داری ان پالیسیوں پر ڈالتے ہیں جو، ان کی نظر میں، ظاہر کرتی ہیں کہ ریاستِ پاکستان افغان اور پاکستانی طالبان کے بارے میں کوئی واضح لائحہ عمل اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نتیجتاً، ان کے مطابق، کبھی انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف فوجی آپریشن کیے جاتے ہیں اور کبھی ان سے مذاکرات شروع کر دیے جاتے ہیں۔

اپنے اس نکتہ نظر کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں نوجوانوں کے قتل کے واقعات اس لیے پیش آ رہے ہیں کہ "آپریشن ضربِ عضب میں یہاں سے طالبان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا"۔

کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا

قاری سمیع الدین نے 13 جولائی 2022 کو ایک ایسے مقامی جرگے کی صدارت کی جس کا مقصد وقار احمد داوڑ، سنید داوڑ اور ان کے مقتول ساتھیوں کے لواحقین کو انصاف دلانا اور مستقبل میں ان کے قتل کی طرح کے واقعات کو روکنا تھا۔ اس جرگے کے بعد وہ میرعلی میں واقع اپنے گھر لوٹ رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔

قاری سمیع الدین کا تعلق خیبرپختونخوا کی نمایاں مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علما اسلام (فضل) سے تھا اس لیے ان کے قتل پر نہ صرف ان کے قبائلی حمایتیوں نے میرعلی میں عیدک کے مقام پر کئی روز سے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے بلکہ ان کی جماعت نے بھی صوبے کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے کیے۔

ان کی ہلاکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام (فضل) کے مقامی رہنما اور حال ہی میں میران شاہ تحصیل کونسل کے سربراہ منتخب ہونے والے مولانا نیک زمان کا کہنا ہے کہ "اس وقت اس علاقے میں امن و امان کی صورتِ حال یہ ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کو ن دوست ہے اور کون دشمن؟" وہ ماضی میں شمالی وزیرستان سے قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ امن و امان برقرار رکھنے والے ادارے بھی ان حالات میں الجھن کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

آپریشن ضربِ عضب سے متاثرہ شمالی وزیرستان کے تاجر: 'میران شاہ میں زرِتلافی کے لیے الگ پیمانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟'

ان کے مطابق اسی الجھن کے باعث فوج کے مقامی جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل نعیم اختر ان کے پاس قاری سمیع الدین کے "قتل کی تعزیت کرنے کے لیے تو آئے لیکن وہ ان کے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے تاحال کچھ نہیں کر سکے"۔

دوسری طرف میجر جنرل نعیم اختر سمجھتے ہیں کہ جب تک شمالی وزیرستان کے باسی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے ذمہ دار اداروں کا پوری طرح ساتھ نہیں دیتے اس وقت تک ان کے ضلعے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان خیلات کا اظہار انہوں نے پولیو کے قطرے پلانے والے رضا کاروں کی حفاظت پر متعین دو پولیس اہلکاروں کے جنازے پر کیا جنہیں جولائی 2022 کے اوائل میں ان کی ڈیوٹی کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔

اس موقعے پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں انہیں یہ سوال کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ "جس گاؤں میں ان اہل کاروں پر فائرنگ ہوئی کیا وہاں کے رہنے والوں کو معلوم نہیں کہ اس میں کون لوگ ملوث ہیں؟" انہوں نے اپنے سامعین سے یہ بھی پوچھا کہ "کیا اس گاؤں کے لوگوں نے فوج کو ایسی کوئی معلومات باہم پہنچائیں جن کی بدولت ان (پولیس اہل کاروں ) کی جان بچائی جاسکتی تھے؟"

انہوں نے سامعین کو واضح لفظوں میں بتایا کہ شمالی وزیرستان میں امن قائم کرنے کے لیے "یہ سوال اپنے اپنے گاؤں میں ہم سب کو پوچھنے کی ضرورت ہے"۔

تاریخ اشاعت 3 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کلیم اللہ نسلی و علاقائی اقلیتوں کو درپیش مخصوص مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے لیڈز یونیورسٹی لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس آنرز کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔