سکھر بیراج: ' خدانخواستہ 2010 جیسا سیلابی ریلا دوبارہ آیا تو بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے'

postImg

خالد بانبھن

postImg

سکھر بیراج: ' خدانخواستہ 2010 جیسا سیلابی ریلا دوبارہ آیا تو بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے'

خالد بانبھن

لاڑکانہ کی تحصیل ڈوکری کے کاشتکار زیب علی ساریو اپنی چاول کی فصل کے لیے بہت پریشان ہیں۔ وہ 65 ایکڑ اراضی کے مالک ہیں جس میں سے 40 ایکڑ پر وہ عموماً چاول اگاتے ہیں۔ اس فصل کو بہت سا پانی چاہئیے ہوتا ہے مگر کئی سال سے انہیں مطلوبہ مقدار میں پانی نہیں مل رہا۔

زیب علی کی زمین جس علاقے میں واقع ہے وہ رائس بیلٹ کہلاتا ہے۔ اس علاقے میں چاول کی فصل کو سیراب کرنے کے لئے انگریزوں نے سکھر بیراج سے خاص طور پر' رائس کینال' نکالی تھی مگر اب اس نہر اور ایسے دیگر آبی ذرائع میں پہلے جتنی مقدار میں پانی نہیں آتا۔ زیب بتاتے ہیں کہ پہلے وہ 80 من فی ایکڑ تک پیداوار حاصل کرتے تھے جو اب 60 من سے زیادہ نہیں ہوتی۔

سندھ بلوچستان رائس ملز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اسد تونیو تصدیق کرتے ہیں کہ جیکب آباد، شکارپور، قمبر شھداد کوٹ، لاڑکانہ اور دادو میں چاول کی مجموعی پیداوار 40 فیصد کم ہو گئی ہے۔ دریائے سندھ کے دائیں اضلاع میں چند سال پہلے چاول کی سالانہ پیدوار ساڑھے پانچ سے چھ ملین ٹن ہوتی تھی جو اب بمشکل ساڑھے تین ملین ٹن تک پہنچتی ہے۔

سکھر بیراج سے سات نہریں نکلتی ہیں جو سندھ کا 80 لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبہ سیراب کرتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیراج کے دائیں جانب تینوں نہروں میں پانی کا اخراج تقریباً 10 ہزار کیوسک تک کم ہو گیا ہے۔

سکھر بیراج پر کنٹرول روم کے انچارج بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دادوکینال، کیرتھر اور رائس کینال میں اب پہلے جتنا پانی نہیں آتا۔

ان کا کہنا ہے کہ کیرتھر کینال میں پانی کی گنجائش نو ہزار 500 کیوسک سے کم ہو کر سات ہزار کیوسک رہ گئی ہے۔ رائس کینال میں پہلے 16ہزار 500 کیوسک پانی آتا تھا جو اب 10 ہزار کیوسک تک محدود ہو گیا ہے جبکہ دادو کینال میں پانی کی گنجائش چار ہزار 500 کیوسک سے کم ہو کر صرف تین ہزار کیوسک رہ گئی ہے۔

تاہم بیراج کے بائیں جانب چاروں نہروں میں پانی کی مقدار میں کوئی خاص کمی نہیں دیکھی گئی۔ اس طرف خیرپور فیڈر ایسٹ میں دو ہزار 315 کیوسک، خیرپور فیڈر ویسٹ کینال میں دو ہزار 700 کیوسک، نارا کینال میں 19 ہزار 600 کیوسک اور روہڑی کینال میں 18 ہزار 600 کیوسک پانی آ رہا ہے۔

سکھر بیراج کے چیف انجینئر اول الذکر تینوں نہروں میں پانی کی مقدار کم ہو جانے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان نہروں کی تہہ میں مٹی جمع ہو جانے کے باعث پانی کے بہاؤ کی گنجائش کم ہو گئی ہے تاہم اب ان نہروں کی بھل صفائی ہو گئی ہے اور امید ہے کہ آئندہ ان میں پورا پانی آئے گا۔

دوسری جانب ماہر آبپاشی اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے سابق چیئرمین نور محمد بلوچ کا کہنا ہے کہ نہروں کی بھل صفائی مسئلے کا حل نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہےکہ سکھر بیراج میں بھی مٹی کی کی بھاری مقدار جمع ہو چکی ہے جس میں ہر سال ایک سے دو فٹ تک اضافہ ہو رہا ہے۔

"خریف کے سیزن میں بیراج کے دونوں اطراف زرعی علاقوں کی آبی ضرورت پوری نہیں ہوتیں۔ بیراج کے دروازوں کو لکڑی کے پھٹے لگا کر عارضی طور پر پانڈ لیول میں اضافہ کیا جاتا ہے مگر پھر بھی نہروں میں پورا پانی نہیں جاتا۔"

انگریزوں کے بنائے سکھر بیراج کا پرانا نام لائیڈ بیراج تھا جس کی تعمیر 1932 میں مکمل ہوئی۔ اس بیراج میں پانی کے بہاؤ کی گنجائش 15 لاکھ کیوسک رکھی گئی لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد اس کے دائیں جانب مٹی جمع ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے بیراج کے گیٹ 6 سے 14 تک دس دروازے بند کر دیے گئے اور ان کے سامنے ایک ہزار فٹ لمبا اور دو ہزار فٹ چوڑا جزیرہ نما ٹیلا بنا دیا گیا۔

<p>بیراج کی دونوں اطراف مٹی کے ٹیلے بن گئے ہیں جن کے باعث بیراج سے پانی کا بڑا ریلا نہیں گزر سکتا<br></p>

بیراج کی دونوں اطراف مٹی کے ٹیلے بن گئے ہیں جن کے باعث بیراج سے پانی کا بڑا ریلا نہیں گزر سکتا

ڈاؤن سٹریم سے مٹی نکالنے کے لئے گیٹ 14 سے 23 تک ایک چینل بنایا گیا تاکہ نہروں کو گنجائش کے مطابق پانی مل سکے۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد بیراج سے مٹی نکالنے اور پانی کا مطلوبہ مقدار میں بہاؤ برقرار رکھنے پر کوئی توجہ نہ دی گئی جس کے نتیجے میں اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔

نور محمد بلوچ کہتے ہیں کہ بیراج کی دونوں اطراف مٹی کے ٹیلے بن گئے ہیں جن کے باعث بیراج سے پانی کا بڑا ریلا نہیں گزر سکتا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال آنے والے سیلاب میں یہاں سے صرف چھ لاکھ کیوسک پانی ہی گزر پایا تھا۔

''سیلاب میں پانی کا دباؤ بیراج کی باؤنڈری وال پر پڑتا ہے اور اس دوران ہلکی سی لیکیج بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ سکھر شہر اور روہڑی دریا کی سطح سے نیچے ہیں۔''

سکھر بیراج کے کنٹرولر عبدلعزیز سومرو نے بتایا کہ سلِٹ سے بیراج میں پانی کی گنجائش پانچ سے چھ لاکھ کیوسک تک کم ہوگئی ہے۔ خدانخواستہ 2010 جیسا سیلابی ریلا دوبارہ آیا تو بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'پٹ فیڈر کینال ہمارے لیے خونی نہر ثابت ہوئی ہے، ایک اور سیلاب کو برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے'

سندھ کے محکمہ آبپاشی نے سکھر بیراج کی بحالی کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے اکتوبر 2022 میں 34 ارب روپے کی لاگت سے چار سالہ منصوبہ شروع کیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت بیراج کے تمام گیٹ تبدیل کیے جائیں گے، دروازوں کو تقریباًدو فٹ اونچا کیا جائے گا، ستونوں سمیت بیراج کے پورے ڈھانچے کی مرمت ہو گی، دروازے کھولنے اور بند کرنے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، اپ سٹریم میں دائیں اور بائیں جانب جمع شدہ مٹی نکالی جائے گی اور اس طرح بیراج کی عمر مزید 50 سال بڑھ جائے گی۔

اس منصوبے میں بیراج کے دائیں جانب تینوں نہروں کی بھل صفائی (ڈی سلٹنگ) بھی شامل ہے۔بیراج کی بحالی کا ٹھیکہ چین کی کمپنی 'چائنہ روڈز اینڈ برجز کنسٹرکشن کارپوریشن' کو دیا گیا ہے جبکہ کام کی نگرانی ورلڈ بینک کی کمپنی موٹ میکڈونلڈ، ایم ایم پاکستان اور سندھ حکومت کریں گے۔

تاہم سنگ بنیاد رکھنے کے آٹھ ماہ بعد بھی اس منصوبے پر کوئی کام شروع نہیں ہوا۔

جب اس بارے میں سکھر بیراج کے چیف انجینئر سید سردار علی شاہ سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بیراج کی بحالی کاکام جلد شروع ہونے والا ہے۔ مگر بیراج پر تعینات ایکسیئن سید فیاض شاہ کہتے ہیں کہ بحالی کا کام شروع ہونے میں مزید پانچ سے چھ ماہ لگ جائیں گے۔

تاریخ اشاعت 5 مئی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

خالد بھانبھن، سکھر سندھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بطور رپورٹر صحافی ،انسانی حقوق ،ماحولیات، جیوپولیٹیکل موضوعات پر رپوٹنگ کرتے ہیں۔

154 سالہ پرانا مسیحی قانون کب بدلے گا؟

thumb
سٹوری

مہنگے پٹرول نے ای بائیکس کو پَر تو لگا دئیے لیکن اس کی اڑان کتنی لمبی ہو گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الیکٹرک بائیک آلودگی کم کرنے کے لیے اچھی مگر سڑکوں پر دوڑتی تین کروڑ پرانی موٹرسائیکلوں کا کیا کرنا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعلیزہ خالد
thumb
سٹوری

گلگت بلتستان کا سولر الیکشن: سولر پینلز کی مفت تقسیم بجلی بحران حل کرے گی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

ہنوز ای وی دور است: الیکٹرک گاڑیوں کو رواج دینے کی پالیسی کس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.