تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم: 'گلگت-بلتستان میں ہونے والے خودکشی کے تمام واقعات میں سے 75 فیصد صرف ضلع غِذر میں پیش آئے ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم: 'گلگت-بلتستان میں ہونے والے خودکشی کے تمام واقعات میں سے 75 فیصد صرف ضلع غِذر میں پیش آئے ہیں'۔

کرن قاسم

postImg

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم: 'گلگت-بلتستان میں ہونے والے خودکشی کے تمام واقعات میں سے 75 فیصد صرف ضلع غِذر میں پیش آئے ہیں'۔

کرن قاسم

نیت زریں اپنے کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر خودکلامی کرتی رہتی ہیں۔ اس دوران کبھی وہ اچانک ہنس دیتی ہیں اور کبھی ایک سرد آہ بھر کر کسی خیال میں یوں گم ہو جاتی ہیں کہ انہیں ارد گرد کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ 

ان کا تعلق گلگت-بلتستان کے ضلع غِذر کی تحصیل اشکومن سے ہے جہاں وہ گوٹکوری نامی ایک سرسبز و شاداب گاؤں میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ 12 سال پہلے وہ اپنے گاؤں کے قریب ہی گاہکوچ نامی جگہ پر واقع ویمن ڈگری کالج میں گیارہویں جماعت میں داخل ہوئیں۔ ان کی بڑی بہن آسیہ کے مطابق "وہ کالج کی ذہین طالبات میں شمار ہوتی تھیں اسی لیے انہیں کالج کی ہیڈگرل بھی بنایا گیا"۔ 

جب نیت زریں سیکنڈ ایئر میں پڑھ رہی تھیں تو ایک دن کالج سے واپس آ کر انہوں نے خود کو خلافِ معمول اپنے کمرے میں بند کر لیا۔ ان کی والدہ گلشن بی بی نے اس پر فکر مند ہو کر انہیں بار بار پکارا لیکن انہیں کوئی جواب نہ ملا لہٰذا انہوں نے گھر کے دیگر افراد کو کہا کہ وہ کسی نہ کسی طرح بند دروازہ کھولنے کی کوشش کریں۔ جب دروازے کی چٹخنی توڑ کر ان کے گھر کے کچھ لوگ کمرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ نیت زریں گلے میں پھندا ڈال کر پنکھے سے جھول رہی ہیں۔ 

ان لوگوں نے انہیں نیچے اتار کر فوراً ہسپتال پہنچایا جہاں ان کی جان تو بچ گئی لیکن وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھیں۔

ان کے اقدامِ خودکشی کی ممکنہ وجوہات بتاتے ہوئے آسیہ کہتی ہیں کہ 2011 میں نیت زریں کی منگنی شیرعالم نامی نوجوان سے ہوئی تھی جو فوج میں ملازم تھا لیکن وہ اسے پسند نہیں کرتی تھیں۔ وہ اپنی منگیتر سے روزانہ فون پر بات بھی کرنا چاہتا تھا جبکہ نیت زریں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتی تھیں کیونکہ، آسیہ کے مطابق، "وہ اپنی تعلیم پر توجہ دینا چاہتی تھیں"۔ 

ان کے اقدامِ خودکشی کی دوسری ممکنہ وجہ یہ تھی کہ ان کے بڑے بھائی نے انہیں اپنی ہم جماعت طالبات کے ساتھ تفریحی دورے پر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ آسیہ کہتی ہیں کہ ان کی بہن کی "شدید خواہش تھی کہ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے جائیں اور وہ کئی روز اس پر اصرار بھی کرتی رہیں لیکن جب انہیں اس کی اجازت نہ ملی تو وہ بہت دلبرداشتہ ہوئیں"۔

گلگت شہر میں قائم کیا گیا دماغی اور نفسیاتی امراض کا ہسپتالگلگت شہر میں قائم کیا گیا دماغی اور نفسیاتی امراض کا ہسپتال

تاہم غِذر میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ نیت زریں کا اقدامِ خودکشی کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا بلکہ پچھلے چند سالوں میں درجنوں مقامی مردوں اور خواتین نے ایسی ہی کوششیں کی ہیں اور ان میں سے کئی ان میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔ 

گلگت-بلتستان پولیس کے جمع کردہ اعداوشمار بھی یہی کہتے ہیں۔ ان  سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے 44 سال میں پورے گلگت-بلتستان میں پیش آنے والے خودکشی کے تمام واقعات میں سے 75 فیصد صرف ضلع غِذر میں ہی پیش آئے ہیں حالانکہ اس کی آبادی اس خطے کی مجموعی آبادی کا 12 فیصد بھی نہیں بنتی۔ 

ان اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ غِذر میں پچھلے 15 سالوں میں خودکشی کرنے والے لوگوں کی تعداد ماضی میں ایسا کرنے والوں کی تعداد سے پانچ گنا بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق 1978 سے لے کر 2007 کے اختتام تک 30 سالوں میں اس ضلعے میں 50 افراد نے خودکشی کی جن میں 20 مرد اور 30 خواتین شامل تھیں جبکہ 2008 سے لے کر جون 2022 کے اختتام تک خودکشی کرنے والے مقامی لوگوں کی تعداد دو سو 62 ہو گئی۔  

گزشتہ 15 سالوں میں خودکشی کرنے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں اور 80 سال کے ضعیف العمر لوگ بھی اگرچہ ان میں سے 85 فیصد کی عمر 40 سال سے کم ہے۔ اسی طرح ان میں عورتوں کی تعداد (ایک سو 45) مردوں کی تعداد (ایک سو 17) سے کہیں زیادہ ہے۔ 

زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت

گلگت شہر میں قائم کیے گئے دماغی اور نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں ماہر نفسیات کے طور پر کام کرنے والی ایمن گل خواتین میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ گلگت-بلتستان کے لوگ بالعموم اور مقامی خواتین کی ایک بڑی تعداد بالخصوص ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 2017 میں اِس ہسپتال کے قیام سے لے کر جون 2022 کے اختتام تک اس میں چار ہزار نو سو ایک مریضوں کا علاج ہو چکا ہے جن میں سے اکثر خواتین تھیں۔ 

ایمن گل سمجھتی ہیں کہ اِن خواتین کے نفسیاتی مسائل کی بنیادی وجہ ان پر ہونے والا ذہنی اور جسمانی تشدد ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ "خاندانی اور مالی مسائل کے سبب جنم لینے والی گھریلو تلخیوں کا نتیجہ عام طور پر خواتین پر تشدد کی صورت میں نکلتا ہے جس کی وجہ سے وہ شدید جذباتی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں"۔ لیکن، ان کے مطابق، جب انہیں اس دباؤ سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تو وہ "خودکشی جیسے انتہائی اقدام کی طرف مائل ہو جاتی ہیں"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے: چترال میں معاشی اور معاشرتی دباؤ کا شکار لوگ 'خودکشی میں راہِ نجات ڈھونڈ رہے ہیں'۔

غِذر میں خواتین کے لئے مختص پولیس سٹیشن کی سربراہ عید نُما اس نکتہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے پاس ہر سال گھریلو تشدد کے کم از کم 25 مقدمات درج کرائے جاتے ہیں۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ اس تشدد کے علاوہ ذہنی تناؤ، ناپسندیدہ ازدواجی رشتوں اور محبت میں ناکامی کی وجہ سے بھی مقامی عورتیں اقدامِ خودکشی کر رہی ہیں۔ 

لیکن چونکہ اس طرف مائل ہونے والے زیادہ تر لوگ اپنی زندگی ختم کرنے کا کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈتے ہیں جو نہ صرف کم سے کم تکلیف دہ ہو بلکہ اس میں ان کی ہلاکت بھی یقینی ہو اس لیے، غِذر کے ڈپٹی کمشنر طیّب سمیع کے مطابق، ان کی ایک بڑی تعداد دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپریل اور جولائی کے درمیان مقامی دریا میں پانی کا بہاؤ اتنا تیز ہوتا ہے کہ اس میں کودنے والے شخص کو ایک معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اسی وجہ سے وہ ایسے انتظامات کر رہی ہے جو خودکشی کے واقعات کو ہونے سے پہلے ہی روک سکیں۔ اس مقصد کے لیے پولیس نے غِذر میں ایک ایسا مرکز قائم کیا ہے جہاں لوگ اپنے علاقے میں ہونے والے گھریلو جھگڑوں یا خودکشی کے ممکنہ واقعات کے بارے میں فوری اطلاع دے سکتے ہیں۔ تاہم اس کی انتظامیہ کے پاس ایسے کوئی اعدادوشمار موجود نہیں جن سے پتہ چل سکے کہ اس میں موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر کتنی جانیں بچائی گئی ہیں۔

غذر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس شاہ میر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جلد ہی مقامی لوگوں کو ایک ٹیلی فون ہیلپ لائن کا نمبر فراہم کیا جائے گا جسے استعمال کر کے وہ خودکشی کے واقعات میں پولیس کی بروقت مدد حاصل کر سکیں گے۔

تاریخ اشاعت 4 ستمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کرن قاسم کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ گزشتہ 11 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔