آہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے: بڑھتا ہوا تعلیمی اور معاشی دباؤ طلبہ میں خودکشی کا باعث بننے لگا۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

آہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے: بڑھتا ہوا تعلیمی اور معاشی دباؤ طلبہ میں خودکشی کا باعث بننے لگا۔

عروج اورنگزیب

postImg

آہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے: بڑھتا ہوا تعلیمی اور معاشی دباؤ طلبہ میں خودکشی کا باعث بننے لگا۔

عروج اورنگزیب

اقرا نذیر کا تعلق ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی سے تھا اور وہ لاہور کے ایک نِجی تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) میں فزیو تھراپی کے شعبے میں اپنے آخری سمسٹر کی پڑھائی کر رہی تھیں۔ 

انہوں نے 17 جنوری 2021 کو یونیورسٹی کے قریب واقع ایک نِجی ہاسٹل میں خود کو دوپٹے کے ذریعے اپنے کمرے میں لگے پنکھے سے لٹکا کر خُود کشی کر لی۔ ان کی عمر 24 سال تھی۔ 

اقرا کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کی بڑی بہن ان کے تعلیمی اخراجات اٹھا رہی تھیں۔ ہاسٹل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اقرا کے پاس دوسری لڑکیوں کا آنا جانا بہت کم تھا اور یونیورسٹی کے اوقات کے علاوہ وہ زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی گزارتی تھیں۔ 

اس واقعے سے لگ بھگ دو سال پہلے نومبر 2018 میں لاہور ہی میں واقع بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے ویژوئل آرٹس اور ڈیزائن کے شعبے میں بی اے آنرز کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ روشان فرخ چوتھی منزل پر واقع اپنے شعبے کی چھت کی منڈیر پر بیٹھیں تھیں۔ نیچے یونیورسٹی کے صحن میں بہت سے طلبا جمع تھے جن میں سے کچھ روشان کو منڈیر سے اترنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور کچھ اس تمام واقعے کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ اس اثنا میں یونیورسٹی کے حفاظتی عملے نے چھت پر چڑھ کو روشان کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن ان کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے نیچے چھلانگ لگا دی۔

روشان کے گرنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے کچھ لوگ اور کچھ طلبا انہیں ایک گاڑی میں ڈال کر دس بارہ منٹ کی مسافت پر واقع ایک نِجی ہسپتال لے گئے جہاں موجود ڈاکٹروں نے ان کا علاج کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں پولیس کو اطلاع دیے بغیر ان کی مرہم پٹی کرنا غیر قانونی تھا۔ 

اس کے بعد انہیں جنرل ہسپتال لے جایا گیا جو اس نِجی ہسپتال سے چالیس منٹ کی دوری پر واقع ہے لیکن وہاں سرجری کے دوران وہ دم توڑ گئیں۔ 

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ڈپریشن کا شکار تھیں لیکن حیدر کلیم، جو 2018 میں خود بھی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور اپنے کچھ دوستوں کی وساطت سے روشان کو جانتے بھی تھے، کہتے ہیں کہ ''وہ ہمیشہ خوش نظر آنے والی اور دوسری کی مدد کرنے والی لڑکی تھی''۔

روشان کی موت کے کئی روز بعد یونیورسٹی کے طلبا شدید غم و غصے کا شکار رہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو ان کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔ 

حیدر کلیم سمجھتے ہیں کہ طلبا کے غصے کی وجہ روشان کی خود کشی کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے نفسیاتی مسائل بھی تھے۔ ان مسائل کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: "طلبا کے مابین کوئی معنی خیز ربط نہیں ہوتا۔ زیادہ تر استادوں اور طلبا کے درمیان ایک رسمی تدریسی تعلق کے علاوہ زیادہ بات چیت نہیں ہوتی۔ مختلف شعبوں میں پڑھنے اور سینئر جونیئر کی تفریق کی وجہ سے بھی طلبا ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں"۔ 

تاہم ان کے مطابق روشان کی خود کشی کے بعد طلبا نے ان معاملات پر بات چیت کرنے کے لئے ایک بیٹھک کا انعقاد کیا جس میں مختلف شعبوں میں پڑھنے والے طلبا سمیت انتظامیہ کے اہلکاروں اور اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ اس بیٹھک میں انتظامیہ نے طلبا کی آراء اور مطالبات سنے اور اس کے نتیجے میں طلبا کا ایک وفد تشکیل دیا تا کہ وہ جائزہ لے کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے طلبا کے نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے کس قسم کی سہولیات فراہم کر رکھی ہیں۔ 

اس وفد نے لمز کے دورے کے دوران وہاں کی طلبا کونسل سے مشورے کیے اور اپنی یونیورسٹی واپس آ کر تمام معاملے پر ایک کھلی بحث کی جس کی بنیاد پر انتظامیہ کو کئی تحریری مطالبات پیش کیے گئے۔ بعد ازاں ان میں سے کچھ مطالبات پر عمل کرتے ہوئے یونیورسٹی نے طلبا کمیونٹی سنٹر بنانے کی منظوری دی، یونیورسٹی کے اندر ایک ایمبولنس اور ابتدائی طبی امداد کے ایک مرکز کی موجودگی کو یقینی بنایا اور ماہرین کو بلا کر خود کشی اور نفسیاتی مسائل کے حل کے موضوعات پر متعدد پروگرام منعقد کیے۔

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟

زاہدہ خالد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ نفسیات میں گریجویشن کے آخری سمسٹر کی طالبہ ہیں۔ انہوں اپنے تحقیقی مقالے کے لیے صدمے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذہنی اور نفسیاتی دباؤ میں ثقافت اور معاشرت کے کردار کا موضوع چنا ہے۔ پچھلے سال کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد انہوں نے نفسیاتی صحت پر بات چیت کے لیے ایک فیس بک گروپ بھی تشکیل دیا۔ 

ان کا کہنا ہے کہ دورانِ تعلیم وہ خود کئی نفسیاتی مسائل کا شکار رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف انہیں جنسی خوف و ہراس کا سامنا تھا وہاں ان کو کوئی ایسے دوست بھی نہ مِل سکے جن کے سامنے وہ اپنی الجھنوں کا کھل کر اظہار کر سکتیں۔ یونیورسٹی نے بھی طلبا کی نفسیاتی رہنمائی کے لئے کوئی باقاعدہ انتظام نہیں کر رکھا تھا۔ نتیجتاً وہ ہر وقت شدید نفسیاتی تناؤ کا شکار رہتیں۔ 

اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے انہوں نے بالآخر خود ہی کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ "سب سے پہلے تو میں نے اپنے ان مسائل کی شناخت کی جن کی وجہ سے میں ذہنی الجھنوں کا شکار تھی۔ پھر میں نے یہ جائزہ لیا کہ ان مسائل کی وجہ سے میری زندگی کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ ان میں سے کون سے ایسے مسائل ہیں جنہیں حل کیا جا سکتا ہے اور کون سے ایسے ہیں جن کے ساتھ گزارا کرنے کے لئے مجھے اپنی توقعات اور اپنے حالات میں مطابقت پیدا کرنا ہو گی"۔ 

اسی دوران یونیورسٹی نے بھی طلبا کو بارہ سے زائد انجمنوں میں شمولیت کی اجازت دے دی۔ زاہدہ خالد نے تعمیرِ کردار کے لئے بنائی گئی انجمن میں حصہ لینا شروع کیا جس کی وجہ سے انہیں اپنی نفسیاتی صحت میں بہتری محسوس ہونے لگی۔ ان کے مطابق "ان انجمنوں کی موجودگی طلبا کو ان کے مسائل کے حل میں مدد فراہم کر سکتی ہے کیونکہ ان کے ذریعے طلبا اپنی اپنی دلچسپیوں کے مطابق اپنی ذات کے اظہار کے عمل سے گزرتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں اور اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے ملتے ہیں"۔

ڈاکٹر منیبہ شکیل بھی کچھ اسی طرح کی بات کرتی ہیں۔ 

وہ کامسیٹس یونیورسٹی میں نفسیات کی استاد ہیں اور دس سال سے زیادہ عرصے سے نفسیاتی مریضوں کا علاج کر رہی ہیں۔

انہوں نے 2019 میں طلبا میں خودکشی کے رجحان پر ایک تحقیقی پرچہ بھی تحریر کیا جس کے لئے انہوں نے پاکستان کے گیارہ اخبارات کے آن لائن ایڈیشنوں میں گزشتہ سات سالوں کے دوران طلبا کی خود کشی سے متعلق چھپی ہوئی 68 رپورٹوں کا جائزہ لیا۔ 

ان کے مطابق ان میں سے تقریباً 50 فیصد رپورٹوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا جبکہ طِب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا میں دوسرے طلبا کی نسبت خود کشی کا رجحان زیادہ نمایاں تھا۔ 

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی حکومتی ادارہ خودکشی کرنے والے افراد کے بارے میں اعداد و شمار اکٹھے نہیں کرتا لہٰذا یہ تعین کرنا قریب قریب نا ممکن ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں کس عمر کے لوگ زیادہ ہوتے ہیں یا کن وجوہات کی بنا پر اور کن ذرائع سے زیادہ تر لوگ خود کشی کرتے ہیں۔ 

اس طرح کے اعداد و شمار اکٹھے نہ کرنے کی وجہ سے ان کے مطابق "نفسیات کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین خود کشی کے تدارک کے لئے ایک کارآمد حکمت عملی تیار کرنے سے قاصر رہتے ہیں''۔ 

سجاگ کی اپنی ایک غیر رسمی تحقیق کے مطابق 2018 سے اب تک 15 طلبا کی خودکشی کے واقعات اخبارات میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر منیبہ شکیل کہتی ہیں کہ "طلبا میں ڈپریشن، بے چینی، خودکشی کی سوچ، مایوسی اور بے چارگی جیسے احساسات بہت عام ہیں۔ ان احساست کی اہم وجوہات میں پڑھائی کا دباؤ، تعلیمی اداروں میں مقابلہ بازی کی فضا، ہم عمروں کی طرف سے پڑنے والا نفسیاتی دباؤ، باہمی تعلقات کے دوران پیدا ہونے والے مسائل، مالی الجھنیں اور گھریلو ماحول شامل ہیں"۔

ان کے خیال میں طالب علمی کا زمانہ نفسیاتی اعتبار سے بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ اس کے دوران جوان لوگ اپنی شناخت طے کرنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ایک اندرونی بحران کا سامنا ہوتا ہے۔ "ان سالوں کے دوران نوجوان ہر وقت پڑھائی، پیشہ وارانہ کیریئر اور نئے سماجی تعلقات کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ اس عرصے میں اگر وہ اپنی شناخت اور اپنے ارد گرد کے لوگوں اور ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ کامیابی زندگی میں آگے چل کر ان کے کام آتی ہے لیکن اگر وہ اس میں ناکام رہیں تو وہ ایسے مسائل میں الجھتے رہتے ہیں جن کے باعث ان میں بے چارگی اور ناکامی کے جذبات جنم لیتے ہیں جو نفسیاتی رہنمائی نہ ملنے پر ڈیپریشن، بے چینی یا خُود کشی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں"۔

انفرادی مسئلہ یا اجتماعی مصیبت؟ 

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے 2019 میں خودکشی کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق دنیا بھر میں مجموعی طور پر خود کشی 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگوں میں موت کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ہر سال آٹھ لاکھ افراد دنیا کے مختلف ممالک میں خودکشی کر کے اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جوان نسل سے ہوتا ہے جبکہ ان میں سے تقریباً 80 فیصد کم یا متوسط آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔ 

ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہر ایک لاکھ لوگوں میں سے اوسطاً 6.1 لوگ خود کشی کرتے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ یہ شرح عالمی اوسط سے کافی کم ہے لیکن یہاں بھی ہر ایک لاکھ لوگوں میں سے ہر سال 2.9 افراد خود کشی کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر سال 6380 پاکستانی اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لیتے ہیں۔ اس حساب سے پاکستان میں خود کشی کے روزانہ ہونے والے واقعات کی تعداد 17 کے لگ بھگ بنتی ہے۔ 

تاہم ڈاکٹر منیبہ شکیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی 60 فیصد سے زیادہ خود کشیوں کے واقعات اخبارات میں آتے ہی نہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں پولیس کو پتہ چلتا ہے کیونکہ خود کشی کرنے والے افراد کے اہلِ خانہ اسلام میں خود کشی کے حرام ہونے اور معاشرے میں بدنامی کے باعث انہیں منظرِ عام پر لاتے ہی نہیں۔ 

دوسری طرف پاکستان کے مشہور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر مراد موسیٰ خان، جو اس وقت خود کشی کے تدارک کے لئے بنائی گئی بین الاقوامی انجمن کے صدر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ تحقیق نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ خود کشی ایک اجتماعی مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق "اس مسئلے کو سائنسی انداز میں سمجھنے کے لئے خود کشی کرنے والے فرد کے ذاتی حالاتِ زندگی،اس کی  ذہنی حالت اور اس کے گرد و پیش کے ماحول کے ساتھ ساتھ ان معاشی، سیاسی اور سماجی نظاموں پر غور کرنا بھی ضروری ہے جن سے اس کا واسطہ پڑتا ہے"۔

ان کا کہنا ہے کہ جس عرصے میں طلبا انتہائی اہم ذہنی تبدیلیوں سے گذر رہے ہوتے ہیں اسی دوران وہ اپنے دن کا ایک تہائی حصہ تعلیمی اداروں میں گزارتے ہیں۔ "اس لئے تعلیمی اداروں کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ طلبہ کو اس طرح کی سہولیات مہیا کریں جن کی مدد  سے ان میں اپنے بارے میں فیصلہ کرنے، اپنے مسائل کو خود حل کرنے، اپنی توقعات اور اپنے حالات میں مطابقت پیدا کرنے اور ہر طرح کے لوگوں کو قبول کرنے کی اہلیت پیدا ہو"۔ 
وہ کہتے کہ اس طرح کی سہولیات دینے کے لیے تعلیمی اداروں کو پیسہ تو خرچ کرنا پڑے گا لیکن "اگر جوان نسل کی الجھنوں کا حل نہ نکالا گیا تو وہ یا تو خود کو نقصان پہنچائیں گے یا کسی اور کو"۔ 

لہٰذا وہ تجویز کرتے ہیں کہ حکومت صحت کے بجٹ میں اضافے کر کے اس کا کچھ حصہ نفسیاتی صحت کے لیے مختص کرے تا کہ لوگوں کو اپنی نفسیاتی صحت بہتر بنانے کے لئے درکار سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے۔ اس تجویز کے حق میں وہ مغربی یورپ کے ممالک کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی مثال دیتے ہیں جہاں ان کے مطابق نفسیاتی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے بعد پچھلے 50 سالوں میں خود کشی کے رجحان میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 23 فروری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 1 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔