مانجھی پور شہر: چار سال سے بل باقاعدگی سے آ رہے ہیں، سوئی گیس کیوں نہیں آ رہی؟

postImg

رضوان الزمان منگی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مانجھی پور شہر: چار سال سے بل باقاعدگی سے آ رہے ہیں، سوئی گیس کیوں نہیں آ رہی؟

رضوان الزمان منگی

loop

انگریزی میں پڑھیں

بلوچستان کے ضلع صحبت پور کے لوگ درختوں کو کاٹ کر جلائے جا رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ان کی درختوں سے کوئی دشمنی ہے اور نہ ہی انہیں لکڑیاں جلانا کا شوق ہے بلکہ مجبوری یہ ہے کہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے انہیں کھانا بھی تو پکانا ہے۔

اس ضلعے کی 80 فیصد آبادی ویسے ہی گیس کی سہولت سے محروم ہے جو چولہا جلانے کے لیے لکڑی، ایل پی جی یا اوپلے (جانوروں کا خشک گوبر) بطور ایندھن استعمال کرتی ہے۔ تاہم اب یہ اشیاء جلانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے۔

صحبت پور اوچ گیس فیلڈ ایریا سے صرف 19 کلو میٹر دور ہے جبکہ سوئی 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں قدرتی گیس کے بڑے ذخائر ہیں۔

سترام داس مانجھی پور شہر کے رہائشی اور ہندو پنچایت کے صدر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ شہر میں 2010ء کے سیلاب کے بعد گیس کا پریشر کم ہونا شروع ہوا۔ دوسال بعد دوبارہ سیلاب آیا تو گیس نہ ہونے کے برابر رہ گئی جس پر یہاں لوگوں نے کمپریسر لگا لیے تھے اور گزارہ چلتا رہا۔ لیکن اب چار سال سے گیس مکمل طور پر بند ہے۔

مانجھی پور میں ہندو برادری کے لگ بھگ 50 خاندان رہتے ہیں اور بیشتر تجارت پیشہ ہیں۔ سترام داس کہتے ہیں کہ ان کے ارد گرد تمام گھر لکڑی اوپلے اور ایل پی جی استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے مالی نقصان کے ساتھ لوگوں کی صحت بھی تباہ ہو رہی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں ماہانہ چار ہزار روپے کی ایل پی جی، دو ہزار کی لکڑی اور ہزار روپے کے چار بوری اوپلے آتے ہیں۔ یعنی گیس نہ ملنے کے باعث سات ہزار روپے ماہانہ اضافی خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جس سے اس مہنگائی میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

نصیرآباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے میر ظفر اللہ جمالی جب وزیر اعظم بنے تو اس وقت 2005ء میں ان علاقوں میں گیس مہیا کی گئی تھی۔ لیکن پانچ سال بعد ہی مانجھی پور کو سپلائی میں کمی آ  گئی۔

 تحصیل مانجھی پور کے مرکزی شہر کی آبادی لگ بھگ 18 ہزار ہے۔گیس کمپنی کے مطابق یہاں 300 کے قریب کنکشن تھے ان میں سے کچھ بند بھی ہو چکے ہیں۔

سترام داس کے مطابق گیس چار سال سے بند ہے لیکن بل ہر ماہ اپنے وقت پر آجاتے ہیں۔ پہلے جب گیس ملتی تھی تو ایک ہزار سے زیادہ بل نہیں آتا تھا مگر اب ڈیڑھ ہزار کے قریب آتا ہے۔ جو ادا نہیں کرتے ان کا اگلے ماہ جرمانے کے ساتھ نیا بل آجاتا ہے۔

"گیس نہ ملنے سے خرچے تو بڑھ ہی گئے تھے لیکن اب لکڑیاں اور اوپلے جلا جلا کر دھوئیں سے میری بہو اور بیوی دونوں کی آنکھوں میں انفیکشن ہو گیا ہے۔ بچوں کو  مستقل کھانسی کی شکایت ہے۔ ان کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس گئے تو وہ کہتے ہیں کہ ایل پی جی استعمال کریں۔"

شہر کے بیشتر گھروں کی یہی صورتحال ہے خواتین گلے اور آنکھوں کے مسائل سے پریشان ہیں۔ کیوں کہ یہاں لوگوں کی اکثریت ایل پی جی گیس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی اور اکثر اوقات سردیوں میں ایل پی جی کی قلت بھی ہو جاتی ہے۔

ستر سالہ مائی نصیباں (فرضی نام) گوٹھ شفقت خان کھوسہ میں اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کئی سال پہلے جب گیس کا نام و نشان تک نہیں تھا تو وہ کھیت کی لکڑیوں اور بھینس کے سوکھے گوبر کو جلا کر کھانا بناتی تھیں۔ اب لگتا ہے وہی پرانا زمانہ واپس لوٹ آیا ہے۔

یہاں لکڑی پٹ فیڈر اور حیرالدین کے علاقوں سے درختوں کو کاٹ کر لائی جاتی ہے جو آٹھ سو روپے من فروخت ہوتی ہے۔ پانچ افراد پر مشتمل گھرانہ سردیوں میں اوسطاً ماہانہ چار من اور گرمیوں میں تقریبا ڈھائی من لکڑی استعمال کرتا ہے۔ ساتھ تین بوری اوپلے بھی لگتے ہیں جن کا ریٹ اب 250 روپے فی بوری ہے۔

مانجھی پور میں لوگوں کی شکایات پر دو مرتبہ سوئی سدرن کی ٹیمیں آئیں لیکن گیس بحال تو نہیں ہو سکی۔ شہری کئی بار احتجا ج ریکارڈ کرا چکے ہیں اور گیس حکام کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو بھی درخواستیں دی گئیں لیکن سوئی گیس ملنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

یہاں آنے والی سوئی سدرن کی ٹیم نے بتایا تھا کہ صحبت پور سے براستہ مولوی قادر بخش مانجھی پور کی گیس پائپ لائن فش فارمز سے گزرتی ہے جو تالابوں میں دب چکی ہے۔

ڈیرہ اللہ یار زون کے منیجر اللہ بخش بتاتے ہیں کہ پریشر کے ذریعے پائپ لائن کو صاف کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر تالابوں میں دبی لائینیں کئی جگہوں سے لیک ہو رہی ہیں۔ جب تک نئی پائپ لائن نہیں آئے گی تب تک گیس بحال نہیں ہو سکتی۔

 وہ کہتے ہیں کہ نئی پائپ لائن کے لیے متعلقہ حکام کو مراسلے لکھے جا چکے ہیں مگر ابھی تک فنڈز کی منظوری نہیں ہوسکی ہے۔

کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان سلمان احمد صدیقی نے لوک سجاگ کو بتایا کہ صحبت پور کی تین تحصیلوں میں گیس صارفین کی تعداد ایک ہزار 200 کے قریب ہے۔ تحصیل حیرالدین، پنہور سنہڑی اور سید محمد کنرانی میں ابھی گیس نہیں دی گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ کمپنی نے ڈیرہ اللہ یار زون میں نیٹ ورک کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جس پر پہلے مرحلے میں 56کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ صحبت پور سے مانجھی پور 20 کلومیٹر تین انچ قطر کی پائپ لائن کا ایک حصہ بحال کر دیا گیا ہے۔ تاہم تالابوں میں ڈوبا 80 فٹ ٹکڑا بوسیدہ ہوچکا ہے جس کو جلد ٹھیک کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پورے ضلع صحبت پور میں ایک لیڈی ڈاکٹر: 'ایسا نہ ہوتا تو بیٹی کے سر پر ماں کا سایہ سلامت ہوتا'

سرکاری افسروں کو یہ دلاسے دیتے ہوئے سالوں بیت چکے ہیں۔

مشتاق احمد بلیدی ضلع صحبت پور کی تحصیل سید والا کے رہاشی  اور ریٹائرڈ ڈپٹی ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ علاقے میں روزگار اور گیس نہ ہونے کی وجہ ماحول تبا ہ ہو رہا ہے۔

"آج موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے ہمیں درختوں کی ضرورت ہے۔لیکن ہمارے لوگ روزی روٹی کے لیے درخت کاٹ کر جلا رہے ہیں یا لکڑیاں بیچ رہے ہیں۔"

 وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی گیس ملک کے کئی شہروں میں جاتی ہے لیکن یہ گاؤں جہاں سے اوچ گیس فیلڈ کی جلتی چمنیاں کو دیکھا جاسکتا ہے، یہاں گیس میسر نہیں ہے۔

" ہم یہ چمنیاں دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی گیس مل جائے۔ یہاں سے 15 کلومیٹر پر مین پائپ لائن پڑی ہے مگر اس سے متصل دیہہ کنرانی اور دیہہ لاشار میں ہمارے لوگ اس سہولت سے محروم ہیں۔"

تر جمان سوئی سدرن  کہتے ہیں کہ وفاق نے نئے کنکشنز اور توسیع پر پابندی لگا رکھی ہے اس لیے کسی اور علاقے میں گیس نہیں دی جا سکتی تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ صحبت پور میں گیس کمپنی کا سنٹر بنانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ معاملہ اٹھایا جائے گا۔

تاریخ اشاعت 18 جنوری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضوان الزمان منگی کا تعلق بلوچستان کے ضلع صحبت پور سے وہ 10 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مختلف اداروں کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.