English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

راولپنڈی کے ہاسٹلز میں ہراسانی کے واقعات، " قانون بن جانے سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے"

مصباح فاروق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

راولپنڈی کے ہاسٹلز میں ہراسانی کے واقعات، " قانون بن جانے سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے"

مصباح فاروق

loop

انگریزی میں پڑھیں

پچیس سالہ سارہ (فرضی نام) ضلع چکوال کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ راولپنڈی میں قائم نجی ادارے میں ملازمت کرتی ہے اور والد کی وفات کے بعد گھر کی واحد کفیل ہیں۔

سارہ راولپنڈی سکستھ روڈ کے ایک نجی ہاسٹل میں مقیم ہیں اور پچھلے آٹھ ماہ میں دو بار ہاسٹل تبدیل کر چکی ہیں لیکن ان کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

تیسرے ہاسٹل میں بھی مرد سٹاف اکیلے ملنے اور دوستی کرنے کے پیغامات بھیجتا اور ہراساں کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار ہاسٹل وارڈن سے بات کر چکی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ہراسانی کے خلاف کارروائی کرنے کے وسائل ان کے پاس نہیں ہیں۔ انہیں کسی کو بتانے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں اس لیے انہیں ضرر پہنچنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔

اب وہ ملازمت چھوڑ کر واپس جانے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔

ہری پور سے تعلق رکھنے والی نور(فرضی نام) راولپنڈی کی سیونتھ روڈ پر پچھلے ایک سال سے رہائش پذیر ہے۔ وہ ایک کال سنٹر میں کام کرتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہاسٹل کے مالک کے تبدیل ہونے سے ان کی پریشانی بڑھ گئی ہیں۔

نئے مالک نے ہاسٹل ہی میں دفتر بنا رکھا ہے جس میں نشے کے عادی مردوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہ لوگ ہاسٹل کی لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہاسٹل مالک نے چند لڑکیوں کو ان سے دوستی کرنے کا کہا ہے اور نہ کرنے پر ہاسٹل سے نکالنے کی دھمکی دی ہے۔

ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی ایڈووکيٹ ایمان فاطمہ کہتی ہے کہ عورتیں ایسے تجربات سے گزرنے کے بعد ممکنہ خطرات کے پیش نظر خاموش رہتی ہیں۔ متاثرہ خواتین کو وہ ہمت سے کام لینے کی تاکید  کرتی ہیں۔

"پڑھی لکھی عورتیں بھی تحفظ فراہم کرنے والے قوانين سے آگاہ نہیں ہیں۔ اگر انہیں ایسے کسی بھی تجربے یا دھمکی کا سامنا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔"

راولپنڈی کے ایک تھانے میں وومن ڈیسک کی آفیسر آسیہ بتول ایمان فاطمہ سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ  بیشتر خواتین کو اپنے حقوق اور قوانين سے آگاہی  نہیں یہ بات ہراسانی کے واقعات رپورٹ کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

عباس ذاکر راولپنڈی کے  نیو ٹاٶن پولیس سٹیشن میں بطور پی ایس کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اگرچہ معمول ہیں لیکن تھانے میں بہت کم کیسز آتے ہیں۔

اسی تھانے کے محرر محمد توقیر بتاتے ہیں کہ پچھلے دو سال  میں ان کے تھانے میں ہراسانی کے  11 کیسز رپورٹ ہوئے ان میں سے چھ واپس لے لیے گئے اور تین مجرموں نے  تھانے میں ہی " لے دے"  کے صلح کرا لی۔ صرف دو مقدمے عدالتوں تک پہنچے۔

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ فار پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ کی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق  2018ء سے 2022ء کے درمیان ہراساں کرنے کے 5,008 کیسز رجسٹر کیے گئے جبکہ 2013ء سے 2018ء تک 398 کیسز رجسٹر کیے گئے تھے۔

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں بتایا  گیا کہ 32 فیصد خواتین صنفی بنیادوں پر ہونے والے جرائم میں تشدد کا شکار ہوتی ہیں جبکہ 40 فیصد شادی شدہ خواتین کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق غیر رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد شاید اس سے کہیں زیادہ  ہوسکتی ہے۔

ایمان فاطمہ نے بتایا کہ 2010ء میں پارلیمنٹ نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف ایکٹ منظور کیا تھا۔ جنوری 2022ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے 2010ء کے ایکٹ میں ترمیم کی۔ نئے قانون میں ہراساں کرنے کی زیادہ وسیع تعریف شامل ہے۔ یہ قانون خواتین کو ہراسانی اور تشدد کے خلاف تحفظ دیتا ہے۔ یہ شکایات کرنے کے عمل کو بھی آسان بناتا ہے اور اس میں ملزم کے ردعمل کو روکنے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ بار راولپنڈی کی ایڈووکيٹ خنسہ رسول بتاتی ہیں کہ جنسی  ہراساں کیے جانے کی صورت میں شکایت درج کرانے کے مختلف طریقے ہیں۔

سب سے پہلے متاثرہ جہاں پہ کام کرتی یا رہتی ہو،  وہاں کے منیجر یا مالک سے بات کرے گی اگر وہاں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا تو دوسرا آپشن پولیس سٹیشن یا آن لاٸن کمپلین پورٹل ہیں۔

" پورٹل پہ شکایت کی صورت میں پولیس یا متعلقہ ممبرز خود اس سے رابطہ کریں گے۔ پولیس اسٹیشن خود جا کر بھی متاثرہ خاتون شکایت درج کر سکتی ہے"۔

پاکستان پینل کوڈ  1860کے سیکشن 509 کے تحت اس کا مقدمہ درج ہو گا اور جرم کے ذمہ دار شخص کو  پانچ لاکھ روپے تین سال تک قید یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

چاندنی چوک راولپنڈی کے ہاسٹل میں رہنے والی فاطمہ (فرضی نام) بتاتی ہیں کہ کئی صورتوں میں مالک کو شکایت کرنے پر بھی کچھ نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'والدین "بدنامی" کے خوف سے نکل آئیں تو خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کا موثر تدارک ممکن ہے'

فاطمہ ایک ہسپتال میں انٹرن شپ کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کئی بار ہاسٹل کے گیٹ کے قریب نائٹ ڈیوٹی سے واپسی پر انہیں لڑکوں نے گھیرا مگر ہاسٹل گارڈ کے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی اطلاع وہ ہاسٹل مالک کو دے چکی ہے لیکن وہ گارڈ رکھنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔

"گھر والوں کو مشکل سے قائل کر کے انٹرن شپ کے لیے یہاں آئی ہوں۔ کہیں وہ مجھے واپس نہ بلا لیں، اس اندیشے کے باعث انہیں کچھ بتانا نہیں چاہتی۔"

راولپنڈی کے سیونتھ روڈ پر واقع  ہاسٹل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 2023ء کے اوائل میں ان کے ہاں ایسی شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ پڑتال کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی۔ "ثبوت ملنے پر ہاسٹل چلانے والے ملازمین سے اختیارات واپس لے لیے گئے۔ اس کے بعد ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی"۔

سماجی کارکن سدرہ رانا کہتی ہیں کہ پاکستان میں تقریباً 93 فیصد عورتوں نے کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2023ء میں پاکستان کو 146 ممالک میں سے 142 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے گروپ طویل عرصے سے تشدد اور ہراساں کیے جانے کے خلاف مؤثر تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کام کی جگہ پر عورتوں کو ہراسانی سے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ 2022ء اس کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

"البتہ قانون بن جانے سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ اس کا نفاذ عمل میں لایا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ہراسانی کی شکار عورتوں کو سامنے آنا ہو گا۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہو گی۔ گھر کے افراد کو ان پر اعتماد کرنا ہو گا۔ تبھی وہ ان ذہنی بیمار لوگوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔"

تاریخ اشاعت 8 نومبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

مصباح فاروق ہےکا تعلق کمر مشانی, ضلع میانوالی سے ہے۔ انہوں نے پالٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہے اور تعلم و تدریس کے سلسلہ میں راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔

آخر کب تک اپنے بے گناہ بچوں کی لاشیں اٹھائیں گے

نہ دیکھنے کی اتنی سخت سزا نہ دی جائے