ریکوڈک کے سونے کے ذخائر: 'بد انتظامی اور مقامی عدلیہ کے ناقص فیصلے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد ہونے کا سبب بنے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ریکوڈک کے سونے کے ذخائر: 'بد انتظامی اور مقامی عدلیہ کے ناقص فیصلے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد ہونے کا سبب بنے'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ریکوڈک کے سونے کے ذخائر: 'بد انتظامی اور مقامی عدلیہ کے ناقص فیصلے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد ہونے کا سبب بنے'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

امان اللہ کنرانی اکتوبر 2020 کی ایک شام کوئٹہ کے ایک نجی کالج کے پرنسپل آفس میں بیٹھے پاکستان کو ریکو ڈک کیس میں ہونے والے 5.96 ارب ڈالر جرمانے کی وجوہات پر بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ’اس جرمانے کا اطلاق ہی نہیں ہو سکتا۔‘

وہ بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل رہ چکے ہیں اور ریکو ڈک کے بارے میں ہونے والی ملکی اور بین الاقوامی عدالتی کارروائیوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان پر عائد ہونے والا جرمانہ 2011 میں پاس ہونے والے ایک پاکستانی قانون، ریکگنیشن اینڈ اینفورسمنٹ ایکٹ، کے ذریعے ہی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت متعلقہ صوبائی ہائی کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرائے یا نہیں اور اور اگر عمل درآمد کرانا ضروری ہو تو اس کا کیا طریقۂ کار ہو۔ ریکو ڈک کے معاملے میں یہ اختیار بلوچستان ہائی کورٹ کو حاصل ہے۔

امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ ’جب عالمی عدالت کا فیصلہ عمل درآمد کے لئے بلوچستان ہائی کورٹ میں بھیجا جائے گا تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہو گی کیونکہ پاکستان کی سپریم کورٹ پہلے ہی ریکو ڈک پر ہونے والے کان کنی کے معاہدے، چیجوا، کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے‘۔

چیجوا (چاغی ہِلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر اگریمنٹ) ریکو ڈک میں تانبے اور سونے کی کان کنی کے لئے کیا گیا معاہدہ ہے جو 1993 میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کان کنی کی عالمی کمپنی بی ایچ پی (بروکن ہِلز پرپرائٹری) کے درمیان ہوا۔ کچھ سال بعد ٹی سی سی (ٹیتھان کاپر کمپنی) نے اس معاہدے میں بی ایچ پی کی جگہ لے لی۔ 2019 میں عالمی عدالت (انٹرنیشنل کورٹ فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس) نے اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کرنے کے جرم میں پاکستان پر 5.97 ارب ڈالر کا جرمانہ کر دیا۔

امان اللہ کنرانی حکامِ بالا تک اپنی قانونی رائے نہ پہنچا پانے کی وجہ سے گہری تشویش میں مبتلا تھے۔ ان کے مطابق لوگ اس بارے میں اس لئے بات نہیں کر رہے کیونکہ حکومت اور ٹی سی سی کے حکام عدالت سے باہر تصفیہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہو رہا ہے تو پھر ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو دھوکہ دے کر کیوں ڈرایا جا رہا ہے؟‘

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے اس اظہارِ پریشانی کے چند ہفتوں بعد ہی پاکستان پر عائد ہونے والا جرمانہ لے لیا گیا۔

ٹی سی سی نے 20 نومبر 2020 کو برٹش ورجن آئی لینڈ کی ہائی کورٹ آف جسٹس میں اس جرمانے کو نافذ کرنے کے لئے درخواست دی اور 16 دسمبر 2020 کو اس عدالت نے نیو یارک میں قائم روز وویلٹ ہوٹل اور پیرس میں قائم سکرائب ہوٹل ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ اثاثے ایک سرکاری کمپنی پاکستان انٹریشنل ایئر لائین انویسٹمنٹ لیمیٹڈ (پی آئی اے آئی ایل) کی ملکیت ہیں جو برٹش ورجن آئی لینڈ میں ہی رجسٹرڈ ہے۔ عدالت نے پہ آئی اے آئی لیمیٹڈ کے 40 فیصد ایسے حصص بھی ضبط کر لیے جو منہال انکار پوریٹڈ نامی کمپنی میں موجود تھے۔

بہت سے پاکستانیوں کو لگتا ہے کہ یہ اثاثے اب ہمیشہ کے لئے پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں لیکن پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اٹارنی جنرل کے دفتر کے ساتھ مل کر ان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس ضمن میں اگلی عدالتی سماعت 15 مارچ 2021 کو ہوگی۔

 پاکستان کے اثاثے خطرے میں کیوں پڑے؟

جولائی 2019 میں عالمی عدالت کی طرف سے عائد کیا جانے والا جرمانہ کے پاکستان کی معیشت کے لئے ایک دھچکہ ثابت ہوا کیونکہ اسی مہینے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے تقریباً اتنی ہی مالیت کا تین سالہ امدادی پیکج منظور کروایا تھا۔ اس لئے جرمانے کے عائد ہونے کے فوراً بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے ریکو ڈک کیس میں پاکستان کی ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔

تاہم اس اعلان کے 18 مہینے بعد بھی یہ کمیشن اب تک نہیں بن پایا۔ کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کون لوگ اس کمیشن کا حصہ ہوں گے اور انھیں اپنی تحقیق مکمل کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔

اگر مستقبل قریب میں ایسا کوئی کمیشن بن بھی جاتا ہے تو اس کے لئے کسی ایک شخص یا گروہ پر اس ناکامی کی ذمہ داری ڈالنا نا ممکن ہوگا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ متعدد سرکاری افسر، منتخب سیاستدان اور غیر منتخب وزرا اس کیس کی 25 سالہ تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ کچھ سرکاری افسران کے مطابق اس کیس میں ناکامی کا سبب افراد کے بجائے وہ نظام ہے جس کے تحت ملک میں سیاسی اور قانونی فیصلے کئے جاتے ہیں۔

ان سرکاری افسران نے اپنا نام صیغۂ راز میں رکھنے کی شرط پر سجاگ کو بتایا کہ پاکستان کی ریکو ڈک کیس میں ناکامی کی تین بڑی وجوہات ہیں:1۔ چیجوا کو یک طرفہ طور پر منسوخ کرنے کے بعد پاکستان کا مقدمہ کمزور ہو چکا تھا؛ 2۔ عالمی ثالثی ادارے عمومی طور پر غیر ملکی کمپنیوں کی حمایت کرتے ہیں؛ 3۔ پاکستان ٹی سی سی کے ساتھ عدالت سے ماورا کوئی تصفیہ نہیں کر سکا۔

ان افسران کا یہ بھی کہنا ہے کہ براڈ شیٹ نامی کمپنی کے خلاف مقدمے میں عالمی ثالثی عدالت میں ہونے والی ناکامی کی طرح ریکو ڈک کیس میں ناکامی بھی پاکستان کی غیر معیاری قانونی اور سیاسی فیصلہ سازی، فیصلہ ساز اداروں کی غیر تسلی بخش کارکردگی اور باہمی طور پر متضاد قانونی حکمتِ عملیوں کے سبب ہوئی۔ 

ان وجوہات کی بنیاد جنوری 2013 میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے دیا جانے والا ایک فیصلہ ہے جس میں فاضل عدالت نے چیجوا کو آغاز سے ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کہتے ہیں کہ وہ اس وقت ریاست کے سب سے سینیئر قانونی افسر تھے لیکن اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہددی نے فیصلہ دینے سے پہلے ان سے ان کی رائے تک نہیں پوچھی۔ فیصلہ سنائے جانے کے دن کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس دن سپریم کورٹ میں ہی موجود تھا اور امید کر رہا تھا کہ مجھے بلایا جائے گا‘۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔

ان کے مطابق اگر اس دن انھیں طلب کیا جاتا تو وہ عدالت کو بتاتے کہ ایسا فیصلہ کرنے کے کیا دور رَس نتائج ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین 1998 میں سرمایہ کاری پر ہونے والا دو طرفہ معاہدہ چیجوا کو تحفظ دیتا تھا لہٰذا اسے غیر قانونی قرار دینے کے شدید منفی اثرات یقینی تھے۔

وہ چیجوا میں موجود شق 15.4 کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جس کے مطابق اگر دونوں فریقوں میں کوئی بھی تنازعہ 120 دن حل نہیں ہو پاتا تو ’اسے انٹرنیشنل کورٹ آف سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپئوٹس (اکسِڈ) میں لے جایا جائے گا‘۔

عرفان قادر کی طرح کئی دیگر قانونی ماہرین  کی رائے بھی یہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی قانون کے پہلوؤں کو پرکھے بغیر چیجوا کو غیر قانونی قرار دینا ایک سنگین غلطی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس بات کا خیال خاص طور پر اس لئے بھی رکھنا چاہیئے تھا کیونکہ اس کے فیصلے سے کافی عرصہ قبل ہی 2011 میں ٹی سی سی نے عالمی عدالت میں پاکستان کے خلاف کیس دائر کر دیا تھا۔

کرپشن کا لا متناہی مسئلہ

سپریم کورٹ کی جانب سے چیجوا کو غیر قانونی قرار دینے کی ایک بہت بڑی وجہ اس معاہدے کے دوران کی جانے والی مبینہ کرپشن تھی۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس مقدمے کے ریکارڈ میں ’کرپشن کے سنگین انکشافات موجود تھے‘۔

عدالت نے ایک کیس کا بھی حوالہ دیا جس میں عطا محمد جعفر کی کرپشن ثابت ہو گئی تھی۔ ایک احتساب عدالت نے 1998 میں انھیں آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے ایک مقدمے میں مجرم ٹھہرایا۔  وہ اس وقت بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چئیرمین تھے جب چیجوا کے معرضِ وجود میں آیا تھا اور اس معاہدے پر ان کے دستخط بھی ثبت ہیں۔

تاہم اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ درج ہوتا کہ عطا محمد جعفر نے خصوصی طور پر چیجوا معاہدے کے دوران کرپشن کر کے ناجائز اثاثے بنائے تو پاکستان کو عالمی عدالتوں میں پیش آنے والی مشکلات میں کافی کمی آ سکتی تھی۔ لاہور میں مقیم ایک قانونی ماہر کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی عدالتیں ’کرپشن یا رشوت کی بنیاد پر کئے جانے والے معاہدوں کو بہت ناپسند کرتی ہیں‘۔

سپریم کورٹ نے خود بھی اپنے فیصلے میں عالمی عدالت میں چلنے والے 2006 کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا جو ورلڈ ڈیوٹی فری نامی ایک بین الاقوامی کمپنی اور کینیا کی حکومت کے مابین ہوا۔ عدالت نے بالآخر کینیا کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی سماعت میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ متعلقہ حکام نے معاہدہ کرنے کے دوران رشوت لی تھی۔

ان تمام باتوں کے باجود سپریم کورٹ نے ریکو ڈک کیس میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی پر تحقیق کرنے کے لئے کسی کمیشن کے قیام کا حکم نہیں دیا۔ تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے دو سال بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے ریکو ڈک کیس پر ایک تحقیق شروع کی جو 2015 میں حکومتِ بلوچستان کی شکایت پر شروع کی گئی۔ لیکن اس تحقیق کو مکمل ہونے میں پانچ سال لگ گئے۔ 

2 ستمبر 2020 کو بالآخر نیب نے 27 افراد کے خلاف ریکو ڈک منصوبے میں مبینہ بد عنوانی کرنے کے الزام میں ایک مقدمہ درج کیا۔ ان افراد میں موجودہ اور سابق سرکاری افسران سمیت ٹی سی سی کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ نومبر 2020 میں اسی کیس میں عطا محمد جعفر اور ٹی سی سی کے سابقہ سیکیورٹی افسر کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

لیکن اس مقدمے کے آغاز سے پہلے ہی برٹش ورجن آئی لینڈ کی ہائی کورٹ روز ویلٹ اور سکرائب ہوٹل ضبط کرنے کا حکم دے چکی تھی۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو اس صورتِ حال سے ابھی بھی نکالا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر نیب کی تفتیش نئی حقیقتوں سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو عالمی عدالت میں اس کیس کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے ایک سابق اٹارنی جنرل کے مطابق ’ایسا کرنے کے لئے وکلا کی ایک قابل ٹیم کی ضرورت ہے جو کہ عالمی عدالت کو اس بات پر قائل کر سکیں کہ نیب کی تفتیش مکمل ہونے تک جرمانے کی ادائیگی کا عمل روک دیا جائے‘۔

لیکن اس ضمن میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ نیب کو عمومی طور پر بدعنوانی کے ثبوت اکٹھے کرنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔ ریکو ڈک کے معاملے میں بھی اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگر نیب کی جانب سے کرپشن کے ثبوت اکٹھے کرنے بھی بہت وقت لگ جائے تو عالمی عدالت میں اس کیس میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کی مدت ہی ختم ہو چکی ہو۔ پاکستان کے ایک سابق اٹارنی جنرل کے مطابق اگر عالمی عدالت میں یہ اپیل دائر کرنے میں قانونی حد سے زیادہ وقت لگ گیا تو صورت حال اتنی گھمبیر ہو سکتی ہے کہ منصوبے میں کرپشن ثابت ہونے کے باوجود پاکستان جرمانے کے نفاذ کو نہیں روک پائے گا۔

عدالت سے باہر صلح صفائی

بہت سے ایسے وکلا جو اس کیس کی اندرونی تفصیلات جانتے ہیں کہتے ہیں کہ اس مقدمے میں پاکستان کی کوئی واضح حکمتِ عملی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ مثال کے طور پر جب وکلا عالمی عدالت میں پاکستان کا مقدمہ لڑ رہے تھے تو اس وقت بہت سے اعلیٰ حکومتی اہل کار ٹی سی سی کے ساتھ عدالت سے باہر تصفیہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی شامل تھے جنہوں نے 2013 اور 2015 کے درمیان اپنے دورِ حکومت میں ٹی سی سی سے تصفیہ کرنے کے بھرپور کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ریکوڈک کیس کےمتنازعہ حقائق: پاکستان نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری۔

بلوچستان کے ایک اور سابق وزیرِ اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ بہت سی کمپنیاں اور ممالک، جن میں چین، قطر اور سعودی عرب شامل ہیں، ٹی سی سی کو پیسے دے کر ریکو ڈک میں کان کنی کے حقوق خود خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کر چکے تھے۔

لاہور میں مقیم ایک وکیل جو عالمی عدالت میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں کہتے ہیں کہ پاکستان 2012 میں ٹی سی سی کی طرف سے دائر کی گئی ایک درخواست کو مسترد کروانے میں کامیاب ہو گیا تھا جس میں ریکو ڈک میں کان کنی کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس فیصلے کی وجہ سے ٹی سی سی کے حصص کی قیمت میں کمی آ گئی اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی وکلا ٹی سی سی کے نمائندوں سے ایک تصفیہ کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے کم کی یک مشت ادائیگی کرنا تھی مگر وکلا پاکستانی سرکاری حکام کو اس تصفیے پر قائل کرنے میں ناکام رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے حکومتِ بلوچستان کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا۔  انھوں نے مجھے کہا کہ وہ حکامِ بالا سے اس بارے میں بات کریں گے اور مجھے دوبارہ ان کے سامنے یہ معاملہ پیش کرنے کے لئے بلایا جائے گا مگر ان کی طرف سے مجھ سے دوبارہ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔‘

اس وکیل کے مطابق عدالت سے باہر تصفیے کے ذریعے اس معاملے کو حل کیا جا سکتا تھا کیونکہ دوسری صورت میں ایک بھاری جرمانہ دیئے بغیر پاکستان اس مقدمے سے کسی صورت نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے اپنے کانٹریکٹ لا کے مطابق کوئی بھی فریق اگر کسی معاہدے سے فائدہ اٹھائے یا اس میں عدم توازن پیدا کرے تو اس معاہدے کی منسوخی کی صورت میں اسے دوسرے فریق کو اس فائدے یا عدم توازن کے برابر ہرجانہ دینا لازم ہے۔ 

پاکستان کے ایک سابق اٹارنی جنرل کے مطابق پاکستان کے پاس عالمی عدالت میں کیس کے پہلے مرحلے میں ناکامی کے بعد بھی عدالت سے باہر تصفیے کا موقع موجود تھا مگر حکومت نے اس کی پیروی ہی نہیں کی۔ 

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف کمپنیوں کی پیش کش کے باوجود پاکستان ریکو ڈک کے لئے کوئی نئی سرمایہ کاری کیوں حاصل نہیں کر پایا یا اس کا ٹی سی سی کے ساتھ کوئی تصفیہ کیوں نہیں ہو سکا؟

ایسا نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ریکو ڈک کیس کے دوران پاکستان کی قانونی حکمتِ عملی اور اس کے قانونی نمائندگان میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں جو اس عرصے کے دوران پاکستان کے سیاسی اور انتظامی حالات کے غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے ظہور پذیر ہوئیں۔ اسی طرح بیورو کریسی کے اندر تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان مسلسل ایک ہی سرکاری ٹیم کو ٹی سی سی اور دوسرے ممکنہ سرمایہ کاروں سے رابطوں پر معمور نہیں کر پایا۔ کیس کی تاریخ بھی یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کبھی حتمی طور پر یہ فیصلہ ہی نہیں کر پایا کہ اس کیس کی پیروی عدالت کے اندر کرنی ہے یا باہر۔

اس ضمن میں نیب کی کارروائیوں کا خطرہ بھی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ جب بھی پاکستان کو ٹی سی سی کے ساتھ تصفیہ کرنے کا موقع ملا تو سرکاری افسران نے اس ڈر سے یہ تصفیہ نہیں کیا کہ کہیں نیب ان کے خلاف مقدمے نہ بنا دے۔ اس امر کی تصدیق عرفان قادر بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اکثر ایماندار افسران بھی خود کو معاشی معاملات سے دور رکھتے ہیں تا کہ نیب ان کے پیچھے نہ پڑھ جائے۔‘

عالمی عدالت میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل کا بھی کہنا ہے کہ سرکاری افسران ان کو ہمیشہ تصفیہ نہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے یہ افسران کہتے تھے کہ ’نیب کے سامنے عالمی عدالتوں کی جانب سے عائد کیے گئے اربوں ڈالروں کے جرمانے کی ادائیگی کا تو دفاع کیا جا سکتا ہے مگر ان کے لئے تصفیے کے ذریعے ادا کی گئی چھوٹی سی رقم کا دفاع بھی ممکن نہیں۔‘

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 2 دسمبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔