کوئٹہ شہر کچرے اور پلاسٹک کا ڈھیر کیوں بنتا جا رہا ہے؟

postImg

عطا کاکڑ

postImg

کوئٹہ شہر کچرے اور پلاسٹک کا ڈھیر کیوں بنتا جا رہا ہے؟

عطا کاکڑ

پھلوں اور سیاحت کا شہر کوئٹہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کچرے اور پلاسٹک کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن سرکاری محکمے، غیرسرکاری تنظیمیں اور نجی ادارے مل کر بھی اس مسئلے کا موثر حل نہیں نکال پا رہے۔

بلوچستان کے ساڑھے تین ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے صوبائی دارالحکومت کی آبادی 12 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جہاں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مطابق روزانہ 16 سے17 سو ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے میٹروپولیٹن کارپوریشن میں روزانہ پانچ سو ٹن سے زیادہ کوڑا شہر سے باہر نکالنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شہر میں روازنہ گیارہ سے بارہ سو ٹن کوڑا جمع ہو رہا ہے یا پھر جلایا جا رہا ہے۔ یعنی دونوں صورتوں میں شہر ناقابل رہائش ہوتا جا رہا ہے۔

حاجی شہزادہ کوئٹہ میں قائم واحد 'ری سائیکلنگ پلانٹ' کے مالک ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ شہر کے کوڑے میں کم از کم ساڑھے پانچ ٹن پلاسٹک شامل ہوتا ہے جس کے لیے انہوں نے 2008ء میں میونسپل کارپوریشن کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 'ری سائیکلنگ پلانٹ' لگایا تھا۔

ری سائیکلنگ پلانٹ میں ویسٹ منیجمنٹ کے نمائندے سلمان علی بتاتے ہیں کہ 29 سالہ لیز ایگریمنٹ میں طے پایا تھا کہ ٹھیکیدار ری سائیکلنگ پلانٹ لگانے کے لیے سرمایہ کاری کرے گا جبکہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن یومیہ پانچ سو ٹن کچرا پلانٹ تک پہنچائے گی۔ ان کی کمپنی نے یہ ٹھیکہ ٹینڈر کے ذریعے حاصل کیا تھا۔

حاجی شہزادہ کہتے ہیں کہ 2008ء میں ری سائیکلنگ پلانٹ پر لگ بھگ 10 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے جس میں مختلف قسم کا کوڑا ری سائیکل کیا جانا تھا۔ لیکن بنیادی مقصد کوئٹہ شہر سے پلاسٹک کے ڈھیروں پر قابو پانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پلانٹ کی یومیہ ری سائیکلنگ صلاحیت ایک ہزار ٹن ہے لیکن مطلوبہ مقدار میں کچرا نہ ملنے کی وجہ سے کچھ عرصے بعد پلانٹ بند کرنا پڑا تھا۔ جونہی پلانٹ بند ہوا شہر میں کباڑیوں نے جگہ جگہ دکانیں (گودام) کھول لیں اور ڈور ٹو ڈور کچرا جمع کرنے کے لیے بچوں کو کام پر لگا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر کا کچرہ اٹھانا اور پلانٹ تک لانا میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ذمہ داری ہے لیکن جب پلانٹ دوبارہ فعال ہوا تو چند دنوں تک 40 ٹرک یعنی تقریباً 300 ٹن کچرا روزانہ پہنچایا جاتا رہا۔ جبکہ کارپویشن نے یومیہ 500 ٹن سپلائی دینی تھی۔

"ہمارے پاس پہنچنے والے کچرے میں پلاسٹک نہ ہونے کے برابر تھی جس کے لیے ہم نے سرمایہ کاری کی تھی۔ میں نے کارپوریشن کو پیشکش کی ہے کہ آپ کباڑیوں والا پلاسٹک کا کام بند کرائیں میں شاپر جمع کرنے والے بچوں کو روزانہ کا معاوضہ دینے کے لیے بھی تیار ہوں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا"۔

"ہمارے پلانٹ میں پلاسٹک ری سائیکل کر کے بوریاں، رسی اور پلاسٹک کے ڈبے بنائے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے خدشہ ہے اگر حکومت نے کوئی موثر اقدام نہ کیا تو کوئٹہ شہر میں پلاسٹک اور کچرا جمع ہو جائے گا"۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر عبدالجبار بلوچ تصدیق کرتے ہیں کہ شہر میں روزانہ 16 سے 17سو ٹن کچرا پیدا ہوتا لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ یومیہ 700 ٹن کچرہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ جبکہ ری سائیکلنگ پلانٹ کے اعداد و شمار اس دعوے کو بھی درست ثابت نہیں کرتے۔

ایڈمنسٹریٹر بتاتے ہیں کہ کارپوریشن کے پاس کل 95 ڈمپر اور 78 چھوٹی گاڑیاں ہیں جن کے ساتھ دہاڑی دار مزدوروں سمیت 400 ملازم کام کرتے ہیں جو شہر کا پورا کچرا اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

 انوائرمنٹل سوشیالوجسٹ ڈاکٹر جانان کاکڑ بتاتے ہیں کہ شہروں میں نالیوں اور سیوریج کی بندش کے علاوہ بھی پلاسٹک کے بے شمار نقصانات ہیں۔ لیکن دنیا بھر میں پلاسٹک کے اندھا دھند استعمال کی بڑی وجہ اس کی کم قیمت اور ہر جگہ دستیابی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے سالانہ تقریباً 500 بلین تھیلے استعمال ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں سالانہ 60 ارب پلاسٹک تھیلیاں استعمال ہوتی ہیں۔ اس طرح ہر منٹ میں دس لاکھ سے زیادہ پولی تھین بیگ عالمی ماحولیات کو تباہ کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بظاہر تو پلاسٹک گل جاتا ہے لیکن کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ چھوٹے چھوٹے ذرات میں بدل جاتا ہے جو ہوا یا پانی کے ذریعے جانوروں، انسانوں اور سمندری حیات کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ جبکہ پلاسٹک کی ایک بوتل کو لینڈ فل سائٹ پر گلنے میں 450 سال لگ سکتے ہیں۔

 ادارہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کے فوکل پرسن محمد علی کاکڑ بتاتے ہیں کہ ان کا ادارہ صوبے میں 23 سال سے پلاسٹک کے خلاف کام کر رہا ہے جس کے لیے ہر قسم کے پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور آگاہی مہم بھی چلائی گئی۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ شاپنگ بیگ کا ایک بار استعمال (سنگل ٹائم یوز) بہت زیادہ ہے اور یہ بازار میں باآسانی دستیاب ہے۔ جس کی وجہ سے شاپر کے مسئلے پر قابو پانا خاصا مشکل تھا۔

"اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ 50 مائیکرون موٹائی کے پلاسٹک بیگز بنانے کی اجازت دے دی جائے اور اگر کوئی نجی ادارہ یہ بیگز کوئٹہ میں بنانا چاہے تو ادارہ تحفظ ماحولیات اس کی مانیٹرنگ کرے گا۔ تاکہ یہ بیگ ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال ہو سکے۔ لیکن پھر تاجروں نے اس کی قیمت پر اعتراضات اٹھا دیے"۔

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں بیگ کی تیاری اور قیمتوں پر اعتراضات کے بعد ادارہ تحفظ ماحولیات نے جولائی 2023ء میں صوبائی اسمبلی سے قانون منظور کرایا جس کے تحت 50 مائیکرون سے کم موٹائی والے پلاسٹک بیگ کی تیاری خرید و فروخت، نمائش، ذخیرہ اندوزی، ایکسپورٹ اور امپورٹ پر پابندی عائد کی گئی۔ خلاف ورزی پر چھ ماہ قید یا پانچ لاکھ روپے جرنامہ یا بیک وقت دونوں سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

فوکل پرسن کا کہنا تھا کہ بل پاس ہونے کے بعد تین ماہ میں پلاسٹک کی درآمد اور برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور طے پایا تھا کہ اگلے تین مہنے میں پلاسٹک کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگا دی جائے گی۔ لیکن اس قانون پر عمل نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

کوئٹہ کی گلیوں سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر: باغوں کے شہر کا تعفن کیسے ختم ہو گا؟

 ان کے مطابق قانون کا نفاذ اس لیے نہیں ہو سکا کہ پلاسٹک کی سمگلنگ ہو رہی ہے اور پہلے مرحلے میں پلاسٹک کی امپورٹ کو روکنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں کوسٹ گارڈ، کسٹمز اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ پلاسٹک کی سمگلنگ اور امپورٹ روکے جانے کے بعد دکانداروں کے خلاف ایکش لیا جائے گا۔

کوئٹہ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ایجوکیشنل یوتھ امپاورمنٹ کے ڈائریکٹر محمد سمیع خان شارق بتاتے ہیں کہ ان کی تنظیم نے پانچ ماہ قبل  پلاسٹک بیگ کے متبادل کے طور پر کپڑے کے تھیلے بنانے کا ایک آزمائشی منصوبہ شروع کیا ہے۔

"ہم نے ابتدائی طور پر ایک لاکھ بیگز بنانے کا ہدف رکھا ہے جن کو بنانے کا کام جاری ہے۔ ہم نے تاجروں کو پیشکش کی ہے کہ وہ ان تھیلوں پر اپنے برانڈز کے ٹرید مارک لگوا لیں۔ بظاہر کپڑے کے تھیلے مہنگے پڑتے ہیں لیکن کئی بار استعمال ہو سکتے ہیں"۔

بلوچستان میں پلاسٹک بیگز پر پابندی کے قوانین پر دکان داروں کو شدید تحفظات ہیں۔

انجمن تاجران کے صدر رحیم آغا کہتے ہیں کہ حکومت شاپنگ بیگز کا استعمال روکنے کے لیے دکانداروں پر تو دباو ڈال رہی ہے لیکن دنیا بھر سے درآمدی اشیاء پلاسٹک پیکنگ میں آ رہی ہیں اور سرحدوں سے پلاسٹک کی کھلے عام سمگلنگ ہو رہی ہے۔ جبکہ حکومت دونوں کو نہیں روک سکی۔

دو ماہ قبل نگراں وزیر اعلیٰ مردان ڈومکی کی زیر صدارت اجلاس ہوا تھا جس میں پولی تھین بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی، کوئٹہ شہر کے کچرے کی آؤٹ سورسنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم اس کے بھی کوئی نتائج سامنے نہیں آئے۔ کوئٹہ شہر میں پلاسٹک بیگ کے استعمال کا خاتمہ تو دور کچرے کے ڈھیر بھی ختم نہیں کیے جا سکے۔

تاریخ اشاعت 19 فروری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے عطا کاکڑ فری لانس صحافی ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.