موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

postImg

زبیر خان

postImg

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

زبیر خان

مارچ 2022ء کی بات ہے جب پاکستان میں پارہ اچانک چڑھنے لگا، گرمی بڑھتی چلی گئی۔ دو ماہ تک ایسے لگتا تھا جیسے سورج سوا نیزے پر آ گیا ہو۔ یکم مئی کو نوابشاہ شہر میں ٹمپریچر 49.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جو اس سال زمین پر سب سے زیادہ درجہ حرارت تھا۔

اقوام متحدہ کا رابطہ دفتر برائے انسانی امور  (او سی ایچ اے) تصدیق کرتا ہے کہ گرمی کی اس لہر کے دوران دن کے وقت ملک کے بیشتر علاقوں میں اوسط درجہ حرارت پانچ سے آٹھ ڈگری معمول سے زیادہ رہا اور اپریل میں پاکستان کو چھ دہائیوں کی دوسری بڑی خشک سالی کا سامنا ہوا۔

"خشک سالی سے کم از کم 90 افراد ہلاک ہوئے، بجلی کی شدید کمی ہو گئی، آگ لگنے کے واقعات ہوئے اور فصلوں کو نقصان پہنچا۔ شدید گرمی کے ساتھ ہی پہاڑوں پر برف پگھلنے لگی اور شیسپر گلیشیئر پھٹنے سے حسن آباد (ہنزہ) میں برفانی جھیل بن گئی۔"

رپورٹ بتاتی ہے کہ کہ صرف ہیٹ ویو سے تباہ کاری نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد جولائی میں شدید بارشیں اور سیلاب نے 530 سے زیادہ (یہ ہلاکتیں بعدازاں ایک ہزار 739 تک پہنچ گئی تھیں جبکہ 80 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے تھے) جانیں لے لیں جبکہ سڑکیں، پل، گھر اور سکول تباہ ہو گئے۔"

سائنسدان گرمی کی لہروں اور سیلاب کو موسمیاتی بحران سے جوڑتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سردیوں کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہےجس کے بعد یک دم گرمی شروع ہو جاتی ہے۔ رواں سال بھی پاکستان میں شدید موسمیاتی تبدیلی آئی۔

گلیشیئرز کے ماہر ڈاکٹر شیر محمد، انٹر نیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیویلپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کے شمالی علاقوں میں موسم سرما کا آغاز اکتوبر سے ہو جاتا ہے جبکہ عام طور نومبر دسمبر تک کئی بار بارش اور برفباری ہو چکی ہوتی ہے۔

"مگر اس بار مارچ میں آکر ہم نے برفباری دیکھی۔ تاخیر سے برفباری کا یہ نقصان ہے کہ برف کو زیادہ جمنے کا موقع نہیں ملتا جس سے حادثات ہوتے ہیں۔ جونہی مارچ میں درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوتا ہے برف پگھل کر گر جاتی ہے۔"

وہ کہتے ہیں کہ درحہ حرارت معمول کے مطابق ہو تو برف آہستہ آہستہ پگھلتی ہے جو ماحول میں بہتری اور پانی کی مسلسل فراہمی میں مدد گار ثابت ہوتی ہے مگر بے وقت برف فائدہ مند کم اور نقصان دہ زیادہ ہوتی ہے۔

تبت، بھارت اور پاکستان میں برف باری اور گلیشیئر  دریائے سندھ کے پانی کا دائمی اور بڑا ذریعہ ہیں جس میں شامل ہونے والا بارشوں کا پانی اسے 'شیر دریا' بناتا ہے۔ یہ دریا پانی کے سالانہ بہاؤ کے لحاظ سے دنیا کا 21 واں بڑا دریا ہے جو صرف پاکستان میں ایک ہزار 976 میل (تقریباً 3180 کلومیٹر) طویل ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت  (ایف اے او) کے مطابق دریائے سندھ، انڈس بیسن میں رہنے والے کم از کم 30 کروڑ لوگوں (2011ء کے اعداد و شمار) کے لیے لائف لائن ہے جس میں ہندوکش، قراقرم، ہمالیہ کے پہاڑ، سندھ اور پنجاب کے میدان اور ریگستان شامل ہیں۔

سندھ طاس یا انڈس ریور بیسن

'سندھ طاس یا انڈس ریور بیسن' جغرافیہ کی زبان میں ان تمام علاقوں پر مشتمل ہے جہاں پر بارشوں یا برف باری کے پانی کی نکاسی ( ندی نالوں یا چھوٹے دریاؤں کے ذریعے) دریائے سندھ میں ہوتی ہے۔

انڈس ٹرانس باؤنڈری ریور بیسن کے نام سے جاری ایف اے او کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سندھ طاس (بیسن) کا کل رقبہ 11 لاکھ 20 ہزار مربع کلو میٹر ہے جو 47 فیصد پاکستان، 39 فیصد بھارت، آٹھ فیصد چین اور چھ فیصد افغانستان میں ہے۔

بھارت کا تقریباً چار لا کھ 40 ہزار مربع کلو میٹر( ملک کا 14 فیصد) رقبہ سندھ طاس میں آتا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر، ہماچل پردیش، مشرقی پنجاب، راجستھان، ہریانہ اور چندی گڑھ کے علاقے شامل ہیں۔ تاہم چین کا ایک فیصد جبکہ افغانستان کا 11 فیصد رقبہ سندھ طاس (بیسن) کا کیچمنٹ ایریا بنتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کا پانچ لاکھ 20 ہزار مربع کلو میٹر علاقہ انڈس بیسن میں آتا ہے جس میں شمالی علاقہ جات اور کشمیر کے علاوہ پنجاب، خیبرپختونخوا کے دونوں صوبے، سندھ کا بیشتر علاقہ اور بلوچستان کے مشرقی حصے شامل ہیں۔

سندھ طاس معاہدے  میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ انڈس ریور بیسن میں چین سے سالانہ 181.62 مکعب کلومیٹر پانی آتا ہے جس میں بھارت سے 50.86 مکعب کلومیٹر پانی شامل ہے۔ یوں سالانہ کل بہاؤ 232.48 مکعب کلومیٹر بنتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت تقریباً 170.27 مکعب کلومیٹر سالانہ پانی پاکستان جبکہ 62.21 مکعب کلومیٹر بھارت کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

پاکستان کے کروڑوں لوگوں کا انحصار دریائے سندھ پر ہے جبکہ ملک کے زرعی رقبے کا 95 فیصد آبپاشی نظام (بشمول زمین سے پانی لینے والے ٹیوب ویل) انڈس بیسن کی ندیوں اور دریاؤں (جہلم، چناب، راوی، ستلج وغیرہ) کے سہارے چلتا ہے۔ پانی کے بغیر ملک میں بجلی کی ضرورت بھی پوری نہیں ہوتی۔

بارش، برفباری ،گلیشیئرز اور دریا

شمالی علاقہ جات میں موسمیاتی معلومات اور سیلاب کی پیشن گوئی کے لیے خود کار سٹیشنوں کے ساتھ بارش و پانی ناپنے کے گیج اور بہاؤ کے سینسر وغیرہ لگائے جا چکے ہیں تاہم برفباری کا تخمینہ اب بھی سٹیلائٹ امییجز سے لگایا جاتا ہے۔

محکمہ موسمیات (میٹ آفس) اسلام آباد کا فراہم کردہ پچھلے 20 سال  کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سالانہ اوسطاً 4.2 فٹ برفباری ہوتی ہے لیکن ہر سیزن میں اس میں کمی بیشی آتی رہتی ہے۔

محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ برف باری 5-2004ء میں ہوئی جو تقریباً ساڑھے 8 فٹ  ریکارڈ کی گئی۔ 2008-09ء میں لگ بھگ چھ فٹ برف  پڑی مگر اس کے بعد برفباری میں مسلسل کمی آنا شروع ہو گئی۔

"یہاں تک کہ 18-2017ء میں صرف پونے دو فٹ برف پڑی جو ان 19 برسوں میں سب سے کم تھی۔ گزشتہ سال برفباری تقریباً سوا تین فٹ اور پچھلی سردیوں میں تین فٹ سے بھی کم  برفباری ریکارڈ کی گئی۔"

میٹ آفس کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کا سالانہ اوسط درجہ حرارت بھی بڑھتا جا رہا ہے جو 1901ء سے 2022ء تک 20.87 درجے  سینٹی گریڈ تھا وہ 2022ء میں اوسطاً 22.23 درجے رہا۔

زیادہ درجہ حرارت، کم اور دیر سے برفباری کے باعث گلیشیئرز بھی پگھل کر چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔

پاکستان میٹریالوجی جرنل میں جنوری 2017ء میں شائع ہونے والی سٹڈی رپورٹ دو گلیشیئر (ڈارکٹ اور یزغل) اور ان سے جڑی دو جھیلوں کے 27 سالہ جائزے کی تفصیل بتاتی ہے جو ہنزہ کے ضلع غذر میں واقع ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق سال 1988ء میں ڈارکٹ گلیشیر کی جھیل کا رقبہ تقریباً 73ہزار مربع میٹر تھا جو 1998ء تک سکڑ کر 53 ہزار مربع میٹر ہو گیا جبکہ 2001ء تک یہ مزید کم ہوکر 35 ہزار 700 مربع میٹر رہ گیا تھا۔

تاہم 2001ء کے بعد ڈارکٹ جھیل کا رقبہ بڑھنا شروع ہوا جو 2009ء میں تقریباً ایک لاکھ 41 ہزار مربع میٹر تک پہنچ گیا اور  2015ء میں یہ جھیل 1 لاکھ 57 ہزار مربع میٹر رقبے  پر پھیل چکی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس جھیل کے بتدریج پھیلاؤ کی وجہ یہ ہے کہ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہا ہے۔ دوسرا گلیشیئر یزغل اور اس کی جھیل کا طرز عمل بھی کچھ ڈارکٹ گلیشیئر جیسا ہے جو خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈاکٹر شیر محمد کے بقول پاکستانی دریاؤں میں 44 فیصد پانی بارشوں، 40 فیصد برفباری، پانچ فیصد گلیشیئرز اور گیارہ فیصد ندی نالوں سے آتا ہے۔ اس سال برفباری کم  اور بے وقت ہوئی۔ اب اگر مناسب بارشیں نہ ہوئیں تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات

او سی ایچ اے  اعتراف کرتا ہے کہ پاکستان دنیا میں ایک فیصد سے بھی کم کاربن پیدا کرتا ہے مگر پھر بھی موسمیاتی تبدیلی کے سنگین نتائج بھگت رہا ہے۔

گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں یہ پانچواں سب سے زیادہ خطرات کا شکار ملک ہے جو پچھلے 24 برسوں میں ان تبدیلیوں سے ہزاروں انسانی جانوں اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک  پہلے ہی بتا چکا ہےکہ گزشتہ 50 برسوں میں پاکستان میں سالانہ اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے اور ہیٹ ویوز کے دن تقریباً پانچ گنا بڑھ گئے ہیں۔ یعنی پہلے اگر گرمی کی لہریں 20 روز کے لیے آتی تھیں تو اب یہ  دورانیہ 100 روز ہو گیا ہے۔ بارشوں میں بھی کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بنک کہتا ہے کہ دنیا میں اگر کاربن کا اخراج ایسے ہی بڑھتا رہا تو اس صدی کے اختتام تک پاکستان میں سالانہ اوسط درجہ حرارت میں تین سے پانچ ڈگری کا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے سطح سمندر  میں تقریباً دو فٹ  تک اضافے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام سے سیلاب کا بچاو ممکن ہے ؟

ماہرین کے مطابق ایسی صورت حال میں نشیبی ساحلی علاقے سب سے متاثر ہوں گے جبکہ بارش کے پیٹرن میں تغیر، گلیشیئرز پگھلنے، دریا کے بہاؤ اور آبپاشی کی ضروریات سمیت کئی تبدیلیوں میں اضافہ متوقع ہے۔

حل کیا ہے؟

ایشیائی ترقیاتی بینک، ترقی کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنا پہلا ہدف قرار دیتا ہے جس کا حل گرین ہاوس گیسز کے اخراج میں کمی سے ہی ممکن ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس مقصد کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع کا استعمال تجویز کر رہے ہیں۔

وزارت صنعت و پیداوار کے نیشنل پروڈیکٹویٹی آرگنائزیشن (این پی او)کے سینیئر انرجی ایڈیٹر انجنیئر حماد الطاف سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ماحول دوست توانائی کے وافر ذرائع موجود ہیں جن کو نہ صرف حکومت بلکہ عوام کو بھی اپنانا ہو گا۔

وہ بتاتے ہیں کہ گرین ہاوس گیسز میں کمی کے لیے توانائی کے آلودگی سے پاک ذرائع کا استعمال ناگزیر ہے جس کے لیے دنیا بھر میں ہائیڈل (پانی سے بجلی بنانا)، سولر پینل، ونڈ ٹربائین، بائیوماس اور جیو تھرمل بجلی کے آپشن استعمال کیے جا رہے ہیں۔

"سولر توانائی کے لیے تو اضافی تعمیرات کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں سال کے 365 میں سے کم از کم ڈھائی سو دن دھوپ میسر ہوتی ہے۔ اس بجلی سے ماحولیاتی مسائل پیدا نہیں ہوتے جبکہ عام آدمی کے لیے لاگت بھی کم ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ ہوا سے توانائی کا حصول دوسرا کم لاگتی اور ماحول دوست طریقہ ہے جس سے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

"واٹر ٹربائین سے صدیوں سے توانائی حاصل کی جا رہی ہے تاہم اب ٹیکنالوجی میں جدت آ چکی ہے۔ اب ہم پانی کو روکے بغیر تیز بہاؤ والی آبشاروں اور چشموں کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔"

حماد الطاف نے بتایا کہ لکڑی، فصلوں کی باقیات اور جانوروں کے گوبر اور کچرے وغیرہ سے بائیو انرجی (قابل تجدید توانائی) حاصل کی جا سکتی ہے جس کے پاکستان میں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ بعض دیہات میں پہلے ہی بائیو (گوبر) گیس استعمال بھی کی جا رہی ہے۔

"گرین انرجی کے حصول کا ایک اور قدرتی ذریعہ گرم پانی کے چشمے بھی ہیں جس کو 'جیو تھرمل انرجی' کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں زیر زمین گرمی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے جو آسانی سے ختم نہیں ہو سکتی۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں ان وسائل کو استعمال نہیں کیا جا سکا۔"

تاریخ اشاعت 15 مئی 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد زبیر خان کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ بی بی سی کے علاوہ مختلف بین الاقومی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام پاکستان کے سرحدی اور دور دراز علاقوں میں ہے۔ جہاں سے یہ انسانی زندگیوں کی کہانیوں پر کام کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.