راوی اربن ڈویلمپنٹ اتھارٹی کی نیلامی جیتنے والی کمپنی: نیا ناظم آباد سے راوی ریور فرنٹ تک
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

راوی اربن ڈویلمپنٹ اتھارٹی کی نیلامی جیتنے والی کمپنی: نیا ناظم آباد سے راوی ریور فرنٹ تک

تنویر احمد

postImg

راوی اربن ڈویلمپنٹ اتھارٹی کی نیلامی جیتنے والی کمپنی: نیا ناظم آباد سے راوی ریور فرنٹ تک

تنویر احمد

 معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے نئے شہر بسانا اشد ضروری ہے کیونکہ دیہات کی نسبت شہر معاشی سرگرمیوں میں کہیں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کی کل آبادی کا صرف 36.7 فیصد حصہ شہروں میں رہتا ہے لیکن اس صوبے کی شہری معیشت کا حجم 130 ارب ڈالر ہے جبکہ اس کے دیہاتوں کی معیشت اس سے سوا تین گنا کم ہے۔

'ترقی کے نام پر بے دخلی اور  زمین کا حصول' کے عنوان کے تحت 10 جولائی 2021 کو لاہور ہائی کورٹ کے ہال میں ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے 25 سال میں 75 فیصد پاکستانی شہروں میں منتقل ہو جائیں گے جس کے لئے ضروری ہے کہ شہروں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ پھیلایا جائے۔ لاہور کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس شہر کو مشرق، مغرب اور جنوب میں پھیلانے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اس لئے اب اسے شمال میں دریائے راوی کے ارد گرد پھیلانے کی ضرورت ہے۔

پنجاب حکومت یہ کام ایک لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر بنائے جانے والے راوی ریور فرنٹ نامی منصوبے کی مدد سے کرنا چاہتی ہے جس کی منصوبہ بندی اور نگرانی کا کام راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذمے ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ حال ہی میں اس اتھارٹی کے چیئرمین متعین ہوئے ہیں۔

کانفرنس کے دوران راوی ریور فرنٹ کی مجوزہ حدود میں آنے والی فیکٹریوں کے مالکان کی تنظیم کے رکن انعام بٹ نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسی منصوبہ بندی ہے کہ نئے شہر بسانے کے لئے پرانی بستیوں اور پرانی صعنتوں کو گرا دیا جائے۔ کسانوں اور سِول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس منصوبے کے لیے لی جانے والی زرعی اور دریائی زمین کے بارے میں ایسے ہی سوال اٹھائے لیکن ان کے جواب دینے کے بجائے ڈاکٹر سلمان شاہ اپنی تقریر ختم کرتے ہی ہال سے چلے گئے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تمام اعلیٰ افسران بالکل اسی طرح ایسے منفی ماحولیاتی، معاشی اور انسانی اثرات پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں جو کسانوں، ماہرینِ ماحولیات اور سِول سوسائٹی کے ارکان کی نظر میں راوی ریور فرنٹ منصوبے سے جنم لیں گے۔ لیکن سرکاری منصوبہ سازوں اور منصوبے سے متاثر ہونے والے لوگوں کے درمیان ایک مکالمے کی عدم موجودگی میں عدالتوں کو اس کے مستقبل کا تعین کرنے میں ایک کلیدی مقام حاصل ہو گیا ہے۔ اس وقت کئی کسانوں نے راوی ریور فرنٹ کے لئے اپنی زمینوں کے حصول کو روکنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے جبکہ سِول سوسائٹی کے کئی ارکان نے بھی لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہوئی ہے کہ اس منصوبے کے منفی ماحولیاتی اثرات کی بنا پر اسے ترک کیا جائے۔ 

ان میں سے کچھ درخواستوں کی بنا پر لاہور ہائی کورٹ نے پہلے ہی ایک حکمِ امتناعی جاری کر رکھا ہے جس کے تحت راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اس منصوبے پر اس وقت تک کام شروع نہیں کر سکتی جب تک وہ اس کے ماحولیاتی اثرات پر بنائی گئی رپورٹ پر عوامی مشاورت مکمل کر کے متعلقہ محکمے سے اس کی منظوری نہ لے لے۔

تاہم اس حکمِ امتناعی کے باوجود اتھارٹی نے اس منصوبے کے 2000 ایکڑ پر مشتمل حصے سیفائر بے کی ترقی اور تعمیر کے لئے جاوداں کنسورشیم نامی کاروباری گروپ کی پیش کش قبول کر لی ہے جس کے 51 فیصد حصص کراچی کے عارف حبیب گروپ کے پاس ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو عمران امین کے مطابق یہ کنسورشیم اگلے چند ہفتوں میں سیفائر بے پر کام شروع کر دے گا۔

سٹیل مِل سے نیا ناظم آباد براستہ سیمنٹ فیکٹری

جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے 31 مارچ 2006 کو کراچی میں واقع ریاست کی ملکیتی پاکستان سٹیل ملز کے 75 فیصد حصص بشمول اس کے انتظامی اختیارات 21 ارب 68 کروڑ روپے کے عوض ایک ایسے کنسورشیم کو بیچنے کی منظوری دی جس میں سعودی عرب کے التواریقی گروپ اور روس کی میگنیٹو گورسک نامی کمپنی کی علاوہ عارف حبیب گروپ بھی شامل تھا۔لیکن مِل کے مزدوروں کی ایک تنظیم پیپلز لیبر یونین اور پاکستان وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفراللہ خان نے نِج کاری کے اس عمل کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواستیں دائر کر دیں اور استدعا کی کہ اس کے شفاف نہ ہونے کی وجہ سے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

ان درخواستوں کی سماعت اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ایک نو رکنی عدالتی بنچ نے کی جس نے 23 جولائی 2006 کو اس نِج کاری کو کالعدم قرار دے دیا۔ آٹھ اگست 2006 کو جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اس عمل میں نہ صرف ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر مالی بےضابطگیاں بھی کی گئیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے مِل کی فروخت میں عجلت سے کام لیا اور اسے اس کی حقیقی قیمت سے کم سطح پر بیچ کر کنسورشیم کو اربوں روپے کا نا جائز فائدہ پہنچایا۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کنسورشیم نے اپنے بیشتر حصص ایک ایسی آف شور کمپنی کو فروخت کر دیے تھے جو ماریشس نامی ملک میں رجسٹرڈ تھی۔ یوں سٹیل مِل کے اصل خریدار کے بارے میں کئی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔

اسی دور میں حکومت کی ملکیتی جاوداں سیمنٹ فیکٹری کی نِج کاری کا عمل بھی مکمل ہوا۔ یہ فیکٹری 8 جون 1961 کو بنائی گئی ایک نِجی کمپنی، جاوداں کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ، نے کراچی کے سائٹ ایریا میں منگھو پیر جھیل کے قریب قائم کی تھی جس کے لئے 1074 ایکڑ سرکاری زمین 30 سالہ لیز پر لی گئی۔ 1971 کے انتخابات کے بعد بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس فیکٹری کو حکومتی ملکیت میں لے لیا لیکن 1990 کی دہائی میں مختلف انتظامی اور مالی  وجوہات کی بنا پر یہ فیکٹری بند ہو گئی۔ 

اگلی دہائی کے دوران جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اس کی نِج کاری کا عمل شروع کیا اور آخر کار 23 اگست 2006 کو جاوداں کارپوریشن کے تمام اثاثے اور انتظام چار ارب 31 کروڑ 50 لاکھ روپے کے عوض حاجی غنی عثمان اینڈ گروپ کے حوالے کر دیے گئے جس نے کمپنی کا نام تو برقرار رکھا لیکن یکم جولائی 2010 کو سیمنٹ کی پیداوار بند کر کے فیکٹری کی زمین پر ایک رہائشی علاقہ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ 20 نومبر 2011 کو اخبارات میں شائع ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق کراچی کے چار بڑے کاروباری گروپوں، عارف حبیب گروپ، عقیل کریم ڈھیڈی (اے کے ڈی) گروپ، حاجی غنی عثمان گروپ اور ہم ٹی وی نیٹ ورک کے مالک ہم گروپ نے مِل کر ایک کنسورشیم بنایا جس کا مقصد جاوداں سیمنٹ فیکٹری کی جگہ نیا ناظم آباد کے نام سے ایک رہائشی منصوبہ تعمیر کرنا تھا۔

 یہ چاروں گروپ پچھلے کئی سالوں سے کراچی کے دو بڑے کاروباری اداروں، جہانگیر صدیقی گروپ اور  جنگ اخبار اور جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کے مالک جنگ گروپ، کے ساتھ ایک طویل عدالتی لڑائی میں ملوث ہیں جس میں دونوں فریق ایک دوسرے پر ملکی قوانین کی خلاف ورزی اور مالی بد عنوانیوں کے سنگین الزامات لگا چکے ہیں جن پر 20 کے قریب مقدمے مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

اس ضمن میں ایک اہم تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب 25 اکتوبر 2013 کو سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے حاجی غنی عثمان کی سٹاک بروکریج کمپنی کی رجسٹریشن معطل کر دی کیونکہ اس کے پاس ہم گروپ کی ایک ایسی بروکریج کمپنی کے 10 فیصد سے زیادہ حصص تھے جس نے اپنے کچھ گاہکوں کے واجبات ادا کیے بغیر اپنا کاروبار بند کر دیا تھا۔ 

ان کاروباری تنازعات سے قطع نظر بھی نیا ناظم آباد منصوبہ شروع سے ہی کئی الزامات کی زد میں رہا ہے۔ ان میں پہلا الزام تو یہ تھا کہ اس کا بیشتر حصہ منگھو پیر جھیل کی زمین پر بنایا جا رہا ہے جس کے شدید منفی ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں جبکہ دوسرا الزام یہ تھا کہ اس کی مجوزہ زمین کی ملکیت کے معاملے میں بھی گڑبڑ کی گئی ہے۔

ان الزامات کی توثیق کرتے ہوئے کراچی کے ضلع غربی کے ڈپٹی کمشنر فیاض عالم سولنگی نے 12 فروری 2020 کو نیا ناظم آباد کو ایک غیر قانونی منصوبہ قرار دے دیا اور پانچ بنکوں کو ایک خط لکھ کر کہا کہ وہ نیا ناظم آباد اور جاوداں کارپوریشن کے تمام بنک اکاؤنٹ منجمد کر دیں۔ ایک اور خط میں انہوں نے محکمہِ انسدادِ رشوت ستانی اور محکمہِ مال سمیت کئی سرکاری محکموں کو اس منصوبے کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی۔

فیاض عالم سولنگی نے اپنے خط میں لکھا کہ جاوداں سیمنٹ فیکٹری کی زمین کی لیز کی مدت میں جعل سازی سے اضافہ کر کے اسے 30 سال کے بجائے 99 سال کیا گیا۔ ان کے مطابق سندھ حکومت نے 2013 میں یہ لیز منسوخ بھی کردی تھی لیکن ان کے بقول 2016 میں اسے ایک ایسے جعلی خط کے ذریعے بحال ظاہر کیاگیا جس کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔

اسی طرح ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جاوداں کارپوریشن نے سیمنٹ فیکٹری کی زمین کے علاوہ اس سے ملحق 128 ایکڑ زمین پر بھی غیر قانونی قبضہ کر کے اسے نیا ناظم آباد میں شامل کر لیا ہے۔ فیاض عالم کے مطابق سپریم کورٹ نے 2012 میں اس زمین کی فروخت اور منتقلی پر پابندی لگا دی تھی لیکن اس کے باوجود جاوداں کارپوریشن نے اس کی خرید و فروخت کا عمل جاری رکھا۔

اس خط کے منظرِ عام پر آتے ہی جاوداں کارپوریشن نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے 14 فروری 2020 کو اس کے مندرجات پر عمل درآمد روک دیا۔ (تاہم فیاض عالم سولنگی کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کے احکامات کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ صرف معطل کیا ہے۔)

دوسری طرف عدالتی فیصلے کے بعد بھی وہ اخباری اشتہارات کے ذریعے عام لوگوں کو نیا ناظم آباد میں ہونے والی مبینہ قانونی خلاف ورزیوں اور بدعنوانیوں کے بارے میں آگاہ کرتے رہے۔ ان اشتہارات کی اشاعت روکنے کے لیے جاوداں کارپوریشن نے ایک بار پھر سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دی جس نے 7 مئی 2020 کو یہ درخواست قبول کرتے ہوئے فیاض عالم سولنگی کو ہدایت کی کہ وہ ایسے اشتہارات نہ چھاپیں۔ 

اسی دوران ان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے جاوداں کارپوریشن نے دعویٰ کیا کہ نیا ناظم آباد منصوبہ نہ صرف سندھ ریونیو بورڈ اور  سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظور شدہ ہے بلکہ قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور سندھ ریونیو بورڈ سب اس کی زمین کی ملکیت پر اٹھنے والے سوالات پر تحقیقات کر کے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کے تمام معاملات قانون کے مطابق ہیں۔ 

منگھو پیر جھیل کہاں گئی؟

جس جگہ نیا ناظم آباد واقع ہے گوگل میپس کے مطابق وہاں 2015 تک پانی کا ایک بڑا ذخیرہ دکھائی دیتا تھا۔ یہ منگھو پیر جھیل تھی جو اس وقت گوگل میپس سے غائب ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

راوی ریور فرنٹ: 'نیا شہر بنانے کے لئے پرانے اور ناکام طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں'۔

نیا ناظم آباد کے ایک رہائشی، انجینئر عباس رضا، نے سماء ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سرکاری حکام نے جاوداں کارپوریشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ صرف جھیل کے کناروں پر گھر تعمیر کرے لیکن ان کے مطابق کمپنی نے جھیل کو ختم کر کے اس کے اندر بھی پلاٹ بنا دیے۔ 

منگھو پیر جھیل میں 20 مربع کلومیٹر علاقے کا بارشی پانی گرتا تھا لیکن جاوداں کارپوریشن نے اس پانی کے راستے میں دیواریں کھڑی کر کے اس کی جھیل میں آمد بند کر دی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جب بھی نیا ناظم آباد کے اندر یا اس کے ارد گرد 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوتی ہے تو یہاں بنے گھر پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ستمبر 2020 میں ہونے والی بارشوں کے بعد نیا ناظم آباد کے تقریباً چار سو گھروں میں سات فٹ سے نو فٹ اونچا پانی جمع ہو گیا اور ان کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لئے پاکستان آرمی ، سندھ رینجرز اور پاکستان نیوی کو بھی امدادی کاموں میں شامل ہونا پڑا۔ 

اس سیلاب کے ایک ماہ بعد نیا ناظم آباد کے مکینوں نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک  درخواست دائر کی جس میں کہا  گیا کہ جاوداں کارپوریشن نے ان سےمبینہ طور پر غیر قانونی ترقیاتی واجبات وصول کیے لیکن جب انہوں نے ان واجبات کی وصولی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تو کمپنی نے انہیں تنگ کرنے کے لئے ان کی بجلی منقطع کر دی۔ (ان دونوں درخواستوں پر عدالت کا حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔)

لیکن نیا ناظم آباد میں سب سے اہم مسئلہ ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں کی تکمیل میں انتہائی طویل تاخیر ہے۔ جاوداں کارپوریشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 تک اس منصوبے کے سات میں سے صرف تین بلاکوں میں ترقیاتی اور تعمیراتی کام مکمل ہوا تھا۔ اس تاخیر کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک ایسا منصوبہ جس میں ایک لاکھ لوگوں کے لیے 30 ہزار گھر بنائے جانے ہیں آٹھ سال میں صرف چار ہزار مکان اور پلاٹ ان کے مالکان کے حوالے کر سکا ہے جبکہ ان میں سے بھی محض چار سو کے لگ بھگ گھرانے ایسے ہیں جو اب تک یہاں آباد ہوئے ہیں۔

تاہم اس تاخیر کے باوجود اس عرصے میں جاوداں کارپوریشن نے نیا ناظم آباد سے اربوں روپے کما لئے ہیں۔ کمپنی کی اپنی رپورٹوں کے مطابق اسے 2012 اور 2017 کے درمیان ہر سال اوسطاً 80 کروڑ روپے منافع ہوا ہے۔ 2017 میں یہ منافع 99 کروڑ روپے تک پہنچ گیا جبکہ 2018 میں ٹیکس کی ادائیگی کے بعد اس منافعے کا حجم 70 کروڑ روپے سے زیادہ رہا۔
اگرچہ پچھلے دو سالوں میں مختلف قانونی اور انتظامی تنازعات اور 2020 کے سیلاب کی وجہ سے نیا ناظم آباد میں جائیداد کی خرید و فروخت میں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود 30 جون 2019 کو ختم ہونے والی مالی سال میں جاوداں کارپوریشن کو 58 کروڑ روپے منافع ہوا اور 2020 میں بھی اس کا منافع 20 کروڑ 90 لاکھ روپے رہا۔

اس صورتِ حال میں یہ بات واضح ہے کہ جاوداں کنسورشیم راوی ریور فرنٹ سے بھی اسی طرح اربوں روپے کما سکتا ہے لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ سیفائر بے میں گھر اور دکانیں بنانے کے خواہش مند لوگ کتنی جلدی وہاں منتقل ہو سکیں گے۔ کیونکہ اگر  سیفائر بے کی ترقی اور تعمیر بھی نیا ناظم آباد کی سی رفتار سے ہوئی تو اس کی تکمیل میں کم از کم 15 سال لگ سکتے ہیں۔

اتنے لمبے عرصے تک اس کے بارے میں حکومتی پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنانے کے لئے پنجاب کی موجودہ حکمران جماعت کو اگلے تین میں سے دو عام انتخابات ضرور جیتنا ہوں گے ورنہ راوی ریور فرنٹ ڈاکٹر سلمان شاہ کے معاشی ترقی کے ماڈل کا حصہ بننے کے بجائے زمین کی ملکیت اور ماحولیاتی بگاڑ سے جنم لینے والے ایسے کئی تنازعات کا موجب بن جائے گا جن کے باعث عارف حبیب گروپ کے عدالتی مقدمات کی تعداد اور بھی بڑھ جائے گی۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفع 24 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 15 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔