'یہ خبر شائع نہیں ہو گی': پاکستان میں میڈیا کو بدترین سنسرشپ کے ذریعے کچلا جا رہا ہے
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'یہ خبر شائع نہیں ہو گی': پاکستان میں میڈیا کو بدترین سنسرشپ کے ذریعے کچلا جا رہا ہے

لائبہ زینب

postImg

'یہ خبر شائع نہیں ہو گی': پاکستان میں میڈیا کو بدترین سنسرشپ کے ذریعے کچلا جا رہا ہے

لائبہ زینب

انیلہ اشرف لگ بھگ ایک سال بے روزگار رہی ہیں۔ انہوں نے ملتان کی بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کر رکھا ہے اور 2004 سے لے کر مختلف اخبارات اور نشریاتی اداروں میں کام کرتی چلی آئی ہیں جن میں جنگ گروپ اور دنیا گروپ جیسے قومی سطح کے میڈیا ہاؤسز بھی شامل ہیں۔ 

ابھی حال ہی میں انہیں ایک نوکری ملی ہےجہاں انکی تنخواہ ان کی تعلیم اور تجربے کی مناسبت سے بہت کم ہے۔

انیلہ کے لئے یہ صورتِ حال خاصی حوصلہ شکن ہے۔

ان کی پوری زندگی جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جس کے پاس اتنے معاشی وسائل نہیں کہ وہ کام کاج کئے بغیر اپنی زندگی بسر کر سکیں لیکن ان کی آبائی رہائش گاہ جنوبی پنجاب کی ایک دور دراز اور معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ تحصیل تونسہ میں ہے جہاں لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔

لیکن ان ساری رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد اب انہیں اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں فوری طور پر کوئی مثبت تبدیلی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔

انیلہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ وہ اکیلی اس طرح کے نامساعد حالات کا شکار نہیں بلکہ ان جیسے بہت سے دوسرے صحافی پاکستانی صحافت میں پائے جانے والے ادارتی آزادی کے فقدان اور معاشی استحکام کی عدم موجودگی کی وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔ وہ کہتی ہیں: 'پورے ملک میں ہر جگہ ہی گزشتہ دو سالوں میں صحافیوں کو کم و بیش ایک جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے'۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین صحافیوں کو در پیش صنفی تفریق کم از کم ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا مرد صحافیوں کو نہیں کرنا پڑتا۔
اکثر اوقات صحافی خواتین کے لئے اس تفریق کے خاصے سنگین نتائج نکلتے ہیں کیونکہ انیلہ کے بقول 'جب بھی کسی صحافتی ادارے نے اپنے سٹاف میں کمی کرنا ہوتی ہے تو سب سے پہلے خواتین کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے'۔

صحافتی اداروں میں لگ بھگ روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی سنسر شپ کے بارے میں بھی انیلہ کا خیال ہے کہ اس کا اثر خواتین صحافیوں اور خواتین سے متعلقہ موضوعات پر زیادہ شدت سے دیکھنے میں آتا ہے کیونکہ تقریباً تمام اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز کے اندر ادارتی فیصلہ سازی کا اختیار مردوں کے پاس ہے جو، ان کے بقول، عام طور پر خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کی پامالی کو کوئی بڑی خبر نہیں سمجھتے۔

اس ضمن میں وہ اپنی دو خبروں کو ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ '2018 کے عام انتخابات سے پہلے ملتان سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات عبد الوحید ارائیں کو ان انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنی بیوی  کو اپنی جگہ انتخابی میدان میں اتارا لیکن ان کے تمام اشتہاری مواد پر امیدوار کا نام بیگم عبد الوحید ارائیں لکھا ہوتا تھا جس میں بیگم کا لفظ بہت ہی چھوٹا درج کیا جاتا تھا'۔

اسی طرح کی صورتِ حال ملتان کے نزدیکی ضلعے مظفر گڑھ میں بھی موجود تھی جہاں سابق رکنِ قومی اسمبلی سید باسط سلطان بخاری کی بیوی ان کی جگہ انتخاب میں حصہ لے رہی تھیں حالانکہ اشتہاری مواد میں امیدوار کا پورا نام کہیں موجود نہیں تھا۔

ضیاالحق کی سنسرشپ اور عمران خان کے دور کی سنسرشپ میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا موجود ہے جسے مکمل طور پر چپ کرانا کسی ترقی پذیر ریاست کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کے لئے جو ٹیکنالوجی اور مہارات چاہیے وہ ان ریاستوں کے پاس موجود نہیں ہے: مونا خان

انیلہ کا کہنا ہے کہ یہ بات انہیں دو وجوہات کی بنا پر قابلِ ذکر لگی۔ ایک تو یہ کہ ایک خاتون کی ذاتی شناخت کو بالکل پسِ پردہ ڈال کر اسے محض اپنے شوہر کی کٹھ پتلی کے طور پر کیا پیش جا رہا تھا اور دوسرے یہ کہ ایسا کرنے سے عوام کا اپنے انتخابی امیدوار کو جاننے کا قانونی حق متاثر ہو رہا تھا۔ 

لیکن جب انہوں نے اس معاملے پر ایک رپورٹ تیار کی تو ان کے ایڈیٹر نے اسے چھاپنے سے انکار کر دیا۔ 'میرے ایڈیٹر نے کہا کہ اس رپورٹ سے ہمارے اخبار کو نقصان ہو سکتا ہے'۔

جب انیلہ نے رپورٹ کو چھاپنے پر اصرار کیا تو انہیں کہا گیا کہ 'آپ اس کو ڈھکے چھپے الفاظ میں لکھ دیں اور کسی کا نام ظاہر نہ کریں'۔ اس ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے انہوں نے اپنی رپورٹ میں کچھ تبدیلیاں بھی کیں لیکن اس کے باوجود اسے کئی روز تک نہ چھاپا گیا۔

'میں نے بالآخر اسے اپنے فیس بک پیج پرلگا دیا جس کے بعد ایڈیٹر نے اسے مجھ سے دوبارہ مانگ لیا اور اس میں ڈھیر سارا رد و بدل کر کے اسے بالآخر اخبار میں چھاپ ہی دیا'۔

اسی طرح 2019 میں انہوں نے ملتان کے ایک علاقے شاہ رکنِ عالم کالونی کے بارے میں خبر دی کہ وہاں پر حکومت کی طرف سے لگائے گئے پانی صاف کرنے کے ایک پلانٹ پر واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہاں خواتین کا پانی بھرنا شرعی طور پر منع ہے۔ 'یہ خبر صرف ایک کالم میں ایک غیر اہم صفحے پر چھاپی گئی'۔
کچھ عرصہ بعد انیلہ کو نوکری سے بھی نکال دیا گیا۔

خوف و ہراس کی فضا

بینظیر شاہ لاہور میں رپورٹر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کی کورونا وائرس کے بارے میں کی گئی رپورٹنگ پر وفاقی حکومت کے کچھ عہدے دار اور حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے کچھ رہنما اس قدر برہم ہیں کہ انہوں نے ناصرف بینظیر شاہ کی صحافت پر انگلیاں اٹھائی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ نے تو ان کی کردار کشی کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔

سجاگ سے بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ 'حکومتی پارٹی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پارٹی کے عہدیداران نے مجھ پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سیاسی مخالفین سے رشوت لینے اور جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزامات لگائے ہیں'۔

ان الزامات لگانے والوں میں وزیر اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل بھی شامل ہیں جنہوں نے بارہا یہ سوال اٹھایا ہے کہ بینظیر شاہ صرف صوبہ پنجاب کے حوالے سے رپورٹ کیوں کرتی ہیں جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے اور صوبہ سندھ پر رپورٹنگ کیوں نہیں کرتیں جہاں ایک دوسری پارٹی کی حکومت ہے۔ 'اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ چونکہ میں پنجاب میں مقیم ہوں اس لئے میں پنجاب ہی کے حوالے سے رپورٹنگ کروں گی'۔

حالیہ مہینوں میں کئی اور مشہور صحافی خواتین کو بھی سوشل میڈیا پر اسی طرح کی ذاتیات پر مبنی تنقید اورمغلظات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس کا تدارک کرنے کے لئے انہوں نے چند ہفتے پہلے ایک مشترکہ پٹیشن تیار کی اور اسے انسانی حقوق کی تنطیموں اور صحافیوں کے حالاتِ کار کی بہتری کے لئے کام کرنے والے اداروں کو فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سینٹ کی انسانی حقوق کے حوالے سے قائم کمیٹی کے سامنے بھی پیش کیا۔ کمیٹی کے چیئر مین نے بعد ازاں ان کی شکایات بالمشافہ سننے کے لئے انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلا کر انہیں پارلیمان کے ممبران کے سامنےبولنے کا موقع بھی دیا۔

صحافی خواتین کو درپیش اس مسئلے کے بارے میں بارے میں بات کرتے ہوئے بینظیر پاکستانی صحافت کے اندر بڑھتے ہوئے خوف اور گھٹن کا بھی ذکر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: 'سنسرشپ تو اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ صحافی ٹویٹ کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں'۔

وہ خود بھی اکثر ٹویٹ کرنے سے پہلے خوف زدہ ہو جاتی ہیں۔ 'آپ کو نہیں معلوم کب آپ پر غداری کا مقدمہ بن جائے یا کب ایف آئی اے (وفاقی تحقیقاتی ادارہ) آپ کو کسی الزام میں دھر لے یا پھر پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم آپ کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنالے'۔

بینظیر پچھلے بارہ سال سے باقاٰعدہ صحافت سے منسلک ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے کبھی اس قسم کے حالات نہیں دیکھے۔

عافیہ سلام نے بینظیر سے بھی زیادہ وقت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر صحافت کے میدان میں گزارا ہے۔ ان کا بھی خیال ہے کہ 2018 میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد صحافیوں کے حالاتِ کار میں بہت سی منفی تبدیلیاں آئی ہیں جن میں سنسر شپ میں اضافہ سرِ فہرست ہے۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ سنسرشپ کسی اخبار یا ٹیلی وژن چینل کو مجموعی طور پر خبریں دینے سے روکنے کے بجائے اپنا زیادہ زور کچھ ایسے صحافیوں کا منہ بند کرنے پر لگا رہی ہے جو حکومتی اور ریاستی اداروں کو ایک تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ 'صاف لگ رہا ہے کہ یہ تنقید حکومت کے لئے ناقابلِ برداشت ہے کیونکہ حکومتی اور ریاستی ادارے کسی صورت میں بھی اپنے اقدامات کے لئے کسی کو جواب دہ نہیں ہونا چاہتے'۔

عافیہ کہتی ہیں کہ حکومت کے ناقد صحافیوں کو اس قدر خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ان کے صحافتی اداروں کے مالکان بھی ان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ 'یا تو ان کے ادارے ان کو نکال دیتے ہیں یا کچھ واقعات میں صحافیوں کو جبری طور پر گم کر دیا جاتا ہے'۔

ایسے مغوی صحافی جب کام پر واپس آتے ہیں تو اکثر اوقات 'ان کے لب و لہجے میں بھی آپ کو واضع فرق نظر آتا ہے'۔

اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے عافیہ اسے سیلف سنسرشپ کا نام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آج سیلف سنسرشپ کا دور دورہ ہے جو 'سنسرشپ کی سب سے خطرناک قسم' ہے اور جس کا مطلب ہوتا ہے 'اپنے اوپر خود سے پابندی لگانا، اپنی سوچوں پر قدغن لگانا کہ ہم اگر یہ بات کہیں گے تو اس کا کوئی خطرناک نتیجہ نہ نکلے اس کا ہمیں کوئی خمیازہ نہ بھگتنا پڑے'۔

جب صحافی ہر وقت انہی  باتوں کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں تو ان کا 'لب و لہجہ، ان کے قلم کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ریکوڈک کے سونے کے ذخائر: 'بد انتظامی اور مقامی عدلیہ کے ناقص فیصلے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد ہونے کا سبب بنے'۔

صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری جنرل  آئی اے رحمٰن کا بھی کہنا ہے کہ جبری گم شدگی سے واپس آنے والے صحافیوں کے بات کرنے اور رپورٹ کرنے کے طریقے تک میں تبدیلی آجاتی ہے۔ 'ان میں سے کچھ نے تو یہ تک کہا ہے کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ تو کھیلنے کودنے کے لئے ادھر ادھر چلے گئے تھے'۔

آئی اے رحمٰن کے مطابق آج کل سنسر شپ میں نئے نئے رجحانات  دیکھے جا رہے ہیں۔ 'خبروں کے چھپنے یا نشر ہونے سے پہلے کی جانے والی سنسر شپ کے زمانے سے گذر کر اب ہم اس دور میں آگئے ہیں جہاں براہِ راست نشریات کے دوران آوازیں بند کر دی جاتی ہیں یا انٹرویو اور خبر کو آخری وقت پر روک کر نشر ہی نہیں ہونے دیا جاتا'۔

وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اور ریاست کو سنسرشپ کے نئے نئے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ آئین میں دی ہوئی متعدد پابندیوں کے باوجود یہ بات کہیں واضح نہیں کی گئی کہ کیا چیز سنسر ہونی چاہیے اور کیا نہیں۔ 'میں تو کہتا ہوں کہ آپ نے جو کچھ بھی سنسر کرنا ہے اس کا ایک قانون بنائیں تاکہ ہمیں بطور صحافی معلوم ہو کہ ہم نے کیا کیا نہیں کہنا'۔

حال بمقابلہ ماضی

فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کے حالاتِ کار پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے اس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یکم مئی 2017 سے یکم اگست 2018 تک  کم از کم 157 ایسے واقعات ہوئے جنہیں آزادئِ صحافت پر حملہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے 35 فیصد واقعات صرف اسلام آباد میں پیش آئے جس کا مطلب واضح ہے کہ اقتدار کے مرکز میں متعین لوگوں میں تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

آزادئِ صحافت پر ان حملوں میں سے 137 کا نشانہ ٹیلی وژن سے منسلک صحافی بنے ہیں جبکہ 39 فیصد واقعات میں متاثرہ صحافی یا اس کے خاندان نے ریاست اور اس کے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اسی طرح مختلف ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دو سالوں میں ہزاروں صحافیوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ لگ بھگ اتنے ہی صحافیوں کی تنخواہوں میں بھاری کٹوتیاں کی گئی ہیں جبکہ کئی صحافتی ادراوں میں کام کرنے والے لوگوں کو کئی مہیںوں سے تنخواہیں ہی نہیں دی گئیں۔  

لیکن اگر موجودہ دور کا موازنہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے 2013 سے لے کر 2018 تک جاری رہنے والے دورِ حکومت سے کیا جائے تو صحافیوں کے حالاتِ کار تب بھی زیادہ سازگار نہیں تھے (اگرچہ ان کی ملازمتوں میں نسبتاً استحکام تھا اور انہیں تنخواہیں کافی باقاعدگی سے مل رہی تھیں)۔

محض 2014 میں 14 صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ 2013 سے لے کر اب تک 37 صحافی مختلف مجرمانہ حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے محض 34 کیسوں کی پولیس رپورٹ درج ہوئی ہے جب کہ کسی ایک مقدمے میں بھی مجرموں کو سزا نہیں ملی۔

آئی اے رحمٰن کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں یہ بہتری ضرور آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر آوازیں بلند ہونے کے باعث جبری طور پر گم کیے گئے صحافیوں کو جلدی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: '(اسلام آباد کے فری لانس صحافی) مطیع اللہ جان کا کیس ہو یا (کراچی میں جیو نیوز کے رپورٹر) علی عمران کا، لوگوں کے آواز بلند کرنے پر ان کے اغوا کاروں کو انہیں چھوڑنا پڑا'۔

مونا خان آئی بی اے کراچی کے سنٹر فار ایکسیلنس اِن جرنلزم میں پڑھاتی ہیں۔ وہ بھی سنسر شپ کے خلاف صحافیوں کی جدوجہد میں سوشل میڈیا کے کردار کو اہم سمجھتی ہیں- ان کے مطابق جنرل ضیاالحق کے دور کی سنسرشپ اور عمران خان کے دور کی سنسرشپ میں ایک بڑا فرق یہی ہے کہ آج سوشل میڈیا موجود ہے جسے مکمل طور پر چپ کرانا کسی ترقی پذیر ریاست کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کے لئے جو ٹیکنالوجی اور مہارات چاہیے وہ ان ریاستوں کے پاس موجود نہیں۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ نوجوان صحافیوں کو جہاں سنسرشپ کے خلاف لڑنے کے نئے طریقوں سے واقف ہونا چاہئے وہیں انہیں اس لڑائی کے گر بڑے صحافیوں سے بھی سیکھنا چاہئیں۔

'ایک زمانہ تھا کہ لوگ اپنے اخباروں میں سنسرشپ کے خلاف احتجاج کے طور پر خبر کی جگہ خالی چھوڑ دیا کرتے تھے۔ کبھی اس ملک میں ایسا ماحول بھی موجود تھا جس میں ہیرلڈ میگزین کا پورا سٹاف سنسرشپ کے خلاف احتجاج کے طور پر دفتر سے نکل کھڑا ہوا۔ ان لوگوں نے بعد میں اپنا رسالہ نیوز لائن نکالا۔ لیکن آج صحافت کے بہت سے طالب علم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ سنسر کیا جا رہا ہے وہ صحیح ہی کیا جا رہا ہے'۔

مثال کے طور پر بہت سے نوجوان لوگ یہ سمجھتے ہیں ہیں کہ پشتون تحفظ موومنٹ جیسی تنظیمیں ریاست مخالف ہیں لہٰذا نیوز میڈیا کو ان کی کوریج نہیں کرنی چاہیئے۔ 'آج پرانے صحافیوں کو ان نوجوانوں سے بات کرنی چاہیے اور انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ کس طرح سے سنسرشپ کے ذریعے صحافت کو کچلا جا رہا ہے'۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 3 نومبر 2020  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 1 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

لائبہ زینب گزشتہ 7 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور فی الوقت جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے ساتھ بطور کمیونیکیشن آفیسر کام کر رہی ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ