تین ماہ میں بھاری منافع: کاٹن سٹی وہاڑی میں کپاس کی جگہ مکئی 'کیش کراپ' بن گئی

postImg

مبشر مجید

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

تین ماہ میں بھاری منافع: کاٹن سٹی وہاڑی میں کپاس کی جگہ مکئی 'کیش کراپ' بن گئی

مبشر مجید

loop

انگریزی میں پڑھیں

ایک دور تھا جب وہاڑی کو سٹی آف کاٹن یعنی کپاس کا شہر کہا جاتا تھا لیکن اب صورت حال یہ کہ اس علاقے کے کسان کپاس کاشت کرنے سے قبل سو بار سوچتے ہیں۔ اب علاقے میں مکئی کی فصل تیزی سے کپاس کی جگہ لے رہی ہے۔ زیرنظر مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کسانوں نے کپاس کی کاشت سے منہ کیوں موڑا اور مکئی کی فصل نے انہیں کتنا فائدہ پہنچایا۔

وہاڑی سے شمال کی جانب حاصل پور روڈ پر چھ کلو میٹر آگے جائیں تو بھٹہ 27 سٹاپ آتا ہے۔ یہاں سے سات کلومیٹر مغرب کی جانب کرم پور روڈ پر ڈنگی پل نامی گاؤں کے 32 سالہ ملک عابد فرید نے چند سال قبل اپنے والد منظور احمد کی جگہ کاشتکاری سنبھالی ہے۔

پہلے وہ اپنی اراضی میں سے 14 ایکڑ پر ہر سال کپاس کاشت کرتے تھے۔ اس میں کبھی تو انہیں فائدہ ہوتا اور کبھی وہ گھاٹے میں رہتے۔ علاقے کے کسانوں نے گھاٹے سے بچنے اور بہتر منافعے کے حصول کے لیے دیگر فصلیں کاشت کرنا شروع کیں تو عابد فرید نے بھی اسی رحجان کی پیروی کی۔ اس حوالے سے مکئی کی فصل دیگر سے زیادہ بہتر ثابت ہوئی جس کی وجہ سے کسانوں نے کپاس کو چھوڑ کر دھڑا دھڑ مکئی اگانا شروع کر دی۔

محکمہ زراعت کے اعداد و شمار سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ 2001 سے 2022 تک وہاڑی میں کپاس کے زیر کاشت رقبے میں 81 فیصد تک کمی ہوئی جبکہ اسی دورانیے میں اس کی پیداوار 87 فیصد تک گر گئی۔

عابد فرید کہتے ہیں کہ ہر سال زرعی مداخل (کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل) کی قیمتیں تو اوپر جاتی رہیں لیکن فصل کی پیداوار کم ہوتی گئی یوں کسان فائدے کے بجائے الٹا نقصان میں رہنے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ کاشت کاروں نے کپاس کی کاشت سے منہ موڑنا شروع کر دیا۔

محکمہ زراعت کے ذیلی ادارے کراپ رپورٹنگ سروس کے مطابق 2001 میں ضلع وہاڑی میں چھ لاکھ چار ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس اگائی گئی تھی جو پچھلے سال کم ہوکر صرف ایک لاکھ 15 ہزار ایکڑ تک رہ گئی تھی۔

دوسری جانب 2001 میں ضلع وہاڑی میں بہاریہ اور موسمی مکئی صرف 26 ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت ہوتی تھی جبکہ 2022 میں اس کا زیرکاشت رقبہ بڑھ کر 6 لاکھ 57 ہزار ایکڑ تک پہنچ گیاتھا۔

عابد فرید کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں کپاس کو کیش کراپ سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس کی جگہ مکئی نے لے لی ہے۔ کسان کہتے ہیں کہ اگر کسی نے مکئی اگا لی تو گویا بہت بڑی رقم کا چیک اس کی جیب میں آ گیا۔ مکئی مختصر عرصہ یعنی 90 دن کی فصل ہے۔ اس لیے بھی کسان فائدے میں رہتا ہے کہ وہ اسے سال میں دو بار کاشت کرسکتا ہے۔

خرچ زیادہ آمدن کم

عابد فرید بتاتے ہیں کہ وہاڑی کے کپاس کاشت کرنے والے کسان پہلے چھ ماہ میں اس فصل سے جتنی آمدنی حاصل کرتے تھے اس سے کہیں زیادہ رقم وہ تین ماہ میں حاصل ہونے والی مکئی سے کما لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکئی کی فی ایکڑ اوسط پیداوار کپاس کے مقابلے میں کئی گنا تک زیادہ ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مکئی کی فصل کے لیے زمین کی تیاری پر 15 ہزار روپے فی ایکڑ خرچ آتا ہے جبکہ تین بوری یوریا نو ہزار چھ سو، دو بوری ڈی اے پی 17 ہزارروپے ، دو سپرے تین ہزار، دو تھیلے دانے دار زنک دو ہزار چار سو روپے، بیج 18 ہزار ، ہر تیسرے یا چوتھے روز پانی لگانا ہوتا ہے جس کا فی ایکڑ خرچہ 30 ہزار روپے تک آتا ہے ۔اس طرح کل خرچ فی ایکڑ تقریبا ایک لاکھ روپے بنتا ہے۔

دوسری جانب کپاس کی کاشت کے لیے ایک بوری ڈی اے پی 8500 روپے، دو بوری یوریا 6400 روپے، دو بوری گوارا 5200 روپے، بیج نو ہزار روپے، ہر پانچویں دن سپرے کرنا ہوتا ہے جس کا فی ایکڑ خرچ 24 ہزارروپے اور پانی کا خرچ تقریبا 20 ہزارروپے آتا ہے اس طرح کپاس کی کاشت پر فی ایکڑ خرچہ تقریبا 70 ہزار روپے ہوتا ہے۔

عابد فرید بتاتے ہیں کہ کپاس کی کاشت میں ایک بڑا مسئلہ ناقص بیج اور زرعی ادویات کا ہے۔ مارکیٹ میں اس قدر جعلسازی ہے کہ ایک عام کاشتکار کو اچھا بیج اور خالص زرعی دوائی ملنا مشکل ہے جس کے نتیجے میں اس کی رقم بھی خرچ ہو جاتی ہے اور فصل بھی برباد ہوتی ہے۔

اسی علاقے سے ایک اور زمیندار نوید انجم گوہر کا کہنا ہے کہ کپاس کی جگہ مکئی کاشت کرنے والے کسان کافی حد تک فائدے میں رہے ہیں چاہے اس فصل کے نرخ بھی کتنے ہی کم نہ ہوجائیں۔

وہ رواں سال مارکیٹ میں مکئی کی بہت کم قیمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالیہ دنوں اس کے فی من نرخ دو ہزار روپے تک گر چکے ہیں لیکن اس فصل کی پیداوار اس بار پہلے سے بھی زیادہ اچھی ہے اس لیے کسان پھر بھی فائدے میں رہے ہیں۔

ان کے مطابق اس مرتبہ مکئی کی فی ایکڑ پیداوار 130 من فی ایکڑ تک آرہی ہے جبکہ پچھلے سالوں میں یہ 100 من فی ایکڑ تھی اور اس مرتبہ کسانوں نے یہ فصل پہلے سے زیادہ رقبے پر اگائی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ سیزن میں مکئی کا فی من ریٹ 2700 روپے تھا اس لیے اس بار توقع کی جا رہی تھی کہ یہ ریٹ تین ہزار سے زیادہ ملے گا لیکن طلب و رسد کے فارمولے کے حساب سے جب کاشت زیادہ ہوئی تو ریٹ تین ہزار کے بجائے کم ہو کر دو ہزار تک آ گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ تقریبا 70 فیصد کسانوں نے اپنی مکئی اسی ریٹ کے آس پاس فروخت کر دی ہے جبکہ باقی 30 فیصد ریٹ بڑھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

فصل کی پیداوار 130 من فی ایکڑ اور ایک من کی قیمت دو ہزار روپے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایکڑ کی پیداوار دو لاکھ 60 ہزار روپے میں تیار ہوئی۔ اگر ایک لاکھ روپے خرچ نکال دیا جائے تو کسان کو تین ماہ میں ایک لاکھ 60 ہزار کا فائدہ ہوا۔

نوید انجم گوہر کے بقول ان کے ضلع میں اب بھی کپاس کی جو فصل اگائی جارہی ہے وہ روایتی کاشت یعنی مئی کے بجائے جنوری فروری کی ہے۔

ان کے خیال میں کپاس کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان موسمیاتی تغیرات نے پہنچایا ہے۔

یہ اچھے موسم میں پنپنے والی فصل ہے لیکن پری مون سون بارشوں کی کثرت نے اسے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اس لیے اب یہاں کے کاشت کار اگر کپاس اگائیں بھی تو ان کی ترجیح ہوتی ہے کہ وہ اسے جنوری فروری میں کاشت کرلیں اور بارشوں سے پہلے اس سے اچھی پیداوار حاصل کرلیں۔

وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ جن کاشت کاروں نے کپاس کی اگیتی فصل کاشت کی تھی ان کی اس مرتبہ فصل بہت اچھی رہی اور انہوں اب تک 20 من فی ایکڑ تک چنائی کر لی ہے جب کہ ان کی اوسط پیداوار 50 من تک بھی جا سکتی ہے اور آٹھ ہزار پانچ سو روپے فی من ریٹ بھی اچھا ہے اس لیے وہ فائدے میں رہے۔

لیکن باقی 70 فیصد کاشتکار پچھیتی کاشت والے ہیں جنہوں نے گندم کی فصل اٹھا کر اپریل میں کپاس کی بجائی کی تھی۔ ان کی فصل زیادہ بہتر نہیں ہے اس لیے انہیں نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ اس فصل کو سب سے زیادہ موسم نے متاثر کیا اور انہیں بیج بھی زیادہ مدافعت والا نہ مل سکا۔

اس کے علاوہ سفید مکھی اور سبز تیلے کے حملے سے بھی فصل متاثر ہوئی اور رہی سہی کسر زیادہ بارشوں نے پوری کر دی۔

پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی جنرل سیکرٹری چوہدری افتخار احمد کا کہنا ہے کہ کپاس کی اگیتی کاشت کرنے والے کاشتکار کسی حد تک فائدے میں رہے ہیں لیکن گندم کی کٹائی کے بعد کپاس کاشت کرنے والوں کی فصل کی حالت بہت بری ہے اور وہ مکمل طور پر نقصان میں ہیں لیکن مکئی کاشت کرنے والوں کی صورت حال ان کے مقابلے میں بہتر ہے کیونکہ اس سیزن میں موسم اچھا رہا تو وہ کسان جس کی فی ایکڑ پیداوار 80 سے 90 من آتی تھی اس کی پیداوار 110 سے 130 من فی ایکڑ آئی ہے۔

افتخار چوہدری کے مطابق ریٹ کے کم ہونے میں طلب و رسد کے تکنیکی فارمولے کا عمل دخل نہیں ہے بلکہ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ سویابین کی امپورٹ پر پابندی ہے جس کی وجہ سے پولٹری فیڈ کی پیداوار بہت کم ہوئی۔

پاکستان میں مکئی کی پیداوار کا بڑا حصہ پولٹری فیڈ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ چکن کے ریٹ میں بے تحاشہ اضافے سے بھی فروخت میں نمایاں کمی آئی جس کے پیش نظر پولٹری کی پیداوار بھی کم کر دی گئی۔

دوسری وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مکئی کی مجموعی قیمت کا کم ہو جانا ہے۔ چونکہ اس سے قبل عالمی سطح پر مکئی کاریٹ زیادہ تھا اس لیے پاکستان سے بڑی مقدار میں مکئی برآمد کی جاتی تھی لیکن ریٹ میں کمی کی وجہ سے مکئی کی برآمد میں نمایاں کمی آئی ہے اور مقامی سطح پر اس کی قمیت فروخت میں ایک ہزار روپے تک کمی دیکھنے کو ملی۔

کسانوں کی ایک اور غیر سرکاری تنظیم کسان اتحاد پاکستان کے ضلعی صدر محمد اکرم کمبوہ کے خیال میں کپاس کی پیداوار میں کمی سے وہاڑی کو معاشی طور پر بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

وہاڑی میں کپاس چھوڑ کر مکئی کاشت کرنے والوں کو کم قیمت کیوں مل رہی ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے جب یہاں پر کپاس کی اچھی پیداوار تھی تو ناصرف کسان خوشحال تھا بلکہ بے زمین خاندانوں کے حالات بھی کافی بہتر تھے۔ کیوں ان خاندانوں کی اکثر خواتین کپاس کی چنائی سے کنبے کے لیے سال بھر کی خوراک کا بندوبست کرلیتی تھیں۔
"اس کے علاوہ شہر میں پانچ سو کے قریب جننگ فیکٹریاں، بنولہ کا تیل بنانے والے کئی کارخانے بند ہوگئے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں مزدور کام کرتے تھے۔"

ان کا ماننا ہے کہ 90 کی دہائی میں وہاڑی وہ ضلع تھا جہاں دوسرے شہروں حتیٰ کے دوسرے صوبوں سے بھی مزدور آکر کام کرتے تھے لیکن اب یہاں کے مزدوروں کو گھر کی روزی روٹی کے لیے ملتان، فیصل آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں کی طرف رخ کرنا پڑ رہا ہے۔

اکرم کمبوہ کے مطابق کپاس نہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کی معیشت کو جتنا نقصان ہوا ہے مکئی کی کاشت شاید اس کو کبھی پورا نہیں کر سکتی۔

تاریخ اشاعت 21 اگست 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

مبشر مجید وہاڑی کے رہائشی اور گذشتہ چھ سال سے تحقیقاتی صحافت کر رہے ہیں۔ زراعت، سماجی مسائل اور انسانی حقوق ان کے خاص موضوعات ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.