خیبر پختونخوا کا بلدیاتی نظام کیوں مفلوج ہو کر رہ گیا ہے؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

خیبر پختونخوا کا بلدیاتی نظام کیوں مفلوج ہو کر رہ گیا ہے؟

عبدالستار

postImg

خیبر پختونخوا کا بلدیاتی نظام کیوں مفلوج ہو کر رہ گیا ہے؟

عبدالستار

مردان تحصیل سٹی کونسل کی خاتون رکن کوثر وسیم کو گلہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب کروائے گئے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلہ کے ایک سال پورے ہونے کے بعد بھی 23 ہزار کے قریب منتخب نمائندوں کو ان کے قانونی اختیارات اور مختص شدہ فنڈز منتقل نہیں کیے جا رہے۔ 

کوثر، جو 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں ویلج کونسل کی رکن رہ چکی ہیں، کہتی ہیں کہ "پہلے تو ہمارے پاس پیدائش سرٹیفیکیٹ، شادی کے سرٹیفیکیٹ اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر دستخط کرنے کی اختیارات تھے۔ اس دفعہ تو وہ بھی نہیں ہیں۔"

اس ماہ کی 19 تاریخ کو خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات کے پہلے مرحلہ کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ لیکن عوام کے مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے منتخب نمائندے بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ 

بلدیاتی نمائندوں کی تنظیم، لوکل کونسل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا، کے صدر حمایت ﷲ مایار کا کہنا ہے کہ تمام منتخب نمائندوں نے اس دھرنے کے لئے 5 جنوری کا انتخاب کیا ہے۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے 2019 میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ایک سو 20 ترامیم کیں اور اسی ترمیم شدہ قانون کے تحت صوبے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروائے گئے۔ اس قانون کے تحت 19 دسمبر 2021 کو 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا انعقاد کیا گیا جبکہ 31 مارچ 2022 کو دوسرے مرحلے میں صوبے کے باقی 18 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کروائے گئے۔ 

ان انتخابات میں کُل دو ہزار نو سو 96 ویلج کونسل, پانچ سو پانچ نیبرہڈ کونسل کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ ایک سو 24 تحصیل کونسلوں اور سات سٹی تحصیل کونسلوں کے چئیرمینوں اور میئرز کا انتخاب کیا گیا۔ 

پہلے مرحلہ میں 17 اضلاع میں انتخابات میں جمعیت علماءِ اسلام (فضل) نے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ دوسرے مرحلہ میں 18 اضلاع میں انتخابات ہوئے جس میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نےدوسری جماعتوں پر سبقت حاصل کی۔

مجموعی طور پر ایک سو 24 تحصیل کونسلوں میں سے پاکستان تحریک انصاف 47 نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکی جبکہ سات سٹی تحصیل کونسلوں میں سے بھی صرف تین پر کامیاب قرار پائی۔ 

حمایت ﷲ مایار، جو مردان سٹی تحصیل کونسل کے میئر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے نصف سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہونے کی وجہ سے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کو محدود کرنے کے لئے قانون میں ایک بار پھر تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ 

اس سال 3 جون کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مزید 17 تبدیلیاں کی گئیں جنہیں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندگان اپنے مالی اور انتظامی اختیارات کو محدود کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔

مایار کہتے ہیں کہ تحصیل چئیرمین کے لئے مستقل دفاتر کا نوٹیفیکیشن بھی ابھی تک جاری نہیں ہوا جس کی وجہ سے تحصیل چئیرمینوں کے دفاتر کا اختیار متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے پاس ہے۔ ان کے بقول "اس طرح ایجوکیشن، ایگریکلچر، ایگریکلچر ایکسٹینشن، کلچر، بہبود آبادی، لائیو سٹاک، سوئل کنزرویشن، سوشل ویلفئیر، سپورٹس اور امورِ نوجوانان کے محکمے تحصیل چئیرمین کے زیر نگرانی آتے ہیں۔ لیکن دفاتر کے نوٹیفکیشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ تمام اختیارت فی الوقت ڈپٹی کمشنروں کے پاس ہیں۔" 

رہی سہی کسر 23 جون کو نافذ ہونے والے رولز آف بزنس (قواعد و ضوابط) نے پوری کر دی۔ 

مختص فنڈز کی عدم فراہمی

مایار کہتے ہیں کہ بلدیاتی نمائندنوں کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت دیئے گئے اختیارات رولز آف بزنس میں شامل کر دیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے مقامی حکومتوں کے اختیارات میں کمی بیشی کے لئے اب صوبائی حکومت کو اسمبلی سے ترمیم کروانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب یہ اختیار صوبائی کابینہ کو دے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پنجاب میں مقامی حکومتوں کی بحالی کا فیصلہ: بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔

بلدیاتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ مالی سال 2021-22 کے لئے پراونشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت مقامی حکومتوں کے لئے 15 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ اگرچہ اپریل 2021 میں مقامی حکومتیں قائم ہو چکی تھیں لیکن مالی سال کے اختتام (30 جون 2021) تک اس مد میں ایک پیسہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ 

اسی طرح رواں مالی سال (2022-23) میں بھی مقامی حکومتوں کے لئے اس ایوارڈ کے تحت 41 ارب روپے رکھے گئے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے تمام کے تمام فنڈز روک رکھے ہیں جس کی وجہ سے بلدیاتی حکومتیں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ 

لوکل کونسل ایسوسی ایشن نے پشاور ہائی کورٹ میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 میں ترامیم کے خلاف رٹ بھی دائر کر رکھی ہے جس میں ان کا استدلال ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات لوکل گورنمنٹ ایکٹ سے نکال کر رولز آف بزنس میں ڈالنا اور پھر ان قواعد و ضوابط کے ذریعے میئر اور چیئرمین کے اختیارات لے کر افسر شاہی کو دینا آئین میں دیئے گئے اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے تصور کے منافی ہے۔ 

اس تمام صورتِ حال کے بارے میں صوبائی وزیرِ بلدیات فیصل امین گنڈاپورا کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ریونیو کا زیادہ تر انحصار وفاقی حکومت پر ہے۔ ان کے مطابق "جب سے مرکز میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت قائم ہوئی ہے ہمارے صوبہ کو کچھ نہیں دیا جا رہا۔ سارا مسئلہ فنڈز کا ہے۔ ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہیں تو ان کو کہاں سے دیں؟"

تاریخ اشاعت 20 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عبدالستار نے انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹرز ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے وہ ملکی اور غیرملکی صحافتی اداروں کے لیے خیبرپختونخوا کے ضلع مردان سے رپورٹنگ کررہے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ