تاریخ پہ تاریخ: ملتان میں 50 سال سے زیرِ سماعت مقدمات کا مقدمہ

postImg

صہیب اقبال

postImg

تاریخ پہ تاریخ: ملتان میں 50 سال سے زیرِ سماعت مقدمات کا مقدمہ

صہیب اقبال

مہر اللہ بخش کی عمر 75 سال ہے جس میں 56 سال انہوں نے عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے گزارے ہیں۔ وہ 1967 سے ملتان کے علاقے خان پور مڑل میں 81 کنال زمین کی ملکیت کا مقدمہ لڑ رہے تھے۔

اللہ بخش کے والد نے 1958 میں خان پور مڑل میں 81 کنال اور 16 مرلے زرعی زمین خریدی تو زمین بیچنے والے کی برادری کے کچھ لوگوں نے اس پر حق شفع دائر کردیا یعنی یہ قانونی دعویٰ کر دیا کہ یہ زمین خریدنے کے لیے پہلا حق ان کا ہے۔ اللہ بخش کا تعلق آرائیں برادی سے ہیں اور زمین بیچنے والوں کا شیخ برادری سے۔

1963 میں زمین بیچنے والے نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی اہلیہ کی جانب سے بھی حق شفع کا مقدمہ دائر کر دیا۔ اس طرح عدالت نے یہ زمین فروخت کنندہ کی اہلیہ کے نام کر دی اور یوں دیگر افراد کا حق شفع کا دعویٰ خارج ہو گیا۔

لیکن بیچنے والے نے زمین محکمہ مال میں اپنی اہلیہ کے نام منتقل نہیں کروائی۔ یوں سرکاری ریکارڈ میں زمین کی ملکیت پہلے مالک کے نام ہی رہی جبکہ عملی طور پر اسے اللہ بخش کا خاندان استعمال کرتا رہا۔
1967 میں اللہ بخش نے یہ زمین قانونی طور پر شیخ برادری سے خرید لی۔

پھر اسی سال فروخت کنندہ کی اہلیہ نے دوبارہ عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا کہ زمین کی اصل مالک وہ خود ہیں اور ان کے شوہر کو اسے فروخت کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

یہ مقدمہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک مختلف عدالتوں میں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ میں پہنچا جس نے 2011 میں خاتون کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

لیکن جب یہ فیصلہ آیا تو دعویٰ کرنے والی خاتون کا انتقال ہو چکا تھا۔ چنانچہ یہ زمین ان کے بچوں کے حصے میں آئی۔

اللہ بخش کے مطابق خاتون کی اولاد نے زمین واگزار کراتے وقت ان کی اس اراضی پر بھی قبضہ کر لیا جس پر ان کا کوئی حق نہیں تھا۔

چنانچہ وہ دوبارہ سپریم کورٹ چلے گئے جس نے 2012 میں زمین کے درست انتقال کا حکم دیا لیکن اسی سال مخالف فریق نے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ سے حکم امتناع (سٹے آرڈر) لے لیا۔

اس طرح یہ مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے۔ اللہ بخش کو یقین نہیں کہ اس مقدمے کا فیصلہ ان کی زندگی میں ہو جائے گا۔

اللہ بخش کا طویل مقدمہ کوئی انوکھی مثال نہیں ہے۔
ملتان کی عدالتوں میں تقریباً 1,700 مقدمے ایسے ہیں جن پر پچھلے پچاس سال میں فیصلہ نہیں ہو سکا۔

<p>جائیداد سے متعلق مقدمات میں قابض فریق کے وکلا مقدمے کو طویل دینے کے لیے ہر حربہ آزماتے ہیں<br></p>

جائیداد سے متعلق مقدمات میں قابض فریق کے وکلا مقدمے کو طویل دینے کے لیے ہر حربہ آزماتے ہیں

ملتان کی سول و سیشن عدالتوں اور لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ملتان بینچ میں زیر سماعت مجموعی مقدمات کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ ان میں 43 ہزار 849 مقدمات دیوانی ہیں جو کل زیر سماعت مقدمات کا 72 فیصد ہیں جبکہ باقی 28 فیصد فوجداری مقدمات ہیں۔

دیوانی مقدمات کا تعلق لین دین اور جائیداد کے معاملات سے ہوتا ہے جبکہ چوری، ڈکیتی، قتل اور جنسی زیادتی جیسے جرائم سے متعلق مقدمات فوجداری کہلاتے ہیں۔

تاخیر کیوں ہوتی ہے؟

سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حفیظ اللہ خان دیوانی مقدمات کے فیصلوں میں طویل تاخیر کی تین بڑی وجوہات بتاتے ہیں۔

سٹے آرڈر اور سمن: وہ بتاتے ہیں کہ ایسے مقدموں میں عدالتیں دو طرح کے حکم جاری کرتی ہیں جن میں ایک عبوری اور دوسرا حتمی حکم کہلاتا ہے۔ حکم امتناع یا سٹے آرڈر بھی عبوری حکم ہوتا ہے جس میں عدالت حتمی فیصلے سے قبل متنازع معاملے کو جوں کا توں رکھنے کا حکم دیتی ہے۔

بعض اوقات کوئی فریق عدالت میں دائر کردہ اپنے دعوے میں ترمیم چاہتا ہے جس پر عدالت عبوری حکم جاری کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ مقدمے میں اضافی شہادت جمع کرانے کی درخواست پر بھی عبوری حکم جاری کیا جاتا ہے۔ عدالت کے عبوری احکامات کے خلاف اپیل بھی کی جا سکتی ہے اور حفیظ اللہ کے بقول یہی اپیلیں مقدموں کو طویل عرصہ لٹکائے رکھتی ہیں۔

جب کوئی مقدمہ دائر کیا جاتا ہے تو پہلے عدالت یہ دیکھتی ہے کہ اس پر کارروائی ہو سکتی ہے یا نہیں اور پھر پیشی دے کر دوسرے فریق کو طلبی کا سمن جاری کرتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عدالت کی جانب سے سمن جاری ہوتے رہتے ہیں اور دوسرا فریق پیش نہیں ہوتا اور یوں تاریخ پر تاریخ پڑتی رہتی ہے۔ اگر کسی فریق کے حق میں یکطرفہ طور پر فیصلہ ہو جائے تو دوسرا فریق اس کے خلاف اپیل کر دیتا ہے۔ اس طرح مقدمہ طوالت اختیار کر جاتا ہے۔

ملکیت اور قبضہ: حفیظ اللہ کے مطابق مقدمے کے فریقین کا طرزعمل دیوانی مقدموں کے فیصلوں میں تاخیر کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ جائیداد سے متعلق مقدمات میں عموماً جس فریق کے پاس زمین کا قبضہ ہوتا ہے مقدمے کو طوالت دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر پیشی پر کوئی نہ کوئی نئی درخواست دے دیتا ہے جس پر عدالت عبوری فیصلہ دیتی ہے اور دوسرا فریق اس کے خلاف اپیل کر دیتا ہے۔ گواہوں کے حاضر نہ ہونے پر بھی عدالتیں اگلی تاریخ دے دیتی ہیں۔ اس طرح اصل مقدمہ بیچ میں ہی رہ جاتا ہے اور سالہا سال تک عدالتی کارروائی ضمنی معاملات کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے۔

وکیل اور ہڑتالیں: حفیظ اللہ وکلا کے طرزعمل کو دیوانی مقدموں کے فیصلوں میں طویل تاخیر کی تیسری بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جائیداد سے متعلق مقدمات میں زمین پر قابض فریق کے وکلا مقدمے کو طویل دینے کے لیے ہر حربہ آزماتے ہیں۔ اس کے علاوہ وکلا کی آئے روز ہڑتالیں بھی اس تاخیر کا اہم سبب ہے۔ جس دن وکلا کی ہڑتال ہو اس دن زیرسماعت کسی مقدمے پر کارروائی تقریباً چھ مہینے آگے چلی جاتی ہے۔

<p>ملتان کی عدالتوں میں تقریباً 1,700 مقدمے ایسے ہیں جن پر پچھلے پچاس سال میں فیصلہ نہیں ہو سکا<br></p>

ملتان کی عدالتوں میں تقریباً 1,700 مقدمے ایسے ہیں جن پر پچھلے پچاس سال میں فیصلہ نہیں ہو سکا

سائل عام طور پر مشہور وکلا کے پاس جاتے ہیں جن کے پاس پہلے ہی بہت سے مقدمات ہوتے ہیں۔ انہیں روزانہ درجنوں پیشیاں بھگتانا ہوتی ہیں اس لیے وہ ہر مقدمے کو خاطرخواہ وقت نہیں دے پاتے اور تاریخیں لیتے رہتے ہیں۔

ایک جج کتنے مقدموں کی سماعت کر سکتا ہے؟

ججوں کی کمی بھی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ایک نمایاں سبب ہے۔ حفیظ اللہ کہتے ہیں کہ مقدموں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے جبکہ ان کی سماعت کرنے والے ججوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ججوں کا ماتحت عملہ اچھی طرح تربیت یافتہ نہیں ہوتا جس کے باعث مقدمات کو سنبھالنے اور نمٹانے میں تاخیر رہتی ہے۔

ضلع کچہری ملتان میں ججوں کی کل تعداد 69 ہے جس میں 19 جج ایسے ہیں جو خاص طور پر دیوانی مقدمات سنتے ہیں جبکہ 22 جج دیوانی اور فوجداری دونوں طرح کے مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ اس وقت ان میں سے ہر جج کے پاس سات سو سے پندرہ سو تک مقدمات ہیں۔

گویا اگر یہ جج صاحبان اتوار کے علاوہ کوئی چھٹی نہ کریں یعنی ایک سال میں تین سو دن کام کریں اور روزانہ دو سے پانچ مقدمات کی سماعت کریں تب بھی ہر مقدمے کی باری ایک سال بعد ہی آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

لاہور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ: متنازعہ زمین کو عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے کیسے نیلام کیا جا رہا ہے۔

ڈسٹرکٹ بار ملتان کے جنرل سیکرٹری سید علی الطاف گیلانی بھی ججوں کی کمی کو دیوانی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا اہم سبب گردانتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں دیوانی مقدمات کی بھرمار ہے جنہیں سننے کے لیے ججوں کی تعداد بہت کم ہے۔

ایسے مقدمات میں ایک فریق کو تاخیر سے فائدہ ہوتا ہے اس لیے وہ تواتر سے درخواستیں دائر کرتا رہتا ہے اور مقدمہ نمٹنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ تاخیر کے ساتھ مقدمات کی فائل بھی بھاری ہو جاتی ہے جسے ہاتھ لگانے سے جج بھی گریز کرتے ہیں۔

ملتان کے سینئر وکیل شاہ زیب ہاشمی کہتے ہیں کہ پاکستان میں رائج دیوانی قانون انگریزوں نے بنایا تھا جس میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں نہیں کی گئیں۔ بہت سے دیوانی مقدمات کوئی ٹھوس بنیاد نہ ہونے کے باوجود سالہا سال تک چلتے رہتے ہیں۔

اگر ایسے مقدمے ہارنے والوں کے لیے جرمانے اور ہرجانے کی سزائیں رکھی جائیں تو عدالتوں کا وقت بچ سکتا ہے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی شکایت بڑی حد تک دور ہو سکتی ہے۔

تاریخ اشاعت 9 فروری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

صہیب اقبال عرصہ دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں مختلف اخبارات میں کالم اور فیچر لکھتے ہیں اور چینلز کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

لاہور: اندرون شہر کے کئی علاقوں میں سولر پینلز لگانا مشکل، حل کیا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

ضلع خیبر: ڈوبتی ہوئی زراعت کو سولر سسٹم کا سہارا

لاہور کی یونیورسٹیاں، فضائی آلودگی کے خلاف متحد

thumb
سٹوری

شانگلہ میں سیاح کیوں نہیں جاتے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

آزاد کشمیر: میرپور میں ماحول دوست عوامی گاڑی چل پڑی

thumb
سٹوری

شمسی توانائی، قبائلی ضلع خیبر کے لوگوں کی تکالیف کیسے کم کررہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

بجلی آئے نہ آئے، ہسپتال کھلا ہے

thumb
سٹوری

کاسا-1000: کرغزستان اور تاجکستان سے بجلی لانے والی ٹرانسمشن لائن کا کام کب شروع ہو گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

لیپ آف فیتھ: اقلیتی رہنماؤں کے ساتھ پوڈ کاسٹ سیریز- ڈاکٹر یعقوب بنگش

کل مالی تھا آج ایم فل ہوں

چلتے پھرتے سولر سسٹم بھکر پہنچ گئے

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا میں انصاف کے متبادل نظام کی کمیٹیاں، ایک بھی خاتون شامل نہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.